(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)
(9)
]صاحب تدبر قرآن کی وصیت کے مطابق
ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [
امام حمیدالدین فراہی نے اپنے نظام فکر کے مطابق متعدد رہنما کتب تصنیف کیں۔ لیکن ایسی کتب کی تعداد بھی کم نہیں تھی جو ابھی زیر تصنیف تھیں اور وہ وفات پاگئے۔ امام فراہی کی یہ کتب نوٹس کی شکل میں تھیں۔ یہ علمی خزانہ ان کے خاص کمرے میں ایک صندوق میں بند تھا۔ ایک رات مدرسہ سے یہ صندوق چوری ہو گیا۔
ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی لکھتے ہیں کہ چوری کی رات مدرسے میں نہ مولانا اصلاحی موجود تھے اور نہ مولانا اختر احسن اصلاحی۔ یقیناً چوروں نے یہی گمان کیا ہوگا کہ اس صندوق میں کوئی قیمتی چیز ہے۔ تالا لگے صندوق سے یہی باور ہوتا تھا۔ وہ اسے اٹھا کر چلتے بنے۔
چور عمارت سے دور جا کر ایک کھیت میں اس ’’ قیمتی خزانے‘‘ کو برآمد کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ انھوں نے تالا توڑا۔اب اس میں جو چیز برآمد ہوئی وہ امام فراہی اور اس مدرسے کے لیے تو یقیناً کسی خزانے سے کم نہیں تھا، لیکن چوروں کے لیے وہ ردی کاغذ تھے۔ یہ سردیوں کا موسم تھا۔ انھوں نے کچھ پلندے نکال کر انھیں آگ لگائی اور اس کی حرارت سے لطف اندوز ہوئے۔ انھیں کچھ خبر نہیں تھی کی وہ کیا غضب ڈھا رہے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ انھوں نے تمام مسودات نہیں جلائے اور وہ صندوق وہیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
صبح ہوئی تو کسی کی نظر اس ’’پر اسرار‘‘ صندوق پر پڑی۔ ادھر مدرسے میں بھی ہا ہاکار مچی ہوگی کہ استاد امام کا صندوق چوری ہو گیا ہے۔کھیتوں میں لاوارث صندوق ملنے کی اطلاع پاکر طلبہ وہاں پہنچے تو پہلے منظر نے تو انھیں شدید مضطرب کیا ہو گا۔ کٹے پھٹے اور جلے ہوئے مسودات، بکھرے کاغذات اور ٹوٹا ہوا صندوق۔ یہی منظر تھا جو سب کو سراسیمہ کر رہا تھا۔
اب بچے کھچے ’’خزانے ‘‘ کو اکٹھا کرنے کا مرحلہ شروع ہوا۔ سب سمیٹ لیا گیا اور مدرسے میں آکر دیکھا گیا کہ کتنی متاع لٹ چکی اور کیا باقی رہ گیا ہے۔ مولانا اختر اصلاحی حادثے کی خبر ملتے ہی وہاں پہنچ چکے تھے۔ مسودات کا معاینہ ہوا اور طلبہ و اساتذہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جلنے والے کاغذوں میں غیر مطبوعہ مسودات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جو جلے بھی ہیں،اس سے ہونے والا نقصان بہت زیادہ نہیں۔ اللہ کی خصوصی رحمت سے قریباً سبھی کچھ محفوظ تھا۔ البتہ ڈاکٹر شرف الدین لکھتے ہیں :
’’کہا یہ جاتا ہے کہ مسودات کو کوئی نقصان نہیں ہوا، لیکن یہ تو وہ کہہ سکتا ہے جس کو ایک ایک چیز کی خبر ہو۔ چور اتنے پڑھے لکھے تو نہیں تھے کہ وہ صرف ردی کاغذ جلاتے، مسودات اور اہم کاغذات کو ہاتھ نہ لگاتے۔‘‘ ( ذکر فراہی 514)
شرف الدین مرحوم کا اندازہ اس لیے محل نظر ہے کہ وہ خود لکھتے ہیں کہ چوری کی اطلاع مولانا اختر احسن صاحب کو ملی تو فورا ً مدرسے پہنچے اور سارا معاملہ سنبھالا کیونکہ ان کا گھر مدرسے کے قریب ہی تھا۔ ظاہر ہے کہ انھوں نے ہی یہ خبر دی ہو گی کہ کتنا نقصان ہوا ہے اور کتنا نہیں۔ پھر اس حادثے کے بعد امام فراہی کی جتنی بھی کتب شائع ہوئیں، ان میں سے کسی کے متعلق یہ نہیں کہا گیا کہ اس کا کچھ مسودہ جلنے کے باعث کتاب نامکمل ہے اور نہ ہی ایسی کسی بات کا سراغ ملتا ہے کہ امام فراہی نے فلاں موضوع پر لکھا تو تھا، لیکن وہ جل کر خاکستر ہو گیا۔ اس لیے اس روایت کو ماننے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خصوصی کرم سے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔
دائرۂ حمیدیہ کا قیام
ظاہر ہے کہ مدرستہ الاصلاح میں شروع ہی سے یہ کوشش رہی ہو گی کہ امام فراہی کی علمی دریافتوں کو اہل علم تک پہنچایاجائے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے 1935ء میں دائرۂ حمیدیہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مدرستہ الاصلاح کا یہ ذیلی ادارہ ڈاکٹر حفیظ اللہ کی صدارت میں قائم ہوا۔( ان کا تفصیلی تعارف ہم پہلے کرا چکے ہیں۔ ) نائب صدر عبدالغنی مقرر ہوئے۔ یہ اعلیٰ حکومتی عہدے دار تھے۔ اس ادارے کے بنیادی مقاصد تین تھے :
٭ ایک ماہ نامے کا اجرا کیا جائے۔ اس کا نام ’’الاصلاح‘‘ ہو گا۔ اس میں امام فراہی کی تصانیف اور دوسرے علمی مضامین شائع ہوں گے۔
٭امام فراہی کی کتب کا اردو ترجمہ کیا جائے گا۔
٭امام فراہی کی کتب کی اشاعت کا باقاعدہ اہتمام کیا جائے گا۔
یہ بھی طے ہوا کہ مولانا امین احسن اصلاحی اس سارے کاموں کی نگرانی کریں گے۔ وہی ’’الاصلاح‘‘ کے مدیر اور دوسرے مقاصد کے حصول کے لیے رفقاء کار کا انتخاب کریں گے۔
جنوری 1936 کو مولانا کی ادارت میں ’’الاصلاح‘‘ کا پہلا شمارہ منظر عام پر آیا۔ یہ 64 صفحات پر مبنی تھا۔ اس کی پیشانی پر خط نسخ میں رسالے کا نام ’’الاصلاح‘‘ درج تھا اور نیچے خط نستعلیق میں کاتب کے لکھے یہ الفاظ درج تھے : ’’دائرۂ حمیدیہ کا ماہوار علمی و مذہبی رسالہ ‘‘۔ نیچے مدیر کے بجاے اسی طرح جلی حروف میں ’’مرتبہ‘‘ تحریر تھا اور پھر یہ نام درج تھا : ’’امین احسن اصلاحی ‘‘۔ پورے صفحہ پراس عبارت کے علاوہ کوئی عبارت درج نہیں تھی۔
واضح رہے کہ امین احسن نے کبھی بھی اپنے نام کے ساتھ ’’مولانا‘‘ کا سابقہ نہیں لکھوایا۔ وہ جب تک خود زندہ رہے، انھوں نے اپنی کتب پر صرف ’’امین احسن اصلاحی‘‘ ہی لکھوایا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انھیں ’’مولانا‘‘ کا لفظ ناپسند تھا، بلکہ وہ کہا کرتے تھے کہ انسان کو خود سے اپنے نام کے ساتھ کوئی لقب یا خطاب وغیرہ نہیں لکھوانا چاہیے۔ البتہ جب ان کے شاگرد انھیں مولانا کہتے اور لکھتے تو وہ اسے نا پسند نہیں کرتے تھے۔ ہم انھیں مولانا کہہ کر مخاطب بھی کرتے تھے اور وہ اس پر معترض نہیں ہوتے تھے۔
ماہنامہ ’’الاصلاح‘‘چار برسوں تک نکلتا رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ امام فراہی کی کتب کے تراجم بھی ہوتے رہے اور ان کی کتب کی اشاعت کا بھی اہتمام ہوتا رہا۔ عربی کے علاوہ امام فراہی نے اردو میں جو کچھ لکھا تھا، وہ جس بھی حالت میں تھا، اس کی اشاعت کا اہتمام بھی ہونے لگا۔
امام فراہی کے مذکورہ علمی کاموں کے ساتھ ساتھ خود مولانا اصلاحی کے تحقیقی و دعوتی اور تنقیدی مضامین بھی شا ئع ہوتے۔یہ مولانا کی اولین علمی تحریریں ہیں۔ اس کی تفصیل ہم بعد میں درج کریں گے۔
اس کے ساتھ مدرستہ الاصلاح سے وابستہ اساتذہ اور ادارے سے باہر کے علما اور دانش وروں کے وہ مضامین جو رسالے کے کڑے علمی معیار پر پورے اترتے، شائع ہوتے رہے۔ سب سے دل چسپ اور اہم تحریر وہ شذرات ہوتے جو بطور مدیر ’’ نوجوان اصلاحی‘‘ خود لکھتے۔ اس میں ملکی حالات و واقعات کے ساتھ ملی مسائل و واقعات پر بھی مختصر، مگر جان دار تبصرہ ہوتا۔
پہلے شمارے کا اہل علم کی طرف سے شان دار استقبال کیا گیا۔ مولانا اصلاحی دوسرے شمارے فروری 1936 کے شذرے میں لکھتے ہیں :
’’الاصلاح کا پہلا نمبر ڈرتے ڈرتے شائع کیا تھا۔ اس کے لیے بحث و نظر کا جو معیار اور نقشہ ذہن میں تھا، توقع نہ تھی کہ وقت کا مذاق و رجحان اس کو قبول کرے گا۔ اس کے ابواب و مطالب کا پیش نظر خاکہ، جب کبھی احباب کے سامنے پیش کیا گیا،انھوں نے اس سے اختلاف کیا کہ بازار میں ایسے رسالے کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن طبیعت الحمد للہ ان اندیشوں سے مرعوب نہ ہوئی۔ البتہ یہ ضرور خواہش ہوئی کہ اگر راہ دشوار اور منزل دراز ہے تو زاد راہ سے غفلت نہ کیجیے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ اس نے اتنا سامان کر دیا۔ اگر اس کی توفیق رفیق اور تائید شامل حال ہے تو تجربہ و امتحان کی جو مدد ہم نے سامنے رکھی ہے، اس میں حالات کا مقابلہ زیادہ دشوار نہ ہو گا۔
بایں ہمہ رسالے کے متعلق اس وقت تک جو آرا معلوم ہوسکی ہیں نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ اس کی ظاہری شکل وصورت اور معنوی بلندی، دونوں نے اہل علم کی نگاہوں میں جگہ حاصل کی اور (ہم ) اپنے حق سے محروم نہ رہے۔ رسالے کے قدردانوں میں عام اہل علم کے ساتھ ایسے اساطین ِ علم و فن اور اکابر تصنیف و تالیف بھی ہیں جن کی رایوں پر بجا طور پر فخر کیا جاتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فساد ِ مذاق کی عام وبا کے باوجود سچائی اور حقیقت کا قدرتی استحقاق اب تک سلب نہیں ہوا ہے۔ دلوں میں اس کی جگہ خالی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ وباے عام میں مرنے کی جگہ ہمت و عزیمت کے ساتھ حالات کی اصلاح کی سعی کی جائے۔ انسانی فطرت کا خمیر نیکی ہے، برائی نہیں ہے۔ باطل کا وجود اس لیے ہے کہ حق ناپید ہے۔ اگر حق پورے جلال و جمال کے ساتھ نمودار ہو جائے تو یقیناً دلوں میں اصلی جگہ اسی کے لیے ہوگی۔ کیونکہ قلب انسا نی اسی کے بسنے کے لیے بنایا گیاہے۔ بلا شبہ حق کی خدمت کرنا آسان کام نہیں ہے، لیکن اس میں لگ جانے کو ہم کیوں ناممکن سمجھنے لگیں ؟‘‘
اس کے بعد رسالے کے مشمولات کے بارے میں ایک شکوے کا ذکر کرتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں:
’’بعض ہم دردوں اور خریداروں نے رسالے کے مطابق رسالے کے شِکال کی شکایت کی ہے۔ اس شکایت کا تذکرہ پہلے نمبر میں ہم خود ہی کر چکے ہیں اور وہیں اس کا جواب بھی ہو گیا ہے۔ اعادے کی ضرورت نہیں۔ بلا شبہ رسالے کے بعض ابواب صرف اہل علم کے لیے مخصوص ہیں۔ اس لیے قدرتی طور پر عام لوگ ان سے با آسانی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ لیکن کچھ حصہ ایسا بھی ہے جو عام استعداد کو پیش نظر رکھ کر مرتب کیا جاتا ہے۔ اس میں اگر کوئی اشکال ہے تو وہ اسلوب نگار ش و تحریر و علمی اصطلاحات کا پیدا کردہ نہیں ہے، بلکہ وہ خود مطالب و مقاصد کی بلندی ہے جو ہماری عام ذہنی پستی اور عقلی نارسائی کی وجہ سے بلند تر ہو گئی ہے۔ اس کا علاج صرف یہ ہے کہ ہم اپنے فکر و تحمل کی استعداد کی تربیت کی طرف متوجہ ہوں اور دماغ کو سنجیدہ مباحث کے لائق بنائیں۔ ہم علما اور عوام کے فرق کو تسلیم نہیں کرتے کہ اسلام کی عام تعلیم جتنی ہر مسلمان کو سمجھنی چاہیے، اس کے لیے ہماری عام استعداد کافی ہے۔ہماری عام استعداد اس سے بدرجہا بلند ہونی چاہیے اور اس کا طریقہ صرف یہ ہے کہ سنجیدہ مطالب کے مطالعے کی عادت ڈالی جائے۔
یہ بڑی بد قسمتی ہے کہ اسلام کے متعلق عام مسلمانوں کی واقفیت بعض فضول قصوں اور چند فروعی مسائل سے زیادہ نہیں ہے۔ حالانکہ ہماری اصلی قوت اسلام کے سمجھنے ہی میں مضمر ہے۔ تاہم الاصلاح کوآسان کرنے سے ہم غافل نہیں ہیں۔ پچھلے نمبر میں اس سے متعلق جو کچھ عرض کیا گیا ہے، وہ پیش نظر ہے اور جلد سے جلد اس کو عمل میں لانے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ بعض ضروری اور مفید ابواب فوراً بڑھا دینے کا ارادہ تھا، لیکن صفحات کی کمی کی وجہ سے یہ ارادہ پورا نہ ہوسکا۔ اب ناگزیر ہے کہ صفحات بڑھائے جائیں، لیکن دیکھیں اس کے لیے حالات کب ساز گار ہو تے ہیں۔ یہ صفحات عام تعلیم و اصلاح کے لیے مخصوص ہوں گے۔‘‘
امام فراہی کی کتب کی اشاعت کے حوالے سے ایک اعلان اس عنوان کے تحت لکھا گیا :
’’ دائرۂ حمیدیہ کا پہلا کام ‘‘
استاذ امام کی تصانیف میں ’’جمہرۃ البلاغہ‘‘ کے چھاپنے کا ارادہ تھا۔ اس کے مسودہ کی ترتیب و تدوین کا کام ایک حد تک ختم ہو چکا ہے۔ اہل علم کا شوق و تقاضا بھی اس کے لیے بہت ہے، لیکن وقت کا تقاضا کچھ اور ہے۔ اس لیے ارادہ میں تبدیلی کرنی پڑی۔
اس کے بعد اُس دور میں جدید پڑھے لکھے لوگوں میں برپا شکو ک وشبہات کو دور کرنے کے طریقوں پر بات کی گئی ہے۔ اس حوالے سے سر سید احمد خاں اور ان سے متفق اہل علم کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کی گئی ہے اور اپنا موقف بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’مغربی علوم و افکار کے شیوع نے اس وقت مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقے میں سخت ذہنی انارکی پھیلا دی ہے۔ایک بہت بڑی جماعت نے ہماری عام صف سے کٹ کر اپنا ایک علیحدہ محاذ قائم کر لیا ہےاور مذہب پر طرح طرح کے اعتراضات کی بوچھاڑ شروع کر دی ہے۔اس جماعت کو بدگمانی ہے کہ عام طور پر جو مذہب مانا جاتا ہے وہ عقل کے خلاف ہے اور جو مذہب عقل کے خلاف ہے وہ قابلِ قبول نہیں۔اس لیے وہ مذہب کو ایک نئے قالب میں پیش کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہی حقیقی اور اصلی مذہب ہے۔
اس بدگمانی کے اسباب بہت ہو سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ مغربی علوم وافکار سے مرعوبیت اور عقل و علم کے غرورِ باطل اور ادعاے بےجا کو بھی اس میں کچھ دخل ہو، لیکن ہمارے نزدیک اس کی اصل اور بنیادی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے اسلام اپنی مجموعی شکل و صورت میں نہیں ہے۔اس کی چند جزیات،نظام اور شیرازہ سے بالکل علیحدہ کرکے وہ ( اسلام کو) دیکھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ایک سروِ رعنا اور شاخِ بریدہ میں فرق ہے۔ اگر کوئی شخص انسانی جسم کے کسی کٹے ہوئے عضو کو دیکھے،اس میں اس کو کیا حسن نظر آئے گا؟…
کسی شے پر فلسفیانہ غور و تعمق کے لیے ضروری ہے کہ جزو کو کُل کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے، لیکن افسوس ہے کہ اسلام پر اس حیثیت سے بہت کم غور کیا گیا۔اس آخری دور میں علماءِ اسلام میں یہ دولت، سعادت اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلِ خاص سے صرف استاذ امام فراہی کو بخشی اور یوں تو ان کی تمام تصنیفات میں یہ روحِ حقیقت جلوہ گر ہے، لیکن خاصتاً ان کی دو عظیم الشان تصنیفوں ’’ملکوت اللہ‘‘ اور ’’کتاب الحِکمۃ‘‘ کا مقصد ہی سننِ الٰہیہ اور نظامِ اسلام کو آشکارا کرنا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر یہ دونوں کتابیں شائع ہو جائیں تو عقل و دین کا ٹوٹا ہوا رشتہ جُڑ جائے گا۔
اس لیے ہم نے ارادہ کیا ہے کہ ان دونوں کتابوں میں سے کم از کم ’’ملکوت اللہ‘‘ جلد از جلد شائع کردی جائے۔برادرِ مکرم مولوی اختر احسن صاحب اصلاحی اس کی ترتیب و تدوین میں مشغول ہو گئے ہیں۔ اس کتاب کے متعلق برادرِ موصوف کا ایک مضمون بھی قارئین کے سامنے آئے گا۔ اسی کے ساتھ ساتھ تفسیر سورۃ اللہب اور سورۃ الکوثر کا اردو ترجمہ بھی جلد شائع ہوگا۔‘‘