سورۂ احزاب میں ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو خطاب کرکے حجاب سے متعلق احکام دیے گئے ہیں۔ نیز عام خواتین کو بھی فتنہ کی حالت میں خصوصی اہتمام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان احکام کی تفہیم میں سورہ کے مضمون کو نظر انداز کرنے اور انھیں متفرق ہدایات سمجھنے کی وجہ سے انتہائی غیر متعلق تاویلات سامنے آجاتی ہیں، لیکن جیسے ہی پوری سورہ کے مضمون کو مد نظر رکھتے ہوئے، ایک مربوط کلام کی حیثیت سے، ان احکام کو سمجھا جاتا ہے تو مدعا بے غبار ہوکر سامنے آ جاتا ہے اور احکام کی حکمت بھی واضح ہوجاتی ہے۔ احکام حجاب اور نظم قرآن کے اسی باہمی تعلق کو اس مضمون میں واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس سے تفسیر قرآن میں نظم قرآن کی اہمیت کا بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی اور جاوید احمد صاحب غامدی کے نقطۂ نظر کامطالعہ پیش کیا گیا ہے۔
مولانا سید ابولاعلیٰ صاحب مودودی کی راے
مولانا مودودی اور بعض دیگر اہل علم احکام حجاب کو امت کی تمام عورتوں کے لیے عام سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو خطاب کرنے کی غرض صرف یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے اس پاکیزہ طریقۂ زندگی کی ابتدا ہوگی تو باقی سارے مسلمان گھرانوں کی خواتین خود اس کی تقلید کریں گی۔1 اسی بنیاد پر وہ یہ راے رکھتے ہیں کہ عورت کا اصل دائرۂ عمل اس کا گھر ہے، لہٰذا اس کو چاہیے کہ اسی دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے فرائض سر انجام دے۔2 نیز آیت جلباب (آیت 59) کے تحت وہ چہرہ کے پردہ کا استنباط کرتے ہوئے اسے ابدی حکم قرار دیتے ہیں۔3 ہماری طالب علمانہ راے میں احکام حجاب کی یہ تاویل سورہ کے مضمون کو نظر انداز کرنے اور احکام کو متفرق سمجھنے کا نتیجہ ہے۔
جاوید احمد صاحب غامدی کی راے
اس کے برعکس، جاوید احمد صاحب غامدی اور جمہور اہل علم ان احکام کو فتنہ کے مخصوص حالات کے تحت دیےگئے خصوصی احکام سمجھتے ہیں، جن کی مخاطب صرف ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ہیں اور امت کی عام عورتوں سے ان احکام کا کوئی تعلق نہیں ہے۔4 نیز ان کے نزدیک آیت جلباب (آیت 59) کا مدعا خواتین پر چہرے کے پردے کو لازم قرار دینا نہیں، بلکہ فتنہ کے ماحول میں شناخت قائم کرنے کی ایک وقتی تدبیر اختیار کرنا ہے تاکہ منافقین کے فتنوں سے بچا جا سکے۔5 ان کے مطابق،فتنہ سے بچنے کی ان خصوصی ہدایات کے برعکس، مرد و زن کے اختلاط کے عمومی آداب اصلاً سورۂ نور24 کی آیات 27 تا 31 میں بیان کئے گئے ہیں، جن کاسورۂ احزاب میں بیان کردہ ان خصوصی احکام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔6 غامدی صاحب نے پردہ کے موضوع پر بحث کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر سورۂ احزاب کے موضوع اور مضمون کو پیش نظر رکھا جائے تو ان احکام کی کسی صورت تعمیم نہیں کی جاسکتی۔7 اس طرح انھوں نے جمہور اہل علم کے نقطۂ نظر کی تائید میں نظم قرآن کے واضح قرینہ کو پیش فرمایا ہے۔ ذیل میں ان کے اسی نقطۂ نظر کی تفصیل پیش کی جائے گی۔
سورۂ احزاب کا موضوع اور مضمون
سورۂ احزاب پر تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورہ میں فتنہ کی اس صورت حال سے نمٹا گیا ہے جو منافقین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے پیدا کر رکھی تھی۔ منافقین کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے گھروں کو ہدف بنا لیا گیا تھا تاکہ ان کی اخلاقی ساکھ کو سوسائٹی میں مجروح کیا جا سکے۔ اس شیطانی مقصد کو پورا کرنے کے لیے منافقین نے ہر ممکن سازش کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی، جس کی تفصیل سورۂ نور میں بیان ہوئی ہے۔8 نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کے معاملے کو بھی شدید پروپیگنڈا کا ذریعہ بنالیا۔9 اور یہ پروپیگنڈا اتنا سخت تھا کہ اس کے اثر سے ہماری تفاسیر کی کتابیں بھی نہ بچ سکیں اور ان میں بھی موضوع اور باطل روایات نقل ہوگئی ہیں۔10 اس کے ساتھ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ کو ختم کرنے کے لیے منافقین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں، بیٹیوں اور صحابیات کو ہدف بنایا تاکہ کوئی اسکینڈل بنایا جا سکے۔ اگر ایسا کوئی جھوٹا اسکینڈل بن جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی ساکھ مجروح ہوجاتی اور دین کو اس سے ناقابل تلافی نقصان پہنچتا۔ یہ وہ صورت حال ہے جس سے سورۂ احزاب میں نمٹا جا رہا ہے اور اسی پس منظر میں وہ احکام دیے گئے ہیں جو یہاں زیر بحث ہیں۔
احکام حجاب کا موقع و محل
سورۂ احزاب کی آیت 28 سے احکام حجاب کی یہ ساری بحث شروع ہوتی ہے۔ اس آیت کو آیت تخییر بھی کہتے ہیں، کیونکہ اس میں ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو اختیار دیا گیا تھا کہ دنیا اور اس کی زینت یا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی ایک کو اختیار کرسکتی تھیں۔ علیحدگی کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو خوش اسلوبی سے رخصت کردیتے۔ اور اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اختیار فرمانے کا فیصلہ کرتیں تو ان کے لیے جزا وسزا کا قانون بھی ان کے منصب کی رعایت سے مقررہوتا۔ ارشاد فرمایا ہے:
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا وَ زِیۡنَتَہَا فَتَعَالَیۡنَ اُمَتِّعۡکُنَّ وَ اُسَرِّحۡکُنَّ سَرَاحًا جَمِیۡلًا. وَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡکُنَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا. یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنۡ یَّاۡتِ مِنۡکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفۡ لَہَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَیۡنِ ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا . وَ مَنۡ یَّقۡنُتۡ مِنۡکُنَّ لِلّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تَعۡمَلۡ صَالِحًا نُّؤۡتِہَاۤ اَجۡرَہَا مَرَّتَیۡنِ ۙ وَ اَعۡتَدۡنَا لَہَا رِزۡقًا کَرِیۡمًا.
(الاحزاب33: 28-31)
’’(اِس طرف سے مایوس ہو کر اب یہ منافقین تمھارے گھروں میں فتنے اٹھانا چاہتے ہیں، اِس لیے)، اے نبی، اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اُس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمھیں دے دلا کر خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دوں۔ اور اگر تم اللہ اور اُس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہو تو اِن سب چیزوں سے بے نیاز ہو کر اُسی کے لیے سرگرم رہو، اِس لیے کہ اللہ نے تم میں سے خوبی کے ساتھ نباہ کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔نبی کی بیویو، تم میں سے جو کسی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کرے گی، اُس کے لیے دہرا عذاب ہے اور یہ اللہ کے لیے آسان سی بات ہے۔ اور تم میں سے جو اللہ اور اُس کے رسول کی فرماں بردار بنی رہیں گی اور نیک عمل کریں گی، اُنھیں ہم اُن کا دہرا اجر عطا فرمائیں گےاور اُن کے لیے ہم نے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔‘‘11
سورہ کے تدریجی ارتقا اور مضمون پر تدبر کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان آیات کا مقصد فتنہ کی صورت حال سے نمٹنا تھا۔ منافقات ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتی تھیں۔ وہ ان کو یہ باور کراتیں کہ ان کا تعلق تواعلیٰ گھرانوں سے ہے، اس کے باوجود وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان مشکل حالات میں زندگی کیوں گزار رہی ہیں۔ اگر وہ چاہیں تو بہت سے اعلیٰ گھرانے کے افراد سے شادی کر سکتی ہیں۔ اس فضامیں ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی کا اختیار دینے کا مقصد منافقات کے اسی فتنہ کا خاتمہ تھا، کیونکہ ازواج مطہرات سے یہی امید تھی کہ وہ پیغمبر کی رفاقت کو اختیار فرمائیں گی اور اس طرح یہ فتنہ خود بہ خود دم توڑ دے گا۔ لہٰذا ایسا ہی ہوا اور تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔12
مولاناامین احسن اصلاحی ان آیات کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:13
’’ان آیات میں ازواج مطہرات پر دنیا طلبی کےجرم میں کوئی عتاب نہیں ہوا ہے، جیسا کہ لوگوں نے سمجھا ہے۔ بلکہ یہ اللہ ورسول کی طرف سے ان کو آزادی کا پروانہ دے کر ان کےاعلیٰ کردار کا مظاہرہ کرایا گیا تاکہ ان منافقین کے حوصلے ہمیشہ کے لیے پست ہوجائیں جو اس طمع خام میں مبتلا تھے کہ ازواج نبی کو دنیا کی کسی طمع کے پھندے میں پھنسا کر اپنی طرف مائل کیا جا سکتا ہے۔ اعلان تخیر کے بعد گویا ہر ایک کو حوصلہ آزمائی کا موقع دے دیا گیا، لیکن سب پر ثابت ہوگیا کہ اہل بیت رسالت کا انتخاب خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور اس حرم کے اندر کسی کے لیے کسی در اندازی کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘ (تدبر قرآن 6 /207-208)
پچھلی آیات سے واضح ہے کہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اختیار فرما کر عام خواتین نہیں رہی تھیں۔ لہٰذا انھیں ان کے منصب کی رعایت اور منافقین کی سازشوں سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی احکام دیے گئے۔ ارشاد فرمایا ہے:
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَیَطۡمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلۡبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا. وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ الۡاُوۡلٰی وَ اَقِمۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتِیۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ اَطِعۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا. وَ اذۡکُرۡنَ مَا یُتۡلٰی فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الۡحِکۡمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیۡفًا خَبِیۡرًا.
(الاحزاب 33: 32-34)
’’نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم خدا سے ڈرو تو (اِن لوگوں کے ساتھ) نرمی کا لہجہ اختیار نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے، وہ کسی طمع خام میں مبتلا ہو جائے اور معروف کے مطابق بات کرو۔ تم اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور اگلی جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔ اور نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت پر قائم رہو۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے، اِس گھر کی بیبیو کہ تم سے (وہ) گندگی دور کرے (جو یہ منافق تم پر تھوپنا چاہتے ہیں) اور تمھیں پوری طرح پاک کردے۔ اور تمھارے گھروں میں اللہ کی آیتوں اور اُس کی حکمت کی جو تعلیم دی جاتی ہے، اُس کا چرچا کرو۔ بے شک، اللہ بڑا ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے۔‘‘
پیچھے بیان کیا جا چکا ہے کہ ازواج مطہرات کو آیت تخییر میں یہ اختیار دیا گیا تھا کہ اگر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی اختیار کرکے عام خواتین کی طرح زندگی گزارنا چاہیں تو گزار سکتی ہیں۔ یہ اختیار دینا انصاف کے اعتبار سے نہایت ضروری تھا، کیونکہ ازواج مطہرات کی حیثیت سے ان پر کچھ ایسی پابندیاں عائد ہونے والی تھیں جو ان کی زندگی کو عام خواتین سے بالکل مختلف کر دیتیں۔ اس لیے ضروری تھا کہ اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں تو اپنی مرضی سے ان کی رفاقت اختیار فرمائیں، ورنہ خوش اسلوبی سے علیحدہ ہوجائیں۔ لہٰذا انھوں نے جب خوش دلی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اختیار کرلی تو ان پر واضح کردیا گیا کہ اب ان کی حیثیت عام خواتین جیسی نہیں ہوگی اور ان کے ساتھ جزا و سزا کا معاملہ بھی ان کے منصب کی رعایت سے طے کیا جائے گا۔
یہ حقائق واضح کرنے کے بعد ہی ان کو مندرجہ بالا ہدایات دی گئی ہیں، جن کی رو سے ان کے لیے ضروری تھا کہ اپنی تمام سرگرمیاں ختم کرکے اپنے گھروں میں ٹھہریں، عبادات میں مشغول رہیں اور اللہ کے دین کی تبلیغ کو اپنا مقصد زندگی بنا لیں۔ ان پر واضح کردیا گیا کہ انھوں نے اب پیغمبر کی ازواج کی حیثیت سے گھروں میں رہ کر منافقین کی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہے اور صرف دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری ادا کرنی ہے تاکہ منافقین ان پر کوئی اخلاقی نجاست نہ لگاسکیں۔ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو جب گھروں میں ٹک کر رہنے کا حکم دیا گیا تو اس کا مقصود یہی تھا کہ عام خواتین نے تو گھر وں سے باہر بھی نکلنا ہےاور اس وقت کی معاشرت کے حساب سے اپنے معاملات بھی انجام دینے ہیں، لیکن ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے ان کے منصب اور حالات کے لحاظ سے اپنے گھروں میں مستقل سکونت اختیار کرنا ہی بہتر ہے۔
غامدی صاحب ’ وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ ‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’یہ ہدایت بھی اُسی منصب اور اُس کی ذمہ داریوں کے لحاظ سے ہے جو ازواج مطہرات کو حاصل تھا کہ اُنھیں زمانۂ جاہلیت میں بڑے لوگوں کی بیگمات کے طریقے پر اپنی زیب و زینت کی نمایش کرتے ہوئے باہر نہیں نکلنا چاہیے، بلکہ جو حالات اُنھیں درپیش ہیں، اُن میں باہر نکلنے ہی سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اِس لیے کہ منافقین شب و روز اِسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ وہ اُن سے متعلق کوئی اسکینڈل پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ عام عورتوں کے ساتھ اِس ہدایت کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ اپنے حالات اور اپنی ضرورتوں کے لحاظ سے اُس زمانے میں بھی، جہاں چاہیں، جا سکتی تھیں اور اب بھی جا سکتی ہیں۔ اجنبیوں کے سامنے زیب و زینت کی نمایش، البتہ اُن کے لیے بھی ممنوع ہے، اِس لیے کہ سورۂ نور میں اللہ تعالیٰ نے اِس کی ہدایت اُنھیں الگ فرما دی ہے۔ یہاں اتنی بات مزید واضح ہوئی کہ اجنبی مردوں کے سامنے زیب و زینت کی نمایش جاہلیت کا طریقہ ہے، اِس کا اسلامی تہذیب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘
(البیان 4/131-132)
[باقی]
- 1۔تفہیم القرآن 4/88۔
- 2۔تفہیم القرآن 4/90۔
- 3۔ تفہیم القرآن 4/129۔
- 4۔ البیان 4/131-132،160۔
- 5۔ البیان 4/163۔
- 6۔ میزان 464-465۔
- 7۔23 اعتراضات سیریز، موضوع : پردہ۔
- 8۔ النور 24: 11-26۔
- 9۔ الاحزاب 33: 37۔
- 10۔ ضیاءالقرآن 4/59-64۔
- 11۔ اس مقالہ میں قرآن مجید کی تمام آیات کا ترجمہ استاذ گرامی جاوید احمد غامدی کے ترجمۂ قرآن ’’البیان‘‘ سے لیا گیا ہے۔
- 12۔تفسیر القرآن العظیم، ابن کثیر 3/628۔
- 13۔ مولانا اصلاحی نے اس باب میں پیش کردہ شان نزول کی روایات پر نقد کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’ہمارے مفسرین نے ان آیات کا پس منظر یہ بتایا ہے کہ فتح خیبر کے بعد جب مسلمانوں کو فی الجملہ معاشی کشادگی حاصل ہوئی تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے بھی آپ سے مطالبہ کیا کہ ان کو بھی زندگی کی راحتوں اور زینتوں سے متمتع ہونے کا موقع دیا جائے۔ ان کے اس مطالبہ پر بہ طور عتاب یہ آیات نازل ہوئیں۔ ہمارے نزدیک کئی پہلوؤں سے یہ بات نہایت کمزور ہے۔ اول تو قرینہ دلیل ہے کہ یہاں جن حالات پر تبصرہ ہو رہا ہے وہ ہجرت کے چوتھے یا پانچویں سال سے تعلق رکھنے والے ہیں، اور غزوۂ خندق اور بنو قریظہ کے حالات زیربحث آئے ہیں، آگے حضرت زید رضی اللہ عنہ اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ ان تمام واقعات کا تعلق 5 ھ سے ہے۔ خیبر ابھی فتح نہیں ہوا تھا۔ اوپر آیت 27 کے الفاظ ’وَأَرْضًا لَّمْ تَطَئُوۡہَا‘ کے تحت خود مفسرین ہی نے یہ تصریح کی ہے کہ یہ فتح خیبر کی پیشگی بشارت ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ مطالبہ اگر مجرد نان نفقہ میں فی الجملہ توسیع کے لیے تھا تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جس پر ان کو یہ نوٹس دے دیا جائے کہ ان کو دے دلا کر ہمیشہ کے لیے رخصت کر دیا جائے۔ اس طرح کی بات پر اول تو کسی تنبیہ کی سزاوار ہی نہیں تھیں اور اگر تھیں بھی تو زیادہ سے زیادہ اس نصیحت کی مستحق تھیں کہ نبی کی معیت مطلوب ہے تو انھیں صبر و قناعت کی زندگی اختیار کرنی پڑے گی۔ تیسرا یہ کہ امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے متعلق یہ سوء ظن نہیں کیا جا سکتا کہ ان پر دنیا کی راحتوں اور زینتوں کا شوق کسی دور میں بھی اتنا غالب آ گیا ہو کہ وہ اس کا مطالبہ لے کر اٹھ کھڑی ہوئی ہوں اور معاملہ اتنا سنگین ہو گیا ہو کہ خود اللہ تعالیٰ کو اس میں مداخلت کرنی پڑی ہو اور نوبت اس نوٹس تک پہنچ گئی ہو جو ان آیات میں ان کو دیا گیا۔ بہرحال یہ شان نزول ہمارے نزدیک قابل توجہ نہیں ہے۔ نہ آیت کے الفاظ سے اس کی تائید ہوتی ہے، نہ وقت کے حالات سے۔‘‘ (تدبر قرآن 6/205-206)