مواد پر جائیں

’جناب جاوید احمد غامدی کا تصورِ نظم‘ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد کے تنقیدی مضمون کاجائزہ

ڈاکٹر عرفان شہزاد اردو

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد نے غامدی صاحب کے تصور نظم پر ایک تنقیدی مضمون بہ عنوان ’’جناب جاوید احمد غامدی کا تصور نظم: ایک تنقیدی جائزہ‘‘لکھا ہے، جو تحقیقی جریدے، ایضاح، شمارہ جون 2024ء میں شائع ہوا ہے۔

ڈاکٹر مشتاق صاحب کا یہ مضمون تکنیکی خامی کا حامل ہے، اس لیے ان کا مقدمہ اور اس مرتب پر نقد، دونوں بے محل ہیں۔

غامدی صاحب کا تصور نظم کئی پہلو رکھتا ہے۔ سورتوں کا باہمی نظم ایک پہلو ہے اور جملے کی تالیف اور سیاق و سباق کی مدد سے آیت یا حکم کے مدعا کی تعیین یعنی تاویل واحد تک رسائی ایک دوسرا پہلو۔ اول الذکر علمی اور ادبی لطائف کی نوعیت کی چیز ہے، اس لیے وہاں کبھی قطعیت کا دعویٰ نہیں کیا جاتا، جب کہ آخر الذکر خالصتاً علمی اور لسانیاتی نوعیت کی چیز ہے، جہاں زبان و بیان کے مسلمہ معیارات پر انسانی فہم کی حد میں قطعیت کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے غامدی نظم قرآن کا پہلا پہلو لیا اور تاویل واحد کی تعیین قطعی کے حصول کے موقف پرنقد وارد کر دیا، جو کہ درست نہیں۔

غامدی صاحب کی کتاب ’’میزان‘‘ سے جو اقتباس انھوں نے شروع میں نقل کیا، وہ دو مختلف عبارتیں ہیں، جنھیں یکجا پیش کر دیا گیا ہے۔ ایک عبارت یہ کہتی ہے کہ نظم قرآن سے تاویل واحد کا حصول ممکن ہوتا ہے اور دوسری یہ بتاتی ہے کہ نظم قرآن ہی کی وجہ سے قرآن سورتوں کی صورت میں ہے، نہ کہ متفرق اقوال کی صورت میں۔ اس کے علاوہ ان سے کوئی ایسا مطلب نہیں نکلتا، جو ناقد کے مقدمے کی تائید کرتا ہو۔

وہ دو عبارتیں یہ ہیں:

’’وہ چیز جو قرآن کو برہان قاطع بناتی اور تاویل کے تمام اختلافات ختم کر کے امام فراہی کے الفاظ میں ’القرآن لا یحتمل إلا تأویلاً واحدًا‘ کی حقیقت اُس سے متعلق ثابت کر دیتی ہے، وہ تنہا نظم ہی ہے۔‘‘

قرآن کا یہی نظم ہے جس کی بنا پر اُس نے اپنے مخاطبین کو جب اپنے مانند کوئی کلام لانے کے لیے کہا تو متفرق آیات نہیں، بلکہ ایک یا ایک سے زیادہ سورتیں ہی پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے نقد کا اصل محل سیاق و سباق کے ذریعے سے تاویل واحد کے حصول پر نقد ہو سکتا تھا۔ اس نقطے پر وہ ایک لحظے کو آئے، مگر کوئی استدلال قائم نہیں کر پائے۔ یہی موقع تھا کہ کسی مثال سے وہ کوئی غلطی واضح کرتے۔ اس کے برعکس، وہ یہ حقیقت تسلیم کر کے آگے بڑھ گئے کہ سیاق و سباق سے استقرار معنی کے اصول سے کسی کو انکار نہیں۔ یہی اصول ہے جو فکر فراہی نے برتا ہے۔ اس میدان میں فکر فراہی کا کنٹری بیوشن یہ ہے کہ اس نے اسے ایک سائنس بنا کر پیش کر دیا ہے، اور اس پر زور دیا ہے کہ کسی آیت یا حکم کے بہ یک وقت ایک سے زائد مفاہیم نہیں لیے جا سکتے، ایک ہی مفہوم کی وجہ ترجیح قائم کرنا لازم ہے۔ نیز احادیث اور روایات کو اس کے تحت رکھ کر دیکھنا چاہیے۔ یہ اصولی موقف بھی فقہا کے ہاں کوئی اجنبی موقف نہیں۔ اصول فقہ میں یہ بہ طور اصول مسلم ہے۔

تعیینِ معنی کی اس سائنس کے باوجود اس امکان کا خاتمہ نہیں ہوتا کہ اختلاف فہم نہیں ہو سکتا، مگر اصول تفہیم کا اشتراک بہرحال رفع نزع میں معاون ہوتا اور قاری کے لیے اس کی روشنی میں ایک وجہ ترجیح قائم کرنا سہل بنا دیتا ہے۔

اس موقع پر ڈاکٹر صاحب نے جو اقتباس نقل کیا ہے، وہ غیر متعلق ہے۔ یہ سورتوں کے نظم سے متعلق ہے، اور ضمنًا مذکور ہے کہ سورتوں کے اندورنی نظم سے تعیین مدعا میں رہنمائی ملتی ہے۔

’’میزان‘‘ کا وہ اقتباس یہ ہے:

’’یہ قرآن کی ترتیب ہے۔ اِسے اگر تدبر کی نگاہ سے دیکھیے تو سورتوں کے پس منظر اور زمانۂ نزول کو سمجھنے اور قرآن کے مخاطبین، بلکہ بحیثیت مجموعی سورتوں کے موضوع اور مدعا کی تعیین میں بھی جو رہنمائی اِس سے قرآن کے طالب علم کو حاصل ہوتی ہے،وہ قرآن سے باہر کسی دوسرے ذریعے سے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی۔‘‘

یہاں تعیین مدعا میں رہنمائی کی بات کی گئی ہے، نہ کہ قطعیت سے تعیین معنی کے حصول کی۔ تعیین معنی کی قطعیت کا تعلق لفظ کے معنی، جملے کی تالیف اور سیاق و سباق سے ہوتا ہے، جس کی طرف بسا اوقات سورتوں کا نظم بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

سیاق و سباق سے متعلق ڈاکٹر صاحب نے سوال اٹھایا ہے کہ اس سے کیا مراد ہے اور اس کی وسعت کہاں تک ہے۔ یہ سوال اگر واضح نہیں تھا تو نقد سے پیش تر واضح ہونا ضروری تھا۔ سیاق و سباق سے مراد وہی معروف مفہوم ہے کہ زیر غور مقام کےآگے اور پیچھے کے مضمون کو تعیین معنی میں مد نظر رکھا جائے گا۔ سیاق و سباق کبھی خود آیت ہی میں موجود ہوتا ہے اور کبھی متصل آیات میں پھیلا ہوتا ہے۔ یہ عملی نوعیت کی چیزہے۔ ہر مربوط اس پہلو کو مد نظر رکھ کر پڑھا اور سمجھا جاتا ہے۔ رہی اس کی وسعت تو فکر فراہی نے اسے مبرہن کر کے پیش کردیا ہے۔یہ لفظ کے معنی کی تعیین سے لے کر سورتوں کے مرکزی مضمون کی نشان دہی، سورتوں کے باہمی ربط اور ان کی گروپنگ کی صورت میں منتج ہوئی ہے۔

ڈاکٹر صاحب کانتیجہ کہ غامدی صاحب کے اصول تفسیر سے قرآن مجید کے بیش تر احکام اپنے اولین مخاطبین تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں اور ’’گنتی کے چند احکام‘‘ ہی عمومی قرار پاتے ہیں، ان کے مقدمے کی تکنیکی خامی کے باوجود یہاں وارد نہیں ہوتا، اور امر واقعہ کے بھی خلاف ہے۔ یہ تعیین خطاب کے تخصیص احکام میں موثر ہونے کی بحث ہے، جو ڈاکٹر صاحب نے کی ہی نہیں۔ تاہم، غامدی صاحب کے ہاں ایساکوئی اصول نہیں کہ تعیین خطاب تخصیص حکم کے لیے موثر ہوتاہے، البتہ یہ ایک قرینہ فراہم کرتا ہے،مگر حکم کا مدار علت کی تعیین اور سیاق و سباق سے ہوتی ہے۔ نیز غامدی صاحب کے ہاں، ڈاکٹر صاحب کے زعم کے برعکس، گنتی کے چند احکام ہیں جو مخصوص قرار پاتے ہیں، جب کہ باقی تمام شریعت عمومیت کی حامل ہے۔ گنتی کے یہ چند احکام گنوائے جا سکتے ہیں، جو درج ذیل ہیں:

1۔ کسی قوم کے انکار اسلام کی پاداش میں ان سے قتال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اختصاص تھا، عام مسلمانوں کو اس کا حق نہیں۔ البتہ ظلم و عدوان کے خلاف جہاد عمومی فریضہ ہے۔

2۔رسول کے اتمام حجت کے بعد کفار سے تعلقات اور معاہدات کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ مسلمانوں کو کفار اور اہل کتاب سے دوستی کی ممانعت بائیکاٹ کے اسی خاص پس منظر سے متعلق تھی۔

3۔ مسلم اور غیر مسلم کی گواہی میں فرق بھی دور رسالت کا اختصاص تھا، اس کی وجہ وہی بائیکاٹ تھا۔

4۔مسلم اور غیر مسلم میاں بیوی میں تفریق کی وجہ بھی اتمام حجت کے بعد کا یہی بائیکاٹ تھا۔

5۔ وراثت کے احکام میں مسلم و غیر مسلم کی تفریق بھی اسی بائیکاٹ کا نتیجہ تھا۔

6۔ارتداد کے جرم میں موت کی سزا شریعت کا حکم نہیں۔ ارتداد درحقیقت کفر ہی تھا اور کفر کی سزا مشرکین کے لیے موت مقرر کی گئی تھی، جس کا حکم سورۂ توبہ میں دیا گیا تھا۔

7۔ وراثت میں ایک تہائی وصیت کی تحدید شریعت کا حکم نہیں۔ ایک تہائی کی وصیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک تجویز تھی،یہ بیان شریعت نہ تھا۔

8۔ عورت کی گواہی آدھی نہیں ہے۔ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر مالی معاملات میں ایک خاص صورت حال میں دی گئی ہدایت تھی۔

ان کے علاوہ شریعت کے تمام احکام اپنی علت کی بنا پر عام ہیں۔ غامدی صاحب کے احکام کی تخصیص و تعمیم کے معاملے میں وہی اصول کار فرما ہے جو فقہا کے ہاں بھی تسلیم ہے کہ احکام بالعلل ہوتے ہیں۔ تعیین علت اور اطلاقات میں اختلاف، البتہ ہوتا ہے اور اسے علمی پیراڈائم میں دیکھنا چاہیے۔

غامدی صاحب کے ہاں احکام کس طرح عمومیت پاتے ہیں، اس کی سنجیدہ تفہیم کے لیے ڈاکٹر عمار خان ناصر کی وقیع کتاب ’’قرآن و سنت کا باہمی تعلق‘‘ کا مطالعہ مفید ہے، جس میں غامدی صاحب کے علمی کنٹری بیوشن کو مسلمانوں کی علمی روایت میں رکھ کر دیکھنے کی قابل قدر کوشش کی گئی ہے۔

غامدی صاحب کی کتاب ’’میزان‘‘ پر ڈاکٹر عمار خان ناصر کا مقالہ ’’ میزان، توضیحی مطالعہ‘‘ بھی اس سلسلے میں مفید ثابت ہوگا۔