مواد پر جائیں

شق القمر غامدی صاحب کا موقف

سید منظور الحسن اردو

[محمد حسن الیاس کے ساتھ ایک مکالمے سے لیا گیا]

(9)

اِن ضروری توضیحات کے بعد اِس نوعیت کی آیات اور نشانیوں کی چند نمایاں مثالیں درجِ ذیل ہیں۔

1۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات

حضرت موسیٰ علیہ السلام کوجو دو بڑی آیات دی گئیں، اُن میں سے ایک عصا اور دوسری یدِ بیضا ہے۔ یہ نہایت غیر معمولی آیات تھیں، جو اُنھیں بعثت کے ساتھ ہی عطا کر دی گئیں۔ اُن کے اکثر معجزات اِنھی کے ذریعے سے ظہور پذیر ہوئے۔یہ دونوں آیات اُنھیں طویٰ کی مقدس وادی میں عطا کی گئیں۔ قرآنِ مجید میں بیان ہوا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین سے واپسی پر طویٰ کی وادی میں پہنچے تو اُنھیں ایک شعلہ سا دکھائی دیا۔ وہ اُسے آگ سمجھ کر اُس کی سمت میں آگے بڑھے۔ وہاں پہنچے تو غیب سے ندا آئی کہ ’’یہ تو میں تمھارا پروردگار ہوں، سو اپنے جوتے اتار دو، اِس لیے کہ تم طویٰ کی مقدس وادی میں ہو۔اورمیں نے تمھیں منتخب کر لیا ہے، لہٰذا جو وحی کی جا رہی ہے، اُس کو توجہ سےسنو۔‘‘ اِسی موقع پر اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنا عصا زمین پر ڈال دیں، اُنھوں نے ایسا کیا تو وہ رینگتا ہوا سانپ بن گیا۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ اپنا ہاتھ بغل میں ڈال کر واپس نکالو، جب اُنھوں نے اِس حکم کی تعمیل کی تو اُن کا ہاتھ بالکل سفید اور چمک دار ہو گیا۔ سورۂ طٰہٰ میں ارشاد ہے:

وَ مَا تِلۡکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی. قَالَ ہِیَ عَصَایَ ۚ اَتَوَکَّؤُا عَلَیۡہَا وَ اَہُشُّ بِہَا عَلٰی غَنَمِیۡ وَ لِیَ فِیۡہَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰی. قَالَ اَلۡقِہَا یٰمُوۡسٰی. فَاَلۡقٰہَا فَاِذَا ہِیَ حَیَّۃٌ تَسۡعٰی.

قَالَ خُذۡہَا وَلَا تَخَفۡ ٝ سَنُعِیۡدُہَا سِیۡرَتَہَا الۡاُوۡلٰی. وَاضۡمُمۡ یَدَکَ اِلٰی جَنَاحِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ اٰیَۃً اُخۡرٰی. لِنُرِیَکَ مِنۡ اٰیٰتِنَا الۡکُبۡرٰی. (20: 17-23)

’’اور یہ تمھارے ہاتھ میں کیا ہے، اے موسیٰ؟اُس نے کہا: یہ میری لاٹھی ہے، میں اِس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اِس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور اِس میں میرے کچھ دوسرے کام بھی ہیں۔ فرمایا: اِس کو (زمین پر) ڈال دو، اے موسیٰ! اِس پر موسیٰ نے لاٹھی کو (زمین پر) ڈال دیا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہ ایک سانپ ہے، جو دوڑ رہا ہے۔

فرمایا: اِس کو اٹھا لو اور ڈرو نہیں، ابھی ہم اِس کو ویسا ہی کر دیں گے، جیسی یہ پہلے تھی۔ اور اپنے ہاتھ کو (ذرا) تم اپنے بازو کی طرف سکیڑو، وہ بغیر کسی بیماری کے سفید ہو کر نکلے گا، ایک دوسری نشانی کے طور پر۔ یہ اِس لیے کہ (اِن کے ذریعے سے) ہم اپنی کچھ بڑی بڑی نشانیاں تمھیں دکھائیں۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی اِن آیات کی تفسیر میں عصا اور یدِ بیضا کے معجزات کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’عصا کا معجزہ: ارشاد ہوا کہ اِس لٹھیا کو زمین پر ڈال دو اور پھر قدرتِ خداوندی کا کرشمہ دیکھو! چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے لٹھیا زمین پر ڈال دی اور وہ دفعتاًایک دوڑتا ہوا سانپ بن گئی۔ سانپ کو دیکھ کر ڈرنا ایک امر طبعی ہے، چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اِس منظر کو دیکھ کر ڈرے کہ ہاتھ کی لٹھیا جو سانپ کو مارنے والی بن سکتی تھی، وہ خود سانپ بن گئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اُن کو اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، اِس کو بے جھجک پکڑ لو۔ تمھارے پکڑتے ہی ہم اِس کو اِس کی پہلی حالت پر کر دیں گے۔ یہ جیسی لٹھیا تھی، ویسی ہی لٹھیا بن جائے گی۔

یدِ بیضا کا معجزہ: ساتھ ہی دوسری ہدایت یہ ہوئی کہ اپنے ہاتھ کو اپنی بغل کی طرف سکیڑ لو، پھر جب تم اِس کو بغل سے نکالو گے تو وہ وہاں سے چٹا سفید، بغیر کسی مرض کے، ایک دوسری نشانی بن کر برآمد ہو گا۔

یہ دوسرا معجزہ تھا، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا ہوا۔ یہاں ’بَیۡضَآءَ‘ کے ساتھ ’مِنْ غَیۡرِ سُوْٓءٍ‘ کی قید اِس شبہ کے ازالہ کے لیے ہے کہ یہ ہاتھ کی سفیدی کسی مرض کے سبب سے نہیں ہو گی، بلکہ اللہ کی ایک نشانی کے طور پر ہو گی۔ اِس سے تورات کی اِس روایت کی تردید ہو جاتی ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنا ہاتھ نکالا تو وہ برص سے سفید نکلا۔ یہ امر بھی یاد رکھیے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ کی یہ سفیدی مستقل نہیں تھی، بلکہ قرآن کے الفاظ شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اِس کے ظہور کو اِس شرط کے ساتھ خاص کیا تھا کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک نشانی کے طور پر دکھانے کے لیے اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال کر نکالیں گے، تب یہ سفید نکلے گا۔

’ لِنُرِیَکَ مِنۡ اٰیٰتِنَا الۡکُبۡرٰی‘ (یہ اِس لیے کہ (اِن کے ذریعے سے) ہم اپنی کچھ بڑی بڑی نشانیاں تمھیں دکھائیں۔)یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے مستقبل کی فتوحات کی بشارت ہے کہ بہ ظاہر تو یہ دو ہی معجزے ہیں، لیکن یہ دو نہیں ہیں، بلکہ اِن کے اندر ہمارے بہت سے دوسرے بڑے بڑے معجزے بند ہیں۔ آگے جب امتحان کے مراحل آئیں گے تو تم دیکھو گے کہ اِن سے ہماری قدرت و قہرمانیت کے کیا کیا کرشمے اور خوارق ظاہر ہوتے ہیں۔ ‘‘

(تدبر قرآن 5/ 36-35)

حضرت موسیٰ علیہ السلام بعثت کے بعد فرعون کے دربار میں پہنچے اور انبیا علیہم السلام کے عام طریقے کے مطابق فرعون اور اُس کے امرا و عمائدین کو توحید اور آخرت کی دعوت پیش کی۔ اِس کے بعد یہ تقاضا کیا کہ وہ بنی اسرائیل کو اُن کے ساتھ بھیج دے۔ جواب میں فرعون نے اُن سے کوئی نشانی دکھانے کا مطالبہ کیا۔ اِس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ ایک حقیقی اژدھا بن گیا۔ پھر اُنھوں نے اپنے ہاتھ کو آستین سے نکالا تو دفعتاً وہ چمکنے لگا۔ اہل دربار کو اندازہ ہو گیا کہ یہ عام نوعیت کا سحر نہیں ہے۔ چنانچہ اُنھوں نے فرعون کو ڈرانے اور برانگیختہ کرنے کے لیے کہا کہ یہ شخص تمھیں اِس ملک سے نکال کر خود قابض ہونا چاہتا ہے۔ اِسے فی الحال ٹال دو اور پھر ملک بھر سے جادوگروں کو جمع کر لو تاکہ وہ اِس کے سحر کا توڑ کر سکیں۔ فرعون نے مشورہ قبول کر لیا اور ہرکارے بھیج کر جادوگروں کو بلا لیا۔ آگے کی تفصیل سورۂ اعراف میں اِن الفاظ میں نقل ہوئی ہے:

وَ جَآءَ السَّحَرَۃُ فِرۡعَوۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ کُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِیۡنَ. قَالَ نَعَمۡ وَ اِنَّکُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ. قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِیَ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّکُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِیۡنَ. قَالَ اَلۡقُوۡا ۚ فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا سَحَرُوۡۤا اَعۡیُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡہَبُوۡہُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِیۡمٍ.

وَاَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنۡ اَلۡقِ عَصَاکَ ۚ فَاِذَا ہِیَ تَلۡقَفُ مَا یَاۡفِکُوۡنَ. فَوَقَعَ الۡحَقُّ وَ بَطَلَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ. فَغُلِبُوۡا ہُنَالِکَ وَ انۡقَلَبُوۡا صٰغِرِیۡنَ. وَاُلۡقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیۡنَ. قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ. رَبِّ مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ.

(7: 122-113)

’’اور جادوگر فرعون کے پاس آ گئے۔ اُنھوں نے کہا: اگر ہم ہی جیت گئے تو بڑا صلہ تو ہمیں یقیناً ملے گا؟ فرعون نے جواب دیا: ہاں، ضرور اور تم ہمارے مقربین میں بھی شامل ہو جاؤ گے۔ اِس پر جادوگروں نے کہا: اے موسیٰ، تم پھینکو گے یا (اگر تم چاہو تو) ہم پھینکتے ہیں؟ اُس نے کہا: تم ہی پھینکو۔ چنانچہ اُنھوں نے جب پھینکا تو لوگوں کی آنکھیں باندھ دیں اور اُن پر دہشت طاری کر دی اور بڑا زبردست جادو بنا لائے۔

ہم نے موسیٰ کو اشارہ کیا کہ اپنا عصا پھینکو۔ پھر اُس کا پھینکنا تھا کہ وہ اُن کے اُس طلسم کو نگلتا چلا گیا، جو وہ بنا لائے تھے۔ سو حق ظاہر ہوا اور جو کچھ وہ کر رہے تھے، سب باطل ہو گیا۔ فرعون اور اُس کے ساتھی (اُس روز ) وہاں مغلوب ہوئے اور ذلیل ہو کر رہ گئے۔ اور جادوگر (خدا کی اِس نشانی کو دیکھ کر) سجدے میں گر پڑے۔ اُنھوں نے (بے اختیار) کہا: ہم جہانوں کے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں۔ جو موسیٰ اور ہارون کا پروردگار ہے۔‘‘

استاذِ گرامی کے نزدیک اِس مقام پر ’ فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا سَحَرُوۡۤا اَعۡیُنَ النَّاسِ‘ ( چنانچہ اُنھوں نے جب پھینکا تو لوگوں کی آنکھیں باندھ دیں) کے الفاظ سے واضح ہے کہ جادو سے کسی چیز کی حقیقت و ماہیت نہیں بدلتی۔ وہ محض نگاہ اور قوتِ متخیلہ کو متاثر کرتا ہے، جس سے انسان وہی کچھ دیکھنے لگتا ہے، جو جادوگر دکھانا چاہتا ہے۔یعنی عصا کا سانپ جدھر جدھر گیا، اُس نے سانپوں کی طرح لہراتی ہوئی ہر رسی اور لاٹھی کو اُسی طرح رسی اور لاٹھی بنا دیا، جس طرح وہ حقیقت میں تھی اور سارا طلسم نابود ہو گیا۔1

سورۂ طٰہٰ کے الفاظ ’اِنَّمَا صَنَعُوۡا کَیۡدُ سٰحِرٍ ؕ وَلَا یُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَیۡثُ اَتٰی‘ ( جو کچھ اُنھوں نے بنایا ہے، یہ محض جادوگر کا فریب ہے اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔) سے بھی جادو کے فریب ہونے کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حق کے سامنے آتے ہی ہر شخص پر واضح ہو جاتا ہے کہ جادو کیا ہے اور معجزہ کیا چیز ہوتی ہے۔2 استاذِ گرامی کے نزدیک: ’’یہ بالکل ویسی ہی بات ہے کہ ماہ ِ نخشب کے مقابلے میں خورشید ِجہاں تاب نکل آئے۔ اِس کے بعد، ظاہر ہے کہ منطق و استدلال سے دونوں کا فرق واضح کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ … سحر و ساحری اور اِس طرح کے دوسرے علوم کو اُن کے ماہرین ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اُن میں اور معجزے میں فرق کے لیے یہ نہایت واضح معیار ہے کہ اِن علوم و فنون کے ماہرین بھی اُس کے سامنے اعترافِ عجز پر مجبور ہو جاتے ہیں۔‘‘3

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا سے بنی اسرائیل کے لیے ایک اور عظیم الشان معجزہ یہ صادر ہوا کہ اُنھوں نے عصا کو چٹان پر مارا تو اُس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے اور اُن کے ہر قبیلے کے لیے الگ الگ پانی کا بندوبست ہو گیا۔ سورۂ بقرہ میں بیان ہوا ہے:

وَ اِذِ اسۡتَسۡقٰی مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ فَقُلۡنَا اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡحَجَرَ ؕ فَانۡفَجَرَتۡ مِنۡہُ اثۡنَتَاعَشۡرَۃَ عَیۡنًا ؕ قَدۡ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَہُمۡ …. (2: 60)

’’اور یاد کرو، جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو ہم نے کہا: اپنی لٹھیا اِس پتھر پر مارو۔ (اُس نے ماری) تو اُس سے بارہ چشمے بہ نکلے، اِس طرح کہ ہر گروہ نے اپنے لیے پانی لینے کی جگہ متعین کر لی…۔‘‘

تورات کی کتاب گنتی سے معلوم ہوتا ہے کہ پتھر کی چٹان سے پانی بہ نکلنے کا یہ واقعہ دشتِ صین میں پیش آیا ہے۔اُس میں لکھا ہے:

’’اور پہلے مہینے میں بنی اسرائیل کی ساری جماعت دشتِ صین میں آگئی اور وہ لوگ قادس میں رہنے لگے… اور جماعت کے لوگوں کے لیے وہاں پانی نہ ملا۔ سو وہ موسیٰ اور ہارون کے برخلاف اکٹھے ہوئے۔ اور لوگ موسیٰ سے جھگڑنے اور یہ کہنے لگے: ہائے کاش، ہم بھی اُسی وقت مر جاتے،جب ہمارے بھائی خداوند کے حضور مرے۔ تم خداوند کی جماعت کو اِس دشت میں کیوں لے آئے ہو کہ ہم بھی اور ہمارے جانور بھی یہاں مریں؟ اور تم نے کیوں ہم کو مصر سے نکال کر اِس بری جگہ پہنچایا ہے؟ یہ تو بو نے کی اور انجیروں اور تاکوں اور اناروں کی جگہ نہیں ہے، بلکہ یہاں تو پینے کے لیے پانی تک میسر نہیں اور موسیٰ اور ہارون جماعت کے پاس سے جا کر خیمۂ اجتماع کے دروازے پر اوندھے منہ گرے۔ تب خداوند کا جلال اُن پر ظاہر ہوا اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اِس لاٹھی کو لے اور تو اور تیرا بھائی ہارون، تم دونوں جماعت کو اکٹھا کرو اور اُن کی آنکھوں کے سامنے اِس چٹان سے کہو کہ وہ اپنا پانی دے اور تو اُن کے لیے چٹان ہی سے پانی نکالنا۔ یوں جماعت کو اور اُن کے چوپایوں کو پلانا۔ چنانچہ موسیٰ نے خداوند کے حضور سے اِسی حکم کے مطابق وہ لاٹھی لی اور موسیٰ اور ہارون نے جماعت کو اُس چٹان کے سامنے اکٹھا کیا اور اُس نے اُن سے کہا: سنو،اے باغیو، کیا ہم تمھارے لیے اِسی چٹان سے پانی نکالیں؟ تب موسیٰ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اُس چٹان پر دوبار لاٹھی ماری اور کثرت سے پانی بہ نکلا اور جماعت نے اور اُن کے چوپایوں نے پیا۔‘‘ ( 20 :1-11)

ایک کے بجاے بارہ چشموں کا پھوٹنا اِس وجہ سے تھا کہ بنی اسرائیل کے خاندان بھی بارہ تھے۔ الگ الگ گھاٹ مقرر ہونے سے اِن کے مابین پانی پر جھگڑنے کی گنجایش ختم ہو گئی۔ اگر پانی وافر مقدار میں میسر نہ ہوتا اور اِس میں تقسیم کا مساوی انتظام نہ ہوتا تو صحرا میں اُن کے درمیان روز پانی پینے پلانے پر تلواریں نکلتی رہتیں۔ لہٰذا یہ غیر معمولی معجزہ ہی نہیں تھا، اِس کے ساتھ اللہ کا بہت بڑا احسان بھی تھا۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

’’چونکہ پہاڑی سے بارہ چشمے پھوٹے تھے اور بنی اسرائیل کے خاندان بھی بارہ تھے، اِس وجہ سے ہر خاندان نے اپنے اپنے گھاٹ الگ الگ متعین کر لیے اور اِس چیز کا کوئی اندیشہ باقی نہیں رہا کہ پانی کے لینے پر کوئی جھگڑا برپا ہو۔ اگر اِس بہتات کے ساتھ پانی کا انتظام نہ ہوا ہوتا تو اِس صحرا میں اِن لوگوں کے اندر روز پانی پینے پلانے پر ہی تلواریں کھنچی رہتیں۔ اِس وجہ سے یہ واقعہ صرف ایک عظیم معجزہ ہی نہیں، بلکہ ایک عظیم احسان بھی تھا۔‘‘(تدبر قرآن 1/ 223)

[باقی]

  1. ۔ البیان 2/200۔
  2. ۔ جادو اور معجزہ کے فرق پر تفصیلی بحث کے لیے اِسی تصنیف کا ضمیمہ 3 ملاحظہ کر لیجیے۔
  3. ۔ البیان 3 /241۔