مواد پر جائیں

تفہیم الآثار

ڈاکٹر عمار خان ناصر اردو

(صحابہ وتابعین کے آثار کی ترتیب وتدوین اور شرح ووضاحت کا منصوبہ)

صحابہ وتابعین اور اتباع تابعین کے آثار، اسلامی علمی روایت میں احادیث نبویہ کے بعد علمی استفادہ کا اہم ترین ماخذ مانے جاتے ہیں۔ یہ وہ پہلی تین نسلیں ہیں جنھوں نے اسلامی تاریخ کے اولین مراحل میں اجتماعی حیثیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی نقل وروایت کی ذمہ داری اٹھائی اور دینی مآخذ پر غور کرنے، اور ان کی تشریح وتوضیح کے علاوہ ان سے احکام و مسائل اخذ کرنے اور علم وعمل میں امت کے سامنے ایک مستند اور معیاری اسوہ پیش کرنے کی خدمت انجام دی۔ انھی اوصاف کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک معروف حدیث کی روشنی میں اس عہد کو ’ خیر القرون‘ کا عنوان دیا جاتا ہے۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

خير أمتى قرنى ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم.

(بخاری، رقم 3650)

”میری امت کا بہترین طبقہ وہ ہے جو میرے دور میں ہے۔ اس کے بعد وہ طبقہ بہترین ہوگا جو اس کے بعد ہوگا اور پھر وہ طبقہ جو اس کے بعد ہوگا۔“

ان میں سے جماعت صحابہ کی دینی حیثیت اور ذمہ داری کا ذکر قرآن مجید میں بڑی خصوصیت اور اہتمام کے ساتھ کیا گیا اور انھیں ایک طرح سے کار نبوت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّةً وَّسَطاً لِّتَکُونُوا شُہَدَاءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَہِیْداً.

(البقرہ 2: 143)

”اور اسی طرح ہم نے تمھیں ایک درمیان کا گروہ بنایا تاکہ تم لوگوں پر (اس دین) کی شہادت دینے والے بنو اور رسول تم پر (اس کی) گواہی دیں۔“

سورہ آل عمران میں ہے:

کُنتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ. (3: 110)

”تم بہترین گروہ ہو جسے لوگوں (کی رہنمائی) کے لیے نکالا گیا ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔“

محدثین اور علماے اصول مذکورہ آیات کا مصداق خاص طور پر حضرات صحابۂ کرام کو قرار دیتے ہیں۔1

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات میں مجموعی حیثیت میں جماعت صحابہ کے دینی اسوہ کو امت کے لیے رہنما قرار دینے کےساتھ ساتھ خاص طور پر خلفاے راشدین، یعنی اپنے ان جانشینوں کی اتباع کی تلقین فرمائی ہے جو ہدایت یافتہ اور راہ راست پر قائم ہوں گے۔ اسی ضمن میں آپ نے صحابہ میں علم وعمل کے لحاظ سے ممتاز بعض حضرات کا خاص طور پر ذکر فرمایا اور امت کو ان سے دین سیکھنے اور ان سے رہنمائی حاصل کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إن بني إسرائيل تفرقت على ثنتين وسبعين ملة، وتفترق أمتي على ثلاث وسبعين ملة كلهم في النار إلا ملة واحدة، قالوا: ومن هي يا رسول اللّٰہ؟ قال ما أنا عليه وأصحابي.(ترمذی، رقم 2584)

’’بنی اسرائیل بہتّر گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور میری امت تہتر گروہوں میں تقسیم ہوگی، جو سب کے سب آگ میں جائیں گے، سواے ایک گروہ کے۔ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ، وہ کون سا گروہ ہوگا؟ فرمایا کہ جو اس طریقے پر چلے گا جس پر میں اور میرے صحابہ قائم ہیں۔“

عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد روایت کرتے ہیں کہ:

وإياكم ومحدثات الأمور فإنها ضلالة، فمن أدرك ذلك منكم فعليه بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين، عضوا عليها بالنواجذ. (ترمذی، رقم 2619)

’’تم (دین میں) نئے نئے طریقوں سے اجتناب کرنا، کیونکہ وہ گم راہی کے طریقے ہوں گے۔ تم میں سے جس کو اس صورت حال کا سامنا ہو تو وہ میرے طریقے پر اور میرے ہدایت یافتہ اور راہ راست پر قائم خلفا کے طریقے پر کاربند رہے۔ تم اس کو مضبوطی سے تھامے رکھنا۔“

حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اقتدوا بالذين بعدي أبو بكر وعمر، واهتدوا بهدي عمار، وتمسكوا بعهد ابنِ أم عبد.

(مسند الحمیدی، رقم 436)

’’میرے بعد جو یہ دو آدمی، یعنی ابوبکر اور عمر ہوں گے، ان کی پیروی کرنا، اور عمار کے طریقے کو اختیار کرنا اور ابن ام عبد (عبد اللہ بن مسعود) کی تلقین کو مضبوطی سے تھامے رکھنا۔“

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد روایت کرتے ہیں کہ:

استقرِءوا القرآن من أربعة: من أبي بن كعب، ومعاذ بن جبل، وعبد اللّٰه بن مسعود، وسالم مولى أبِي حذيفة. (المعجم الکبیر طبرانی، رقم 8324)

’’قرآن ان چار آدمیوں سے سیکھو: ابی بن کعب، معاذ بن جبل، عبد اللہ بن مسعود اور سالم مولیٰ ابی حذیفہ۔“

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أرأف أمتي بأمتي أبو بكر، وأشدهم في الإسلام عمر، وأصدقهم حياء عثمان بن عفان، وأقضاهم علي بن أبي طالب، وأفرضهم زيد بن ثابت، وأعلمهم بالحلال والحرام معاذ بن جبل، وأقرؤهم أبي بن كعب، ولكل أمة أمين، وأمين هذه الأمة أبو عبيدة بن الجراح.

(مسند ابی یعلیٰ، رقم 5714)

’’میری امت پر سب سے زیادہ مہربان ابوبکر ہے، اسلام کے معاملے میں سب سے زیادہ مضبوطی رکھنے والا عمر ہے، سب سے بڑھ کر حیا دار عثمان ہے، سب سے بڑھ کر فیصلے کی صلاحیت رکھنے والا علی ہے، ترکے کی تقسیم کا علم سب سے زیادہ زید بن ثابت کے پاس ہے، حلال اور حرام کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا معاذ بن جبل ہے، اور قرآن کا سب سے اچھا قاری ابی بن کعب ہے۔ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین، ابوعبیدہ بن الجراح ہے۔ “

صحابہ کے علم وعمل سے مستفید اور ان کی صحبت وتربیت سے فیض یاب ہونے والے طبقات، یعنی تابعین اور ان کے بعد اتباع تابعین نے صحابہ کے علم وعمل کو بھی آگے نقل کیا اور اسی نہج پر امت کی دینی رہنمائی کے سلسلے کو قائم رکھا۔ یوں مجموعی طور پر ان تینوں طبقات کے لیے اسلامی روایت میں ایک امتیازی حیثیت اور مقام تسلیم کیا جاتا اور خاص طور پر غیر متوازن مذہبی رجحانات اور انحرافات کے تقابل میں صحابہ وتابعین کے فہم دین کو حق وصواب کی معرفت کا مستند ترین ذریعہ مانا جاتا ہے۔

آثار صحابہ وتابعین کی جمع وتدوین

اسی دینی وعلمی اہمیت کے پیش نظر دینی علوم کے تمام شعبوں میں صحابہ وتابعین کے آثار کے ساتھ خصوصی اعتنا کیا جاتا ہے۔ چنانچہ مفسرین آیات کی تفسیر کے ضمن میں ان آثار کو نقل کرنے کا خاص اہتمام کرتے ہیں اور تفسیری روایت میں ’تفسیر بالماثور‘ کی اصطلاح بنیادی طور پر صحابہ وتابعین کے تفسیری اقوال ہی کے حوالے سے استعمال کی جاتی ہے۔ امام عبد الرزاق (وفات 211ھ)، امام ابن جریر طبری (وفات 310ھ) اور امام ابن ابی حاتم (وفات 327ھ) کی تفسیریں اسی منہج کی نمایندہ تفاسیر ہیں، جب کہ سعید بن منصور (وفات 227ھ) کی سنن میں بھی ان تفسیری روایات واقوال کا ایک بڑا حصہ جمع کیا گیا ہے۔ متاخرین میں سے علامہ سیوطی (وفات 911ھ) کی تفسیر ’’الدر المنثور‘‘ میں عموماً‌ یہ سب آثار یکجا مل جاتے ہیں۔

عہد صحابہ میں ہی امت میں سامنے آ جانے والے کلامی واعتقادی اختلافات اور دینی رویوں میں پیدا ہونے والے انحرافات اور غیر متوازن رجحانات کے حوالے سے صحابہ وتابعین نے جو رہنمائی کی، اس کی حفاظت اور اس مضمون کے آثار کی نقل وروایت محدثین کی خاص توجہ کا مرکز رہی ہے اور بہت سے محدثین نے ان مسائل سے متعلق صحابہ وتابعین کے اقوال وآثار کو محفوظ کرنے کے لیے متعدد مجموعے مرتب کیے ہیں۔ اس ضمن کے نمایاں مجموعوں میں عبد اللہ بن احمد (وفات 290ھ) کی ’’ السنۃ ‘‘، ابوبکر بن ابی عاصم (وفات 287ھ) کی ’’کتاب السنۃ‘‘، ابوبکر الخلال (وفات 311ھ) کی ’’ السنۃ ‘‘، ابوبکر الآجری (وفات 360ھ) کی ’’الشریعۃ‘‘، ابن مندہ (وفات 395ھ) کی ’’الایمان‘‘، ابن بطۃ (وفات 387ھ) کی ’’الابانۃ الکبریٰ‘‘، ابو القاسم اللالکائی (وفات 418ھ) کی ’’شرح اصول اعتقاد اهل السنۃ والجماعۃ‘‘ اور ابوبکر البیہقی (وفات 458ھ) کی ’’الاسماء والصفات‘‘، ’’شعب الایمان‘‘، اور ’’الاعتقاد والھدایۃ الیٰ سبیل الرشاد‘‘ کو شمار کیا جا سکتا ہے۔

فقہ واجتہاد کے دائرے میں بھی فقہا ومحدثین نے آثار صحابہ کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ چنانچہ امام مالک (وفات 179ھ) نے اپنے فقہی اجتہادات وترجیحات کا مجموعہ ’’الموطا‘‘ کے عنوان سے مرتب کیا تو اس کے مآخذ میں ایک بڑا ماخذ صحابہ کے اجتہادات تھے۔ اسی طرح فقہاے کوفہ میں سے امام ابویوسف (وفات 182ھ) اور امام محمد بن الحسن الشیبانی (وفات 189ھ) نے روایات کے مجموعے مرتب کیے تو وہ بھی زیادہ تر آثار صحابہ وتابعین پر ہی مشتمل تھے۔ پھر تیسری صدی ہجری کی ابتدا عبد الرزاق الصنعانی (وفات 211ھ) اور ابوبکر ابن ابی شیبہ (وفات 235ھ) نے ’’المصنف‘‘ کے عنوان سے آثار صحابہ وتابعین کے جامع مجموعے مرتب کیے، جو آج تک بنیادی مصادر کے طور پر اہل علم میں متداول ہیں۔ امام بیہقی (وفات 458ھ) کی ’’السنن الکبریٰ‘‘ اور ’’معرفۃ السنن والآثار‘‘ اور ابن حزم (وفات 456ھ) کی ’’المحلیٰ بالآثار‘‘ بھی فقہی مسائل سے متعلق صحابہ وتابعین کے آثار کا اہم ماخذ شمار کی جاتی ہیں۔

صحابہ کے فضائل ومناقب سے متعلق وارد احادیث وآثار کو محدثین نے کتب حدیث میں مستقل ابواب کے تحت جمع کرنے کے علاوہ اس عنوان پر مستقل مجموعے مرتب کرنے کو بھی اہمیت دی۔ اس سلسلے میں احمد بن حنبل (وفات 241ھ) کی ’’فضائل الصحابۃ ‘‘ اور دارقطنی (وفات 385ھ) کی ’’فضائل الصحابۃ‘‘ معروف ومتداول ہیں۔

ان کے علاوہ تذکرہ نگاروں میں سے ابن سعد (وفات 230ھ) کی ’’الطبقات الکبریٰ‘‘ اور ابو نعیم (وفات 430ھ) کی ’’حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء‘‘ کا اسلوب یہ ہے کہ وہ اکابر صحابہ وتابعین کے تذکرے کے ضمن میں ان کے اقوال اور سیرت وکردار سے متعلق واقعات کا ایک انتخاب بھی پیش کر دیتے ہیں۔ یوں ان دونوں کتابوں کو بھی صحابہ وتابعین کے اقوال وآثار کے اہم مصادر شمار کیا جا سکتا ہے۔

آثار صحابہ وتابعین کی اسی اہمیت کے پیش نظر دور جدید میں بھی مختلف مصنفین نے اپنے اپنے ذوق اور ترجیحات کے مطابق مختلف انداز میں صحابہ وتابعین کے آثار کے مجموعے مرتب کیے ہیں جن میں محمد العنانی کی ’’الجامع الصحیح لآثار الصحابۃ‘‘، الدکتور حکمت بن بشیر العراقی کا ’’موسوعۃ الصحیح المسبور من التفسیر بالماثور‘‘، ابو عبد اللہ الدانی بن منیر آل زھوی کی ’’سلسلۃ الآثار الصحیحۃ‘‘، زکریا بن غلام قادر کی ’’ ما صح من آثار الصحابۃ فی الفقہ‘‘، عاطف عبد الوہاب حماد کے ’’جامع الآثار القولیۃ والفعلیۃ الصحیحۃ‘‘ کے زیرعنوان مرتب کردہ متعدد مجموعے، عبد اللہ بن فہد الخلیفی کے ’’الصحیح المسند‘‘ کے زیر عنوان متعدد صحابہ کے آثار پر مبنی مجموعے اور الدکتور مساعد بن سلیمان الطیار کی نگرانی میں مرتب کیا جانے والا مبسوط ’’موسوعۃ التفسیر الماثور ‘‘ بہ طور خاص قابل ذکر ہیں۔

یہ دعویٰ تو بہت مشکل ہے کہ ان مجموعوں میں فقہاے صحابہ کے آثار مکمل طور پر محفوظ ہو گئے ہیں۔ مثال کے طور پر صحابہ میں سے علم وتفقہ کے اعتبار سے خلفاے راشدین، سیدہ عائشہ، معاذ بن جبل، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن مسعود، سیدنا معاویہ اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم نہایت ممتاز تھے اور یہ حضرات عملی مسائل کے حوالے سے راے دینے کے علاوہ قرآن مجید کو بھی خاص طور پر اپنے تفکر وتدبر کا موضوع بنائے رکھتے تھے، تاہم تفسیری ذخیرے میں ہمیں ابن عباس اور ابن مسعود کے علاوہ دیگر صحابہ کے اقوال وآرا کا ذکر شاذ ہی ملتا ہے۔ اسی طرح صحابہ کے دور کے جوفتاویٰ اور واقعات ہم تک پہنچے ہیں، ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں جو اس وقت کے معروف علمی مراکز میں پیش آئے یا جن کی اطلاع مخصوص اسباب کے تحت وہاں تک پہنچ گئی اور آثار وروایات کی صورت میں ان کی حفاظت کا بندوبست ممکن ہو سکا۔ ان کے علاوہ مملکت کے دور دراز اطراف، مثلاً یمن، بحرین اور مصر وغیرہ میں کیے جانے والے فیصلوں کی تدوین سرکاری سطح پر بھی نہیں کی گئی اور حجاز، عراق اور شام کی نمایاں تر علمی حیثیت کے تناظر میں اہل علم نجی طور پر بھی نسبتاً کم اہمیت کے حامل ان علاقوں کے علمی آثار کی حفاظت وتدوین کی طرف متوجہ نہ ہو سکے۔ تاہم محدثین نے جتنا ذخیرہ محفوظ کیا ہے، اس کا دائرہ بھی ہرگز محدود نہیں اور اپنی دینی وعلمی قدر وقیمت کے اعتبار سے تمام دائروں میں یہ ذخیرہ اہل علم کی توجہ اور استفادہ کا مرکز رہا ہے۔

تفہیم الآثار کا مجوزہ منصوبہ

اردو زبان میں صحابہ وتابعین کے آثار کی ترتیب وتدوین اور شرح ووضاحت پر مبنی کوئی مستقل تصنیفی کام موجود نہ ہونے کی وجہ سے اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ تحقیق و تخریج کے جدید وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے اس نوعیت کا ایک جامع مجموعہ مرتب کیا جائے۔ ’’تفہیم الآثار‘‘ کے مجوزہ مجموعے میں مختلف علمی ودینی موضوعات سے متعلق صحابہ و تابعین کے نمایندہ آثار کے انتخاب اور ان کی ضروری شرح ووضاحت سے اسی ضرورت کی تکمیل پیش نظر ہے۔ آثار کی موضوعاتی تبویب کے لیے جو بنیادی دائرے متعین کیے گئے ہیں، وہ حسب ذیل ہیں:

1۔ صحابہ کی دینی حیثیت اور ذمہ داریاں

اس باب میں صحابہ کی دینی حیثیت اور ان خاص ذمہ داریوں سے متعلق جو صحابہ وتابعین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہ طور جماعت انجام دیں، آثار کا مطالعہ کیا جائے گا۔ صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے تسلسل میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فتح ونصرت کی بشارتوں کی بنیاد پر جہاد وقتال کی جو ذمہ داری انجام دی، اس کی اہم تفصیلات اسی باب میں بیان کی جائیں گی۔ دین کی نقل وروایت کے ضمن میں قرآن مجید اور سنت کی تعلیم و اشاعت کے لیے صحابہ نے جو مساعی کیں، ان کی تفصیلات آثار وروایات کی روشنی میں مرتب کی جائیں گی۔ خلافت واقتدار کے باب میں امت کی سیاسی قیادت اور رہنمائی کی جو ذمہ داری صحابہ کو دی گئی اور ایک خاص تاریخی مرحلے میں انھیں جس آزمایش کا سامنا کرنا پڑا، اس کی تفصیلات کا مطالعہ بھی متعلقہ آثار کی روشنی میں اسی باب میں کیا جائے گا۔

2۔ صحابہ وتابعین کا دینی مزاج اور رویے

یہ باب دینی علم وعمل میں صحابہ و تابعین کے مجموعی مزاج اور رویوں کی شرح ووضاحت کے لیے خاص ہے۔ دینی علم اور عمل کے ساتھ جو مختلف نوعیت کے فتنے اور غیر متوازن رویے وابستہ ہو سکتے ہیں اور جن کا ظہور خود عہد صحابہ میں ہوا، ان کے حوالے سے صحابہ وتابعین کے آثار سے ملنے والی قیمتی رہنمائی کو اس باب میں تفصیلاً‌ موضوع بنایا جائے گا۔ اہم ترین دینی واعتقادی مباحث کے حوالے سے پیدا ہونے والے اختلافات کے حوالے سے اکابر صحابہ وتابعین کے نقطۂ نظر کا مطالعہ بھی اسی باب کا حصہ ہوگا۔

3۔ صحابہ وتابعین کا فہم قرآن

قرآن مجید کے فہم اور اس کی تعبیر وتشریح کے حوالے سے صحابہ وتابعین کے اصولی رجحانات کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی آیات کی شرح وتفسیر میں صحابہ وتابعین سے مروی اہم ترین آثار کا مطالعہ اس باب کا موضوع ہوگا۔

4۔ صحابہ وتابعین کا فہم حدیث وسنت

اس باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی روایت اور تحقیق وتنقید کے حوالے سے اکابر صحابہ وتابعین کے رجحانات کا مطالعہ کیا جائے گا۔ نیز احادیث کے فہم اور تعبیر سے متعلق فقہاے صحابہ وتابعین کے علمی رجحانات اور مختلف احادیث کی تفہیم وتشریح کے ضمن میں ان کی آرا کی شرح ووضاحت کی جائے گی۔

5۔ صحابہ وتابعین کے استنباطات واجتہادات

یہ حجم کے اعتبار سے اس مجموعے کا سب سے بڑا باب ہوگا اور اس کے تحت فقہی واجتہادی امور سے متعلق صحابہ وتابعین کی آرا واستنباطات اور ان کے ماخذ واستدلال کی وضاحت کی جائے گی۔

اسلامی تاریخ میں جن فقہی مذاہب کو امت میں قبول عام حاصل ہوا، وہ بنیادی طور پر فقہاے صحابہ وتابعین کی آرا اور فتاویٰ کی توضیح وتفصیل اور ان پر تفریع سے ہی عبارت ہیں۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ مذاہب اربعہ (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی) کی نسبت سیدنا عمر کی فقہ کے ساتھ وہی ہے جو مجتہد منتسب کو مجتہد مطلق کے ساتھ ہوتی ہے اوریہ چاروں فقہی مذاہب درحقیقت سیدنا عمرہی کی آرا اور اجتہادات کی تفصیل پر مبنی ہیں۔2 تاہم اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ مدون فقہی مذاہب صحابہ وتابعین کے علم وتحقیق کو پوری طرح اپنے اندر سمونے اور اس کی وسعتوں اور تنوعات کی عکاسی کرنے کے بجاے بنیادی طور پر فقہا کے ترجیح وانتخاب کی نمایندگی کرتے ہیں۔ چنانچہ صحابہ وتابعین کے آثار میں ہمیں بہت سی ایسی آرا ملتی ہیں جنھیں صدر اول کے ممتاز اہل علم نے کسی فقہی سوال کے ممکنہ حل کے طو رپر بیان کیا، لیکن معروف فقہی مذاہب میں سے کسی کے ہاں ان آرا کو پذیرائی نہیں ملی۔

مثال کے طور پر سیدنا عمر بعض آثار کے مطابق غیرمسلم کو زکوٰۃ دینے کے جواز کے قائل تھے۔3 ان کے نزدیک مرتد ہونے والے شخص کو ہر حال میں قتل کر دینا ضروری نہیں تھا اور وہ اس کے لیے قید وغیرہ کی متبادل سزا کا امکان تسلیم کرتے تھے۔4 ان کی راے یہ تھی کہ اگر کسی یہودی یا نصرانی کی بیوی مسلمان ہو جائے اور خاوند اپنے مذہب پر قائم رہے تو دونوں میں تفریق ہرحال میں ضروری نہیں اور سابقہ نکاح کے برقرار رکھے جانے کی گنجایش موجود ہے۔5 یہ اور ان کے علاوہ بہت سی آرا ایسی ہیں جنھیں معروف فقہی مذاہب میں کوئی نمایندگی میسر نہیں آ سکی۔ یوں ذخیرۂ آثار کے براہ راست مطالعہ کی مستقل اہمیت اور افادیت اپنی جگہ باقی رہتی ہے۔ اس مطالعہ سے نہ صرف صحابہ وتابعین کے فہم دین میں پائی جانے والی بصیرت اور وسعت کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں، بلکہ دور جدید کے بہت سے ایسے مسائل ومشکلات کے حل میں بھی ان سے مدد مل سکتی ہے، جن کا حل بسااوقات معروف فقہی مذاہب میں نہیں ملتا۔

توضیح منہج

’’تفہیم الآثار‘‘ میں درج ذیل منہج کے مطابق آثار کی ترتیب وتدوین اور شرح ووضاحت کی جائے گی:

1۔ آثار کو موضوعاتی اعتبار سے اس طرح مرتب کیا جائے گا کہ عہد صحابہ وتابعین میں دینی و علمی مباحث کا ایک منظرنامہ سامنے آ جائے۔ ابواب اور فصول کی ابتدا میں جامع تمہیدات بھی رقم کی جائیں گی، جن سے ابواب وفصول میں شامل موضوعات کا باہمی ربط اور مرکزی عنوان کے ساتھ ان کی معنوی مناسبت واضح ہو جائے۔

2۔ آثار کا انتخاب ترجیحاً‌ حدیث کے معروف مآخذ، یعنی صحاح، سنن، مسانید اور معاجم سے اور پھر آثار کے معروف مجموعوں، مثلاً‌ مصنف عبد الرزاق اور مصنف ابن ابی شیبہ سے کیا جائے گا، تاہم آثار کی معنوی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے انتخاب میں دیگر دستیاب مآخذ سے بھی بھرپور استفادہ کیا جائے گا۔

3۔ معروف ومتداول مآخذ سے ان آثار کی ضروری تخریج کی جائے گی اور مختلف طرق میں موجود لفظی اختلافات کے علاوہ متن میں نقص واضافہ کے پہلوؤں کو بھی واضح کیا جائے گا۔

4۔ عربی متن میں قابل توضیح جملوں اور ترکیبات کی لغوی تشریح کی جائے گی۔

5۔ ترجمہ کو اصل متن کے قریب تر رکھتے ہوئے سلیس او ربامحاورہ رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ نیز متن میں اختصار یا غموض کے مقامات پر بریکٹ میں مختصر توضیح کر دی جائے گی۔

6۔ تشریح طلب مقامات پر حسب ضرورت مختصر یا متوسط حجم کی تعلیقات اس طرح لکھی جائیں گی کہ آثار میں موجود فقہ واستنباط کے پہلوؤں کی وضاحت اور علمی ومعنوی مشکلات کی تنقیح ہو سکے۔ اس سلسلے میں شروح حدیث سمیت تمام دستیاب علمی مآخذ سے استفادہ کیا جائے گا۔

البیان

  1. ۔ ابن عبد البر، الاستیعاب 1/12۔ خطیب بغدادی، الکفایہ46۔ مقدمہ ابن الصلاح 1/295-294۔ ابن حجر، الاصابہ 1/10۔ الشاطبی، الموافقات 4/74۔
  2. ۔ ازالۃ الخفاء 2/85۔
  3. ۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 10406۔ ابو یوسف، کتاب الخراج ، رقم 136۔
  4. ۔ مصنف عبد الرزاق، رقم 18696۔ بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم16665۔
  5. ۔ مصنف عبد الرزاق، رقم 10081، 10083۔