یہ آبجو کے کناروں پہ یاسمین کا ہجوم
روش روش پہ نخیلِ بلند گوناگوں
یہ شاخ شاخ صبوحی، یہ باغباں کا لہو
چمن چمن رگِ لالہ میں بند ہے جیحوں
اِدھر ببول کے سایے میں ایک مردِ فقیر
اٹھا رہا ہے نگاہوں کی جستجو کا حجاب
اُدھر چنار کی چھاؤں میں سرخ رو بچے
وراے چرخ سے بوڑھے کی آرزو کا جواب
افق کے پاس فضاؤں میں چمنیوں کا دھواں
ہوا کے دوش پہ مردِ ضعیف نے دیکھا
اٹھا ببول کے سایے سے زرد رو، خاموش
وفورِ یاس میں بچوں کو دیکھ کر بولا
یہ چمنیاں کبھی دیکھو تو جا کے سو جاؤ