معروف کالم نگار جناب یاسر پیرزادہ نے اپنے ایک حالیہ کالم میں اِس موقف کو اختیار کیا ہے کہ ’’اسرا و معراج‘‘ کا واقعہ عالم رؤیا میں روحانی طور پر نہیں، بلکہ عالم بیداری میں جسمانی طور پر پیش آیا تھا۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے موقف پر تنقید کی ہے اور ان کے موقف کو علمی لحاظ سے غلط قرار دیا ہے۔ ’’واقعۂ معراج، خواب یا حقیقت؟‘‘ کے عنوان اور اُس کے تحت جملہ مندرجات سے واضح ہے کہ فاضل مصنف اسرا و معراج کے علمی مباحث سے کما حقہٗ آگاہ نہیں ہیں۔ اُن کی تحریر سے یہ تاثر نمایاں ہے کہ نہ جسمانی سفر کے قائلین کے نقطۂ نظر کو سمجھا گیا ہے اور نہ روحانی سفر کے قائلین کے موقف کی تحقیق کی گئی ہے۔ سرسری مطالعے اور سطحی فہم پر اکتفا کرتے ہوئے ایک ایسی بحث پر کلام کیا ہے، جس کا تعلق قرآن و حدیث اور زبان و بیان کے اعلیٰ علمی موضوعات سے ہے۔ اُن جیسے بالغ نظر اور صاحبِ علم و دانش سے اِس تغافل اورعدم توجہی کا اظہار خلافِ توقع ہے۔ اِس پر مستزاد چند عامیانہ تبصرے ہیں، جن کی آمیزش نے اسلوب ِ بیان اور طرزِ استدلال کے سقم میں اضافہ کیا ہے۔
استاذِ گرامی نے ’’23 اعتراضات سیریز‘‘ میں اِس موضوع پر مفصل بحث کی ہے۔ اُسی بحث کی روشنی میں راقم نے ’’اسرا و معراج: غامدی صاحب کا موقف‘‘ کے زیرِ عنوان ایک کتاب مرتب کی ہے۔ اُس میں نہ صرف استاذِ گرامی کے موقف کو نقل کیا ہے، بلکہ جسمانی معراج کے قائل جلیل القدر علما کے موقف کو من و عن درج کر کے اُس کے بارے میں اپنی معروضات پیش کی ہیں۔ فاضل مصنف اگر استاذ کی مفصل گفتگو کو سن لیں یا مذکورہ کتاب کا مطالعہ کر لیں تو قوی امید ہے کہ وہ اس موضوع پر اپنے اتفاق و اختلاف کو سادہ تاثرات سے بلند ہو کر محکم دلائل پر قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان شاء اللہ العزیز۔
برسبیلِ تعارف متعلقہ مباحث اور اُن کے بارے میں استاذِ گرامی کے موقف کا اجمالی بیان پیشِ خدمت ہے۔
’’اسرا و معراج‘‘ کی حقانیت مسلمان اہلِ علم کے مابین مسلم ہے۔ وہ بالاتفاق یقین رکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات مسجدِ حرام سے مسجد ِ اقصیٰ لے جایا گیا تھا۔ اِس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا مشاہدہ کرانا تھا۔ واقعے کے احوال کے بارے میں، البتہ اُن کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بیش تر علما اِسے بیداری کےجسمانی سفر پر محمول کرتے ہیں، جب کہ بعض کا موقف ہے کہ یہ سفرروحانی طور پر عالم رؤیا میں کرایا گیا تھا۔امام ابنِ کثیر نے اِس اختلاف کو ’’تفسیر القرآن العظیم‘‘ میں اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:
ثم اختلف الناس: هل كان الإسراء ببدنه عليه السلام وروحه، أو بروحه فقط؟ على قولين، فالأكثرون من العلماء على أنه أسري ببدنه وروحه يقظة لا منامًا، ولا ينكرون أن يكون رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم رأى قبل ذلك منامًا ثم رآه بعد يقظةً، لأنه كان عليه السلام لا يرى رؤيًا إلا جاءت مثل فلق الصبح. . . . (5/ 41- 39)
’’پھر اِس میں بھی لوگوں نے اختلاف کیا ہے کہ اسرا (لے جانے) کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اور روح، دونوں کے ساتھ ہوا تھا یا صرف روح کے ساتھ ہوا تھا؟ اِس بارے میں دونوں طرح کی آرا پائی جاتی ہیں۔ اکثر علما کی راے تو یہی ہے کہ یہ واقعہ جسم اور روح، دونوں کے ساتھ بیداری کے عالم میں ہوا تھا۔ یعنی آپ سو نہیں رہے تھے۔ البتہ، وہ اِس امکان کا انکار نہیں کرتے کہ بعینہٖ یہ واقعہ پہلے آپ کو خواب میں دکھایا گیا ہو اور بعد میں بیداری میں بھی رونما ہوا ہو۔ اِس کی وجہ یہ ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب دیکھتے تھے، وہ دن کی روشنی کی طرح واضح ہوتا تھا. . .۔‘‘
استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی قرآنِ مجید کے نصوص کی بنا پر اِسے عالم رؤیا کا واقعہ سمجھتے ہیں۔ تاہم ، اُن کےنزدیک اِس رؤیا سے وہ خواب مراد نہیں ہے، جو انسانوں کا روز مرہ کا تجربہ ہے۔ اِس کی نوعیت اُس رؤیا کی ہے، جو وحی الٰہی کی ایک قسم ہے اور جس سے صرف انبیاے کرام ہی مستفیض ہو سکتے ہیں۔ انبیاے کرام کو اِس طریقے سے جو مشاہدہ کرایا جاتا ہے، وہ مبنی بر حقیقت ہوتا ہے اور بعض اوقات بیداری میں بہ چشم سر دیکھنے سے بھی زیادہ واضح اور آشکار ہوتا ہے۔
اِس موضوع پر اُن کے مجموعی موقف کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’اسرا و معراج‘‘ کے زیرِ عنوان جن احوال کو بیان کیا جاتا ہے، وہ ایک واقعہ نہیں، بلکہ چار مختلف واقعات ہیں، جو الگ موقعوں پر، الگ صورتوں میں اور الگ حالتوں میں وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ قرآن و حدیث کے متعلقہ مقامات اِن کی تفریق اور انفرادیت کو پوری طرح واضح کر دیتے ہیں۔ اِسی طرح یہ بھی درست نہیں ہے کہ یہ تمام واقعات عالم بیداری میں پیش آئے۔ اصل یہ ہے کہ اِن میں سے دو عالم رؤیا میں اور دو عالم بیداری میں رونما ہوئے ہیں۔
اِن میں سے ایک، ’’واقعۂ اسرا‘‘ ہے، جو قرآنِ مجید کی سورۂ بنی اسرائیل(17) کی آیات 1 اور 60میں بیان ہواہے۔یہ عالم رؤیا میں پیش آیا ہے۔
دوسرا، ’’واقعۂ سدرہ‘‘ ہے، جو سورۂ نجم (53) کی آیات 1 تا12 میں مذکور ہے۔ یہ عالم بیداری میں پیش آیا ہے۔
تیسرا، ’’واقعۂقاب قوسین‘‘ ہے، جو سورۂ نجم (53) ہی کی آیات 13تا18میں درج ہے۔ یہ بھی عالم بیداری میں پیش آیا ہے۔
چوتھا، ’’واقعۂ معراج‘‘ ہے، جو صحیح بخاری کی روایت، رقم 7517 اور بعض دیگر روایتوں میں نقل ہوا ہے۔ یہ عالم رؤیا میں پیش آیا ہے۔
یہ چاروں واقعات من جانب اللہ ہیں۔اِن کی نوعیت آیات ِ الہٰی کی اور اِن کی حقیقت وحی و الہام کی ہے۔ اِن میں مذکور اخبار و اطلاعات اور واقعات و مشاہدات کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبِ نبوت و رسالت سے ہے۔ لہٰذا اِنھیں اِسی کے تناظر میں سمجھنا چاہیے اور اِسی اعتبار سے اِن کی شرح و تفسیر کرنی چاہیے۔
اِن میں سے جہاں تک ’’واقعۂ اسرا‘‘ کا تعلق ہے تو یہ قرآنِ مجید میں اِن الفاظ میں نقل ہوا ہے:
سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَي الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا. اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ.
(بنی اسرائیل 17 :1)
’’ہر عیب سے پاک ہےوہ ذات جو اپنے بندے کو ایک رات مسجدِ حرام سے اُس دور کی مسجدتک لے گئی، جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہےتاکہ اُس کو ہم اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بے شک، وہی سمیع و بصیرہے۔‘‘
اِس آیت سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:
1۔یہ واقعہ رات کےاوقات میں رونما ہوا۔
2۔ اِس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ حرام میں موجود تھے۔
3۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مسجدِ حرام سے ایک دور کی مسجد، یعنی بیت المقدس میں لے گئے۔
4۔ اِس لے جانے کا مقصد آپ کو اللہ کی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرانا تھا۔
5۔کم و بیش 80 دنوں کی مسافت کا یہ سفر اور اللہ کی نشانیوں کا مشاہدہ ایک ہی رات میں مکمل ہوا۔
اگر واقعۂ اسرا کے حوالے سے قرآن ِ مجید کے بیان کو بنی اسرائیل (17) کی مذکورہ آیت (1) ہی میں منحصر سمجھا جائے تو اِس کے بارے میں جسمانی اور روحانی سفر، دونوں کے احتمالات قرینِ عقل ہیں۔ یعنی اِسے حالت بیداری میں جسمانی معراج بھی سمجھا جا سکتا ہےاور عالم رؤیا کا سفر بھی قرار دیا جا سکتا ہے ــــــ رؤیا کا امکان اِس لیے پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث اور سابق الہامی صحائف کی بنا پر یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ رؤیا وحی کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ تھا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو نیند کی حالت میں بھی حقائق کے مشاہدات کراتے تھے۔ ــــــ
چنانچہ بات اگر آیت 1 ہی میں محصور ہوتی تو ’سبحان‘، ’اسری‘ اور ’عبد‘ کے اشاراتی دلائل اصل قرار پاتے اور اِن کی روشنی میں دونوں آرا میں سے کوئی ایک راے قائم کر لی جاتی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بات آیت 1 تک محدود نہیں ہے۔ آگے آیت 60 میں اِس کے بارے میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ یہ واقعہ عالم رؤیا میں پیش آیا تھا۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ.
’’اور ہم نے جورؤیا تمھیں دکھایا، اُس کو بھی ہم نے (اِن کے اِسی رویے کی وجہ سے) اِن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا۔‘‘
قرآنِ مجید کی اِس صراحت کو اِس معاملے میں قطعی اور فیصلہ کن دلیل کی حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ درج ذیل نکات اِس کا لازمی نتیجہ ہیں:
1۔ لفظ ’الرؤیا‘ کو بنیادی دلیل کی حیثیت حاصل ہو گی اور باقی تمام دلائل اِس کے توابع کی حیثیت رکھیں گے۔
2۔ ’الرؤیا‘ کا معنی و مفہوم عربی زبان کے عرف کے مطابق طے کیا جائے گا۔
3۔عربی زبان میں ’رؤیا‘ کے معروف معنی نیند میں یا خواب میں دیکھنے کے ہیں، اِس لیے واقعے کو جسمانی نہیں، بلکہ روحانی قرار دیا جائے گا اور باقی تمام احتمالات کو رد کر دیا جائے گا۔
4۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 1 میں مذکور ’سبحان‘، ’اسری‘ اور ’عبد‘ جیسے اشاراتی دلائل کی تفسیر بھی’الرؤیا‘ کے معنی و مفہوم کو ملحوظ رکھ کر کی جائے گی۔
5۔ واقعۂ اسرا سے متعلق تمام احادیث و آثار کو اِسی حتمی دلیل کی روشنی میں سمجھا جائے گا اور جو بات اِس کے خلاف ہو گی، اُسے خلافِ قرآن قراردے کر رد کر دیا جائے گا۔
اِس تفصیل سے واضح ہے کہ ’الرؤیا‘ کی قرآنی نص کو استاذِ گرامی کے نزدیک حجتِ قاطع کی حیثیت حاصل ہے۔ اِس نص کی بنا پر ان کا موقف یہ ہے کہ یہ واقعہ عالم رؤیا میں پیش آیا تھا۔
اِس موقف کو رد کرنے کے دو ہی راستے ہیں:
اول یہ کہ اِس بات کو ثابت کر دیا جائے کہ بنی اسرائیل کی آیت 60میں لفظ ’رؤیا‘ جس واقعے سے منسوب ہے، وہ واقعۂ اسرا نہیں ہے۔
دوم یہ کہ یہ مبرہن کر دیا جائے کہ آیت میں لفظ ’رؤیا‘ سے مراد عالم خواب نہیں، بلکہ حالتِ بیداری ہے۔
استاذِ گرامی کے نزدیک نظم کلام اور زبان و بیان کی رو سے اِن میں سے کوئی بات بھی پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی، لہٰذا وہ اُن اہل علم کی راےکو درست نہیں سمجھتے، جو اِسے عالم بیداری کے جسمانی واقعے پر محمول کرتے ہیں۔
(پس نوشت)
لفظِ ’رُءْيَا‘ کا مادہ
جناب یاسر پیرزادہ نے اپنے مضمون میں لغت سے بھی استدلال کیا تھا، مگر مجھے اُس پر کلام کرنا مناسب نہیں لگا۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ ایسا کم زور استدلال اُن جیسے صاحبِ زبان و ادب کے شایانِ شان نہیں تھا۔ اب چونکہ بعض اصحاب نے اُس کو لائقِ اعتنا سمجھتے ہوئے مکرر نقل کیا ہے تو اُس کی تنقیح ضروری محسوس ہوتی ہے۔
استدلال یہ ہے کہ ’رُءْيَا‘ کا مادہ ’رَأَى‘ ہے، جس کے معنی ’’آنکھوں سے دیکھنے‘‘ کے اور ’’خواب میں دیکھنے‘‘کے، دونوں ہیں۔ چنانچہ جس طرح اِس مادے کے ایک لفظ ’أَرَی‘ کو دکھانے کے مفہوم میں استعمال کرنا بجا ہے، اُسی طرح اِس مادے سے نکلنے والے لفظِ ’رُءْيَا‘ کو بھی بالمشافہ دیکھنے کے مفہوم میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اُسے خواب کے معنی پر محمول کرنا لازم نہیں ہے۔
دیکھیے، سورۂ انعام میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت سے نقل ہوا ہے: ’فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً‘ )پھر اُس نے جب سورج کو چمکتے دیکھا۔) پھرسورۂ صافات میں آپ ہی کے حوالے سے ارشاد فرمایا ہے:’وَ نَادَیۡنٰہُ اَنۡ یّٰۤاِبۡرٰہِیۡمُ. قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡیَا‘ ( ہم نے اُس سے پکار کر کہا کہ ابراہیم، تم نے خواب کو سچا کر دکھایا ہے۔) سوال یہ ہے کہ کیا اِن دونوں جگہوں پر ’رَأَى‘ کے مادے کے اشتراک کو بنیاد بنا کر یکساں مفہوم لیا جا سکتا ہے؟ ہر شخص اِس کا جواب نفی میں دے گا۔
سورۂ یوسف (12) میں بیان ہوا ہے:
اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ يٰٓاَبَتِ اِنِّيْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ. قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰۤي اِخْوَتِكَ فَيَكِيْدُوْا لَكَ كَيْدًا (4-5).
’’یہ اُس وقت کا قصہ ہے، جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا: ابا جان، میں نے دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے ہیں اور سورج اور چاند ہیں۔ میں نے اُن کو دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ جواب میں اُس کے باپ نے کہا: بیٹا، اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا، ایسا نہ ہو کہ وہ تمھارے خلاف کوئی سازش کرنے لگیں۔ ‘‘
یہاں دیکھیے، ’رَاَيْتُ‘ میں ’رَأَى‘ ہی کا فعل استعمال ہوا ہے۔ اِس کا لفظی ترجمہ ’’دیکھنا‘‘ کیا جائے گا، مگر اِس سے مراد ’’خواب میں دیکھنا‘‘ لیا جائے گا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ آگے لفظِ ’رُءْيَا‘ (بہ معنی خواب) نے اِسے خواب کے مفہوم کے لیے خاص کر دیا ہے۔
صحیح بخاری کی ایک روایت ملاحظہ کیجیے:
عن عائشة ام المؤمنين، انها، قالت: اول ما بدئ به رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم من الوحي الرؤيا الصالحة في النوم، فكان لا يرى رؤيا إلا جاءت مثل فلق الصبح.
(بخاری، رقم 3)
’’ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا سلسلہ اچھے خوابوں سے شروع ہوا۔ آپ خواب میں جو کچھ دیکھتے، وہ صبح کی روشنی کی طرح واضح ہوتا۔‘‘
اِس میں ’لا يرى رؤيا‘ کے الفاظ پر غور کیجیے۔ ’رأى‘ کا فعل اور ’رؤیا‘ کا اِسم اِس طرح استعمال ہوئےہیں کہ دونوں کی انفرادیت اور مغائرت پوری طرح متعین ہو گئی ہے۔
دل چسپ صورتِ حال یہ ہے کہ اہل لغت جب لفظِ ’رؤیا‘ کا معنی بیان کرتے ہیں تو اُس کے لیے ’رأى‘کے فعل کو اِس طرح استعمال کرتے ہیں کہ وہ ’رؤیا‘ سے الگ اور بالکل مغائر ہو کر سامنے آتا ہے۔ جوہری کی ’’الصحاح فی اللغہ‘‘ میں لکھاہے: ’الرؤيا: رأى في منامه رؤيا. ‘، ’’الرؤیا: وہ خواب جو کسی نے اپنی نیند میں دیکھا۔‘‘ ابن منظور کی ’’لسان العرب‘‘ اور زبیدی کی ’’تاج العروس‘‘ میں نقل ہے: ’الرؤيا: ما رأيته فی منامك.‘، ’’الرؤیا: جو تو اپنی نیند میں دیکھے۔‘‘، ’’المعجم الوسیط‘‘ میں بیان ہوا ہے: ’الرؤيا: ما يرى في النوم.‘، ’’الرؤیا: جو نیند میں دیکھا جائے۔‘‘
اِس تفصیل سے واضح ہوا کہ کسی لفظ کے مادے یا مصدر کی معلومات اُس کی صرفی تحلیل کو جاننے کے لیے یا بعض اوقات اُس کے مشتقات کی تفہیم کے لیے ضرور کارآمد ہوتی ہیں، مگر معنی کی تعیین کے لیے کفایت نہیں کرتیں۔ یہی وجہ ہے کہ زبان و ادب میں اُنھیں معنی کی حتمی دلیل کے طور پر کبھی پیش نہیں کیا جا تا۔ معنی کا تعین اُس کے عرفِ استعمال سے ہوتا ہے۔ یعنی جس معنی میں وہ مستعمل ہو، اُسی معنی کو اُس کے مفہوم کے طور پر اختیار کیاجاتا ہے۔
اِس امر واقعی کو عربی زبان کے ایک معروف مادے ق وم کی مثال سے بہ آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ اِس کے مختلف مشتقات کو دیکھا جائے تو معانی کے مختلف پہلو اور متنوع جہتیں بہ اول وہلہ سامنے آ جاتی ہیں۔ مثلاً، ’قَام‘ کا معنی کھڑا ہونا ، ’اَقَام‘ کا معنی کھڑا کرنا اور ’قَوَّم‘ کا معنی سیدھا کرنا ہے۔ قوم کا مطلب لوگوں کا گروہ، ’قَوَام‘ کا مطلب قد و قامت، ’قِیَامَۃ‘ کا مطلب روزِ جزا، ’تَقوِیم‘ کا مطلب جنتری، ’قَیِم‘ کا مطلب منتظم، ’قَوَّام‘ کا مطلب نگران، ’مَقَام‘ کا مطلب کھڑے ہونے کی جگہ اور ’مُقَامۃ‘ کا مطلب جماعت ہے۔ اِن سب میں ق وم کا مادہ قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتا ہے، مگر معانی کا فرق اظہر من الشمس ہے۔
یہاں بہ طورِ معلومات یہ جاننا بھی مفید ہو گا کہ ’رُءْيَا‘ کا لفظ قرآنِ مجید میں سات مقامات پر آیا ہے۔ ہر موقع پر اِس سے خواب ہی مراد ہے۔ احادیث میں یہ کم و بیش سات سو مقامات پر استعمال ہوا ہےاور ہر جگہ اِسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔