مواد پر جائیں

وادیِ کشمیر

جاوید احمد غامدی اردو

اب یہاں رنگ بہاراں ہے جوانوں کا لہو

سرخ رو ہیں وادیِ کشمیر میں کوہ و دمن

سر برہنہ بیٹیوں کے پیرہن بکھرے ہوئے

مرثیہ خواں ہر در و دیوار پر مرغِ چمن

موسمِ گل زرد پتوں کی ردا پہنے ہوئے

ڈھونڈتا ہے دخترِ گل مرگ کا عہدِ شباب

آبجوؤں کا ترنم نوحۂ غم کی صدا

سرفگندہ وادیوں میں آبشاروں کے رباب

چھوڑ جاتی ہے اِدھر بھی وادیِ نیلم کی رات

ہر طرف بارود گولوں کی تباہی کے نشاں

ہند کے اربابِ دانش اب بھی سنتے ہوں اگر

آگ میں جھلسے ہوئے معصوم بچوں کی فغاں

پوچھیے اُن سے کہ جمہوری سیاست ہے یہی!

عہدِ حاضر میں بھی آزادی کی قیمت ہے یہی!

گفتگو: محمد حسن الیاس

سوالات: نجم سہروردی