سورہ کے مضمون سے واضح ہے کہ منافقین اس کے بعد بھی باز نہیں آئے۔ لہٰذا پہلے مرحلے میں ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو بلا ضرورت گھر سے باہر جانے سے روکا گیا اور دوسرے مرحلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں عام لوگوں کے آنے پر بھی پابندی لگادی گئی۔ نیز اگر کسی خاص وجہ سے عام افراد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں آنا پڑتا ہے تو اس کے بھی آداب مقرر کردیے گئے۔اس صورت میں صراحت فرما دی گئی کہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے اگر کچھ مانگنا ہو تو لازم ہے کہ پردہ کے پیچھے سے مانگا جائے۔ یہ قاعدہ بھی مقرر کردیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص ازواج مطہرات سے نکاح نہیں کر سکتا اور ان کو امہات المومنین کی حیثیت دے دی گئی۔ازواج مطہرات کے جذبۂ ایثار کو سراہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پابند کردیا گیا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو طلاق دےکر ان کی جگہ کوئی دوسری بیوی نہیں لا سکتے۔ ارشاد فرمایا ہے:
لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعۡدُ وَ لَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَکَ حُسۡنُہُنَّ اِلَّا مَا مَلَکَتۡ یَمِیۡنُکَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ رَّقِیۡبًا. یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنۡ یُّؤۡذَنَ لَکُمۡ اِلٰی طَعَامٍ غَیۡرَ نٰظِرِیۡنَ اِنٰىہُ ۙ وَ لٰکِنۡ اِذَا دُعِیۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡا فَاِذَا طَعِمۡتُمۡ فَانۡتَشِرُوۡا وَ لَا مُسۡتَاۡنِسِیۡنَ لِحَدِیۡثٍ ؕ اِنَّ ذٰلِکُمۡ کَانَ یُؤۡذِی النَّبِیَّ فَیَسۡتَحۡیٖ مِنۡکُمۡ ۫ وَ اللّٰہُ لَا یَسۡتَحۡیٖ مِنَ الۡحَقِّ ؕ وَ اِذَا سَاَلۡتُمُوۡہُنَّ مَتَاعًا فَسۡـَٔلُوۡہُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ؕ ذٰلِکُمۡ اَطۡہَرُ لِقُلُوۡبِکُمۡ وَ قُلُوۡبِہِنَّ ؕ….
(الاحزاب 33: 53-52)
’’اِن کے بعد اب دوسری عورتیں تمھارے لیے جائز نہیں ہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ اِن کی جگہ اور بیویاں لے آؤ، اگرچہ اُن کا حسن تمھیں کتنا ہی پسند ہو۔ تمھاری لونڈیاں، البتہ مستثنیٰ ہیں۔ اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔)یہ منافقین اپنی شرارتوں سے باز نہیں آرہے، اِس لیے) ایمان والو، تم اب نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو، الاّ یہ کہ تم کو کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے، تب بھی اِس طرح کہ اُس کی تیاری کے منتظر نہ رہو۔ ہاں جب تم کو بلایا جائے تو (وقت کے وقت) داخل ہو، پھر جب کھانا کھا لو تو منتشر ہو جاؤ اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہو۔ اِس سے پیغمبر کو اذیت ہوتی ہے، مگر وہ تمھارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ حق بات کہنے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔ اور تمھیں جب نبی کی بیویوں سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔ یہ تمھارے دلوں کے لیے بھی زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے اور اُن کے دلوں کے لیے بھی…‘‘
یہی پاکیزگی اور تزکیہ دین کا مقصود ہے،1 جس کا ان آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔تاہم اس مقصد کے حصول میں احوال کے اختلاف سے بعض اوقات خصوصی پابندیاں بھی عائد کردی جاتی ہیں۔ ازواج مطہرات کے معاملہ میں بھی یہی ہوا ہے۔ ان کو امت کی مائیں قرار دے دیا گیا تھااور یہ فطرت پر مبنی حکم نہیں تھا، بلکہ ایک عقلی حکم تھا۔ اس حکم کا لازمی تقاضا تھا کہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن تمام امت کو بہ منزلۂ اولاد سمجھیں اور تمام مسلمان بھی ان کے لیے اپنے دلوں میں وہی پاکیزہ جذبات رکھیں جو وہ اپنی سگی ماؤں کے لیے رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے معاملے میں سخت پابندیاں عائد کی گئیں کہ اگر ان سے کچھ مانگنا بھی ہو تو بھی پردے کے پیچھے سے مانگا جائے تاکہ مسلمانوں کے دلوں میں ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے بارے میں پاکیزگی اور عقیدت کے عقلی جذبات کو فطری جذبات کی طرح جاگزیں کیا جا سکے، یعنی ایک خصوصی درجے کی طہارت اور پاکیزگی اس سلسلے میں ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اور مسلمان امت سے مطلوب تھی، جس کا عام مسلمان مرد و عورتوں کے معاملات میں تقاضا نہیں کیا گیا ہے۔
ابن عاشور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو دیے گئے حکم حجاب کی حکمتوں کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ووَراءَ هَذِهِ الحِكَمِ كُلِّها حِكْمَةٌ أُخْرى سامِيَةٌ وهي زِيادَةُ تَقْرِيرِ أُمُومَتِهِنَّ لِلْمُؤْمِنِينَ في قُلُوبِ المُؤْمِنِينَ الَّتِي هي أُمُومَةٌ جَعْلِيَّةٌ شَرْعِيَّةٌ. بِحَيْثُ إنَّ ذَلِكَ المَعْنى الجَعْلِيَّ الرُّوحِيَّ وهو كَوْنُهُنَّ أُمَّهُاتِ المُؤْمِنِينَ يَرْتَدُّ ويَنْعَكِسُ إلى باطِنِ النَّفْسِ وتَنْقَطِعُ عَنْهُ الصُّوَرُ الذّاتِيَّةُ وهِيَ كُونُهُنَّ فُلانَةً أوْ فُلانَةً فَيُصْبِحْنَ غَيْرَ مُتَصَوِّراتٍ إلّا بِعُنْوانِ الأُمُومَةِ فَلا يَزالُ ذَلِكَ المَعْنى الرُّوحِيُّ يُنْمِي في النُّفُوسِ، ولا تَزالُ الصُّورَةُ الحِسِّيَّةُ تَتَضاءَلُ مِنَ القُوَّةِ المُدْرَكَةِ حَتّى يُصْبِحَ مَعْنى أُمَّهاتِ المُؤْمِنِينَ مَعْنًى قَرِيبًا في النُّفُوسِ مِن حَقائِقِ المُجَرَّداتِ كالمَلائِكَةِ، وهَذِهِ حِكْمَةٌ مِن حِكَمِ الحِجابِ الَّذِي سَنَّهُ النّاسُ لِمُلُوكِهِمْ في القِدَمِ لِيَكُونَ ذَلِكَ أدْخَلَ لِطاعَتِهِمْ في نُفُوسِ الرَّعِيَّةِ.
(التحریر والتنویر 22 / 91)
’’مذکورہ تمام حکمتوں کے علاوہ ایک اور بڑی اعلیٰ حکمت یہ ملحوظ تھی کہ مسلمانوں کے دلوں میں ازواج نبی کے ماں ہونے کے تصور کو راسخ کردیا جائے، جو دراصل شریعت کا قائم کردہ ایک مصنوعی رشتہ تھا۔ مقصود یہ تھا کہ ازواج نبی کے امہات ہونے کا تصور لوگوں کے دلوں میں رچ بس جائے اور وہ ازواج کو ان کی انفرادی شخصیت کے لحاظ سے دیکھنے کے بجاے کہ وہ فلاں اور فلاں ہیں، صرف اس نظر سے دیکھیں کہ وہ ان کی ماں ہیں۔ یوں یہ روحانی رشتہ دلوں میں مضبوط ہوتا چلا جائے اور ازواج کی حسی شکل وصورت لوگوں کے ذہنوں میں دھندلی ہوتی چلی جائے تا آنکہ ان کے دلوں میں امہات المومنین کا تصور اسی طرح ایک مجرد قسم کا تصور بن جائے، جس طرح فرشتوں کا ہوتا ہے۔ یہی حکمت حجاب کی اس قدیم رسم میں بھی ملحوظ ہے جو لوگوں نے اپنے بادشاہوں کے لیے مقرر کی تھی تاکہ ان کی رعیت کے دلوں میں ان کی اطاعت کا جذبہ زیادہ جاگزیں ہو جائے۔‘‘2
اس کے بعدکی آیات سے واضح ہے کہ یہ منافقین ہی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے نکاح کرنے کے خواہش مند تھے۔قرآن نے تدریجاً اس پورے مضمون کو جو آیت تخیر سے شروع ہوا تھا، ان آیات میں کھول کر واضح کردیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَ مَا کَانَ لَکُمۡ اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَنۡ تَنۡکِحُوۡۤا اَزۡوَاجَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖۤ اَبَدًا ؕ اِنَّ ذٰلِکُمۡ کَانَ عِنۡدَ اللّٰہِ عَظِیۡمًا. اِنۡ تُبۡدُوۡا شَیۡئًا اَوۡ تُخۡفُوۡہُ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا. لَا جُنَاحَ عَلَیۡہِنَّ فِیۡۤ اٰبَآئِہِنَّ وَ لَاۤ اَبۡنَآئِہِنَّ وَ لَاۤ اِخۡوَانِہِنَّ وَ لَاۤ اَبۡنَآءِ اِخۡوَانِہِنَّ وَ لَاۤ اَبۡنَآءِ اَخَوٰتِہِنَّ وَ لَا نِسَآئِہِنَّ وَ لَا مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ ۚ وَ اتَّقِیۡنَ اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدًا.
(الاحزاب 33: 55-35)
’’ تمھارے لیے جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ اُس کے بعد تم اُس کی بیویوں سے کبھی نکاح کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑی سنگین بات ہے۔ تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اُس کو چھپاؤ، اللہ کے لیے برابر ہے، اِس لیے کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ نبی کی بیویوں پر اپنے باپوں کے سامنے ہونے میں، البتہ کوئی گناہ نہیں ہے اور نہ اپنے بیٹوں کے، نہ اپنے بھائیوں کے، نہ اپنے بھتیجوں کے، نہ اپنے بھانجوں کے، نہ اپنے میل جول کی عورتوں کے اور نہ اپنے غلاموں کے سامنے ہونے میں کوئی گناہ ہے۔ تم اللہ سے ڈرتی رہو، (بیبیو)۔ بے شک،اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں عام افراد کےداخلے کی ممانعت کو بیان کرتے ہوئے غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’ مطلب یہ ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں اب یہی لوگ بے تکلفی کے ساتھ داخل ہو سکیں گے یا جو اِن کے حکم میں ہوں گے۔ باقی سب لوگوں کے لیے آپ کی بیویاں اب حجاب میں رہیں گی۔ پیغمبر کے دشمنوں اور منافقین نے جو صورت حال پیدا کر دی ہے، اُس میں یہ پابندی ضروری ہے اور یہ پوری خدا ترسی اور تقویٰ کے ساتھ ہونی چاہیے، اِس سے محض خانہ پری مقصود نہیں ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ لوگوں سے حجاب میں رہنے کا یہ حکم ایک خصوصی حکم ہے جو منافقین کی پیدا کردہ ایک خاص صورت حال میں اُن کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو دیا گیا تاکہ پیغمبر کا گھرانا کسی اسکینڈل کی زد میں نہ آجائے۔ اِس کا عام عورتوں اور عام حالات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘(البیان 4/160)
ایسے حالات میں جب منافقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے گھرانے کو ہدف بنا رہے تھے، مسلمانوں کو ہدایت کی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں اور ان پر رحمتوں کے نزول کی دعا فرمائیں۔ اس کے ساتھ منافقین کو دردناک عذاب کی وعید سنائی اور یہ بھی واضح فرمادیا کہ یہ منافقین صرف پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کو نہیں، بلکہ عام مسلمانوں کو بھی ہدف بنا کر ان پر تہمتیں لگا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آگے جو حکم دیا ہے، اس میں ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے ساتھ عام مسلمان خواتین کو بھی شامل کرلیا ہے۔ تاہم، ازواج مطہرات جیسے خطرات کا ان کو سامنا نہیں تھا، اس لیے پیچھے جو احکام دیے گئے ہیں، اس میں انھیں شامل نہیں کیا گیا۔ 3 ارشاد فرمایا ہے:
اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا. اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا مُّہِیۡنًا. وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا.
(الاحزاب 33: 58-56)
’’(یہ منافقین نہیں جانتے)۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ اور اُس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیج رہے ہیں۔ ایمان والو، (تمھارے لیے بھی صحیح رویہ یہ ہے کہ) تم بھی اُن پر درود و سلام بھیجو۔ اللہ اور اُس کے رسول کو جو لوگ اذیت پہنچا رہے ہیں، اُن پر اللہ نے دنیا اور آخرت، دونوں میں لعنت کر دی ہے اور اُن کے لیے اُس نے رسوا کر دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور جو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو (اِسی طرح اُن پر تہمتیں لگا کر)، بغیر اِس کے کہ اُنھوں نے کچھ کیا ہو، اذیت دے رہے ہیں، اُنھیں بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اُنھوں نے بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر لے لیا ہے۔‘‘
[ باقی]
- ۔ الشمس 91: 7-10۔
- 2۔ابن عاشور کی تحریر کا ترجمہ ڈاکٹر عمار خان ناصر کے مضمون ’’قرآن مجید میں مرد و زن کے احکام‘‘ کی قسط نمبر 6 سے لیا گیا ہے، جس کا تفصیلی حوالہ مقالہ کے آخر میں درج ہے۔
- 3۔ البیان 4/162