مواد پر جائیں

برکتوں کے خا تمے کا دور

محمد ذکوان ندوی اردو

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

حال میں راقم نانونہ حاضر ہوا تو وہاں کی مسجد میں حضرت مولانا قاسم نانوتوی (وفات: 1880ء) کے حجرے کے باہر اُن سے متعلق ایک عبرت آموز تحریر دیکھی۔ اِسے یہاں نقل کیا جاتاہے:

”بانیِ دارالعلوم دیو بند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی اپنے وقت کے بڑے مانے ہوئے عالموں میں سے تھے۔آپ توکل، تسلیم اور رضا وقناعت میں اپنی مثال آپ تھے۔نواب صدیق حسن خاں قنوجی (وفات:1890ء)نے ایک بار حضرت مولانا قاسم نانوتوی کو لکھا کہ حضرت، بھوپال میں آپ کی ضرورت ہے۔اگر آپ یہاں تشریف لے آئیں تو ہر ماہ آپ کو تین سو روپے نذرانہ پیش کروں گا۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی نے اِس خط کا جو جواب دیا، وہ انتہائی عبرت آموز ہے۔ فرمایا:

”آپ کی پیش کش کے لیے دل سے شکر گزار ہوں۔ رہا بھوپال حاضری کا مسئلہ، تو یہاں دارالعلوم دیوبند سے مجھے دس روپے ماہانہ ملتے ہیں۔ پانچ روپے میں بخوبی گھر کا خرچ چل جاتا ہے اور ہر مہینے مجھے پانچ روپے کا مصرف تلاش کرنا پڑتاہے۔ اگر بھوپال آ جاؤں گا تو ہر مہینے دوسو پچانوے روپے کا مصرف تلاش کرنا پڑے گا، اور یہ زحمت اٹھانا میرے لیے انتہائی دشوار ہے۔“‘‘

اللہ اکبر، وہ زمانہ کیسی برکتوں کا زمانہ تھا۔ اب پیسوں کی بہتات ہے، مگر ہر جگہ طیبات کے گھٹنے اور خبائث (کثُرَ الخَبَثُ. صحیح مسلم، رقم 5327)کے بڑھ جانے کے سبب ’برکات‘ سلب ہوکر رہ گئی ہیں۔ سادگی اور قناعت کے بجاے حرص وہوس اور اسٹیٹس کی دوڑ، ’ضروریات‘ کے نام پر مادّیات میں بے تحاشا اضافہ، حالات کے جبر ودباؤ اور ہماری بے حسی اور دنیاپرستی کے نتیجے میں صرف ڈیڑھ سو سال کے دوران اِس قدر زوال واِدبارآیا اور برکات کا خاتمہ ہوگیاکہ بس اللہ کی پناہ:

پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے!!

اِن ’برکات‘کی اُس طرح واپسی آج کے حالات میں ممکن نہیں، اِلاّکہ آدمی حسب حالات اُس فطری اور غیرمصنوعی سطح حیات پرواپس لوٹنے کا فیصلہ کرے، یا خود کسی خدائی مداخلت کے ذریعے سے دجل کے اِس عالم گیر پردے کو چاک کرکے تمام فسادات کا خاتمہ کردیاجائے۔

تاہم، ممکن دائرے میں اِن’برکات‘ کے حصول اور اِن کی واپسی کا عملی طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے دائرے میں لازماً اُن چیزوں کو کم ترین سطح پر لانے کی کوشش کریں جن کے ذریعے سے اِن برکات کا خاتمہ ہواہے، یعنی اپنے درمیان ’طیبات‘ کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا اور ’خبائث‘ کو کم سے کم تر سطح پر پہنچادینا؛ یہ امور خواہ داخلی ہوں یاخارجی، مادی ہوں یاروحانی، عملی ہوں یانظری اور اعتقادی، عادات ہوں یا اشیاے استعمالات۔ مثلاً جسم اور روح کی پاکیزگی، ذکر ِ الہٰی کی کثرت، دعا و تذکر، صبر وقناعت، انسانی ہم دردی، لوگوں کے ساتھ بہرصورت زیادہ سے زیادہ تعاون، یتیموں اور بے سہارا افراد کی خبرگیری اور کفالت، نیز فطری طرزِ حیات کا زیادہ سے زیادہ فروغ، وغیرہ۔