مواد پر جائیں

برصغیر میں دیوبندی بریلوی مباحثات کا تاریخی پس منظر

ڈاکٹر عمار خان ناصر اردو

[ڈاکٹر عمار خان صاحب ناصر کی یہ تحریر ’’ادارۂ فکر جدید‘‘ کے زیر اہتمام شائع ہونے والی کتاب ”جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل “ کا پیش لفظ ہے۔ اِس میں فاضل مصنف نے کتاب کے تعارف و تبصرے کے ساتھ اُس کے موضوع پر بھی کلام کیا ہے اور دیوبندی اور بریلوی مسالک میں نزاع کی علمی اساسات کو عمیق نظری سے بیان کیا ہے۔ اس اعتبار سے اس کی نوعیت پیش لفظ سے آگے بڑھ کر ایک عالمانہ تجزیے کی ہے۔ امید ہے کہ یہ تحریر جنوبی ایشیا کے دو بڑے مسالک کے اختلاف کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو گی۔ واضح رہے کہ مذکورہ کتاب ڈاکٹر شیر علی ترین کی انگریزی تصنیف ’’Defending Muhammad in Modernity‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ اِس میں جنوبی ایشیا میں دیوبندی اور بریلوی مسالک کی فکری کش مکش کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ مدیر]

اسلامی تاریخ کی ابتدا سے ہی مسلمانوں کے مابین مختلف دینی واعتقادی موضوعات پر بحث و مناظرہ کی روایت موجود رہی ہے۔ ابتدائی عہد میں ان مباحثوں کا مرکز زیادہ تر خدا کے تصور سے متعلق اعتقادی سوالات تھے، مثلاً‌ خدا کے علم اور انسانی ارادہ واختیار کا باہمی تعلق کیا ہے؟ قرآن میں خدا کی ذات کے لیے جو تشبیہی تعبیرات آئی ہیں، ان کو کیسے سمجھا جائے؟ اسی طرح یہ سوال بہ طور خاص زیرِ بحث تھا کہ وہ کون سے حدود ہیں جو ایمان اور کفر میں امتیاز قائم کرتے ہیں؟

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں ان مباحثوں میں ایک اہم تبدیلی یہ سامنے آئی کہ خدا کی ذات کے بجاے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اعتقادی مباحثوں کا مرکز بن گئی۔ مذہبی مباحثوں کا ایک سلسلہ نمودار ہوا، جن کا تعلق اس نوعیت کے سوالات سے تھا کہ کیا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کا علم حاصل ہے یا نہیں؟ کیا پیغمبر کا جسمانی وجود عام انسانوں کے مشابہ تھا یا ان سے مختلف ؟ کیا پیغمبر کی ذات بھی عام انسانوں کی طرح زمان اور مکان کی پابندیوں کے تحت ہے یا پیغمبر کی ہستی بہ یک وقت کئی جگہوں پر موجود ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ کیا خدا کی طرف سے پیغمبر کو انسانوں کی زندگی کے معاملات میں تصرف واختیار کی خصوصی طاقت حاصل ہے یا نہیں؟ کیا خدا ایسی کوئی دوسری ہستی پیدا کر سکتا ہے جس کا رتبہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر ہو؟

مسلمانوں کی اعتقادی بحثوں میں یہ سوالات حیرت انگیز طور پر ان اعتقادی بحثوں کا ایک عکس دکھائی دیتے ہیں جو سیدنا مسیح علیہ السلام کی ذات سے متعلق مسیحیوں میں پیدا ہوئیں، البتہ مسلمانوں کی مذہبی تاریخ میں ان بحثوں نے بہت بعد میں بنیادی طور پر جدید دور میں منظم شکل اختیار کی۔ جدید دور سے پہلے بھی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے ساتھ مافوق البشری اوصاف منسوب کرنے کا رجحان عوام الناس کے مبالغہ پسند تخیل میں موجود تھا، تاہم یہ سوالات واضح طور پر کلامی واعتقادی مباحث کا موضوع نہیں بنے تھے۔ علمی سطح پر ان تخیلات کا اظہار عموماً‌ عالمِ وجود سے متعلق مختلف صوفی مفکرین کے پیش کردہ تصورات میں دکھائی دیتا ہے۔ ان تصورات کے مطابق عالم میں خدا کی الوہی حاکمیت کے تحت مختلف سطحوں پر بہت سی مقرب ہستیوں کی کارفرمائی ہے، جن میں سب سے برتر اور اعلیٰ ہستی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ ان ہستیوں کے متعلق یہ مانا جاتا ہے کہ انھیں خدا کی طرف سے کچھ خصوصی مراتب اور اختیارات دیے جاتے ہیں۔ ان تصورات کی بنیاد پر عوام الناس کی سطح پر ایک خاص مذہبی ثقافت وجود میں آئی، جس کے نمایاں مظاہر میں مختلف صوفی بزرگوں کے مزاروں پر جانا اور اپنے مسائل و حاجات میں ان سے مدد مانگنا شامل ہے۔ تاہم تصوف یا روحانیت کے زیر سایہ رواج پانے والے بہت سے اعمال پر تنقید بھی ہوتی رہی اور خود تصوف کے حلقوں میں اس حوالے سے اصلاحی مساعی کی ایک طویل روایت موجود رہی ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں مغلیہ عہد کی ابتدا سے ہی ممتاز مسلم مصلحین، مثلاً شیخ احمد سرہندی رحمہ اللہ اور ان کے بعد شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ عوام میں پھیلے ہوئے انحرافات اور بدعات پر ، پرزور تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

پروفیسر عزیز احمد کے مطابق سولہویں صدی کے بعد ہندوستان سے سفر حج کا بنیادی راستہ بحیرۂ عرب بن گیا تھا، جو یورپی طاقتوں کی جہاز رانی کی بدولت ممکن ہوا۔ ہندوستان اور حجاز کے مابین ان نئے رابطوں نے بین الثقافت علمی تعلقات کا رخ ایران سے حجاز کی طرف موڑ دیا اور ہندوستان میں مذہبی اصلاح کے رجحانات کو مزید تقویت ملی۔ شیخ احمد سرہندی رحمہ اللہ (وفات 1624ء)، شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ (وفات 1642ء) اور شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ (وفات 1762ء) جیسے علما نے غالب صوفی روایت سے تعلق منقطع کیے بغیر بہت سے مروج عقائد اور اعمال پر سخت تنقید کی۔ مثلاً‌ شاہ ولی اللہ نے اولیا کے مزاروں پر جا کر سجدہ کرنے اور ان سے مدد مانگنے والوں کو مشرکینِ عرب کے مماثل قرار دیا۔ انھوں نے مزید لکھا کہ اگر کوئی ان مشرکانہ عقائد کی ایک جھلک دیکھنا چاہے جن پر قرآن میں تنقید کی گئی ہے تو اسے اس دور کے ہندوستان میں عوامی سطح پر مروج تصوف کو دیکھ لینا چاہیے۔ گویا عوامی سطح پر مروج اعمال ورسوم پر تنقید کرنا استعماری دور میں سامنے آنے والا کوئی نیا مظہر نہیں تھا، بلکہ قبل از استعمار دور میں بھی مسلمان علما کے ہاں یہ رجحان جنوبی ایشیا اور دوسرے خطوں میں موجود تھا۔

تاہم برطانوی استعمار کے ہاتھوں مسلم سیاسی طاقت کے زوال نے شناخت کے ایک بحران کو جنم دیا اور بالکل نئے انداز کے مذہبی مجادلوں کا ایک ماحول پیدا کر دیا ، جن کے موضوعات پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے مقام ومرتبہ اور عوام میں رائج مختلف مذہبی اعمال ورسوم تھے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انتشار نے استعماری طاقت کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں ایک نئے سیاسی اور سماجی منظرنامے کی تشکیل کرے۔ اس مرحلے پر جنوبی ایشیا ئی اسلام میں پہلے سے موجود داخلی کشمکش اور تضادات میں بھی مزید شدت پیدا ہوئی۔ اٹھارہویں صدی کےآخر تک پرنٹنگ پریس نے ایک نیا میدان بھی پیدا کر دیا تھا جس میں مذہبی دعوت وتبلیغ کا سلسلہ عام لوگوں میں بڑے پیمانے پر وسیع کیا جا سکتا تھا۔ پیچیدہ اور گہری مذہبی بحثیں اب عوامی دائرے میں چھیڑی جا سکتی تھیں اور نئے اہداف اور تصورات کے ساتھ ہم آہنگ نئے سیاسی مذہبی نظریات تشکیل دینے کے لیے ایک زرخیز زمین تیار تھی۔ اس سیاق میں، انیسویں صدی کے نصف اول میں شمالی مغربی ہندوستان میں جو صورت حال سامنے آئی، وہ اگرچہ پہلے سے جاری ایک اصلاحی تحریک کا نیا مرحلہ تھا، لیکن سیاسی اور سماجی نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں نے شاہ محمد اسماعیل رحمہ اللہ (وفات 1831ء) جیسے پرجوش مصلح کو اس قابل بنایا کہ وہ ایک ایسی دینی تحریک جاری کریں جو عوامی دائرے میں مستند مانے جانے والے عقائدا ور نظریات کے جواز پر سوال اٹھاتی ہو اور بدعات اور انحرافات سے مسلم معاشرے کی تطہیر کو اپنا مقصد قرار دیتی ہو۔

شاہ اسماعیل کی تحریک جنوبی ایشیا کے اسلام میں مستند مذہبی عقائد کی ازسرنو تعیین کی جدوجہد کا نقطۂ آغاز بنی۔ ان کا مذہبی موقف انتہائی ذہانت پر مبنی اور اپنے اثرات کے لحاظ سے عوام میں مقبول مذہبی بیانیے کے لیے تباہ کن تھا۔ شاہ اسماعیل رحمہ اللہ نے اپنی دعوت کا مرکزی نکتہ خدا کی توحید کو قرار دیا، اور اس عقیدے کو اس انداز سے پیش کیا کہ عوام کے مذہبی تصورات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی عظمت اور اختیارات سے متعلق پائی جانے والی مبنی برغلو عقیدت کی نفی ہو جائے۔ اسلامی تصوف میں عالم وجود کے روحانی نظام کے سلسلۂ مراتب میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت چونکہ بلند ترین رتبے پر فائز مانی جاتی ہے، اس لیے کائنات کی تدبیر وانصرام کے خدائی نظام میں پیغمبر علیہ السلام کی کسی امتیازی حیثیت کی نفی سے یہ پوری عمارت زمیں بوس ہو جاتی ہے۔ اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے شاہ اسماعیل رحمہ اللہ نے ارادتاً‌ خدا کی توحید مطلق پر اصرار کرنے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو کائناتی نظام میں مکمل طور پر خدا کی قدرت اور اختیار کے تابع باور کرانے کا طریقہ اختیار کیا اور اس کے لیے ایسی اضطراب انگیز اور سخت تعبیرات بھی اختیار کیں جن پر گستاخی اور توہین کے فتوے لگنا ناگزیر تھا۔ اس حوالے سے علامہ فضل حق خیرآبادی رحمہ اللہ کی تنقید زیرنظر کتاب میں تفصیلاً‌ نقل کی گئی ہے، جب کہ ممتاز بریلوی عالم صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مرادآبادی نے اپنی تنقیدات کا خلاصہ یوں بیان کیا ہے کہ:

’’حضرات انبیا اور سید الانبیا علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین وتنقیص کے کلمات اور بے ادبانہ بدگوئیوں اور گستاخیوں سے کتاب بھری ہوئی ہے۔ ایسے کلمات بیشک کفر ہیں۔ … لیکن چونکہ اسمٰعیل کی نسبت یہ مشہور تھا کہ اس نے اپنے ان تمام اقوال سے توبہ کر لی تھی، اس لیے علماء محتاطین نے اس کو کافر کہنے سے احتیاطاً‌ زبان روکی اور اقوال کو کفر وضلال بتایا۔“

(اطیب الایمان رد تقویۃ الایمان 351)

بریلوی علما نے جن امور کو کفر وضلال اور گستاخی قرار دیا، ان کا تعلق بنیادی طور پر ان خاص عقائد و تصورات سے تھا جنھیں وہ درست سمجھتے تھے، جب کہ شاہ اسماعیل نے ان کو خلاف شرع قرار دے کر ان پر تنقید کی تھی، تاہم ’’تقویۃ الایمان‘‘ کے بعض جملوں کے متعلق بعض نمایاں دیوبندی اکابر نے بھی یہ تاثر ظاہر کیا ہے کہ وہ نامناسب اور بے محل تھے۔ مثال کے طور پر مولانا احمد رضا بجنوری رحمہ اللہ نے علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے :

’’میں تقویۃ الایمان سے زیادہ راضی نہیں ہوں۔ غالباً‌ ضرورت وقت کے ماتحت لکھی تھی۔ حضرت شاہ محمد اسحاق صاحب، حضرت شاہ محمد یعقوب صاحب، مومن خاں شاعر …، مولوی رشید الدین خان صاحب …، پانچواں نام احقر کو یاد نہیں رہا …، ان پانچ اشخاص کو یہ کام سپرد ہوا تھا کہ تقویۃ الایمان کے الفاظ ومضامین پر غور کریں اور بدلنے کا بھی اختیار دیا گیا تھا۔ ان میں سے تین کی ایک جماعت ہو گئی اور دو کی ایک جماعت ہو گئی۔ ایک نے کہا کہ ایسے الفاظ مناسب نہیں ہیں۔ دوسرے نے کہا کہ یہ بات سچی صاف صاف کہنی چاہیے اور بغیر تیز کلامی کے نکھار نہیں ہوتا۔ حضرت کے سامنے اس رسالہ کی محدثانہ نقطۂ نظر سے بھی خامیاں ضرور رہی ہوں گی۔ پھر حضرت نے فرمایا کہ میں اس لیے راضی نہیں ہوں کہ محض ان عبارات کی وجہ سے بہت سے جھگڑے ہو گئے ہیں۔ …اور یہی بات کہ ’’میں راضی نہیں ہوں اس رسالہ سے“ مجھے مرحوم حضرت مولانا نانوتوی رحمہ اللہ سے بھی پہنچی ہے، حالاں کہ وہ ہلاک تھے مولانا اسماعیل رحمہ اللہ کی محبت میں۔“ (ملفوظات محدث کشمیری 178)

بہرحال، اعتقادی اصلاح کے لیے شاہ اسماعیل کا جوش وجذبہ، جس کا بنیادی نکتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فوق الفطری تصورات کی نفی کرنا تھا، ان کی توقع یا ارادے کے علی الرغم اس بات کا موجب بن گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور کائناتی مقام سے متعلق اہل تصوف کے نظریات کو ایک باقاعدہ اور واضح اعتقادی سانچے میں ڈھال دیا جائے۔ یوں حقیقت محمدیہ سے متعلق ان تصورات کو جنھیں اب تک صوفیہ کے حلقوں میں ان حقائق میں شمار کیا جاتا تھا جن تک غیر معمولی ادراکی وعرفانی صلاحیتوں کے حامل اولیا کی ہی رسائی ہو سکتی ہے، اب عوامی سطح پر قابل اظہار متعین عقائد بننے کے عمل سے گزارا گیا۔ یوں علم تصوف کا یہ اصول کہ خواص کو حاصل سری و عرفانی علوم کو عام اور سادہ مسلمانوں کے سامنے بیان نہ کیا جائے، شاہ اسماعیل اور ان کے ہم خیال مصلحین کی اصلاحی مہم کے جواب میں بالکل پس پشت ڈال دیا گیا۔

ڈاکٹر شیر علی ترین کی زیرنظر کتاب میں مغربی قارئین کے سامنے اسی نزاع کی ایک تاریخی تفہیم پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب کی تصنیف میں ڈاکٹر ترین کے پیش نظر متعدد مقاصد ہیں۔ وہ بریلوی دیوبندی اختلاف کی اس تعبیر کی تصحیح بھی کرنا چاہتے ہیں کہ یہ شریعت اور روحانیت کا یا صوفیانہ روایت اور فقہی روایت کا اختلاف ہے۔ وہ بجا طورپر واضح کرتے ہیں کہ یہ دونوں مکتب فکر جن کی نمایندگی جنوبی ایشیا کے بلند پایہ علما کرتے ہیں، صوفیہ کی روحانی روایت کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں اور دونوں کی اصلاحی مساعی میں تقویٰ وتزکیہ کے ان نمونوں کی ترویج بنیادی اہمیت کی حامل ہے جو تصوف میں بتائے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں ڈاکٹر ترین نے ان اصلاحات کا بھی ذکر کیا ہے جو بریلوی علما عوامی سطح پر رائج مذہبی ثقافت میں کرنا چاہتے تھے، البتہ شاہ اسماعیل کے اصلاحی منہج کے برعکس وہ یہ کام مقرب ہستیوں اور شخصیات پر مشتمل اس تکوینی نظام کو برقرار رکھتے ہوئے کرنا چاہتے تھے جس کے بغیر تصوف بہ طور ایک ادارے کے عام لوگوں کے لیے اپنی کشش برقرار نہیں رکھ سکتا۔

مصنف کا ایک اور بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ مغربی سماجی علوم میں مسلمانوں کے داخلی مباحث اور مذہبی تقسیم کو سمجھنے اور ان کا تجزیہ کرنے کے مروج فریم ورک قطعاً‌ ناکافی اور گم راہ کن ہیں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ اسلام یا کسی بھی مذہب کے مطالعے کا لبرل سیکولر انداز فکر اپنی فکری محدودیت کی وجہ سے مسلمانوں کے داخلی مباحث کو گہرائی میں سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ مثال کے طور پر دیوبندی بریلوی اختلاف کو اس قدیم کشمکش کا ایک مظہر سمجھا جاتا ہے جو اسلام میں فقہا اور صوفیہ کے مابین رہی ہے، حالاں کہ اس نزاع کے دونوں فریق فقہ حنفی اور صوفیانہ روحانیت کے مشترک علمی مآخذ اور روایات سے وابستہ ہیں۔ ڈاکٹر ترین نے کئی پہلوؤں سے مطالعۂ مذہب کے حوالے سے غالب سیکولر لبرل فریم ورک پر تنقید کی ہے اور اس کا نمایاں اظہار جنوبی ایشیا کی تاریخ پر کام کرنے والی معروف مصنفہ ڈاکٹر عائشہ جلال کے تجزیوں پر ان کی تنقید میں ہوا ہے۔

ڈاکٹر عائشہ جلال نے اپنی کتاب ’’ Partisans of Allah‘‘ میں ـــــ جس کا موضوع جنوبی ایشیا میں جہاد کا تصورہے ـــــ یہ نقطۂ نظر پیش کیا ہے کہ سید احمد شہید (وفات 1831ء) اور شاہ اسماعیل نے پنجاب میں سکھوں کے خلاف اور شمال مغربی سرحدی صوبے میں قبائلی سرداروں کے خلاف جو جہاد کیا، وہ مذہب کو ایک امتیازی شناخت سمجھنے کے ـــــ نظر پر مبنی تھا۔ مصنفہ کے خیال میں حقیقی اسلام مذہب کو ایمان اور روحانیت کے طور پر پیش کرتا ہے، جس کا تعلق داخلی احساسات وتجربات سے ہے، جب کہ مذہب کو ایک امتیازی شناخت سمجھنے کا زاویہ ظاہری رسوم عبادات کو زیادہ اہمیت دیتا اور سیاسی طاقت کے حصول اور استحکام کے لیے تشدد کے استعمال کو بنیاد مہیا کرتا ہے۔ ڈاکٹر ترین نے اس تجزیے پر یہ تنقید کی ہے کہ مذہب کو داخلی اور روحانی تجربے میں اور ظاہری رسوم واعمال کی ادائیگی میں تقسیم کرنا اور پھر مقدم الذکر کو ایک پاکیزہ عمل، جب کہ موخر الذکر کو تشدد اور سیاست سے آلودہ بتانا دراصل لبرل سیکولر زاویۂ نظر سے مذہب کو دیکھنے کا نتیجہ ہے جو اپنی فکری ترجیحات کے مطابق ایک خاص طرح کے مذہب کو قابل قبول اور اس سے متصادم مذہب کو ناقابل قبول قرار دینا چاہتا ہے۔

کتاب کے آخری حصے میں ڈاکٹر ترین نے سیکولر لبرل مفروضات میں سے اس مفروضے پر بھی کلام کیا ہے کہ مذہبی مناظرانہ بحثیں اپنی نوعیت کے لحاظ سے لازماً‌ تشدد پر منتج ہوتی ہیں اور یوں معاشرے کے امن اور نظم وضبط کے لیے ایک خطرہ ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر ترین بتاتے ہیں کہ انیسویں صدی میں بریلوی دیوبندی مناظرانہ بحثیں پورے جوش وخروش سے جاری رہیں، لیکن ان میں تصادم یا تشدد کا پہلو شامل نہیں تھا۔ ان کی راے میں یہ حقیقت مذکورہ سیکولر مفروضے کی صحت کو مشتبہ بنا دیتی ہے۔ اس تناظر میں، وہ چند سال قبل حکومت پنجاب کی طرف سے کیے گئے اس اقدام کو سطحی قرار دیتے ہیں جس کی رو سے دیوبندی، بریلوی، شیعہ اور سلفی علما کی لکھی گئی درجنوں مناظرانہ کتابوں پر پابندی عائد کر دی گئی ۔ مصنف کے خیال میں یہ اقدام جدید ریاست کے اس رجحان کا غماز ہے کہ وہ مذہب کے حدود متعین کرنے پر اختیار حاصل کرنا اور معاشرے میں مذہبی مباحث کو ریاستی نظام طاقت کے لحاظ سے تشکیل چاہتی ہے۔ ڈاکٹر ترین کے الفاظ میں:

’’ مذہب کو معتدل بنانے کی یہ ریاستی کوششیں، جن کا درپردہ مقصد مغرب کی سامراجی خواہشات اور تصورات کی تسکین وافزائش ہے، نتیجے کے اعتبار سے مزاحیہ زیادہ الم ناک اور پرتشدد ہیں۔ عوامی دائرے کو مذہبی اختلافات سے چھٹکارا دلانے کی تحریک اس مناظرے کی استدلالی فضا کے متعلق ایک مخصوص تشکیکی اور مذبذب رویے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ مفروضہ کہ مذہبی اختلاف ہمیشہ تشدد پر منتج ہوتا ہے، اس خواہش کو عملی جامہ پہناتا ہے کہ تمام اشتعال انگیز مواد (مثلاً‌ مناظرانہ کتابوں) پر پابندی لگا دی جائے، کیونکہ یہ سب کتابیں مل کر مناظرانہ آگ بھڑکا سکتی ہیں۔ تاہم اس خواہش اور حکمت عملی کی تقدیر میں ناکامی ہے۔ جیسا کہ میخائیل توسگ نے عمدگی سے استدلال کیا ہے، کسی شے کو مٹانے یا مسخ کرنے سے وہ زیادہ ابھر کر سامنے آتی ہے۔“

ڈاکٹر ترین کے بنیادی استدلال میں یقیناً‌ وزن ہے، تاہم اس سوال پر مزید غور وفکر کی ضرورت ہے کہ جنوبی ایشیا میں آج ہمیں مذہبی شناخت پر مبنی پر تشدد رویوں کی جس صورت حال کا سامنا ہے، اس کا استعماری دور کے ان مناظرانہ مباحث سے کیا تعلق بنتا ہے جن پر زیرنظر کتاب میں گفتگو کی گئی ہے۔ اس حوالے سے راقم نے کچھ عرصہ قبل جو معروضات پیش کی تھیں، یہاں ان کا حوالہ دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ راقم نے لکھا کہ:

’’پچھلے دو سو سال … میں مذہبی یا غیر مذہبی سیاسی شناخت کی تشکیل کا عمل ہمارے ہاں بنیادی طور پر مثبت اصولوں پر نہیں، بلکہ منفی اصولوں پر ہوا ہے جس میں بنیادی محنت کسی ’’دوسرے“ کو اپنی شناخت کے لیے خطرہ قرار دینے اور پھر اس کے خلاف تن من دھن کی بازی لگا دینے کا جذبہ پیدا کرنے پر کی گئی ہے۔ تحفظ شناخت کی اس سیاست کی ابتدا استعماری دور سے پہلے اہل تشیع کی تکفیر کی صورت میں ہو چکی تھی جس میں حضرت مجدد رحمہ اللہ جیسی بلند قامت شخصیت نمایاں تھی۔ استعماری دور میں شناخت کے تحفظ کا یہی اصول بریلوی علما نے باقی تمام گروہوں اور خاص طور پر دیوبندی علما کے خلاف استعمال کیا۔ نیچریوں، قادیانیوں اور منکرین حدیث وغیرہ کے ظہور نے تمام روایتی مذہبی گروہوں کے لیے شناخت کے تحفظ کے لیے کچھ مزید ’’اہداف “ کا اضافہ کر دیا۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں سیاسی شناخت کے تحفظ کے لیے مسلم لیگ نے بھی بہ تدریج اسی طرز کو اختیار کیا اور مکمل کامیابی حاصل کی۔ اس کی تشکیل کردہ شناخت اپنے تمام تر لوازم کے ساتھ آج بھی پاکستان کی قومی ریاست کا اثاثہ ہے۔

استعماری دور میں مختلف مذہبی شناختوں کے لیے ایک دوسرے سے بھڑنا استعماری طاقت کی موجودگی کی وجہ سے ممکن نہیں تھا، لیکن حصول وطن کے بعد اس میں یہ رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ چنانچہ مختلف مراحل پر پہلے قادیانی، پھر انقلاب ایران کے پس منظر میں شیعہ، پھر سلمان رشدی کے واقعے کے تناظر میں مقامی مسیحی آبادی، پھر سیکولرزم کے نمایندے، اور آخرکار خود ریاست اور ریاستی ادارے اس کا نشانہ بنے۔ توہین مذہب کے الزام نے ایک مذہبی ہتھیار کی صورت اختیار کر لی ہے جس سے لگتا نہیں کہ کوئی طبقہ بچ پائے گا، یہاں تک کہ خود  ناموس رسالت کے محافظ اس کی زد میں آ چکے ہیں۔ blasphemy hunting کا ایک ہیجان ہے جو معاشرے میں برپا کر دیا گیا  ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سلمان رشدی اور اس جیسے بدبختوں کا انتقام مذہبی جنونی خود  اپنے ہی معاشرے سے لینا چاہ رہے ہیں۔…

اس سارے عمل میں ریاست بہ تدریج ایک اور مقصد بھی حاصل کرتی جا رہی ہے، یعنی مذہبی اور مذہبی اظہارات پر مکمل ریاستی کنٹرول قائم کرنے کی طرف پیش قدمی۔ مذہبی شناختیں اپنے بھولے پن کی وجہ سے بعض چیزوں میں ریاست کو ’’دباؤ “ قبول کرتا ہوا دیکھ کر سمجھتی ہیں کہ وہ پیش قدمی کر رہی ہیں، جب کہ حقیقت میں وہ مذہب کے دائرے میں ریاست کے دخل کو جواز دینے میں نہ صرف آلۂ کار کا کردار ادا کر رہی ہیں، بلکہ خود دعوت دے کر ریاست کو مذہب میں دخیل بنا رہی ہیں۔ اس سارے کھیل کا آخری نتیجہ مذہب اور مذہبی ڈسکورس کے مکمل طور پر سیکولرائزڈ ہو جانے کی صورت میں نکلنا نوشتۂ دیوار ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جس کا فہم عام جذباتی مذہبی ذہن تو کیا، مذہبی لیڈر شپ کو بھی حاصل ہونا قطعی طور پر مشکوک ہے۔

جنوبی ایشیائی اسلام کو اور خاص طور پر مذہبی گروہوں کو تاریخ اور نئے سیاسی ومعاشرتی حقائق کی ایک نئی اور معروضی تفہیم کی ضرورت ہے جس میں مختلف مذہبی شناختوں کی بقائے باہمی کو شعوری طور پر، نہ کہ صرف حالات کے جبر کے طور پر، قابل قبول بنایا جا سکے۔ یہ مذہب کے معاشرتی کردار کو باقی رکھنے اور اسے مکمل ریاستی کنٹرول سے بچانے کی واحد ممکن ضمانت ہے۔“

(ماہنامہ الشریعہ، ستمبر 2020ء)

ان جزوی ملاحظات کے ساتھ، زیر نظر کتاب کو جنوبی ایشیا میں اسلامی فکری روایت کے تنقیدی مطالعے کے ضمن میں ایک اہم علمی ضرورت کی تکمیل کی طرف اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ مغربی علمی دنیا پر یہ کتاب کس نوعیت کے اثرات مرتب کر سکے گی، اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے، تاہم یہ بات اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ خود جنوبی ایشیا کے اہل علم کو ماضی قریب کی فکری تاریخ کی تفہیم و تعبیر کے لیے یہ کتاب ایک اہم زاویہ مہیا کرتی ہے اور اس سے استفادہ کرتے ہوئے جنوبی ایشیا کی دینی فکری روایت کو زیادہ بہتر انداز میں اور زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے عمل کو آگے بڑھا یا جا سکتا ہے۔

ہمارے فاضل اور لائق دوست مولانا محمد جان اخونزادہ نے بہت محنت اور لگن سے اس کو اردو کے قالب میں ڈھالا ہے اور راقم کو بھی اس ترجمے پر ایک عمومی نظر ثانی کا موقع ملا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مطالعے کے دوران میں قارئین مصنف کے علم ودانش سے استفادہ کے ساتھ ساتھ فاضل مترجم کی محنت اور لیاقت کا بھی حظ اٹھائیں گے۔ میں ادارۂ فکر جدید کے سربراہ جناب صاحبزادہ امانت رسول صاحب کا بھی ممنون ہوں کہ انھوں نے اس علمی کاوش کی قدر دانی کی اور ترجمے کے کام کے دوران میں ہی اپنے ادارے کی طرف سے اس کی اشاعت میں گہری دل چسپی کا اظہار کیا۔ ترجمے اور نظرثانی کی تکمیل میں ان کی مسلسل یاددہانی کا بڑا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اس کا بہترین صلہ دے اور علم وعمل میں برکت سے نوازے۔ آمین

[21 ؍مارچ 2024ء ]