[ حال میں رفقاے ”المورد“ کی آن لائن کلاس پر فلسفہ کا درس تکمیل کو پہنچا تو یہ سوال پیدا ہوا کہ اب درس کے لیے کس موضوع کا انتخاب کیا جائے۔ اِس موقع پر رفقاے ”المورد“ کے نام درج ذیل خط لکھا گیا۔ مصنف]
استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے ساتھ نظم، فلسفہ، شعر و ادب اور اصول و مبادی جیسے قیمتی موضوعات پر گفتگو بہت خوب ہے۔ مگر اب ضرورت ہے کہ قدیم روایتی اور محض نظریاتی قسم کے موضوعات کی علمی افادیت کے باوجود اِسی کے ساتھ، انسانیت کو درپیش اُن حقیقی اور عملی چیزوں کو بھی اپنی گفتگو کا موضوع بنایا جائے جن میں سے بعض کا ذکر ماہ نامہ ’’اشراق‘‘ ہند (جولائی 2020ء) کے رشحات (انسان رخی طرز فکر) میں کیا جا چکا ہے اور جو کورونا اور کورونا کے نام پر برپا مابعد کورونا دور میں انسانیت کو درپیش ہیں۔
اس کی طرف میں اس سے قبل بھی متعدد بار توجہ دلا چکا ہوں۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ ادارہ ”المورد“ معروف معنوں میں نہ کوئی محض ایک روایتی قسم کا ادارہ ہے اور نہ اُس کے سنجیدہ اور باصلاحیت احباب میری طرح محض ایک مولوی۔ ”المورد“ اپنے منظم ماحول، اپنی برتر اخلاقیات، اپنی علمی اور فکری وسعت و گہرائی اور اُس کے بہت سے احباب اپنے جدید تعلیمی پس منظر کی بنا پر شاید دوسرے بہت سے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ وقت کے حقیقی مسائل کو زیادہ بہتر طور پر ایڈریس کر سکیں۔ عالمی نیٹ ورک پر بعض مرتبہ اس قسم کے ”علمی مباحث“ اور لا حاصل ”فنی مہارت“ کا دنگل دیکھ کر اکثر یہ خیال آتا ہے کہ جن چیزوں پر فراہی سے لے کر غامدی تک کے جلیل القدر اہل علم مسلسل لکھتے اور بولتے رہے ہیں، جدید بحرانی حالات میں بھی محض اُنھی پر اکتفا کر کے صرف اُنھی کا اعادہ اور انھی کا چرچا اپنے وقت اور توانائی کا شاید کوئی زیادہ بہتر استعمال نہیں ہو سکتا۔ بسا وقت دل چاہتا ہے کہ اِس قسم کے مخلص اور بیش قیمت احباب، غالب کی زبان میں اِس معذرت کے ساتھ کہ:
میں جو گستاخ ہوں، آئین غزل خوانی میں
یہ بھی تیرا ہی کرم، ذوق فزا ہوتا ہے
رکھیو غالب، مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے!
شاعرِ حقیقت علامہ اقبال کی زبان میں عرض کیا جائے:
اے اہل نظر، ذوق نظر خوب ہے، لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے، وہ نظر کیا!
مقصودِ ہنر سوزِ حیاتِ ابدی ہے
یہ ایک نفس یا دو نفس مثلِ شرر کیا!
جس سے دلِ دریا متلاطم نہیں ہوتا
اے قطرۂ نیساں، وہ صدف کیا، وہ گہر کیا!
شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہو
جس سے چمن افسردہ ہو، وہ بادِ سحر کیا!
بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا، وہ ہنر کیا!؟
واقعات بتاتے ہیں کہ شافعی سے لے کر شاطبی تک تادمِ تحریر، ہمارے بیش تر قیمتی ذہن قدیم ’مذہبی‘ جنگل کے ایک مسافر، فقہی، اصولی اور کلامی دنیا کے صحرا نورد اور بعد کو پیدا کردہ قدیم و جدید دفتر بے معنی کے محض ایک ’حمال‘ (یَحمِلُ أسفاراً) بن کر رہ گئے ہیں۔ ہمارے اکثر متعربین و متغربین اور قدیم و جدید جامعات کے فارغین، اسی زنداں کے اسیر اور اِسی ما بعد عہد رسالت تکییف (conditioning) کا شکار ہیں، خصوصاً وہ مذہبی شاکلہ جو 661 عیسوی کے بعد برپا کیا گیا۔
چنانچہ اب ہمارے ادارے عام طور پر اپنے مخصوص خول میں بند ہو کر عملاً صرف ایک ایسا قیمتی دار الاشاعت بن چکے ہیں، جہاں سے پیدا ہونے والے لٹریچر کا بڑا حصہ اپنی تمام تر افادیت کے باوجود انسانیت کے زخم کا مرہم، اُس کے درد کا درماں اور اُس کو در پیش عملی چیلنجز کے حقیقی جواب سے یکسر خالی نظر آتا ہے۔ اِس بے علم و عمل راقم الحروف سمیت یہاں ایسے لکھنے اور بولنے والوں کی کثرت ہے کہ ”ابن مریم“ ہونے کے باوجود جن کے پاس انسانیت کے درد کی اکثر کوئی دوا نہیں ہوتی۔ یہاں ایسی سرگرمیاں جاری ہیں جو انسان رخی سرگرمیاں نہیں، جن میں انسانیت عامہ کی بھلائی اور اُس کی فلاح کا واقعتاً کوئی سنجیدہ علمی پروگرام نہیں ہوتا۔
حالات کا تقاضا اور وقت کی پکار یہی ہے کہ اب ایسے لوگ اٹھیں جو اس خرمن مستعار کے خاکستر سے ایک نئی دنیا پیدا کریں اور اِس طرح عالم افکار میں وہ جبریل آشوب زلزلہ برپا ہو جس کا شاید آج زمین و آسمان کو سب سے زیادہ انتظار ہے:
بال بکشا و صفیر از شجرِ طوبی زن
حیف باشد چو تو مرغے کہ اسیرِ قفسی!