مواد پر جائیں

حیات ِامین

نعیم احمد بلوچ اردو

(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)

(13)

]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق

ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [

مولانا اصلاحی پٹھان کوٹ اکیلے گئے تھے۔ ان پر مولانا مودودی پہلے ہی یہ واضح کر چکے تھے کہ انھیں اپنے بچوں کو بھی یہاں لانا پڑے گا۔ اور وہ ان کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے بھی وعدہ کر چکے تھے کہ ان کے بارے میں آپ کو مُتردد ہونے کی ضرورت نہیں۔ لیکن یہ انتظام کیسے ہو گا، اس کا مولانا اصلاحی کو کوئی خاص اندازہ نہیں تھا۔ اب جب اس ’’ انتظام‘‘ کے راز سے مولانا مودودی نے پردہ اٹھایا تو مولانا اصلاحی باقاعدہ پریشان ہو گئے۔ ان کے اپنے الفاظ میں :

’’یہاں آ گیا تو ان لوگوں نے شادی کا ڈول ڈالنا شروع کر دیا …سمجھ گئے آ پ ؟ اور بتایا گیا کہ یہ کام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ میں نے اس کا بہت شدت سے انکار کیا۔‘‘

’’اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے خاندان میں رواج نہیں ہے کہ کسی شخص کی بیوی مر جائے اوراس کے بچے ہوں تو وہ شادی کرے۔ یہ رواج بالکل نہیں تھا۔ ہمارے خاندان میں اس کو لوگ بہت برا سمجھتے تھے۔ اور میرے معاملے میں یہ بھی تھا۔ یہ سمجھا جا رہا تھا کہ بچوں کی پھوپھیاں ہیں،وہ بچوں کو بہلا لیں گی۔ اس لیے بچوں کے لیے شادی کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘

مولانا اصلاحی کی دوسری شادی

مولانا یہ کہا کرتے تھے کہ ہمارے خاندان میں اُس علاقے کے راجپوتوں کی روایات بہت مضبوط تھیں۔ مشترکہ خاندان اور اپنی برادری ہی میں شادی، اس معاشرت کی بہت پختہ اقدار سمجھی جاتی تھیں۔ اور ان پر ابھی اسلامی تعلیمات نے کوئی زیادہ اثر نہیں ڈالا تھا۔ لیکن مولانا مودودی اس حوالے سے بھی مولانا اصلاحی پر اثر انداز ہوئے۔

مولانا مودودی نے اپنے مخصوص منطقی انداز میں مولانا اصلاحی کے اس استدلال پر زور دار تنقید کی اور بالکل بجا طور پر کہا کہ یہ بالکل غلط ہے۔ پھوپھیاں چند دن تک آپ کی مدد کر سکتی ہیں، یعنی آخر ان کی شادیاں ہونی ہیں اور انھوں نے اپنے گھر جانا ہے۔ ان پر کیسے تکیہ کیا جا سکتا ہے۔ بچوں کا معاملہ اتنا آسان نہیں ہوتا۔ ان کی تعلیم و تربیت کا تقاضا ہے کہ وہ یہاں آپ کے ساتھ رہیں۔ وہاں دیہات میں ویسے بھی ان کی تعلیم کے وسائل بہت کم ہیں۔

مولانا اصلاحی تسلیم کرتے ہیں کہ ’’ تب میں نے محسوس کیا کہ میں نے بچوں کے معاملے کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیا۔‘‘

لیکن جو سادہ اور فطری طریقہ مولانا مودودی تجویز کر رہے تھے، اس کے لیے مولانا اصلاحی ذہنی طور پر تیار نہیں تھے۔ مولانا اپنا احساس بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وقتی طور پر میں نے یہ خیال کیا کہ پٹھان کوٹ لاکر انھوں نے مجھے شادی کے لیے پھانسنے کی کوشش کی ہے۔ مگر جب انھوں نے اس پر غور کیا تو وہ قائل ہوگئے کہ یہی مناسب ترین طریقہ ہے۔ یہ میرے لیے خیر خواہی کا مشورہ ہے، لیکن اس فیصلے کی بعض عملی مشکلات تھیں۔ ان کے بیٹے ماں کی وفات کے بعد اپنی پھوپھیوں سے مانوس ہو چکے تھے۔ انھیں ان سے الگ کرنا بہت نامناسب لگ رہا تھا۔ پھر دوسری شادی نہ کرنے کے لیے خاندان اور برادری کا دباؤ ایک اور رکاوٹ تھی، جسے انھیں عبور کرنا تھا۔

تب انھوں نے اپنے والد گرامی کو خط لکھا۔ انھوں نے مولانا مودودی کی ساری تجویز لکھ دی۔ یہ بھی لکھ دیا کہ مولانا اس شادی کے بارے میں یہ راے رکھتے ہیں کہ یہ دین کے لیے ہورہی ہے۔ اس لیے ہمیں امید کرنی چاہیے کہ اس میں خیر ہی برآمد ہو گا۔ جس خاتون سے شادی کی تجویز دی جا رہی تھی، ان کے بارے میں بھی تفصیل بیان کر دی کہ وہ ایک متمول زمیں دار پنجابی گھرانا ہے۔ میرے لیے ایک مناسب گھر کا بھی بندوبست ہے۔ اپنے تحفظات بھی لکھ دیے کہ میری مالی حیثیت ان سے کم تر ہے۔ میرا مزاج بھی گرم ہے اور خاتون بھی نازو نعم میں پلی ہیں، اس لیے نباہ نہ ہونے کا بھی خطرہ ہے اور اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ بچے اپنی سوتیلی والدہ سے مانوس نہ ہوئے تو پھر مسائل سلجھنے کے بجاے مزید الجھ سکتے ہیں۔ مولانا کا خیال تھا کہ ان کے والد یقیناً اس شادی کی اجازت نہیں دیں گے اور اس طرح ان کے پاس یہ عذر ہو گا کہ وہ والد کی حکم عدولی نہیں کر سکتے، لیکن ہوا یہ کہ ان کے والدصاحب نے انھیں لکھا کہ یہ تو کوئی ربانی اسکیم لگ رہی ہے، اس لیے یہ شادی ضرور کریں۔

ایک کامیاب شادی

اپنی اس شادی پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا کہتے ہیں :

’’ میں نے یہ شادی کرنے کی کسی درجے میں بھی خواہش نہیں کی تھی، کسی درجے میں بھی خواہش نہیں کی، کسی درجے میں بھی خواہش نہیں کی، لیکن جب ہو گئی تو اس کو پوری خوش اسلوبی کے ساتھ نبھانے کی کوشش کی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس میں کامیاب کر دیا۔ یہ بھی ہے کہ اس میں مجھے بیوی کا تعاون بھی حاصل تھا اور میں نے اپنے مزاج میں بھی بڑی تبدیلی کی۔ رویے میں نرمی اور سعادت مندی پیدا کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اس قسم کی بیوی سے تعلقات رکھنا چاہتا تھا جو اپنی ایک خاص شخصیت رکھتی ہوں۔ (اس کے بر عکس اس زمانے میں) ہمارے ہاں کی جو بیویاں ہوتی تھیں، وہ تو سمجھ لیجیے کہ بس اپنی ہی دنیا میں مست رہتی تھیں۔ معلوم ہوتا تھا کہ میاں بیوی دو مستقل الگ الگ ذہن رکھتے ہیں۔ ان میں کوئی ہم آہنگی نہیں۔ بیویوں نے صرف اور صرف ’’ سمع وطاعت‘‘ ہی کرنی ہے۔ یہ ایک بالکل غیر فطری بات ہے۔ محض سمع و طاعت میں دوسرے کی شخصیت ختم ہو جاتی ہے، جب کہ ادھر معا ملہ الگ تھا۔ ادھر وہ پنجاب کی تھیں اور وہ بھی ایک چودھری کی لڑکی۔ اب مزاج میں فرق تو تھا … لیکن یہ مجھے خوشی ہے کہ ان کے پورے خاندان نے میرے ساتھ محبت کی۔ (مولانا کے سسر )چودھری عبدالرحمٰن صاحب میرے اوپر بہت اعتماد بھی کرتے تھے۔‘‘

اس فیصلے کے نتیجے میں مولانا کے بچے پٹھان کوٹ آگئے، لیکن ایک بدمزگی اس وقت پیدا ہوئی جب ان کے بیٹے ابو سعد نے واپس اپنے ننھیالی گاؤں جانے کا فیصلہ کیا۔ مولانا کو یہ فیصلہ پسند نہیں تھا، لیکن انھوں نے اس میں رکاوٹ بھی پیدا نہیں کی۔ البتہ وہ اس وقت کبیدہ خاطر ہوئے جب ابو سعد نے اپنے چھوٹے بھائی ابو صالح کو بھی ساتھ جانے کے لیے تیار کر لیا۔ لیکن ان کی بیٹی اپنی سوتیلی والدہ محترمہ انوار الرحمت سے مانوس ہوچکی تھیں، اس لیے وہ وہیں ٹھہر گئیں۔

مولانا اصلاحی کے اپنے سسرالی رشتے داروں سے بہت محبت کے تعلقات رہے۔اپنے اس تعلق کو خوشی سے بیان بھی کرتے کہ ان کی خواہر نسبتی محترمہ نثار فاطمہ ان سے بہت مانوس ہو گئیں اور وہ اپنی شادی تک ان کے ہم راہ ہی رہیں۔

جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کا دفاع

اس سے پہلے یہ بیان ہو چکا ہے کہ مولانا اصلاحی مولانا منظور نعمانی ہی کے اصرار پر جماعت اسلامی میں شامل ہوئے تھے،لیکن جلد ہی انھیں ایک حیرت انگیز معاملے کا سامنا کرنا پڑا۔ ہوا یہ کہ مولانا منظور نعمانی اور مولانا ابو الحسن ندوی جماعت اسلامی سے علیحدہ ہو گئے۔ مولانا منظور نعمانی نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ مولانا مودودی تقویٰ اور اسلامی شعار کے اس طرح سے پابند نہیں ہیں، جیسا کہ ان کے نزدیک ایک اسلامی تحریک کے سربراہ کو ہونا چاہیے۔ اب یہ مولانا اصلاحی کے لیے بڑا حیران کن امر تھا۔ جیسا کہ یہ بیان ہو چکا ہے کہ وہ خود بھی اپنے مزاج کے خلاف اور مولانا مودودی کی علمی استعداد پر غیر مطمئن ہونے کے باوجود جماعت میں شامل ہوئے تھے، لیکن اب مولانا نعمانی ان کو جماعت میں شامل کرانے کے بعد پیچھے ہٹ رہے تھے۔ خود مولانا منظور نعمانی کے الفاظ میں :

’’یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ میرے سامنے اس وقت یہ مسئلہ نہیں تھا کہ مولانا مودودی امارت کے اہل نہیں ہیں، لہٰذا انھیں امارت سے الگ ہو جانا چاہیے یا یہ کہ مولانا مودودی کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے جماعت کی شرکت اور رکنیت اب جائز نہیں رہی ہے، بلکہ میرے سامنے اصل مسئلہ اس وقت صرف اپنی ذات سے متعلق یہ تھا کہ میں مولانا کے بارے میں بارہا ایک شہادت دے چکا ہوں( بلکہ مولانا نعمانی ہی نے جماعت کے تاسیسی اجلاس میں امارت کے منصب کے لیے مولانا مودودی کا نام پیش کیا تھا۔ ) اور اب مجھے معلوم ہوا کہ میری وہ شہادت صحیح اور واقعہ کے مطابق نہیں تھی۔ ایسی حالت میں اگر میں بدستور جماعت کا رکن رہتا ہوں تو گویا اپنے عمل سے مسلسل وہ شہادت دیتا ہوں جو میرے علم میں سچی شہادت نہیں ہے۔ بس یہ تھی میری اصل مشکل جس کا کوئی حل میری سمجھ میں نہیں آیا اور میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکا۔ اس کے علاوہ بعض اور چیزیں بھی اس احساس میں شامل ہو گئی تھیں، لیکن وہ اس درجہ کی نہیں تھیں۔ سب سے اہم اور بنیادی چیز یہی تھی۔‘‘

( مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سرگذشت، مولانا منظور نعمانی 65)

جماعت اسلامی، مولانا مودودی، علماے دیوبند اور مولانا اصلاحی، ان سب کے لیے تاریخ کا یہ باب ہمارے نزدیک بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے ان بزرگوں کے درمیان اختلاف کا اصل سَرِ رِشْتَہ معلوم ہوتا ہے اور دبستان شبلی کے علما کا روایتی علما سے اختلاف کی اصل جڑ معلوم ہوتی ہے، ا س لیے مناسب ہے کہ اس کا ایک مبسوط طریقے سے اجمالی جائزہ لیا جائے۔

مولانا منظور نعمانی کی توقعات

معلوم رہے کہ مولانا منظور نعمانی اور مولانا ابوالحسن علی ندوی کا تعلق دیوبند مکتبۂ فکر سے تھا۔ وہ بنیادی طور پر ائمۂ اربعہ کی تقلید کو ایمان کی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتے تھے اور ان ائمہ کی آرا سے باہر کسی بھی راے کو اختیار کرنا درست نہیں سمجھتے تھے۔ اسی طرح وہ تصوف کی پوری روایت کے اندر کھڑے ہوکر اُسی دینی تعبیر کو درست سمجھتے تھے جو تصوف کے اہل علم نے اختیار کی تھی۔ اسی طرح دین کے سیاسی غلبے کے لیے سید احمد شہید کی تحریک کو اختیار کرنا چاہتے تھے، جب کہ دبستان شبلی کے علما، یعنی مولانا اصلاحی اور مولانا مودودی اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی کی تقلید کو درست نہیں سمجھتے تھے۔ اسی طرح وہ تصوف کی دینی تعبیر کو بھی درست نہیں گردانتے تھے اور تجدید واحیاءِ دین کی جدوجہد میں بھی اپنا ایک خاص نقطۂ نظر رکھتے تھے۔

جب مولانا مودودی نے اپنے جریدے ’’ترجمان القرآن‘‘ کے ذ ریعے سے مسلمانوں کے سیاسی و ملی زوال پر بڑے دردمندانہ علمی اور دانش وارانہ مضامین لکھے تو ہر باشعور مسلمان نے اسے اپنے دل کی آواز سمجھا اور وہ ان کی طرف کھچے چلے آئے۔ مولانا منظور نعمانی، مولانا علی میاں، مولانا اصلاحی جیسے بیسیوں اہل علم ان کی ایسی ہی تحریروں سے بے پناہ متاثر تھے۔ یہ بر صغیر میں جنگ عظیم دوم کا دور تھا۔ اس دور کا درست اور مستقبل بیں ادراک رکھنے والے کئی اہل علم اور دانش ور جان چکے تھے کہ برصغیر پر برطانیہ عظمیٰ کا تسلط اب قائم نہیں رہ سکے گا اور ہندستان کا کوئی دوسرا سیاسی بندوبست ناگزیر ہے۔چنانچہ کانگریس نے ہندستان چھوڑ دو کی تحریک برپا کر رکھی تھی۔ اس وقت برصغیر کے مسلمان دو گروہوں میں تقسیم ہو چکے تھے: ایک گروہ کانگرس کی راے کا قائل تھا اور دوسرا مسلم لیگ کا۔ ان حالات میں مولانا مودودی نے بہ تدریج ایک تیسرے گروہ کی طرح ڈالی۔ 1940ء کے بعد وہ اصولی طور پر مسلم لیگ کے تقسیم ہند کے نقطۂ نظر کو درست سمجھتے تھے، لیکن مسلم لیگ کی قیادت کے بارے میں انھیں یقین ہو چکا تھا کہ وہ نا اہل اور غیر مناسب ہے۔ اسے وہ منزل حاصل نہیں ہو سکے گی جس کا خواب وہ مسلمانوں کو دکھا رہی ہے۔ چنانچہ مولانا مودودی نے جماعت اسلامی قائم کرکے متبادل قیادت کے لیے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔ اور ساتھ ہی اسلامی معاشرے کی تربیت اور سیاسی بالا دستی کے لیے اپنے لائحۂ عمل کے کچھ اجمالی نکات بھی بیان کر دیے۔ یہاں تک درد دل رکھنے والے مٹھی بھر عام و خاص ان سے متفق تھے، مگر جب جماعت اسلامی بن گئی اور باہمی ربط و ضبط استوار ہوا، مکالمے اور باہمی تبادلۂ خیال ہوا تو بہت سارے اختلافات سامنے آگئے۔ جذباتی فضا ختم ہو گئی اور سوچنے سمجھنے والے لوگوں، خاص طور پر اہل علم و دانش کے سامنے بہت سے سوال کھڑے ہو گئے … ابتدا ہی میں جماعت اسلامی سے علیحدہ ہونے والے اہل علم کا پس منظر یہی تھا۔ اسی پس منظر میں ہم مولانا منظور نعمانی کے خیالات نقل کرتے ہیں، جس سے ہمیں صورت حال کو سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی:

’’مولانا مودودی سے پہلی ملاقات : ابھی تک سارا تعلق غائبانہ تھا۔ ( اس سے اوپر مولانا نعمانی تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ وہ مولانا مودودی کی ’’ترجمان القرآن‘‘ میں شائع ہونے والی تحریروں سے کس درجے میں متاثر تھے۔ )ملاقات کی کبھی نوبت نہیں آئی تھی۔ میں نے ان سے ملاقات اور مستقبل کےمنصوبے اور کام کے بارے میں گفتگو کرنے کے لیے دہلی کا سفر کیا۔ میں یہ بات سن چکا تھا کہ مولانا مودودی صاحب کے ایمان افروز مضامین سے ان کے طرز زندگی کے بارے میں جو اندازہ کوئی لگا سکتا ہے، ان کی زندگی اس سے بہت مختلف ہے۔ چنانچہ ایک محترم بزرگ نے لکھا تھا کہ اب مودودی صاحب کے چہرے پر ایمان کی کھیتی اُگنا شروع ہو گئی ہے۔ مجھے اس اطلاع سے بڑی خوشی ہوئی تھی۔ بہرحال میں مولانا سے ملنے کے لیے دہلی پہنچا۔ … شمسی کاٹج پہنچ کر ملاقات کی۔ واقعہ یہ ہے کہ پہلی دفعہ مولانا کو دیکھ کر طبیعت کو ایک دھچکا سا لگا کیونکہ اب بھی مولانا کی ہیئت اس سے بہت مختلف تھی جو ہونی چاہیے تھی۔ اور جس کی توقع پیدا ہو گئی تھی، وہ اس وقت ’مَحلُوقُ اللِحیَہ‘( ڈاڑھی کے بغیر ) تو نہیں تھے، لیکن اس لحاظ سے ان میں بس براے نام ہی تبدیلی آئی تھی۔مگر چونکہ مولانا کے مضامین سے میں بہت متاثر تھا … جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہ واقعہ 1937ء کا ہے، جب ’’ترجمان القرآن‘‘ میں چار پانچ برس سے مولانا کے وہ ایمان افروز مضامین شائع ہو رہے تھے جنھوں نے ہم جیسے کو ان کا گرویدہ و عاشق بنا دیا تھا اور میرا تصور ان کے بارے میں وہی تھا جو دین کے کسی داعی کے بارے میں ہونا چاہیے اور ان کے ساتھ ایک خاص قلبی تعلق پیدا ہو گیا تھا، اس لیے دل کو سمجھایا کہ عملی زندگی کی اصلاح کا بھی آغاز ہوا ہے۔ ان شاءاللہ آیندہ یہ حالت نہیں رہے گی اور ان کی زندگی اور تحریر میں جو مطابقت ہونی چاہیے، وہ ان شاءاللہ ہو جائے گی۔ آیندہ کام کے بارے میں اس ملاقات میں کسی قدر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس کے کئی مہینے بعد وہ وقت آیا، جب مولانا حیدرآباد سے منتقل ہو کر پٹھان کوٹ کے قریب دارالاسلام نامی اس نو تعمیر بستی میں آگئے جس کو وہاں ایک مخلص صاحب خیر چودھری نیاز علی صاحب نے اسی نیت سے بنایا اور وقف کیا تھا کہ اللہ کے کچھ بندے یہاں قیام کر کے دین کی کوئی ٹھوس خدمت سرانجام دیں گے۔‘‘

( مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سرگذشت، مولانا منظور نعمانی 65)

یاد رہے کہ فقہ حنفی کی مطابق ایک مشت سے کم ڈاڑھی کا ہونا فسق کی علامت ہے اور فاسق کی نماز میں امامت مکروہ ہے۔ اور یہاں مولانا مودودی پوری ایک اسلامی جماعت کی تاسیس کرنے اور اس کی امامت کرنے جارہے تھے۔

اس کے بعد مولانا نعمانی اپنی ان کوششوں کا ذکر کرتے ہیں جن میں انھوں نے مولانا مودودی سے بعض کاموں کا بہ طور خاص وعدہ لیا کہ وہ ان کا اہتمام کریں گے۔ ایک تو انھوں نے ان سے کم از کم مشت بھر ڈاڑھی رکھنے کا وعدہ لیا اور پھر ان سے ’’ انگریزی فیشن‘‘ کے بال کٹوانے کی فرمایش کی۔ مولانا کو علمی طور پر انھوں نے قائل بھی کرنے کی کوشش کی، لیکن مولانا مودودی اگر چہ اس مسئلے کو ’’قابل غور‘‘ ہی قرار دے سکے، لیکن انھوں نے اس پر عمل کرنے کا وعدہ ضرور کر لیا اور اس کے لیے ’’ مہلت‘‘ بھی مانگی۔ یاد رہے کہ اس طرح کے تمام معاملات حلیے ہی تک محدود تھے اور ابھی دینی اصولوں کی تعبیر اور اسلام کے فکر وفلسفے کی شرح و وضاحت تک نوبت نہیں آئی تھی۔ مولانا نعمانی نے اس میں مولانا اصلاحی کا بھی ذکر کیا ہے کہ انھوں نے ان کو بھی اس جانب توجہ دلائی کہ وہ مولانا مودودی کو ان چیزوں کا خیال رکھنےکے لیے اپنا اثرو رسوخ بھی استعمال کریں۔ مولانا اصلاحی کی بعض باتوں سے اس کی جزوی تصدیق بھی ہوتی ہے۔ اس حوالے سے مولانا نعمانی لکھتے ہیں :

’’مولانا اصلاحی اس وقت تک جماعت کے رکن بن چکے تھے۔ انھوں نے مجھ سے کہا :بھائی صاف بات یہ ہے کہ میں مودودی صاحب کو نہیں جانتا، تمھیں جانتا ہوں۔ اگر مودودی صاحب کل کو کسی غلط راستے پر چل پڑے تو میں خدا کے سامنے تمھیں پکڑ کے پیش کروں گا کہ ان سے پوچھیے، میرے ذمہ دار بھی یہی ہیں۔ لیکن یہ گفتگو کچھ اس طرح سے تھی کہ میں نے اس کو ایک طرح کا مزاح ہی سمجھا۔ البتہ میں نے اس موقع پر انہیں یہ بتا دینا ضروری سمجھا کہ مودودی صاحب کے بارے میں میرا خیال اور اندازہ کیا ہے مجھے یاد آتا ہے کہ اس وقت میں نے ان سے کہا تھا کہ اصل بات یہ ہے کہ اس دعوت اور اس کام کے لیے جیسا قائد چاہیے مودودی صاحب ویسے تو نہیں ہیں لیکن اگر ان کے ساتھ دو چار آدمی ایسے مل جائیں جو ان کسروں کو پورا کر لیا کریں گے جو ان میں ہیں تو انشاءاللہ کچھ کام چل جائے گا۔ ‘‘(53-52)

لیکن آگے چل کر وہ واقعہ پیش آیا جس نے مولانا نعمانی کے بہ قول انھیں ’’ جھنجھوڑ‘‘ کر رکھ دیا۔ یہ واقعہ انھی کی زبانی سنتے ہیں :

’’وہ واقعہ جس نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا :جس دن راقم دارالاسلام پہنچا تھا، اس کے اگلے ہی دن کسی نماز کے بعد مسجد ہی میں مولانا مودودی صاحب نے موجودہ رفقا کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کسی اسلامی بستی کے لیے ایک مختسب بھی ضروری ہے اور میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ یہ ذمہ داری آپ لیں۔ میں نے کہا کہ ابھی تو چند ہی آدمی ہیں۔ ایسے میں کسی مختسب کی کیا ضرورت ہے۔مولانا نے فرمایا کہ اس کی بنیاد ابھی سے پڑنی چاہیے۔ بہرحال مجھے مختسب بنا دیا گیا۔ اور یہ بات بھی اسی مجلس میں ذکر میں آگئی کہ میری یہ ذمہ داری ہے کہ اس پر نگاہ رکھوں کہ ہمارے اس دائرہ میں کوئی بات شریعت کے خلاف نہ ہو۔ میرے قیام پر دو چار ہی دن گزرے ہوں گے کہ غالباً کسی رفیقِ جماعت کے ذریعے سے میرے علم میں یہ بات آئی کہ مولانا کا باورچی جو جوان العمر تھا، زنان خانے میں کھانا پکاتا ہے اور اس سے پردہ نہیں ہے اور یہ کہ دارالاسلام کے مقیم رفقا پر اس کا اثر برا پڑ رہا ہے۔ پہلے تو میرے دل و دماغ اس پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ میں سوچتا تھا کہ ایسے کیسے ہو سکتا ہے ؟ مولانا کی کتاب ’’پردہ‘‘ اس سے بہت پہلے شائع ہو چکی تھی، لیکن بالآخر معلوم ہو گیا کہ واقعہ یہی ہے۔ اس واقعے نے مجھے ہلاکر کے اور جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ غالباً اس کی وجہ یہ بھی ہو گی کہ اب تک جس ماحول میں میری زندگی گزری تھی، اُس میں اِس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ کسی بھی درجے کے تقوے اور دین دار زندگی کے ساتھ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ جماعت کے دستور میں صف اول کے ارکان کے بارے میں لکھا ہوا تھا کہ ان لوگوں کے لیے احکام ِشریعہ کی پابندی کے معاملے میں کوئی رعایت نہ ہوگی۔ ان کو مسلمانوں کی زندگی کا پورا نمونہ پیش کرنا ہوگا اور ان کے لیے رخصت کے بجاے عَزِیمَت کا طریقہ ہی قانون ہوگا۔ دستور میں امیر کے لیے جو صفات ضروری قرار دی گئی تھیں، ان میں علمِ دین میں بصیرت اور اصابت راے سے پہلے تقویٰ کا ذکر تھا۔‘‘

[باقی]