بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(9)
وَ قَالُوۡا کُوۡنُوۡا ہُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰی تَہۡتَدُوۡا ؕ قُلۡ بَلۡ مِلَّۃَ اِبۡرٰہٖمَ حَنِیۡفًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ﴿۱۳۵﴾ قُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ الۡاَسۡبَاطِ وَ مَاۤ اُوۡتِیَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰی وَ مَاۤ اُوۡتِیَ النَّبِیُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ ۫ۖ وَ نَحۡنُ لَہٗ مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۳۶﴾
(اِن کے بزرگوں کی روایت تو یہ ہے) اور اِدھر اِن کا اصرار ہے کہ یہودی یا نصرانی بنو تو ہدایت پاؤ گے۔ اِن سے کہہ دو: بلکہ ابراہیم کا دین اختیار کرو جو (اپنے پروردگار کے لیے) بالکل یک سو تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا۔(ایمان والو)، اِن سے کہہ دوکہ ہم نے اللہ کو مانا ہے اور اُس چیز کو مانا ہے جو ہماری طرف نازل کی گئی اور جو ابراہیم، اسمٰعیل، اسحق اور یعقوب اور اُن کی اولاد کی طرف نازل کی گئی اور جو موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے سب نبیوں کو اُن کے پروردگار کی طرف سے دی گئی۔ ہم اِن میں سے کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔ (یہ سب اللہ کے پیغمبر ہیں) اور ہم اُسی کے فرماں بردار ہیں۔135-136
فَاِنۡ اٰمَنُوۡا بِمِثۡلِ مَاۤ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ فَقَدِ اہۡتَدَوۡا ۚ وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا ہُمۡ فِیۡ شِقَاقٍ ۚ فَسَیَکۡفِیۡکَہُمُ اللّٰہُ ۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۱۳۷﴾ؕ
صِبۡغَۃَ اللّٰہِ ۚ وَ مَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبۡغَۃً ۫ وَّ نَحۡنُ لَہٗ عٰبِدُوۡنَ ﴿۱۳۸﴾ قُلۡ اَتُحَآجُّوۡنَنَا فِی اللّٰہِ وَ ہُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّکُمۡ ۚ وَ لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَ لَکُمۡ اَعۡمَالُکُمۡ ۚ وَ نَحۡنُ لَہٗ مُخۡلِصُوۡنَ ﴿۱۳۹﴾ۙ
اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ اِبۡرٰہٖمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ الۡاَسۡبَاطَ کَانُوۡا ہُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰی ؕ قُلۡ ءَاَنۡتُمۡ اَعۡلَمُ اَمِ اللّٰہُ ؕ وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنۡدَہٗ مِنَ اللّٰہِ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴۰﴾
تِلۡکَ اُمَّۃٌ قَدۡ خَلَتۡ ۚ لَہَا مَا کَسَبَتۡ وَ لَکُمۡ مَّا کَسَبۡتُمۡ ۚ وَ لَا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴۱﴾
پھر اگر وہ اُس طرح مانیں، جس طرح تم نے مانا ہے تو راہ یاب ہوئے اور اگر منہ پھیر لیں تو وہی دشمنی کی ضد پر ہیں۔ سو اِن کے مقابلے میں، (اے پیغمبر)، اللہ تمھارے لیے کافی ہے، اور وہ سننے والا ہے، ہر چیز سے واقف ہے۔137
(اِن سے کہہ دو، تم) اللہ کا یہ رنگ اختیار کرو اور اللہ کے رنگ سے کس کا رنگ بہتر ہے اور (کہہ دو کہ) ہم تو (ہر حال میں) اُسی کی عبادت کرتے ہیں۔ کہہ دو، کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو، دراں حالیکہ وہی ہمارا بھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی؟ اور (اگر یہ نہیں، تو پھر) ہمارے لیے ہمارے عمل ہیں اور تمھارے لیے تمھارے عمل، اور ہم تو خالص اُسی کے ہیں۔ 138-139
کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم، اسمٰعیل، اسحاق، یعقوب اور اُن کی اولاد کے لوگ یہودی یا نصرانی تھے؟ اِن سے پوچھو، تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟ (افسوس)، اُن لوگوں سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جن کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی گواہی ہو اور وہ اُسے چھپائیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ اُن چیزوں سے بے خبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہو۔140
یہ ایک گروہ تھا جو گزر گیا، اُن کا ہے جو اُنھوں نے کیا اور تمھارا ہے جو تم نے کیا، تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔ 141