مواد پر جائیں

قرآن اور مروَّجہ مشیخت

محمد ذکوان ندوی اردو

]’’نقد و نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

شاہ محمد یعقوب مجددی (وفات: 1970ء) بھوپال کے ایک مشہورروحانی بزرگ اور مربی تھے۔اپنے وقت کے بہت سے مشاہیر اہل علم اُن سے وابستہ رہے ہیں۔ مثلاًمولانا عبدالشکور لکھنوی(وفات: 1962ء)، مولانا محمد منظور نعمانی (وفات: 1997ء)،مولا نا عمران خان ندوی ازہری (وفات: 1986ء)اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی(وفات: 1999ء)، وغیرہ۔

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے شیخ مجددی کی مجلس سے مستفاد ملفوظات کو ”صحبتے بااہل دل“کے نام سے شائع فرمایاہے۔ مولانا اِس کتاب میں رقم طراز ہیں کہ:میرے دریافت کرنے پر فرمایا:

”جوانی میں جب میں حیدر آباد میں تھا تو مشائخ کے یہاں تصوف کی کتا ہیں پڑھی پڑھائی جاتی تھیں۔ خاص طور پر فتوحات ِمکیہ اور فصوص الحکم کا بڑا دور رہتا تھا۔ اور مثنوی مولانا روم کا تو دن رات ورد تھا، وحدۃ الوجود کے نکتے بیان ہوتے تھے اور توحید ِوجودی کے بارے میں مو شگافیاں ہوتی تھیں، لیکن میری آنکھیں قرآن کی تفسیر اور حدیث کا درس ڈھو نڈتی تھیں۔ اور کان اُس کے سننے کے لیے بیتاب تھے۔ جی چاہتا تھا کہ کم سے کم ایک ہی آیت کی تفسیر اور ایک ہی حدیث کی تشریح ہوتی۔ لیکن اِن مجالس میں اِس کا کوئی ذکر نہ تھا۔ ذوق و شوق، وجد و حال، نعرہ و آہ کی کمی نہ تھی، مگر قرآن و حدیث کا سیدھا سادہ بیان مفقود تھا۔ وجہ یہ ہے کہ قرآن پیری و مشیخت کو توڑتا ہے اور سب کو بندگی اور انسانیت کی سطح پر اتارتا ہے۔ اور سارے استثناء ات و امتیازات کو ختم کر دیتا ہے۔ اِسی کا نتیجہ ہے کہ عرب کا بدو مجلس نبوی میں آتا ہے تو کسی قسم کے امتیازات ِمشیخت کا نشان نہ ہونے کی وجہ سے اُس کو پوچھنا پڑتا ہے کہ آپ میں سے خدا کا رسول کون ہے؟“(48)

اِسی طرح ایک مجلس میں فرمایا:

”قرآن مجید بزرگی اور مشیخت کی نفی کرتا ہے۔ وہ سب کو بندہ اور خدا کا محتاج ثابت کرتا ہے۔ وہ صاف اعلان کرتا ہے: ’یا ایہا النَّاسُ انتم الفقراءُ الی اللّٰہ، واللّٰہُ ہو الغنیُ الحمید‘ (فاطر 35: 15)، ’’اے لوگو! تم محتاج ہو اللہ کے، اور اللہ ہی ہے، بے نیاز، ستودہ صفات۔‘‘ اس لیے خانقاہوں میں قرآن مجید کے بجائے تصوف کی کتابیں پڑھی پڑھائی جاتی ہیں۔ اِن خانقاہوں میں کسی کو قُدوۃ السالکین، کسی کو زُبدۃ العارفین کا لقب دیا جاتا ہے اور کوئی مرشد کے قدم لیتا ہے۔ وہاں جب شعر پڑھے جاتے ہیں توساری مجلس جھوم پڑ تی ہے، مگر قرآن پر کسی کو وجد نہیں آتا۔“ (152)

خانقاہ کا ادارہ اپنی اصل کے اعتبار سے، ایک تربیت گاہ کی حیثیت رکھتا ہے اور مرشد ایک مربی کی، اور سچے مربی ومرشد اور استاذ کی ضرورت واہمیت اور اُن کا مقام واحترام بالکل مسلّم ہے۔ تاہم، جیساکہ ہر ادارہ اِس وقت زوال پذیر ہے، خانقاہ کا ادارہ بھی اِس سے مستثنیٰ نہیں۔یہاں بھی اب عام طورپر یا مجاور رہ گئے ہیں یا گورکن۔شاہ مجددی کے مذکورہ ملفوظات میں اِسی متصوفانہ قسم کی مشیخت پرتنقید کی گئی ہے۔ یہ غیرمطلوب قسم کی احباری اور رہبانی مشیخت بلاشبہ اسلام میں نہ صرف اجنبی ہے، بلکہ اُس میں تاریخ کو اصل دین اللہ (کتاب وسنت) سے مکمل طورپر بے گانہ کرکے ایک خود ساختہ ’تصورِ مذہبیت‘میں مبتلا اور روحِ دین وعمل سے دور صرف مستیِ احوال جیسے راستوں پر گام زن کردیاگیاہے۔