اللہ کی راہ میں خرچ کرنا دین اسلام کے بنیادی مطالبات میں سے ایک ہے۔ یہ مطالبہ اتنا غیر معمولی ہے کہ محتاج اور ضرورت مند لوگ جو خود خرچ کرنے کے قابل نہ ہوں، وہ اگر دوسروں کو خود پر ترجیح دیں اور دوسروں کو ملنے والی چیزوں پر اپنے دل میں تنگی محسوس نہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی اس بے غرضی کی بنا پر آخرت میں ان کی فلاح کا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔(الحشر 59: 9)۔
مال کی محبت پر آخرت کو ترجیح دینا ہی تمام تر انفاق کی بنیاد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مال دراصل دنیا کے قائم مقام ہے جس سے دنیا کی ہر چیز خریدی جا سکتی ہے۔ مگر آخرت کے طلب گاروں کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنا چاہیے کیونکہ آخرت میں اس کا اجر بے حد و حساب ہے۔ اس حوالے سے قرآن مجید کی کچھ رہنمائی قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
قرآن اپنی ابتدا ہی میں انفاق کے حکم میں یہ بتا دیتا ہے کہ لوگ جو بھی خرچ کرتے ہیں وہ درحقیقت ان کی مِلک ہی نہیں ہوتا، بلکہ یہ سر تا سر اللہ کی عطا ہوتی ہے، (البقرہ 2: 3)۔ یہ احساس ملکیت ہی انسان کو مال خرچ کرنے میں مانع ہوتا ہے۔ جب اسے یقین ہو جاتا ہے کہ جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے تو پھر وہ اس میں سے خرچ کرتے ہوئے تنگ دل نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جس نے دیا ہے وہ کبھی بھی لے سکتا ہے۔ اسی بات کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے کہ جس مال پر تمھیں امین بنایا گیا ہے، اس میں سے خرچ کرو، (الحدید 57 :7)۔
یہی وہ پس منظر ہے جس میں حکم دیا گیا ہے کہ جو تمھاری ضرورت سے زائد ہے، وہ سب خرچ کر دو، (البقرہ 2: 219)۔ یہاں ضرورت سے زائد کا مطلب اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حال و مستقبل کی حقیقی ضروریات سے زیادہ مال ہے۔ یہ مطلب بھی نہیں کہ اس سے زائد مال کو سٹرک پر پھینک دیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ جب کوئی ضرورت مند آجائے تو پھر یہ اضافی مال اس کا حق ہے جو اسے دے دینا چاہیے۔
پھر قرآن یہ حکم دیتا ہے کہ مال دیں تو نہ احسان جتلائیں نہ لینے والوں کی دل آزاری کریں، (البقرہ 2: 264)۔ اس سے اجر ضائع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح گھٹیا مال دوسروں کو نہ دیا جائے، (البقرہ 2: 267)۔ اپنامال علانیہ اور چھپا کر، دونوں طرح اللہ کی راہ میں دیا جا سکتا ہے، (البقرہ 2: 271) علانیہ دینے سے دوسروں کو بھی تلقین ہوتی ہے، لیکن چھپا کر دینا نفس کی تربیت کے لیے بہتر ہے کہ اس میں ریاکاری کا اندیشہ نہیں ہوتا۔
مال رشتہ داروں، محتاجوں، یتیموں، مسافروں اور سوال کرنے والوں اور کسی بھی طرح کی مصیبت میں گرفتار شخص پر خرچ کیا جا سکتا ہے، (البقرہ 2: 177)۔ ان لوگوں کا خصوصی خیال کرنا چاہیے جو عزت نفس کی بنا پر ضرورت مند ہونے کے باوجود ہاتھ نہیں پھیلاتے، (البقرہ 2: 273) جو شخص ان سب باتوں کی رعایت کر کے خرچ کرے گا، اس کے لیے خوش خبری ہے کہ اس کا اجر کم از کم دس گنا اور حالات اور جذبے کے لحاظ سے سات سو گنا تک بڑھ سکتا ہے۔ جیسے جو لوگ خوش حالی کے ساتھ تنگی میں بھی مال دیتے ہیں، (آل عمران 3: 134)۔ ان کا تنگی میں مال دینے کا اجر یقیناً خوش حالی سے بہت زیادہ ہو گا۔
خیال رہے کہ یہ زکوٰۃ سے آگے بڑھ کر خرچ کرنے کا ذکر ہے۔ زکوٰۃ تو فرض ہے اور اس فرض کی ادائیگی کا بھی بے حد اجر ہے اور ایک سفید پوش تو یہی ادا کر دے تو بہت ہے۔ لیکن زیادہ مال والوں کو زکوٰۃ سے آگے بڑھ کر خرچ کرنا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ مال کی اس نعمت کو ان قرآنی احکام کے مطابق خرچ کرتے ہیں، وہ قیامت کے دن اپنی اس تجارت پر بہت خوش ہوں گے۔ باقی لوگ اس روز اس بات کا ماتم کر رہے ہوں گے کہ ان کا مال پچھلی دنیا میں ضائع ہو گیا اور ابدی دنیا میں ان کے لیے کچھ نہیں۔