بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(12)
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ کُلُوۡا مِمَّا فِی الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ۫ۖ وَّ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۶۸﴾ اِنَّمَا یَاۡمُرُکُمۡ بِالسُّوۡٓءِ وَ الۡفَحۡشَآءِ وَ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ قَالُوۡا بَلۡ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلۡفَیۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَ لَوۡ کَانَ اٰبَآؤُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ شَیۡئًا وَّ لَا یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۷۰﴾
لوگو، (اپنے اِنھی پیشواؤں کے پیداکیے ہوئے توہمات کے تحت تم نے جو حلال و حرام ٹھیرائے ہیں، اُن کی کوئی حقیقت نہیں، اِس لیے) زمین کی چیزوں میں سے جو حلال و طیب ہیں، اُنھیں کھاؤ اور شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو۔ وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔ وہ تو یہی کرے گا کہ تمھیں برائی اوربے حیائی کی ترغیب دے اور اِس کی ترغیب دے کہ تم وہ باتیں اللہ کے نام لگاؤ جو تم نہیں جانتے۔ 168-169
اور جب اِنھیں دعوت دی جاتی ہے کہ (اپنی اِن باتوں کو چھوڑ کر) اُس چیز کی پیروی کرو جوا للہ
وَ مَثَلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا کَمَثَلِ الَّذِیۡ یَنۡعِقُ بِمَا لَا یَسۡمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً ؕ صُمٌّۢ بُکۡمٌ عُمۡیٌ فَہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۷۱﴾
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لِلّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ﴿۱۷۲﴾ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۷۳﴾
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ یَشۡتَرُوۡنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۙ اُولٰٓئِکَ مَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ لَا یُزَکِّیۡہِمۡ ۚۖ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۷۴﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالۡہُدٰی وَ الۡعَذَابَ بِالۡمَغۡفِرَۃِ ۚ فَمَاۤ اَصۡبَرَہُمۡ عَلَی النَّارِ ﴿۱۷۵﴾
نے اتاری ہے تو کہتے ہیں کہ نہیں، بلکہ ہم تو اُسی راہ پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو چلتے پایا ہے۔ کیا اُس صورت میں بھی کہ اگر اِن کے باپ دادوں نے نہ اپنی عقل سے کچھ کام لیا ہو اور نہ راہِ ہدایت پائی ہو؟170
اورحقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ جنھوں نے (اللہ کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے سے اِس طرح) انکار کر دیا ہے، اِن کی تمثیل ایسی ہے، جیسے کوئی شخص اُن چیزوں کو پکارے جو پکارنے اورچلانے کے سوا کچھ نہ سنتی ہوں۔ یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، اِس لیے یہ کچھ نہیں سمجھتے۔171
ایمان والو، (یہ اگر اپنی اِن بدعتوں کو نہیں چھوڑتے تو اِنھیں اِن کے حال پر چھوڑو، اور) جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمھیں عطا فرمائی ہیں، اُنھیں (بغیر کسی تردد کے) کھاؤ اور اللہ ہی کے شکرگزار بنو، اگر تم اُسی کی پرستش کرنے والے ہو۔ اُس نے تو تمھارے لیے صرف مردار اور خون اورسؤر کا گوشت اور غیراللہ کے نام کا ذبیحہ حرام ٹھیرایا ہے۔ اِس پر بھی جو مجبور ہو جائے، اِس طرح کہ نہ چاہنے والا ہو، نہ حد سے بڑھنے والا تو اُس پر کوئی گناہ نہیں۔ اللہ، یقیناً بخشنے والا ہے، وہ سراسر رحمت ہے۔172-173
(یہ اہل کتاب تو جانتے تھے کہ یہی حق ہے، لیکن اِنھوں نے اِسے چھپایا)۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اُس قانون کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اتارا ہے اور اُس کے بدلے میں (دنیا کی) بہت تھوڑی قیمت قبول کر لیتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں صرف دوزخ کی آگ بھرتے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ نہ اُن سے بات کرے گا، نہ اُنھیں پاکیزہ بنائے گا اور اُن کے لیے وہاں ایک دردناک عذاب مقرر ہے۔
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ نَزَّلَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِی الۡکِتٰبِ لَفِیۡ شِقَاقٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۱۷۶﴾
یہی لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت کے بدلے گم راہی اور مغفرت کے بدلے عذاب خریدا ہے۔ سویہ کتنے جری ہیں دوزخ کو برداشت کر لینے کے معاملےمیں!174-175
یہ اِس لیے ہو گا کہ اللہ نے اپنی یہ کتاب قولِ فیصل کے ساتھ اتاری ہے، مگر یہ لوگ جنھوں نے اِس کتاب کے معاملے میں اختلاف کیا ہے، یہ اپنی مخالفت میں بہت دور نکل گئے ہیں۔176