مواد پر جائیں

امام شافعی اوران کا تجدیدی کارنامہ

غطریف شہباز ندوی اردو

[150 ھ – 204 ھ]

(1)

زندگی ہرآن متحرک اورتغیرپذیرہے۔ وہ رواں دواں اورسدابہارجوان ہے۔ بہ قول اقبال

جاوداں، پیہم رواں ہردم جواں ہے زندگی

اللہ تعالیٰ نے دنیاکے لیے جس دین کوپسندکیااوربندوں کوجس کا مکلف بنایاہے، وہ ابدی حقائق پر مشتمل ہے۔ اس کے عقائدومسلمات کو خلودعطاکیاگیاہے، مگرساتھ ہی وہ بھی زندگی سے بھرا اور حرکت و نشاط سے معمورہے۔ ’’یہ دین چونکہ آخری اورعالمگیر دین ہے اوریہ امت آخری اور عالمگیر امت ہے۔ اس لیے یہ بالکل قدرتی بات ہے کہ دنیاکے مختلف انسانوں اور مختلف زمانوں سے اس امت کا واسطہ رہے گا… اس امت کوجوزمانہ دیاگیاہے وہ سب سے زیادہ پر از تغیرات اورپر از انقلابات ہے ‘‘۔1 مولانا سیدابوالحسن علی حسنی ندوی کے بہ قول زمان ومکان کی تبدیلیوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے دو انتظامات فرمائے ہیں: ایک یہ کہ اس کی تعلیم جامع وکامل اورزندہ ہے اوردوسرے اس دین کو ہر دور میں ایسے زندہ رجال ِکارعطاہوتے رہے ہیں جو اس کی تجدیدکرتے ہیں۔ امام شافعی بھی ایسے ہی رجال اللہ اورمجددین اسلام میں سے ہیں جو اپنے تعلق باللہ، زبان دانی، اخلاص وللّٰہیت، قانونی فہم، علمی انہماک، قوت حفظ، فہم قرآن و حدیث اورخدمت دین میں ممتازہیں۔

اسلام کی تاریخ میں ائمۂ اربعہ کا ظہورایک معجزہ تھا، جن میں امام ثالث حضرت امام شافعی کا امتیاز یہ ہے کہ وہ افقہ الامہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ اورامام دار الہجرت امام مالک کے بعدآئے اور دونوں کے مدرسہ ہاے فکراورمناہج فقہ کی خوبیوں کے جامع ہوئے۔ انھوں نے دونوں ہی مکاتب فکرسے خوشہ چینی کی۔ ان کے علاوہ انھوں نے تقریباً 19شیوخ سے علم اخذکیا، جن میں فقیہ الشام امام اوزاعی کے شاگرد عمر بن ابی سلمہ اورفقیہ مصرلیث بن سعدکے شاگرد یحییٰ بن حسان سے ان کی فقہ اخذ کی۔ وہ امام لیث کی فقاہت سے بہت متاثر ہوئے، یہاں تک کہ انھوں نے کہاکہ ’اللیث افقہ من مالک الاان اصحابہ لم یقوموابہ ‘، (لیث مالک سے بڑے فقیہ ہیں، مگران کے شاگردوں نے ان کواٹھایانہیں۔)2 شافعی کے شیوخ میں یمنی، کوفی، بصری،مکی اور بغدادی استادوں کے نام بھی آتے ہیں۔ امام مالک کے سامنے تو ان کو بہ نفس نفیس زانوے تلمذ تہ کرنے کا شرف ملا۔ فقہِ حجاز یامدرسۃ الحدیث سے استفادہ کے بعدوہ عراق گئے، جہاں مدرسۂ کوفہ یامدرسۃ اہل الراے3 کے قریب آئے اورانھوں نے فقہ حنفی کے محررامام محمد بن الحسن سے کسب فیض کیا۔ یوں وہ حدیث وفقہ، دونوں کے جامع بنے اوراپنی شاداب عقل، زرخیز دماغ، بحث واستدلال اور کلام ومنطق کی زبر دست اور خدا داد صلاحیتوں کے باعث دونوں ہی سابق فقہوں سے اپنی الگ راہ نکالی اورتیسرے مذہب ِفقہ (مسلک )کے بانی وموسس ہوئے۔

سوانح زندگی

نام محمدوالدکا نام ادریس بن عباس بن عثمان بن شافع تھا، نسبی تعلق قریش کے بنو عبد المطلب سے تھا، عبدمناف میں آکر حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا نسب مل جاتاہے۔ فلسطین کے شہر غزہ میں سنہ 150ہجری میں پیداہوئے۔ خداکی شان ہے کہ اسی دن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کی وفات ہوئی تھی۔ شافعی کے والدکا سایہ بچپن میں ہی سرسے اٹھ گیا، ان کی تمام تر پرورش والدہ نے کی۔ جب دوسال کے ہوئے تووالدہ محترمہ ان کولے کران کے گھروالوں کے پاس مکہ آگئیں۔ عسرت، یتیمی وتنگ دستی کے باوجودخاندانی وقارکی حفاظت اوراعلیٰ اخلاق پر تعلیم و تربیت ہوئی۔ امام شافعی کو غیرمعمولی ذہانت، جفا کشی، دور اندیشی کے ساتھ ہی غضب کا حافظہ عطاہواتھا۔ جلدہی شعروادب میں بھی طاق ہوگئے کہ مدتوں تک مکہ سے دورصحرا میں بنوہذیل کے درمیان رہ کرعربی لغت، محاورے اورفصاحت وبلاغت سیکھی تھی، ساتھ ہی تیر اندازی میں بھی حذاقت تامہ حاصل کر لی۔ بنوہذیل کے ہاں سے واپس آکرمکہ کے علما کے پاس قرآن حفظ کیا اور حدیث و فتویٰ کی تعلیم حاصل کی۔ ان کے استادمسلم بن خالدزنجی نے ان کی قابلیت کی شہادت دیتے ہوئے فرمایا:

’’اے ابوعبداللہ، اب تم فتویٰ دو، کیونکہ فتویٰ دینے کے اہل ہوچکے ہو۔ ‘‘4

مگرشافعی کوابھی علمی تشنگی کا احساس تھا، چنانچہ انھوں نے اما م مالک کے درس حدیث اوران کی کتاب ’’موطا‘‘ کا شہرہ سنا تو مدینہ کی راہ لی۔ والیِ مکہ نے ان کے لیے ایک سفارشی خط امام مالک کی خدمت میں لکھ دیاتھا، مگر امام مالک کی خدمت میں حاضری دینے سے پہلے ہی مکہ کے کسی عالم سے ’’موطا‘‘ لے کر پوری پڑھ لی، بلکہ حفظ کرلی تھی۔ اس کے بعدمدینہ حضرت امام مالک کی خدمت میں حاضرہوئے۔ جس کا حال یوں لکھاہے:

’’میں صبح سویرے امام مالک کی خدمت میں پہنچ گیااورموطازبانی پڑھنی شروع کردی حالاں کہ کتاب میرے ہاتھ میں تھی، امام صاحب سننے لگے، جب مجھے خیال آیاکہ امام مالک تھک گئے ہوں گے تومیں نے قراءت روکنی چاہی، مگرحضرت امام کومیری قرا ءت ِ موطااتنی پسندآئی تھی کہ انھوں نے فرمایا: اے نوجوان اورپڑھ، چنانچہ یوں میں نے چنددنوں میں پوری موطا ان کو سنائی اور ختم کرلی۔‘‘5

اس کے بعدشافعی فقہ وحدیث میں امام مالک سے مستفیدہونے لگے، یہاں تک کہ اصحاب ِ مالک میں شمارہونے لگے اوران کی وفات( 179ھ )تک ان کے سرچشمۂ علم سے سیراب ہوتے رہے۔

پھریمن کے گورنرشافعی کواپنے ساتھ لے گئے اورعلاقۂ نجران کا قاضی مقررکردیا۔ جہاں آپ پوری جرأت، عدل وانصاف اورخوف ِخداکے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے لگے، تاہم اس گورنرکے بعض عمال ومقربین کی زیادتیوں پر کھلی اورشدیدتنقیدنے اس کوآپ سے ناراض کردیا۔ وہ چاہتاتھاکہ احسان کے بدلے آپ اس کی رعایت کریں اورکاسہ لیسی سے کام لیں۔ بے چارے نے آپ کودنیاکے عام لوگوں پرقیاس کیاہوگا۔ بہرحال، اس نے آپ سے یوں انتقام لیاکہ خلیفہ کی خدمت میں آپ کی شکایت لکھ بھیجی کہ یہاں کئی علوی لوگ ہیں اورایک قریشی نوجوان ان کا حمایتی ہے۔ یہ لوگ خلافت پرخروج کا ارادہ رکھتے ہیں اورمیرے قابومیں نہیں آ رہے۔ عباسی خلیفہ ہارون الرشیدنے ان سب لوگوں کواپنے دربارمیں بغدادبلابھیجا۔ امام شافعی علویوں سے محبت رکھتے تھے، مگران پربغاوت کا الزام بالکل غلط تھا۔ ان علویوں کوخلیفہ نے سزادی، مگر اپنی باری آنے پر امام صاحب نے اپنی طلاقت لسانی اورزوربیان کے بل پر اپنے کیس کی وکالت کی اور خلیفہ کے قاضی امام محمدبن الحسن تلمیذ رشیدابوحنیفہ کی سفارش پر چھوڑدیے گئے۔ یہیں سے وہ امام محمدکے رابطہ میں آئے اور انھوں نے امام محمدکے علم وتفقہ سے فیض اٹھایا، ان سے مذاکرے کیے اورعراقی مکتب فکراوراس کے منہج سے براہ راست واقفیت حاصل کی۔ یہاں سے فارغ ہو کر شافعی مکہ گئے، جہاں انھوں نے حرم مکی میں نوسال تک درس دیا۔ امام احمدبن حنبل نے مکہ ہی میں ان کے آگے زانوے تلمذتہ کیاہے اورجب195 ھ میں شافعی دوبارہ بغداد آئے تو امام احمدنے ان کا بڑا اعزاز کیا۔ بغداد کے اس سفرمیں انھوں نے فقہ مالکی اورفقہ حنفی سے الگ اپنی فقہی آرا کا اظہار شروع کیا اوربغدادکے علما و فقہا سے ان کے مذاکرے ہوئے۔ بغداد میں انھوں نے جو فتوے دیے، انھی کو فقہ شافعی میں ’قول قدیم‘ کہاجاتاہے۔ مصربھی اس وقت اہل علم کا مرکز تھا، جہاں امام مالک کے بہت سے تلامذہ استادکی فقہ کوعام کررہے تھے، مصرہی میں امام لیث بن سعد تھے، جن سے شافعی کی مراسلت ہوئی تھی۔ 199ھ میں شافعی مصرگئے، جہاں انھوں نے اپنا فقہی مذہب باقاعدہ قائم کیا، وہاں ان کوبہت سے تلامذہ میسرآئے۔ مصرمیں انھوں نے اپنے بہت سے خیالات کی تنقیح کی اور بہت سی سابق آرا سے رجوع کیااورنئی راے پر فتوے دیے، جن کو ’قولِ جدید‘ کہا جاتاہے۔ 204ھ میں مصرکے اندرہی شافعی کی وفات بھی ہوئی۔ جس کے مختلف اسباب بتائے جاتے ہیں۔6 ان کے تلامذہ بویطی، سلیمان بن الربیع وغیرہ نے مصرمیں ان کے مسائل و فتاویٰ کو مدون کیا اور یہیں سے شافعی مسلک کی عالم اسلام کے مختلف خطوں میں اشاعت ہوئی۔

[باقی]

خیال و خامہ

  1. ۔ مولاناسیدابوالحسن علی ندوی، تاریخ دعوت وعزیمت، حصہ اول، مجلس تحقیقات ونشریات اسلام، لکھنؤ، 1992، ص 18۔
  2. ۔ الامام محمدابوزہرہ، الشافعی حیاتہ وعصرہ فقہہ وآرا، طبع ثانی دارالفکرالعربی 1978، ص 47۔
  3. ۔ اہل الراے اوراہل الحدیث محض تغلیباًہے۔ راے سے مرادہے کہ قرآن وحدیث میں اگرکسی مسئلہ میں صریح حکم نہیں مل رہاہے تو اجتہادکیاجائے، جیساکہ فقہاے عراق کرتے تھے، مگرایسی صورت حال میں فقہاے حجاز اجتہادکارحجان کم رکھتے تھے۔ تاہم ایسانہیں ہے کہ مدرسۃ اہل الراے یعنی مدرسۂ کوفہ حدیث کوچھوڑکرراے پرعمل کرتاتھا اورنہ ہی یہ مطلب ہے کہ مدرسۃ اہل الحدیث میں راے اورتفقہ سے کام ہی نہیں لیا جا تا تھا۔ فرق صرف کم وبیش کا ہے اوران دونوں ہی رجحانوں کی دلیل اسوۂ نبوی میں ملتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اہل الراے اوراہل الحدیث کا استعمال تغلیباً ہوتاہے اوردومختلف مناہج فکرکوبتانے کے لیے ہوتاہے۔ اور یہاں اہل الحدیث سے مرادہمارے زمانہ کافرقہ اہل حدیث توہرگز مرادنہیں ہے، جس پر ظاہریت کی چھاپ اورآج کل ائمۂ فقہ اورخاص کرفقہ حنفی سے عداوت کا غلبہ ہے۔
  4. ۔ الامام محمدابوزہرہ، الشافعی حیاتہ وعصرہ فقہہ وآرا، طبع ثانی دارالفکرالعربی 1978 اوراجتباء ندوی، تاریخ فکراسلامی، المرکزالعلمی، نئی دہلی، 1998۔
  5. ۔ حوالۂ سابق، اور اجتباء ندوی، تاریخ فکراسلامی، المرکزالعلمی، نئی دہلی، 1998۔
  6. ۔ مشہورقول کے مطابق بواسیرکے مرض سے بہ عمر 54سال امام شافعی کی وفات ہوئی اور ’’معجم یاقوت‘‘ کی روایت کے مطابق کسی فتیان نامی متعصب مالکی شخص سے ان کا مناظرہ ہوا، جس میں شافعی نے اس کو لا جواب کر دیا۔ اس نے امام صاحب سے بدسلوکی کی، جس کی شکایت کسی نے جاکر والی مصرسے کر دی، جس پراس نے فتیان کوسزا دلائی۔ جذبۂ انتقام میں اس کے ساتھی امام صاحب کے حلقہ میں پہنچ گئے اور جب آپ کے سب تلامذہ اوراصحاب چلے گئے توآپ پرحملہ کر دیا۔ ان کے زدوکوب کرنے سے آپ زخمی ہوگئے، جن کی تاب نہ لاکرچنددن بعدانتقال فرماگئے۔ (الامام محمدابوزہرہ، الشافعی 32)