مواد پر جائیں

البیان

جاوید احمد غامدی اردو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(14)

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَہِلَّۃِ ؕ قُلۡ ہِیَ مَوَاقِیۡتُ لِلنَّاسِ وَ الۡحَجِّ ؕ وَ لَیۡسَ الۡبِرُّ بِاَنۡ تَاۡتُوا الۡبُیُوۡتَ مِنۡ ظُہُوۡرِہَا وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنِ اتَّقٰیۚ وَ اۡتُوا الۡبُیُوۡتَ مِنۡ اَبۡوَابِہَا ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۸۹﴾

وَ قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ وَ لَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿۱۹۰﴾ وَ اقۡتُلُوۡہُمۡ حَیۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡہُمۡ وَ اَخۡرِجُوۡہُمۡ مِّنۡ حَیۡثُ اَخۡرَجُوۡکُمۡ وَ الۡفِتۡنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الۡقَتۡلِ ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوۡہُمۡ عِنۡدَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوۡکُمۡ فِیۡہِ ۚ فَاِنۡ قٰتَلُوۡکُمۡ فَاقۡتُلُوۡہُمۡ ؕ کَذٰلِکَ جَزَآءُ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۹۱﴾ فَاِنِ انۡتَہَوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۹۲﴾ وَ قٰتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ وَّ یَکُوۡنَ الدِّیۡنُ لِلّٰہِ ؕ فَاِنِ انۡتَہَوۡا فَلَا عُدۡوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۹۳﴾

وہ تم سے حرام مہینوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو: یہ لوگوں کی بہبود اور حج کے اوقات ہیں، (اِس لیے اِن کی یہ حرمت اِسی طرح قائم رکھی جائے گی)۔ اور (تم نے یہ سوال کیا ہے تو اب یہ بھی جان لو کہ) یہ ہرگز کوئی نیکی نہیں ہے کہ (احرام کی حالت میں اور حج سے واپسی پر)

اَلشَّہۡرُ الۡحَرَامُ بِالشَّہۡرِ الۡحَرَامِ وَ الۡحُرُمٰتُ قِصَاصٌ ؕ فَمَنِ اعۡتَدٰی عَلَیۡکُمۡ فَاعۡتَدُوۡا عَلَیۡہِ بِمِثۡلِ مَا اعۡتَدٰی عَلَیۡکُمۡ ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۹۴﴾ وَ اَنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ ۚ وَ اَحۡسِنُوۡا ۚ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۹۵﴾

وَ اَتِمُّوا الۡحَجَّ وَ الۡعُمۡرَۃَ لِلّٰہِ ؕ فَاِنۡ اُحۡصِرۡتُمۡ فَمَا اسۡتَیۡسَرَ مِنَ الۡہَدۡیِ ۚ وَ لَا تَحۡلِقُوۡا رُءُوۡسَکُمۡ حَتّٰی یَبۡلُغَ الۡہَدۡیُ مَحِلَّہٗ ؕ فَمَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ مَّرِیۡضًا اَوۡ بِہٖۤ اَذًی مِّنۡ رَّاۡسِہٖ فَفِدۡیَۃٌ مِّنۡ صِیَامٍ اَوۡ صَدَقَۃٍ اَوۡ نُسُکٍ ۚ فَاِذَاۤ اَمِنۡتُمۡ ٝ فَمَنۡ تَمَتَّعَ بِالۡعُمۡرَۃِ اِلَی الۡحَجِّ فَمَا اسۡتَیۡسَرَ مِنَ الۡہَدۡیِ ۚ فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الۡحَجِّ وَ سَبۡعَۃٍ اِذَا رَجَعۡتُمۡ ؕ تِلۡکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ؕ ذٰلِکَ لِمَنۡ لَّمۡ یَکُنۡ اَہۡلُہٗ حَاضِرِی الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۱۹۶﴾

اَلۡحَجُّ اَشۡہُرٌ مَّعۡلُوۡمٰتٌ ۚ فَمَنۡ فَرَضَ فِیۡہِنَّ الۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوۡقَ ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الۡحَجِّ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ یَّعۡلَمۡہُ اللّٰہُ ؕ وَ تَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَیۡرَ الزَّادِ التَّقۡوٰی ۫ وَ اتَّقُوۡنِ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ﴿۱۹۷﴾

تم گھروں کے پیچھے سے داخل ہوتے ہو، بلکہ نیکی تو اصل میں اُس کی ہے جو تقویٰ اختیار کرے۔ اِس لیے اب گھروں میں اُن کے دروازوں ہی سے آؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تمھیں فلاح نصیب ہو جائے۔ 189

اور اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو جو (حج کی راہ روکنے کے لیے) تم سے لڑیں اور (اِس میں) کوئی زیادتی نہ کرو۔ بے شک، اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور اِن لڑنے والوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور اِنھیں وہاں سے نکالو، جہاں سے اِنھوں نے تمھیں نکالا ہے اور (یاد رکھو کہ) فتنہ قتل سے زیادہ بری چیز ہے۔ اور مسجد حرام کے پاس تم اِن سے (خود پہل کر کے) جنگ نہ کرو، جب تک یہ تم سے اُس میں جنگ نہ کریں۔پھر اگر یہ جنگ چھیڑ دیں تو اِنھیں (بغیر کسی تردد کے) قتل کرو۔ اِس طرح کے منکروں کی یہی سزا ہے۔ لیکن اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ اور تم یہ جنگ اُن سے برابر کیے جاؤ، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اِس سر زمین میں اللہ ہی کا ہو جائے۔ تاہم وہ باز آ جائیں تو (جان لو کہ) اقدام صرف ظالموں کے خلاف ہی جائز ہے۔ 190-193

ماہِ حرام کا بدلہ ماہِ حرام ہے اور اِسی طرح دوسری حرمتوں میں بھی بدلے ہیں۔ لہٰذا جو تم پر زیادتی کریں، اُن کو اپنے اوپر اِس زیادتی کے برابر ہی جواب دو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور جان لو کہ

لَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَبۡتَغُوۡا فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ فَاِذَاۤ اَفَضۡتُمۡ مِّنۡ عَرَفٰتٍ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ عِنۡدَ الۡمَشۡعَرِ الۡحَرَامِ ۪ وَ اذۡکُرُوۡہُ کَمَا ہَدٰىکُمۡ ۚ وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلِہٖ لَمِنَ الضَّآلِّیۡنَ ﴿۱۹۸﴾

ثُمَّ اَفِیۡضُوۡا مِنۡ حَیۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسۡتَغۡفِرُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۹۹﴾

فَاِذَا قَضَیۡتُمۡ مَّنَاسِکَکُمۡ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ کَذِکۡرِکُمۡ اٰبَآءَکُمۡ اَوۡ اَشَدَّ ذِکۡرًا ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا وَ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ خَلَاقٍ ﴿۲۰۰﴾  وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۲۰۱﴾  اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ نَصِیۡبٌ مِّمَّا کَسَبُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۲۰۲﴾

اللہ اُن کے ساتھ ہے جو اُس کے حدود کی پابندی کرتے ہیں۔ اور (اِس جہاد کے لیے) اللہ کی راہ میں انفاق کرو، اور (اِس سے گریز کر کے) اپنے ہی ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور تم (یہ انفاق) خوبی کے ساتھ کرو، اِس لیے کہ اللہ خوبی کے ساتھ کام کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔194-195

اور حج و عمرہ (کی راہ اگر تمھارے لیے کھول دی جائے تو اُن کے تمام مناسک کے ساتھ اُن) کو اللہ ہی کے لیے پورا کرو۔ پھر اگر راستے میں گھر جاؤ تو ہدیے کی جو قربانی بھی میسر ہو، اُسے پیش کردو، اور اپنے سر اُس وقت تک نہ مونڈو، جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔ پھر جو تم میں سے بیمار ہو یا اُس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (اور وہ قربانی سے پہلے ہی سر منڈانے پر مجبور ہو جائے) تو اُسے چاہیے کہ روزوں یا صدقے یا قربانی کی صورت میں اُس کا فدیہ دے۔ پھر جب تمھارے لیے امن کی حالت پیدا ہو جائے تو جو کوئی اِس سفر سے یہ فائدہ اٹھائے کہ حج کا زمانہ آنے تک عمرہ بھی کر لے تو اُسے قربانی کرنا ہو گی، جیسی بھی میسر ہو جائے۔ اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو روزے رکھنا ہوں گے: تین دن حج کے زمانے میں اور سات، جب (حج سے) واپس آؤ۔ یہ پورے دس دن ہوئے۔ (اِس طریقے سے ایک ہی سفر میں حج کے ساتھ عمرے کی) یہ (رعایت) صرف اُن لوگوں کے لیے ہے جن کے گھر بار مسجد حرام کے پاس نہ ہوں۔ (اِس کی پابندی کرو) اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔196

حج کے متعین مہینے ہیں۔ سو اِن میں جو شخص بھی (احرام باندھ کر)حج کا ارادہ کر لے، اُسے پھر حج کے اِس زمانے میں نہ کوئی شہوت کی بات کرنی ہے، نہ خدا کی نافرمانی کی اور نہ لڑائی جھگڑے کی کوئی بات اُس سے سرزد ہونی چاہیے۔ اور (یاد رہے کہ) جو نیکی بھی تم کرو گے، اللہ اُسے جانتا ہے۔

وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ فِیۡۤ اَیَّامٍ مَّعۡدُوۡدٰتٍ ؕ فَمَنۡ تَعَجَّلَ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ۚ وَ مَنۡ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ۙ لِمَنِ اتَّقٰی ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّکُمۡ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۲۰۳﴾

اور (حج کے اِس سفر میں تقویٰ کا) زاد راہ لے کر نکلو، اِ س لیے کہ بہترین زاد راہ یہی تقویٰ کا زاد راہ ہے۔ اور (اِس کے لیے)، عقل والو، مجھ سے ڈرتے رہو۔197

(اِس کے ساتھ، البتہ) تم پر کوئی حرج نہیں کہ اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرو، لیکن (یاد رہے کہ مزدلفہ کوئی کھیل تماشے اور تجارت کی جگہ نہیں ہے، اِس لیے) جب عرفات سے چلو تو مشعر حرام کے پاس اللہ کو یاد کرو اور اُس کو اُسی طرح یاد کرو، جس طرح اُس نے تمھیں ہدایت فرمائی ہے۔ اور اِس سے پہلے تو، بلاشبہ تم لوگ گم راہوں میں تھے۔198

پھر (یہ بھی ضروری ہے کہ) جہاں سے اور سب لوگ پلٹتے ہیں، تم بھی، ( قریش کے لوگو)، وہیں سے پلٹو اور اللہ سے مغفرت چاہو۔ یقیناً اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ 199

(اور یہ بھی کہ) اِس کے بعد جب اپنے حج کے مناسک پورے کر لو تو جس طرح پہلے اپنے باپ دادا کو یاد کرتے رہے ہو، اُسی طرح اب اللہ کو یاد کرو، بلکہ اُس سے بھی زیادہ۔ (یہ اللہ سے مانگنے کا موقع ہے)، مگر لوگوں میں ایسے بھی ہیں کہ وہ (اِس موقع پر بھی) یہی کہتے ہیں کہ پروردگار، ہمیں(جو کچھ دینا ہے، اِسی) دنیا میں دے دے، اور (اِس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پھر) آخرت میں اُن کا کوئی حصہ نہیں رہتا۔اور اُن میں ایسے بھی ہیں کہ جن کی دعا یہ ہوتی ہے کہ پروردگار، ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔ یہی ہیں جو اپنی کمائی کا حصہ پا لیں گے، اور اللہ کو حساب چکاتے کبھی دیر نہیں لگتی۔ 200-202

اور (منیٰ کے) چند متعین دنوں میں اللہ کو یاد کرو۔ پھر جس نے جلدی کی اور دو ہی دنوں میں چل کھڑا ہوا، اُس پر بھی کوئی گناہ نہیں اور جو دیر سے چلا اُس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ (ہاں، مگر) اُن کے لیے جو اللہ سے ڈریں اور تم بھی اللہ سے ڈرتے رہو، اور خوب جان لو کہ (ایک دن) تم اُسی کے حضور میں اکٹھے کیے جاؤ گے۔203

[باقی]