[’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، امریکہ‘‘ کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن اور ’’اشراق امریکہ‘‘ (آڈیو) کے مدیر محمد حسن الیاس صاحب گذشتہ دنوں پاکستان گئے تو ’’آف دا اسکول‘‘ پوڈ کاسٹ کے میزبان نجم سہروردی نے اُن کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اِس انٹرویو میں اُن سے پاکستان اور مسلمانوں کو درپیش مختلف مسائل پرسوالات کیے گئے۔ حسن الیاس صاحب نے اُن کے جواب میں پوری وضاحت سے اپنے موقف کو پیش کیا۔ یہ انٹرویو غامدی سینٹر کے یو ٹیوب چینل پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اِسے ضروری ترتیب و تدوین اور حک و اضافے کے بعد ’’اشراق امریکہ‘‘ کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ ]
تعارف
نجم سہروردی: آج ہمارےساتھ حسن الیاس صاحب موجود ہیں ۔ یہ جناب جاوید احمد غامدی کے نمایاں شاگرد ہیں اور ان کے ادارہ ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ ،امریکہ‘‘ کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کی بڑی خوبی یہ ہے کہ سخت اختلاف کے باوجود ان کے ساتھ تحمل اور شایستگی سے مکالمہ کیا جا سکتا ہے۔ آج کے زمانے میں، جب کہ ہمارا معاشرہ عدم برداشت کا شکار ہے ، یہ خوبی ایک بڑی نعمت سے کم نہیں ہے۔ اختلافی موضوعات پر اگر تحمل ، تکریم اور سلیقے سے بات ہو تو اس سے سیکھنے کو بھی بہت کچھ ملتا ہےاور معاشرے میں مکالمے کی فضا بھی پروان چڑھتی ہے۔
حسن بھائی ، تشریف آوری کے لیے آپ کا شکریہ۔
آج ہم علمی و فکری اور سیاسی و سماجی موضوعات پر بعض اہم سوالات کو زیر بحث لائیں گے۔ مگر اس سے پہلے میری گزارش ہے کہ اپنی ابتدائی زندگی اور اپنے تعلیمی سفر کے بارے میں کچھ تعارف کرا دیجیے۔
محمد حسن الیاس: بہت شکریہ بھائی، حسن ظن کے لیے شکر گزار ہوں۔
میری پیدایش 1988ء کی ہے اور جاے پیدایش کراچی ہے۔ 1988ءسے لے کر 2010ء تک میں پاکستان میں رہا۔ اس میں زیادہ وقت کراچی ہی میں گزرا ۔ میری اسکول کی تعلیم بھی یہاں پر ہوئی ۔ بارہ تیرہ سال کی عمر تک یہیں پر تعلیم پائی۔پھر کچھ عرصہ اسلام آباد میں رہا۔ اس کے بعد کراچی واپس آ کر مدرسہ کی تعلیم کا آغاز کیا اور درسِ نظامی کے نصاب کو مکمل کیا۔ پھر 2011ء میں جاوید احمد غامدی صاحب کے پاس ملائیشیا چلا گیا۔ اگلے 8 سال ملائیشیا میں اُنھی کے زیرِ تربیت گزرے۔ اُن سے قرآن و سنت اور حدیث کے علوم کو براہِ راست پڑھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ 2019 ء میں امریکہ منتقل ہو گیا ۔ پچھلے پانچ سال سے امریکہ ہی میں مقیم ہوں اور غامدی صاحب کے ساتھ علم و تحقیق اور تصنیف و تالیف کے کاموں میں شب وروز مشغول ہوں۔
پاکستان اور امریکہ کے نظام تعلیم کا فرق
سوال: حسن صاحب آپ نے پاکستان کے اسکول اور مدرسے، دونوں میں تعلیم پائی ہے۔ پھر آپ نے ملائیشیا اور امریکہ کے نظام ِتعلیم کو بھی دیکھا ہے۔ یعنی آپ کو یہ موقع میسر ہوا ہے کہ پاکستان کےجدید تعلیمی اداروں اور روایتی دینی مدارس کے نظام کو براہ راست جان سکیں۔ پھر امریکہ کے جدید ترین نظام ِتعلیم کو بھی آپ نے دیکھا ہے۔ اِس تناظر میں یہ بتائیے کہ پاکستان اور امریکہ کے نظام ِتعلیم میں کیا فرق ہے؟
جواب: دیکھیں، ہر معاشرے کا نظام ِتعلیم اُس کے حالات کا عکاس ہوتا ہے۔ یہ معاشرے کی کوئی مجرد یا کوئی الگ سے چیز نہیں ہوتی۔ ایک معاشرے کا جو قومی مزاج ہو گا، جو اس کے افکار و نظریات ہوں گے، جو آدرش ہوں گے، جو اہداف ہوں گے، اُنھی سے اُس کا نظام ِتعلیم تشکیل پائے گا۔
اب اگر ہم پاکستان کے نظام ِتعلیم کی بات کریں تو اس کو سمجھنے کے لیے کئی پہلو پیش ِنظر رہنے چاہییں۔ ہم جانتے ہیں کہ گذشتہ کم و بیش دو سوسال سے یہ خطہ ایک تہذیبی بحران کا شکار ہے۔ اِس کی وجہ سے یہاں پر تہذیبی معاملات میں کشمکش اور تصادم نظر آئے گا۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کی بازیافت کی بات ہوتی ہے؛ خلافت کے احیا کی تحریکیں اٹھتی ہیں؛ اسے اسلامی ممالک کا قلعہ قرار دیا جاتا ہے ۔ پھر انگریزوں کے تسلط سے نجات کی کامیابی کا احساس ہے۔ سول ملٹری تعلقات کی کشمکش ہے۔ اس کے ساتھ یہ خطہ عالمی استعماری طاقتوں کے مفادات کا مرکز بھی ہے اور اس بنا پر اُن کی مداخلت کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔
اس مختصر جائزے سے بہ خوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کس قسم کے تہذیبی بحران کا شکار ہے۔ یہی تہذیبی بحران ہمارے رویوں میں ڈھلتا ہے ۔ اسی سے ہمارا قومی مزاج تشکیل پاتا ہے۔ پھر یہی مزاج ہمارے نظام تعلیم میں منعکس ہوتا ہے ۔
ایک اور زاویے سے دیکھیے تو ہمارا تعلیمی نظام در حقیقت اُس دور کی اشرافیہ کا وضع کردہ ہے، جس میں تعلیم کا مقصد چند لوگوں کو اعلیٰ عہدوں تک پہنچانا ہوتا تھا۔ ان اعلیٰ عہدوں تک پہنچانے کے لیے مقابلے کے اصول پر لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ہمارا تعلیمی نظام طالب علموں کو جس ہدف کی طرف بڑھاتا ہے، وہ عہدوں تک رسائی اور ملازمت کا حصول ہے۔ دراں حالیکہ حقیقت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو تعلیم کا اس پورے تصور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
تعلیم تہذیبِ نفس کا نام ہے۔تعلیم انسان کی اس صلاحیت کو نکھارتی ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کی ہوتی ہے۔ میں اکثر یہ بات کہتا ہوں کہ بعض اوقات مشکل معاملات ہمیں زندگی کے وہ اہم سبق سمجھا دیتے ہیں ،جو بڑے بڑے فلسفی نہیں سمجھا سکتے۔ میں اپنی بات کو ایک مثال سے واضح کرتا ہوں۔ میرے ہاں، جڑواں بچوں کی پیدایش ہوئی۔ مجھے ان کے حوالے سے یہ فکرمندی تھی کہ کہیں جڑواں ہونے کی وجہ سے یہ کم زور نہ ہوں، چنانچہ میں نے انٹرنیٹ پر مختلف طرح کی تحقیقات پڑھنا شروع کیں، پھر مختلف ڈاکٹر وں سے ملا۔ ایک ڈاکٹر صاحب سے جب میں نے پوچھا کہ میرے بچے تین مہینے کے ہو گئے ہیں، دنیا میں تین مہینے کے بچوں کا جو وزن ہوتا ہے، ان کے مقابلے میں میرے بچوں کا وزن کتنا ہے؟ تو انھوں نے مجھے کہا کہ یہ بالکل غلط زاویہ ہے،جس سے آپ سوچ رہے ہیں۔ بچوں کے وزن کا پیمانہ کبھی بھی دنیا کے بچوں کے ساتھ موازنے سے طے نہیں کیا جاتا۔ بچوں کا وزن ان کی پیدایش کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ لہٰذا آپ کے بچے کا تقابل اس کی پیدایش سے ہوگاکہ اب وہ کہاں تک پہنچ گیا ہے۔ تعلیم کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ اللہ نے مجھے جو صلاحیتیں دیں ، جن کے ساتھ میں پیدا ہوا ہوں ، اب ان کونکھارنے کانام تعلیم ہے۔ اس تفصیل سے یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام ہمارےقومی بحران کو ظاہر کرتا ہے۔
جہاں تک امریکی معاشرے کا تعلق ہے تو اُس کی اساس جان لاک (John Locke) اور بعض دوسرے اہلِ علم کے سماجی اور سیاسی افکار پر قائم ہے۔ اِس میں انسانیت (Humanism)، آزادیِ اظہار راے (Freedom of expression)، حریت فکر اور حریت آزادی جیسی چیزوں کو بنیادی اقدار (Basic Values) کی حیثیت حاصل ہے۔
امریکہ کا اپنا مذہبی پس منظر ہے، سیاسی جدوجہد کی تاریخ ہے۔ انھوں نے جبر ،تسلط اور ظلم جیسی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ اِس سب کچھ کے نتیجے میں وہاں کچھ معاشرتی اقدار پیدا ہوئی ہیں۔ قانون کی حکمرانی ایک قدرہے ، حق خودارادی ایک قدرہے ، آزادیِ راے ایک قدر ہے، جمہوریت ایک قدر ہے ۔ مزید یہ کہ وہاں لوگوں کو نقل مکانی کے معاملے میں مکمل آزادی حاصل ہے۔ اِن عوامل اور ان اقدار نے اُس کے قومی مزاج کو وجود بخشا ہے اور یہی قومی مزاج اُن کے تعلیمی نظام میں کارفرما ہے۔
لہٰذا امریکہ میں تعلیم کا تصور اس سے بالکل مختلف ہے، جو ہمارے ہاں پاکستان میں پایا جاتا ہے۔ وہاں تعلیم یافتہ ہونے کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ آپ اعلیٰ درجے کی ڈگریاں رکھتے ہیں۔ امریکہ کے اگر اعداد و شمار دیکھیں تو بہت کم تعداد ہے جو ہائیر ایجوکیشن اور یونیورسٹی لیول تک جاتی ہے، اور ہونا بھی ایسے ہی چاہیے۔ سوسائٹی کے اندر اختصاصی تعلیم (Specialization) حاصل کرنے والوں کی تعداد دس سے بارہ فی صد ہوتی ہے ، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ باقی غیر تعلیم یافتہ تصور کیے جاتے ہیں ۔ باقی لوگ اپنے شعور اور روزگار کو بہتر کرنے کے لیے اپنی دل چسپی کے شعبے میں مہارت حاصل کرتے ہیں، مثلاً وہ زبان (Language) سیکھتے ہیں، یا مختلف طرح کے ہنر(Skills)سیکھتے ہیں۔ آپ اندازہ کریں کہ وہاں انسان کی بنیادی ضروریات کی مہارت (Skills)کو وہ اسی طرح محنت سے سیکھتے ہیں ، جیسے کوئی اعلیٰ ڈگری لینے والا شخص اپنی ڈگری کے لیے محنت کرتا ہے۔ اور پھر یہی وجہ ہے کہ وہاں ہنرمند کی وہی عزت ہے جو ایک پی ایچ ڈی اسکالر کی ہوتی ہے ، بلکہ شاید اس سے زیادہ عزت ہوتی ہے۔