مواد پر جائیں

وفات سلیمان علیہ السلام

علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی اردو

جنات پر حضرت سلیمان کا زندگی بھر تسلط رہا۔ متعدد سرکش شیاطین کو آپ نے زنجیروں میں جکڑوا کر قید بھی کر دیا تھا جیسا کہ سورۂ ص میں ہے ’ وَّ اٰخَرِیۡنَ مُقَرَّنِیۡنَ فِی الۡاَصۡفَادِ ‘ آخر وقت تک کوئی بڑے سے بڑا عفریت بھی آپ کے خلاف دم نہ مار سکا۔ مگر جب آپ کی وفات ہو گئی تو قیدی شیاطین کو قید سے اور مشغول خدمات جنات کو خدمت و چاکری سے نجات مل گئی۔ انھیں آپ کی وفات کا بروقت پتا نہ لگ سکا تھا کیونکہ وہ اطراف مملکت میں قلعوں اور بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر میں لگے ہوئے تھے۔ مگر جب انھیں مملکت میں پھیلی ہوئی بدنظمی کا احساس ہوا جو حضرت سلیمان کے ناخلف جانشین ”رجعام“ کے تخت نشین ہو جانے کی وجہ سے پیدا ہو گئی تھی، جیسے ہندوستان میں بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ کی وسیع و مستحکم سلطنت اس کے ناخلف جانشین ’معظم شاہ‘ کی وجہ سے کم زور و پارہ پارہ اور بد نظمیوں کا شکار ہوئی اور جیسے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وسیع سلطنت ان کے فرزند یزید سے نہ سنبھل سکی، تو جنات نے اس بدنظمی کا سبب معلوم کیا تو پتا چلا کہ حضرت سلیمان وفات پا گئے ہیں اور ان کا بیٹا رجعام ان کی جگہ تخت نشین ہو گیا ہے۔ یہ معلوم ہوتے ہی وہ متعلقہ خدمات سے دست بردار ہو گئے اور اپنے ہم قوم قیدیوں کو بھی قید و بند سے نکال لے گئے۔ انھیں رہ رہ کر افسوس ہوتا تھا کہ سلیمان کے مر جانے کا ہمیں بروقت علم ہو جاتا تو اتنے دنوں تک یہ تکلیفیں ہم نہ اٹھاتے۔ ناخلفی و ضرر رسانی میں حضرت سلیمان کا بیٹا رجعام دیمک یا گھن کی طرح تھا جو حضرت سلیمان کی لاٹھی یعنی اقتدار کو کھا کر خاک میں ملا رہا تھا۔ نتیجہ یہی ہوا کہ سلیمانی اقتدار کا وہ فلک بوس محل دھڑام سے زمین پر آ گرا۔ ایک مملکت دو حریف مملکتوں میں بدل گئی یہودیہ اور اسرائیل۔ اور توحید کو چھوڑ کر دونوں مملکتوں کے یہودی باشندے شرک اور فسق و فجور کی دلدل میں گرتے چلے گئے۔ بالآخر اولاً اسرائیل پھر یہودیہ دونوں ریاستیں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں۔

الغرض مشغول خدمت جنات کو حضرت سلیمان کی وفات کا پتا اس زمین کے کیڑے رجعام سے لگا تھا جو اپنے باپ کے بے نظیر اقتدار کو گھن کی طرح کھا رہا تھا۔ چنانچہ ارشاد ہوا:

فَلَمَّا قَضَیۡنَا عَلَیۡہِ الۡمَوۡتَ مَا دَلَّہُمۡ عَلٰی مَوۡتِہٖۤ اِلَّا دَآبَّۃُ الۡاَرۡضِ تَاۡکُلُ مِنۡسَاَتَہٗ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الۡجِنُّ اَنۡ لَّوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ الۡغَیۡبَ مَا لَبِثُوۡا فِی الۡعَذَابِ الۡمُہِیۡنِ . (السباء 34: 14)

’’پس جب ہم نے اس پر موت کا فیصلہ نافذ کر دیا تو انھیں یعنی جنات کو اس کی موت کا سراغ زمین کے کیڑے نے ہی دیا جو اس کی لاٹھی کو کھا رہا تھا۔ پس جب وہ گر گیا تو جن متفرق ہو گئے۔ اس لیے کہ اگر وہ آنکھوں سے اوجھل بات جانتے ہوتے تو ذلیل کر دینے والے دکھ میں نہ رہتے۔‘‘

(تنبیہ) میں سمجھتا ہوں کہ اس ارشاد میں بطور استعارہ ’دابۃ الارض‘ سے مراد حضرت سلیمان کا نالائق بیٹا رجعام ہے جو ان کی وفات کے بعد سلطنت کا وارث ہوا تھا۔ بطور استعارہ جیسے بہادر مرد کو اسد (شیر) کہہ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک پست حوصلہ و ضرر رساں شخص کو ’دابۃ الارض‘ کہا گیا ہے اور عصا یا ’مِنْسأۃ‘ (لاٹھی) کا اقتدار کے معنی میں استعارہ معروف ہے۔ اور’تَبَیَّنَتْ‘ بمعنی ’تَفَرَّقَتْ‘ ہے۔ اس کا ماخذ ’بَیْن‘ بمعنی جدائی ہے اور ’الغَیْب‘ سے مراد حضرت سلیمان کی وفات کا علم ہے جو جنات کو بر وقت حاصل نہ ہوا تھا، اس لیے کہ وہ دارالسلطنت یعنی یروشلم سے دور دراز مقامات پر تعمیری خدمات میں مشغول تھے۔

بے شک میری ذکر کردہ یہ تفسیر دیگر مفسرین سے مختلف ہے، لیکن تقابل سے ثابت ہو گا کہ اس آیت کی صحیح تفسیر یہی ہے جو میں نے تحریر کی ہے۔ والحمد للّٰہ علی ذلک

یہاں میں مثال کے طور پر مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان نقل کر کے زیر نقد لانا چاہتا ہوں۔ و باللہ التوفیق۔ موصوف نے لکھا ہے:

’’حضرت سلیمان جنوں کے ہاتھ سے مسجد بیت المقدس کی تجدید کرا رہے تھے۔ جب معلوم کیا کہ میری موت آ پہنچی، جنوں کو نقشہ بتا کر آپ ایک شیشہ کے مکان میں دربند کر کے عبادت الہٰی میں مشغول ہو گئے، جیسا کہ آپ کی عادت تھی کہ مہینوں خلوت میں رہ کر عبادت کیا کرتے تھے۔ اسی حالت میں فرشتہ نے روح قبض کر لی اور آپ کی نعش مبارک لکڑی کے سہارے کھڑی رہی۔ کسی کو آپ کی وفات کا احساس نہ ہو سکا۔ وفات کے بعد مدت تک جن بدستور تعمیر کرتے رہے۔ جب تعمیر پوری ہو گئی تو جس عصا پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، وہ گھن کے کھانے سے گرا۔ تب سب کو وفات کا حال معلوم ہوا۔ اس سے جنات پر خود اپنی غیب دانی کی حقیقت کھل گئی اور ان کے معتقد انسانوں کو بھی پتا لگ گیا کہ اگر انھیں غیب کی خبر رہتی تو کیا اس ذلت آمیز تکلیف میں پڑے رہتے۔ حضرت سلیمان کی وفات کو محسوس کرتے ہی کام چھوڑ دیتے۔‘‘(انتھی)

لیکن باور کرنا چاہیے کہ یہ تابعین یا اتباع تابعین کے دور کے کسی افسانہ ساز شخص کی گھڑی ہوئی کہانی ہے جو بدونِ تحقیق نقل ہوتی آ رہی ہے۔ اس کہانی کے غلط ہونے کے دلائل یہ ہیں:

(الف) سابق انبیاے کرام کے حالات جان سکنے کے دو ہی ذریعے ہیں: اول یہ کہ وہ قرآن مجید یا صحیح حدیث میں مذکور ہوں۔ دوم یہ کہ اسرائیلی صحیفوں میں ان کا ذکر ہو۔ پہلا ذریعہ یقینی ہے اور دوسرا ظنی۔ اور جو کہانی کسی نبی کے متعلق حضرت عیسٰی علیہ السلام سے پہلے گزری ہوئی کسی مشہور اسرائیلی شخصیت کے بارے میں نہ قرآن و حدیث میں موجود ہو نہ اسرائیلی صحیفوں میں مذکور ہو یقیناً وہ غلط ہے اور یہ قصہ ایسا ہی ہے کہ نہ قرآن میں ہے، نہ حدیث میں، نہ بائیبل میں۔

(ب) حضرت سلیمان علیہ السلام کسی جنگل میں سب سے الگ تھلگ رہنے والے تارک الدنیا درویش نہ تھے کہ آپ کی بیماری و وفات کا حال مدت تک مخفی رہ جاتا۔ آپ کے محل میں بیویاں تھیں، کنیزیں تھیں، خدام تھے۔ نا ممکن ہے کہ وہ سب آپ سے ایسے غیر متعلق رہتے ہوں کہ وفات کے بعد بھی طویل مدت تک ان میں سے کسی کو آپ کی وفات کا پتا نہ چلے۔

(ج) یہ کہنا کہ آپ کی عادت تھی کہ مہینوں خلوت میں رہ کر عبادت کیا کرتے تھے، محتاج ثبوت ہے۔ کیا یہ بات قرآن میں مذکور ہے یا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ہے؟ قطعاً نہیں، تو کیا بائیبل میں یا اور کسی اسرائیلی صحیفہ میں اس کا ذکر ہے؟ قطعاً نہیں، لا محالہ یہ بے ثبوت بات ہے۔ اور عقل سلیم اسے باور نہیں کر سکتی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام مہینوں اس طرح خلوت گزیں ہو جاتے ہوں کہ ان دنوں میں نہ کوئی شخص آپ سے ملتا تھا نہ آپ کسی دنیوی چیز سے تعلق رکھتے تھے، نہ کھانا نہ پینا، نہ بول و براز، نہ سونا نہ لیٹنا بس لگاتا رہر وقت مصروف عبادت رہنا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان سلطنت کا فرماں روا بنایا تھا۔ عدل کے ساتھ دارِ حکومت دینا اور رعیت کی خبر گیری کرنا آپ کا فرض منصبی تھا، محال تھا کہ آپ مہینوں اس فریضہ سے غافل رہیں اور خود کو ”نیکی برباد گناہ لازم“ کا مصداق بنائیں۔ اطراف مملکت سے زائرین اور دیگر ممالک سے وفود برابر آپ کی خدمت میں آتے رہتے تھے۔ مہینوں ان سے صرف نظر کرنا تصور میں بھی نہیں آ سکتا۔

(د) یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص لاٹھی کا سہارا لیے ہوئے کھڑا ہو اور اسی حالت میں اسے موت آ جائے اور مر جانے کے بعد اس کا جسم اسی طرح لاٹھی کے سہارے کھڑا رہے۔ کیونکہ جانکنی کے وقت تھوڑی یا بہت جسم میں حرکت ضرور ہوتی ہے اور خفیف سی حرکت بھی توازن ختم کر ڈالے گی لامحالہ وہ جسم گر جائے گا۔

(ہ) حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد میں بھی جن جن ہی تھے یعنی عام انسانوں کی نگاہوں سے مستور و پوشیدہ۔ یہ سمجھنا کہ آپ کے زمانہ میں جن و انس کے درمیان میل جول تھا قطعاً بے تکی بات ہے۔

(و) یہود اگرچہ حضرت سلیمان کو انبیاے کرام کی فہرت میں شامل نہیں کرتے، لیکن انھیں زبردست حکمران اور نہایت خرد مند و حکیم و عالی جاہ بادشاہ تو مانتے ہیں۔ ان کی عظمت شان پر دلالت کرنے والی بہت سی باتیں اور ان کو پیش آنے والے احوال و کوائف یہود نے صحیفوں میں لکھے ہیں۔ اگر حضرت سلیمان کی وفات اس طرح شیشے سے بنے ہوئے مکان میں ہوئی ہوتی اور مدت تک ان کی لاش لاٹھی کے سہارے اس میں کھڑی رہتی اور ایک عرصۂ دراز تک ان کی وفات کا کسی کو علم نہ ہوا ہوتا تو یہ بڑا اہم اور عجیب واقعہ ہوتا۔ لا محالہ یہود اسے اور بھی نمک مرچ لگا کر اور بڑھا چڑھا کر لکھتے۔ لیکن اسرائیلی صحیفوں میں اس کا کوئی ذکر نہیں تو یہ اس حقیقت کی قطعی دلیل ہے کہ سرے سے یہ واقعہ ہوا ہی نہیں۔ بس بعض افسانہ ساز لوگوں نے اسے گھڑ کر مسلمانوں میں پھیلانے کا جرم کیا ہے۔

  1. ماخوذازتفسیرسورۂ فاطر،مفتاح القرآن ،چوتھی جلد زیرترتیب۔