مواد پر جائیں

مشینی کلچر کا سیلاب

محمد ذکوان ندوی اردو

موجودہ زمانے کے مشینی کلچر نے عام طورپردورِ جدیدکے انسانوں کو ’ترقی‘دے کر اُنھیں انسان سے ’غیر انسان‘ بنادیا ہے۔ایمان اور اخلاق پر ثابت قدم رہنے والے ایک ’گروہِ قلیل‘1 کو چھوڑکر، لوگوں کی اکثریت2 اب اِسی عام فساد کا شکار ہوچکی ہے۔چنانچہ اب نہ اُس کے اندر ربانیت باقی رہی اور نہ انسانیت زندہ ہے۔مشینی انقلاب کے اِس سنگین ترین پہلو کواقبال جیسے ’داناے راز‘ نے اُس کے آغاز ہی میں دریافت کر لیا تھا۔ چنانچہ انھوں نے کہاتھا:

ہے دل کے لیے موت، مشینوں کی حکومت

احساسِ مروّت کو کچل دیتے ہیں، آلات!

اقبال کے ایک شعر کو اکثر میں ایک لطیف ترمیم کے ساتھ اِس طرح پڑھتا ہوں:

کیاہے تجھ کو ’مشینوں‘ نے کور ذوق اتنا

صبا سے بھی نہ ملا ، تجھ کو بوے گل کا سراغ

جدید حالات کی نسبت سے، ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال ایک الگ چیزہے اور مشینی کلچرکا طوفانی سیلاب بالکل ایک دوسری چیز۔ جدید ٹیکنالوجی کے معاملے میں ہمارا اصول یہ ہونا چاہیے کہ ہم ٹیکنالوجی کو استعمال کریں، ٹیکنالوجی ہم کو ہرگز استعمال نہ کرے۔

تاہم موجودہ زمانے کا بحران یہ ہے کہ اِس مشینی کلچر نے انسان کو پوری طرح ایک مشینی حیوان بناکررکھ دیاہے۔ چنانچہ جدید آدمی اب عموماً آدمی نہیں رہا،بلکہ وہ ’غیر آدمی‘ بن کر تمام انسانی اوصاف اور ربانی احساسات سے عاری ہوکر ایک بے روح انسانی روبوٹ بن کررہ گیا ہے۔

آئی ٹی سیکٹر کے ایک مسلم ایکسپرٹ سے ’مشینی ذہانت‘ (AI)پر گفتگو کرتے ہوئے ایک بار راقم نے کہا تھا کہ پہلے اِن ظالموں نے انسان کو مشین بنایا، اور جب انسان پوری طرح مشین بن گیاتو اب یہی لوگ ’مشینی ذہانت‘ کے ذریعےسے خودمشین کو انسان بنانے کی ناکام جد وجہد کررہے ہیں۔

واقعات بتارہے ہیں کہ ایسی حالت میں ، بس ایک ’متاعِ غرور‘3کی قیمت پر عملاًنہ صرف ’غیر انسانوں‘ میں اضافہ ہوگا،بلکہ خود انسان جیسا خدائی شاہ کار صرف مشینوں کا غلام بن کر محض ایک تابع فرمان کلرک کی حیثیت سے کام کرے اور تمام انسانی صلاحیتوں سے محروم ہوکر رہ جائے ، جیسا کہ عملاً اب یہ ظاہرہ ’ہر ترقی یافتہ‘ اور ’متمدن‘ مقامات پر عام ہوچکا ہے۔

مشہور سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ4 (Stephen Hawking) نے اِس خطرے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’مشینی ذہانت‘ کایہ لامتناہی ارتقا خود انسانی نسل کے خاتمے کی قیمت پر ہوگا:

The development of full artificial intelligence could spell the end of the human race. [The Economic Times, March 14, 2018]

اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) نے اپنے اِسی مذکورہ بیان کے تحت گفتگو کرتے ہوئے مزید کہاکہ اب اِس معاملے میں ہم اُس پوائنٹ تک پہنچ چکے ہیں، جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ چنانچہ اب ہم گویا خود اپنے خنجر سے اپنی خودکشی کے راستے کی طرف بڑھ رہے ہیں :

I believe we have reached the point of no return… and we are in danger of self destructing.

شاعر حقیقت ڈاکٹرعلامہ اقبال مرحوم نے آج سے ایک صدی قبل ’بانگ ِ درا‘ (1905ء) میں اِس کی پیشین گوئی کرتے ہوئے درست طورپر فرمایاتھا:

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خود کشی کرے گی

جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا !

مشہور سائنس دان آئن سٹائن 5نے اِس حقیقت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا تھاکہ مجھے اندیشہ ہے کہ ایک دن وہ آئے گا، جب بالآخر یہ جدید ٹیکنالوجی انسانی دنیا پر قابوپالے ، اورہماری یہ دنیا صرف احمقوں کا ایک مسکن بن کر رہ جائے :

I fear the day when the technology overlaps with our humanity. The world will only have a generation of idiots. [Albert Einstein]

اِسی طرح، مشہور امریکی مصنف ایرک ہولڈ مین(Eric Holdman) نے کہا کہ ٹیکنالوجی پراِس قدرانحصار نئی نسل کو اچھی تحریر اورانسانی روابط جیسی انسانی صلاحیتوں سے محروم کرتا جارہا ہے:

The generation of young people now entering the workplace, don’t know how to communicate. They are poor writers and their coordination and collaboration skills are lacking. Some of this would have to be a direct result being wedded to their ‘‘digital assistants’’. [govtech.com]

مشینی کلچرکے سیلاب کا یہ ظاہرہ بلاشبہ، انسانیت کے لیے ایک انتہائی مہلک ظاہرہ تھا۔مشین کو مشین کے درجے پر رکھنا چاہیے تھا، اور انسان کو انسان کے مقام پر۔ انسان کو خدا نے ’انسان‘ بنایا تھا، لہٰذا ، اِس خدائی اسکیم کے مطابق، اُسے ہرحال میں ’انسان‘ رہناچاہیے؛خواہ ’ترقی‘کا یہ تیز و تند طوفان اُس کے اِس ربانی چراغ کو کتنا ہی زیادہ بجھانے کی کوشش کیوں نہ کرے۔

موجودہ زمانے میں ’بجلی ‘کی روشنی کے باوجود اِس قسم کا ’اندھیر‘ بہت تیزی کے ساتھ تقریباً تمام ’ترقی یافتہ ‘ مقامات پر جاری ہے۔ اکبر الٰہ آبادی6 نے اِس ظاہرے پر اپنے مخصوص اسلوب میں تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا:

برق کے لیمپ سے آنکھوں کو بچائے رکھنا

روشنی آتی ہے، اور نور چلا جاتا ہے!

تاہم، بلاشبہ یہ انسانیت کا ایک سنگین اور ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا کہ’ ہواے ترقی‘ کے اِس طوفان میں خود انسان کا نورِ فطرت اور روشن چراغِ دل بجھ کررہ جائے، کیونکہ یہ دل کی زندگی اور حساسیت ہی ہے جس کا نام زندگی اور ایمان ہے۔ دل کی اِس زندگی،حیویت، دردمندی اور حساسیت کے بغیرانسان انسان نہیں۔ خوا جہ میر درددہلوی (وفات: 1758ء) نے بجاطوپر کہا تھا:

مجھے یہ ڈر ہے، دلِ زندہ تو نہ مرجائے

کہ زندگانی عبارت ہے، تیرے جینے سے!

آج کل عام طوپر ہرطرف اِس مشینی کلچر کے فضائل وبرکات کا چرچا ہورہا ہے۔ ہر جگہ اِسی فکر کی چھاپ اور اِسی تہذیب کا غلبہ ہے۔ مذہبی اور غیرمذہبی، دونوں قسم کے لوگ اِس کی قصیدہ خوانی کرتے ہوئے اِسے ایک ’خیر مطلق‘ (summum bonum)قراردے رہے ہیں۔

اِس قسم کے چند افراد سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بار راقم نے اِن جدید ’برکات‘کے متعلق کہا تھا کہ اِن ’برکات‘ کا حال یہ ہے کہ اِن کے ظہور سے پہلے چراغ کی روشنی میں جو کچھ ر وشنائی سے لکھ دیا گیاتھا، اب ہم بجلی کی روشنی اور ڈیجیٹل سیاہی میں اُسے پڑھنے کا یارا بھی نہیں رکھتے۔

حقیقت یہ ہے کہ صرف مادّی چمک دمک اور ٹیکنیکل کمالات کسی چیز کے ’خیر مطلق‘ ہونے کا معیار ہرگز نہیں بن سکتے۔مادّی طرزِ فکر اور خالص مادہ پر ستانہ تصورِ حیات پر مبنی یہ وہی یک چشمی اور اندھا پن (one-sided approach)ہے جسے فتنۂ دجالِ اکبر کے تحت، ایک قولِ رسول میں ’أعْوَرُ العَیْن‘7 کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، یعنی بے بصیرتی اور اندھا پن۔

اصل یہ ہے کہ کوئی ظاہرہ صرف اُسی وقت ’خیر مطلق‘ کا درجہ پاسکتا ہے جب وہ ایمان و اخلاق کا ضامن اور خدا پرستی و انسانی ہم دردی سے معمور ہو۔ایسی حالت میں، اصل دیکھنے کی بات یہ ہے کہ مادّی ترقیات کے اِس سیلاب میں خود انسان نے اوّلین درجہ حاصل کیاہے یا وہ صرف ایک ثانوی وجود بن کر رہ گیا ہے؟ اُس کے قلبی اور روحانی سکون میں اضافہ ہوا ہے یا وہ اب محض ایک قسم کے ذہنی ’تَخَبُّط‘8 اور فکری اضمحلال کا شکار ہے؟کیا اُس کے پاس خود اپنے لیے وقت باقی رہاہے یا نہیں؟

ایسی حالت میں ہمیں رک کر غور کرنا چاہیے کہ اِن جدید ترقیات کی صورت میں انسان نے جو کچھ پایا ہے، کہیں وہ خود اپنی آدمیت کی قیمت پر تو اُسے نہیں ملا؟ انسانیت اور اقدار(values) جو اصل انسانی جوہر ہیں، وہ زندہ ہیں یا اُن کا خا تمہ ہوچکا ہے؟ اکبر الٰہ آبادی نے درست طورپر کہا تھا:

نقشوں کو تم نہ جانچو، لوگو ں سے مل کے دیکھو

کیا چیز جی رہی ہے، کیا چیز مر رہی ہے!

واقعاتی اعتبار سے دیکھیے تو اِن سب باتوں کا جواب تقریباً نفی میں ملے گا ۔ اگر ایک شخص چشم بصیرت سے دیکھے تو یہ سب کچھ ایک ایسا نوشتۂ دیوار بن چکا ہے، جسے اب ہر جگہ سر کی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک عام آدمی بھی انتہائی شدت کے ساتھ اِن جاں گسل واقعات کا تجربہ کررہاہے۔

تجربات شاہد ہیں کہ عمومی جذبۂ انسانیت بھی اب بہ تدریج نہ صرف کم ، بلکہ ناپید ہوتا جارہا ہے۔بے روح مذہبی مراسم نے خاشعانہ عبادت کی،اوررسوم و آداب کے رسمی مظاہرنے اب اخلاقیات کی صورت اختیار کرلی ہے۔عام طورپراب اِنھی مراسم کی ادائیگی کو دین و انسانیت کا اصل معیار سمجھ کر ایمان واخلاق کی اہمیت کو بالکل فراموش کر دیا گیا ہے۔ بے روح قسم کے ڈیجیٹل اور پروفیشنل آداب (etiquettes) کو اُس زندہ اسلامی اور ربانی اخلاقیات کے ہم معنی قراردے دیا گیا ہے جو خوف ِ خدا،حسن اخلاق اورحقیقی انسانی ہم دردی سے عبارت تھا ۔

کورونا کے بحرانی فساد نے اب بچے کھچے انسانوں کو بھی ’غیر انسان‘ بنا کر اپنے مطلوب معیارات پر کامل سحرکاری اور تاجرانہ عیاری کے تحت آن لائن اور ڈیجیٹل صورت میں انتہائی خوب صورتی کے ساتھ قائم کر دیا ہے۔آج کا انسان قبل از کورونا جیساانسان نہیں رہا، بلکہ وہ اب اپنے انسانی احساسات اور انسانی تعلقات کے اعتبار سے، پوری طرح ایک بدلا ہوا انسان دکھائی دے رہا ہے۔

چنانچہ وقت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اچھے لوگ نہ صرف یہ کہ اب بہ تدریج کم سے کم ہوتے جارہے ہیں، بلکہ غیر حساس آدمیوں کی بھیڑ اور اُن کی طر ف سے مسلسل ’غیرانسانی‘ تجربات کی بناپر اچھے اور درد مند لوگ بھی اب بدلتے اورگویا’’ نمک کی کان میں نمک‘‘ ہوتے جا رہے ہیں۔اِس طرح کے اکثر افراد اب ماحول کے زیر اثر اپنے خول میں بند ہوکر اپنے آپ کو سمیٹنے اور خاموش رکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں،بلکہ یہ قربِ قیامت کا ایک ہول ناک ظاہرہ ہے۔

خلاصۂ کلام

ایسی حالت میں ضروری ہے کہ آدمی نما افراد کے اِس انبوہِ کثیر میں چند باقی ماندہ ’انسان‘ہرگز دل شکستہ نہ ہوں، بلکہ حسب ِ احوال، وہ ہر سطحِ حیات پر فطرت سے قریب رہنے کی جدو جہد کریں، وہ انسانیت کے اِس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں خداکی یاد کو اپنا سہارا بنائیں، وہ خدا کے سچے بندوں کی مدد سے ایمان اور اخلاق کاربانی چراغ مسلسل جلاتے رہیں، وہ صدق دل سے انسانوں کی بے لوث خدمت، اُن کی رہنمائی و خیرخواہی اوراُن کا ہر ممکن تعاون جاری رکھیں۔

اِن حالات میں ہمارا حال اُس مردِ درویش کے مانند ہونا چاہیے جس کے متعلق اقبال نے کہا تھاکہ:

ہواہے گو تند وتیز، مگر چراغ اپنا جلارہاہے

وہ مردِ درویش جس کو خدا نے دیے ہیں، اندازِ خسروانہ

باطل کی مدت تھوڑی اور بہت تھوڑی ہے۔ اُس کا انجام فنا وزوال کے سوا اور کچھ نہیں ’اِنَّ الْبَاطِلَ کاَنَ زَھُوْقاً‘ ۔ اِس کے برعکس، بقا و دوام صرف حق و صداقت کے لیے مقدر ہے، لہٰذا اہل حق کو گھبرانے اور مایوس ہونے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں:

’وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنتمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ‘(آلِ عمران 3: 139)یعنی تم مطمئن رہو، تمھیں ہرگز حوصلہ کھونے اورغم میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر تم (سچے) مومن ہو تو (اصل) غلبہ واقتدار بالآخر تمھارا مقدر بن کر رہے گا۔

  1. ۔ سبا 34 :20۔
  2. ۔ الفرقان 25: 44۔
  3. ۔ الحدید57: 20۔
  4. ۔ وفات: 2018ء۔
  5. ۔ وفات: 1955ء۔
  6. ۔ وفات: 1921ء ۔
  7. ۔ مسلم، رقم 169۔
  8. ۔ البقرہ 2: 275۔