رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارے تعلق کی چوتھی شرط آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہماری محبت ہے۔ دین میں وہ ایمان یا وہ اطاعت معتبر نہیں ہے جس کی بنیاد محبت پر نہ ہو۔ ایسی اطاعت جس کی تہ میں محبت کا جذبہ کارفرما نہ ہو بعض حالات میں محض نفاق ہوتی ہے۔ پھر محبت بھی محض رسمی اور ظاہری قسم کی مطلوب نہیں ہے، بلکہ ایسی محبت مطلوب ہے جو تمام محبتوں پر غالب آ جائے جس کے مقابل میں عزیز سے عزیزرشتے اور محبوب سے محبوب تعلقات کی بھی کوئی قدر و قیمت باقی نہ رہ جائے، جس کے لیے دنیا کی ہر چیز کو چھوڑا جا سکے لیکن خود اس کو کسی قیمت پر باقی نہ چھوڑا جا سکے۔ قرآن مجید میں اس محبت کا معیار یہ بتایا گیا ہے:
قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ. (التوبہ 9: 24)
”کہہ دو کہ اگر تمھارے باپ، تمھارے بیٹے، تمھارے بھائی، تمھاری بیویاں، تمھارے خاندان اور مال جو تم نے کمایا ہے اور تجارت جس کے گر جانے کا تمھیں اندیشہ ہے اور مکانات جو تمھیں پسند ہیں، اگر یہ ساری چیزیں تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر کر دے۔“
اسی حقیقت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف طریقوں سے احادیث میں بھی واضح فرما ہے۔ مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ کسی شخص کا ایمان بالرسول متحقق نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجھ کو اپنے باپ بیٹے اور دوسرے تمام عزیزوں اور قرابت داروں سے عزیز نہ رکھے۔
قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین.1 (متفق علیہ)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کے بیٹے اور دوسرے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس قسم کی محبت کے بعد ہی کوئی شخص ایمان کی حقیقی لذت سے آشنا ہو سکتا ہے۔
ثلث من کن فیہ وجد بہن حلاوۃ الایمان من کان اللّٰہ ورسولہ احب الیہ مما سواء. (متفق علیہ)
”تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی، وہ ان کے سبب سے ایمان کا مزا چکھے گا۔ ایک وہ شخص جس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول دوسری تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں۔“
لیکن یہ بات یہاں یاد رکھنی چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جس محبت کا یہاں ذکر کیا گیا ہے اس سے مقصود محض وہ جذباتی محبت نہیں ہے جو آدمی کو فطری طور پر اپنے بیوی بچوں یا اپنے دوسرے عزیزوں کے ساتھ ہوتی ہے، بلکہ اس سے مقصود وہ عقلی اور اصولی محبت بھی ہے جو ایک شخص کو کسی اصول اور مسلک کے ساتھ ہوا کرتی ہے اور جس کی بنا پر وہ اپنی زندگی میں ہر جگہ اسی اصول اور اسی مسلک کو مقدم رکھتا ہے، اس اصول اور مسلک کے اوپر وہ ہر چیز اور ہر اصول، ہر مسلک اور ہر خواہش اور ہر حکم کو قربان کر دیتا ہے، لیکن خود اس کو دنیا کی کسی چیز پر بھی قربان نہیں کرتا۔ اس اصول اور مسلک کی برتری کے لیے وہ ساری چیزوں کو پست کر دیتا ہے، لیکن اس اصول اور مسلک کو کسی حالت میں بھی پست دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ اگر اس سے خود اس کا اپنا نفس اس مسلک کی مخالفت میں مزاحم ہوتا ہے تو وہ اس سے بھی لڑتا ہے، اگر دوسرے اس سے مزاحم ہوتے ہیں تو ان کا بھی وہ مقابلہ کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے بیوی بچوں اور اعزا و اقارب کے مطالبات بھی اگر اس کے اس مسلک کے مطالبات سے کسی مرحلہ پر ٹکراتے ہیں تو وہ اپنے اس اصول اور مسلک کا ساتھ دیتا ہے اور بے تکلف اپنی بیوی بچوں کی خواہشوں اور اپنے خاندان اور قوم کے مطالبہ کو ٹھکرا دیتا ہے۔
اس محبت کا اصولی اور عقلی ہونا خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں واضح فرما دیا ہے۔ آپ کا ارشاد ہے:
من احب سنتی فقد احبنی ومن احبنی کان معی فی الجنۃ. (ترمذی)
”جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔“
اطاعت بلا محبت اور محبت بلا اتباع
اس تفصیل سے جہاں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارا ایمانی تعلق اس وقت تک استوار نہیں ہو سکتا جب تک اس ایمان کی بنیاد اطاعت، اتباع اور محبت پر نہ ہو، وہیں مختلف اشارات سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اطاعت بلا محبت کے نفاق اور محبت بلا اطاعت و اتباع کے بدعت ہے۔
یہ بات کہ محبت بلا اطاعت نفاق ہے، خود قرآن مجید سے نہایت واضح طور پر ثابت ہے حوالیِ مدینہ کے بہت سے اعراب اسلام کی سیاسی طاقت بڑھ جانے کے بعد اسلامی احکام و قوانین کی ظاہری اطاعت کرنے لگے تھے، لیکن یہ اطاعت محض سیاسی مصالح کے تحت مجبورانہ تھی، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور اس ایمان کا نتیجہ نہیں تھی جس کی اصلی روح اخلاص و اعتماد ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے جب بعض مواقع پر اپنے ایمان کا دعویٰ اس طرح کیا جس سے یہ مترشح ہوتا تھا کہ انھوں نے ایمان لا کر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اسلام پر کوئی بہت بڑا احسان کیا ہے تو قرآن نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت کی کہ ان مدعیان ایمان سے کہہ دو کہ محض اسلامی احکام و قوانین کی ظاہری اطاعت سے آدمی مومن نہیں ہو جایا کرتا، بلکہ ایمان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اخلاص و محبت بھی شرط ہے اور یہ چیز تمھارے اندر مفقود ہے۔ اس وجہ سے ابھی تمھارا دعواے ایمان بھی غلط ہے۔
قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَ لَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ.
(الحجرات 49: 14)
”اور یہ اعرابی لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، ان سے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے ہو۔ البتہ یہ کہو کہ ہم نے اطاعت کر لی، ابھی ایمان تمھارے دلوں کے اندر نہیں داخل ہوا ہے۔“
رہی دوسری بات یعنی محبت بلا اطاعت و اتباع کا بدعت ہونا تو یہ اوپر کی آیات و احادیث سے واضح طور پر نکلتی ہے۔
جس طرح قرآن مجید نے ’ان کنتم تحبون اللّٰہ‘ والی آیت میں اللہ کی محبت کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جائے اور بغیر اتباعِ نبی کے اللہ کی محبت کے جتنے طریقے ایجاد کیے گئے ہیں ان سب کو بدعت و ضلالت قرار دیا ہے۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’من احب سنتی فقد احبنی‘ والی حدیث میں یہ واضح فرما دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ کی سنت کے ساتھ محبت کی جائے اور بعض دوسری حدیثوں میں آپ نے اپنی محبت میں اس قسم کے غلو کی ممانعت فرمائی ہے جس قسم کا غلو نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی محبت میں کیا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ ہدایت اور یہ ممانعت اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کادعویٰ کرتے ہیں، لیکن آپ کی سنت کی پیروی نہیں کرتے، اول تو ان کا دعویٰ ہی بے حقیقت ہے اور اگر اس کے اندر سچائی کی رمق ہے بھی تو ان کی یہ محبت بالکل بے معنی محبت ہے اور اگر انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کرنے کے کچھ ایسے طریقے بھی ایجاد کر لیے ہیں جو صریحاً آپ کی سنت کے خلاف ہیں تو یہ اسی طرح کی بدعت ہے جس طرح کی بدعت نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ کی محبت میں کی ہے کہ ان کو پیغمبر کے بجاے خدا بنا کے بٹھا دیا۔
صحابہ رضی اللہ عنہم کی محبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محض عقلی و اصولی ہی نہیں تھی، بلکہ جذباتی بھی تھی۔ لیکن یہ جذبات کبھی حدودِ کتاب و سنت سے متجاوز نہیں ہوتے تھے۔ ایک طرف یہ حال تھا کہ صحابہ اپنے اوپر بڑی سے بڑی تکلیف اٹھا لیتے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تلووں میں ایک کانٹے کا چبھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں ان کے اپنے جسم تیروں سے چھلنی ہو جاتے تھے، لیکن وہ یہ نہیں برداشت کر سکتے تھے کہ ان کے جیتے جی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بال بھی بیکا ہو۔ مرد تو مرد عورتوں تک کے جذبات کا یہ حال تھا کہ وہ اپنے بیٹے اور شوہر اور باپ اور بھائی سب کو قربان کر کے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سلامتی کی آرزوئیں رکھتی تھیں، دوسری طرف اتباعِ سنت کا یہ اہتمام تھا کہ اس محبت سے مغلوب ہو کر بھی کبھی کوئی ایسی بات ان سے صادر نہیں ہوتی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح ہدایات تو درکنار، آپ کی پسند ہی کے خلاف ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ملاحظہ ہو:
عن انس قال لم یکن شخص احب الیہم من رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وکانوا اذا رأوہ لم یقوموا لما یعلومن من کراہیتہ لذلک.
(مشکوٰۃ بحوالہ ترمذی)
”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی شخص بھی محبوب نہ تھا۔ لیکن جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے تو آپ کی تعظیم کے لیے کھڑے نہ ہوتے کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ آپ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں۔“
لیکن آج اگر ہم مسلمانوں کا جائزہ لیں توان کے اندر عظیم اکثریت ایسے ہی لوگوں کی نکلے گی جو یا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن اس ایمان کے ساتھ اطاعت موجود نہیں ہے۔ یا محبت کا دم بھرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ اتباعِ سنت نہیں ہے۔ اطاعت اور اتباع، دونوں کی جگہ انھوں نے اپنے جی سے چند چیزیں ایجاد کر لی ہیں۔ کچھ میلاد کی مجلسیں منعقد کر دیتے ہیں، کچھ دیگیں پکوا کے تقسیم کر دیتے ہیں، ایک آدھ جلوس نکلوا دیتے ہیں، کچھ نعرے لگوا دیتے ہیں۔ بس اس طرح کی کچھ باتیں ہیں جن سے ان کا ایمان اور ان کی محبتِ رسول عبارت ہے۔ آپ کو کتنے ایسے اشخاص مل جائیں گے جنھوں نے نماز مدت العمر نہیں پڑھی، لیکن مہینا میں میلاد کی مجلسیں اور قوالی کی محفلیں کئی بار منعقد کرتے ہیں۔ مال رکھتے ہوئے زکوٰۃ ادا کرنے کی ان کو کبھی توفیق نہیں ہوئی، لیکن اپنی بدعات پر جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کرتے ہیں، ہر سال ہزارہا روپے خرچ کر دیتے ہیں۔ ان کو اس بات کی کبھی توفیق نہیں ہوتی کہ اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا مطالبہ کریں اور ان کی روشنی میں اپنی زندگیوں کا جائزہ لے کر ان کو درست کرنے کوشش کریں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں اپنے آپ کو ہر وقت سرشار ظاہر کرتے ہیں اور نعتیہ اشعار پڑھ کر یا سن کر ان پر وارفتگی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
یہ حالت ہمارے کسی ایک ہی طبقہ کی نہیں ہے، بلکہ ہمارے اکثر طبقے اسی قسم کی محبت رسول کے دعوے دار ہیں اور اگر کچھ لوگ اتباع سنت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں تو ان کا حال بھی یہ ہے کہ ان کے نزدیک تمام سنت جن چند اخلاقی مسائل کے اندر سمٹ آئی ہے بس انھی چند چیزوں پر ان کا سارا زور صرف ہوتا ہے گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت صرف انھی چند مسائل کی تعلیم کے لیے ہوئی تھی۔
- ۔ مشکوٰۃ، باب الایمان۔