یہ سو لھویں صدی کا وسط تھا، جب مغرب میں وہ جنگ شروع ہوئی جس نے بالآخر پوپ کی مقدس پادشاہی کا خاتمہ کر دیا۔ اِس پادشاہی میں وہ خدا کا نائب تھا۔ اُس کا دعویٰ تھا کہ زمین پر وہ جو کچھ جوڑ دیتا ہے، وہ آسمان پر بھی باقی رہتا ہے۔ اُس پر وہ زمانہ بھی گزرچکا تھا، جب شہنشاہ روما ہنری چہارم تین دن اور تین راتیں برہنہ سر اوربرہنہ پا اطالیہ کے اُس قلعے کے دروازے پر پڑا عاجزی کرتا اور معافی مانگتا رہا جس میں پاپاے اعظم مقیم تھا، لیکن اُس نے دروازہ نہیں کھولا۔پندرھویں صدی کے آخر اور سولھویں صدی کی ابتدا میں مارٹن لوتھر نے اُس کے اقتدار کو چیلنج کیا، ایراسمس (Erasmus)، کال ون (Calvin)، اور زونگلی (Zwingly)نے یورپ کے دوسرے علاقوں میں اِس تحریک کو آگے بڑھایا۔ اِس کے نتیجے میں ایک عظیم جنگ برپا ہوئی۔ عوام نے اِس جنگ میں مصلحین کا ساتھ دیا۔ چنانچہ پوپ نے ہزیمت اٹھائی اور اُس کا اقتدار ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔
مغرب میں علوم کی نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کی تحریک اِسی فتح کے نتیجے میں عروج کو پہنچی۔ اِس تحریک کے فتوحات بے مثال ہیں؛ اِس نے فطرت کے بے شمار حقائق بے نقاب کیے ہیں؛ انسان کے لیے بے حد و حساب سہولتیں پیدا کی ہیں؛ اُس کی حکومت بحروبر پر قائم کر دی ہے؛ اُسے ثریا کی خبر لانے اور ثریٰ میں اترنے کے قابل بنا دیا ہے۔ یہاں تک کہ اپنی غیرمعمولی کامیابیوں پر خود انسان حیران ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ عالم طبیعیات حیرت انگیز حد تک اُس کی گرفت میں ہے اور اُس کے خواب حقیقت میں بدل گئے ہیں۔
پوپ کے خلاف یہ جنگ اور نشاۃ ثانیہ کی یہ تحریک، دونوں انسان کا مایۂ افتخار ہیں۔ اِس میں شبہ نہیں کہ پوپ کا دعویٰ باطل تھا۔ دین حق میں کبھی کوئی پوپ اور کوئی پادری خدا اور اُس کے بندوں کے درمیان حائل نہیں رہا۔یہ دعویٰ ہر حال میں باطل قرار پانا چاہیے تھا۔ جن لوگوں نے اِسے باطل قرار دیا ، اُنھوں نے بے شک ایک حق کا اثبات کیا۔ یہی معاملہ نشاۃ ثانیہ کی تحریک کا ہے۔ علم انسان کی سب سے بڑی متاع ہے۔ اُس کی بازیافت اور دریافت کے لیے جو سعی بھی کی جائے گی، اُسے یقیناًقدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ لیکن انسان کی بدقسمتی ہے کہ اِس جنگ اور اِس تحریک میں ردعمل کی نفسیات نے صرف پوپ کو رد نہیں کیا، اِس کے ساتھ کائنات کی اِس سب سے بڑی حقیقت کو بھی رد کر دیا ہے کہ انسان اِس زمین پر خدا کی مخلوق اور اپنے تمام معاملات میں اُس کے حکم کا تابع اور اُس کے سامنے جواب دہ ہے۔
یہ حقیقت کسی دلیل کی بنا پر رد نہیں ہوئی۔ چار صدیاں گزر چکی ہیں۔ اِس موضوع پر مغرب میں جو کچھ لکھا گیا ہے، اُس کا دقت نظر سے مطالعہ کرنے کے بعد ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اِسے اندھے تعصب اور بے لگام جذبۂ نفرت نے رد کیا ہے۔ قلم نے اِس باب میں جو کچھ لکھا اور زبان نے جو کچھ کہا ہے، وہ انسان کے لیے باعث شرم ہے۔ علم و استدلال کے دور میں جہالت روا رکھی گئی۔ حقیقت کی تلاش میں سرگرداں رہنے والوں نے حقیقت سے روگردانی کی۔ علم کی پرستش کرنے والوں نے علم کو رد کر دیا۔ یہ اِس دور کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ اِس پر اگر زمین روئے اور آسمان ماتم کرے تو کسی کو تعجب نہ ہونا چاہیے۔