[المیۂ کوسووا پر لکھی گئی]
اِس شاخ پہ کژدم ہیں تو اُس شاخ پہ اژدر
بیٹھے ہیں کہ محرومِ نشیمن ہوں پرندے
باقی ہے کوئی داد نہ فریاد کی صورت
بستی میں نکل آئے ہیں جنگل سے درندے
اترے ہیں جہنم سے کہ ماؤں نے جنے ہیں
یہ سرب ہیں یا روم کے جلاد سپاہی
انساں ہیں کہ صحرا میں شبِ تار کی وحشت
آدم ہیں کہ ابلیس کے چہرے کی سیاہی
غرناطہ و بغداد میں پہلے بھی، مسلماں
دیکھی ہے یہی جرمِ ضعیفی کی مکافات
افلاک بھی سنتے نہیں بے ہمتِ مرداں
ہو ضربِ کلیمی تو اتر سکتی ہیں آیات
اس دور میں ہمت کی بنا علم و ہنر ہے