مواد پر جائیں

شغل تکفیر

سید سلیمان ندوی اردو

مدت کے بعد علماے بریلی نے جن کو فتنۂ ارتداد کی سازش کی بہ دولت مسلمانوں کے سامنے سر اٹھانے کا موقع ملا، اپنے قدیم زنگ آلود ہتھیار، یعنی مسلمانوں کی تکفیر کے استعمال سے فرصت ہاتھ آئی، ہم کیا کہیں کہ ہم تو ان کے نزدیک موروثی طور سے کابراً عن کابرٍ چلے آتے ہیں۔ سب سے زیادہ جن کے سینے ان کے تیر ستم سے چھلنی ہیں وہ علماے ندوہ ہیں۔ اس باب میں علماے دیوبند بھی ہم سے پیچھے ہیں۔ ہم نے سنا ہے کہ شاید 96 رسالے علماے ندوہ کی تکفیر اور تفسیق میں ان کی طرف سے لکھے گئے ہیں، جن کے ناموں کا ”حادثۂ جانکاہ بر مولوی لطف اللہ“ وتکفیر علما الحرمین، اہل الندوہ ذو السین والشین (علما ے حرمین کا جھوٹے ذلیل ندوہ والوں کو کافر بتانا) وغیرہ سے اندازہ کیجیے اور یہ سب کس جرم میں، اس جرم میں کہ ندوہ نے یہ دعوت دی تھی کہ اسلامی فرقوں میں کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہنا چاہیے اور علماے اسلام کو باہم رواداری سے کام لینا چاہیے اور اعداے اسلام کے مقابلہ میں ان سب کو باوجودِ اختلاف عقائد باہم متحد و متفق ہو جانا چاہیے۔ یہ آواز تھی جس پر بریلی کے دار الافتاء سے ہزاروں تکفیر کے فتوے صادر ہوئے علماے ندوہ نے ان کی ان مزخرفات کا جواب ہمیشہ متانت آمیز خاموشی سے دیا اور کبھی اپنی تکفیر کرنے والوں کو کافر کہہ کر اپنے وقار علمی کو صدمہ نہیں پہنچایا، البتہ اپنے مسلک کے ثبوت میں قرآن پاک، احادیث صحیحہ اور آثار و تاریخ سلف سے دلائل کا انبار لگا دیا۔ یہ رسالے اب بھی موجود ہیں اور دفتر ندوہ سے مل سکتے ہیں۔

علماے بریلی کے مخالفین اب تک ہمیشہ خاموش اور سنجیدہ جماعتیں رہیں، مولانا مرتضیٰ حسن صاحب کے رسائل کو چھوڑ کر جنھوں نے ’جزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا‘ پر عمل کیا، علماے دیوبند بھی ہمیشہ اسی اصول پر قائم رہے۔ علماے بریلی کی قوت تکفیر کی روز افزوں ترقی کا یہ عالم رہا ہے کہ اس بزرگ کو بھی جن کے تصدق سے اُن کو علم کی وراثت ملی ایک ادنیٰ فقہی مسئلہ پر ہر قسم کے کفریات کا مورد قرار دیا، اس زخم کی گہرائی کو کوئی ہمارے دوست مولانا عبدالماجد قادری بدایونی سے پوچھے۔

اب حال میں اس مشرب خاص کے بادہ خواروں نے پنجاب کے چند دیوانوں کو چھیڑا، نتیجہ کلوخ انداز را پاداش سنگ است۔ اب ان کو نظر آیا کہ کسی مسلمان کو کافر بنانا اتنا آسان نہیں جتنا وہ سمجھتے ہیں۔ قسم بخدا کہ ان کے اس رویہ سے نہ صرف علم اور علما کی بے وقعتی ہوئی ہے، بلکہ خود اسلام کو نعوذ باللہ ذلت اٹھانی پڑتی ہے، پھر اس تعمیم کے ساتھ فتویٰ کہ ”جو ان کے کافر بنائے ہوؤں کو کافر نہ سمجھے، وہ بھی کافر ہے۔“ سلف صالحین کے آثار و فتاویٰ کے بے شمار اوراق موجود ہیں۔ کیا اس تعمیمی فتوے کی ایک مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے؟ اور سب سے تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ فتویٰ اس مجلس میں صادر ہو جس کو ان احناف کے ساتھ نسبت اور اضافت حاصل ہو، جن کے اماموں کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ

ولا تکفر احدا من اہل القبلۃ.

”ہم کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے۔“

ببیں تفاوتِ رہ از کجا است تا بکجا

اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان کو اسلام اور قرآن کے منصوص عقائد و احکام کے انکار کی بنا پر کافر کہے تو وہ حق بجانب ہو سکتا ہے، مگر یہ حضرات ان مسائل میں مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں جو خود اُن کے ساختہ پرداختہ یا جو خود ان کے اجتہادِ فکر کے نتائج ہیں، حالاں کہ پہلے اصول کی طرح اہل سنت اور خصوصاً احناف کا دوسرا متفقہ اصول یہ ہے کہ وہ اہل تاویل کو کافر نہیں کہتے۔ تیسرا اصول یہ ہے کہ اگر کسی کے قول سے کوئی کفریہ کلمہ مستلزم ہوتا ہو اور وہ اس سے انکاری ہو یا اس کے اس مطلب کی جس سے یہ کفر مستلزم آتا ہو، وہ تردید کرے اور اپنے کو اس سے بری ثابت کرے تو اس کو زبردستی کافر بنانا صحیح نہیں، بلکہ یہ انکار و تردید اگر اس سے کفر ثابت بھی ہوتا ہو تو قائل کی توبہ و ندامت کی قائم مقام ہو جائے گی۔ یہ ہیں وہ اصول جو ہماری کتب کلامیہ میں پوری تصریح سے ہر جگہ موجود ہیں۔

یہ اصول قرآن پاک، احادیث نبوی اور آثار سلف سے ماخوذ ہیں۔ قرآن مجید تعلیم دیتا ہے:

وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ اَلۡقٰۤی اِلَیۡکُمُ السَّلٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنًا.(النساء 4 :94)

”جو تم پر سلام (یعنی اسلامی شعائر) کا اظہار کرے اس کو یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں۔“

ہمارا یہ حال ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں، لیکن ہم سے یہ کہا جاتا ہے کہ تم مومن نہیں، اس لیے نہیں کہ تم ایک خدا کو دو کہتے ہو، اس لیے نہیں کہ تم غیر خدا کے آگے جھکتے ہو، اس لیے نہیں کہ تم رسول کے منکر ہو یا بشر میں ربانی اوصاف ثابت کرتے ہو، بلکہ اس لیے کہ تم ہمارے فہم کے مطابق بعض مسائل کو نہیں سمجھتے اور ہماری عینک سے تم ہر چیز کو نہیں دیکھتے ہو۔ کیا ہمارے ان مقدس علما کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فقرہ یاد ہے، جب ایک بدوی نے یہ کہا تھا کہ خدایا میرے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سوا کسی اور کو نہ بخش۔ تو آپ نے فرمایا ”اے شخص، تو نے وسیع رحمت کو تنگ کر دیا۔“ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ یہ زیادہ بے وقوف یا گم راہ ہے یا اس کا اونٹ۔

صحیحین کی مشہور خبر ہے کہ ایک غزوہ میں آپ کے محبوب صحابی حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ ایک کافر پر تلوار اٹھاتے ہیں، کافر فوراً نعرۂ توحید بلند کرتا ہے، صحابی ممدوح اس کو اور اس کا بہانۂ حفاظت جان سمجھ کر اس پر تلوار کا وار کر دیتے ہیں اور وہ جان دے دیتا ہے۔ یہ واقعہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش مبارک تک پہنچتا ہے، جوش کا عالم پیدا ہو جاتا ہے، حضرت اسامہ کو زجر فرماتے ہیں۔ وہ عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ، اس نے اپنی جان بچانے کے لیے صرف زبان سے یہ کلمہ پڑھ دیا۔ آپ فرماتے جاتے تھے ’لا الہٰ الا اللّٰہ‘ کے بعد؟ مسلم میں ہے کہ آپ فرماتے تھے ’کیف تصنع بلا الہٰ الا اللّٰہ، لا الہٰ الا اللّٰہ‘ کو کیا کرو گے۔ ایک روایت میں ہے کہ فرمایا:

ہلا شققت عن قلبہ.

”تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھ لیا۔“

حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ اس وقت شرم اور ندامت سے میرا یہ حال تھا کہ میں دل میں کہتا تھا کہ کاش، میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا کہ مجھ سے ایسی حرکت نہ ہوئی ہوتی۔

صحیح بخاری میں ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو ایک جماعت کا سردار بنا کر بنو جذیمہ کے مقابلے میں بھیجا۔ ان کو اظہار اسلام کے اصطلاحی الفاظ معلوم نہ تھے، انھوں نے ’اسلمنا‘ (ہم اسلام لائے) کی جگہ ’صبونا صبونا‘ (ہم نے اپنے باپ دادا کا مذہب چھوڑا یا پرانا مذہب چھوڑا) کہا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے جو ایک فوجی آدمی تھے، ان کے قتل کا حکم دے دیا۔ بعضوں نے اس کی تعمیل کی اور بعضوں نے اس کی تعمیل سے انکار کیا کہ یہ حکم اصول اسلام کے خلاف ہے اور آ کر یہ واقعہ دربار رسالت میں عرض کیا۔ حضور نے یہ سنتے ہی دونوں ہاتھ اٹھائے اور متعدد دفعہ فرمایا: ”خداوند، میں خالد کے اس فعل سے تیرے آگے براء ت ظاہر کرتا ہوں، خداوند، میں خالد کے اس فعل سے تیرے آگے براء ت ظاہر کرتا ہوں۔“

حضرت مقداد فتویٰ پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر لڑائی میں کسی کافر سے مقابلہ آ پڑے اور وہ اپنی تلوار سے میرا ایک ہاتھ اڑا دے اور جب وہ میری زد میں آئے تو کہہ اٹھے کہ ”میں اسلام لایا۔“ تو کیا اس کے بعد اس کو قتل کر سکتا ہوں؟ فرمایا: نہیں، اب تم قتل نہیں کر سکتے۔ عرض کی، یا رسول اللہ اس نے میرا ایک ہاتھ اڑا دیا اور اس کے بعد یہ کلمہ پڑھا۔ فرمایا: نہیں، اب تم قتل نہیں کر سکتے کہ تمھارے قتل کرنے سے پہلے وہ تمھارے درجہ کے برابر ہو گیا۔ اب اگر تم اس کو قتل کرو گے تو تم اس درجہ میں ہو گے، جس میں وہ اس کلمہ کہنے سے پہلے تھا۔

اللہ اکبر! قتل مسلم خود کفر ہے۔

کون نہیں جانتا کہ مدینہ میں منافقین کی ایک جماعت تھی، جو دل سے مسلمان نہ تھی، مگر زبان سے اپنے کو مسلمان کہتی تھی۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک ایک کے نام و نشان سے واقف تھے۔ مسلمانوں کو ان سے تکلیفیں پہنچتی تھیں، لڑائیوں میں ان سے ان کو خطرہ تھا، جان نثار برابر ان کے قتل کی اجازت چاہتے تھے اور حضور انکار فرماتے تھے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ایک دفعہ ایک صحابی نے کسی سے پوچھا کہ مالک بن وخشن کہاں ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ وہ منافق ہے، خدا اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ایسا نہ کہو، تم نہیں کہتے کہ وہ خلوص کے ساتھ لا الہٰ الا اللہ کہتا ہے۔ صحابی مذکور نے کہا، کیوں نہیں۔ فرمایا: کوئی بندہ اس کو لے کر قیامت میں نہیں آئے گا، لیکن خدا اس پر دوزخ کی آگ حرام کر دے گا۔

یہ ان لوگوں کی نسبت اشارہ ہے جن کے عمل ان کے قول کے مطابقت نہیں کرتے۔

فتح مکہ کی تیاری کے زمانہ میں جب ایک بدری صحابی نے کافر قریش کو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارادہ کی خبر دے دی اور آپ کو ان کا یہ فعل معلوم ہو گیا اور ان کا خط پکڑا گیا تو حضرت عمر ان پر حکم لگا دیتے ہیں کہ یہ منافق ہیں۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اے عمر، ایسا نہ کہو، تمھیں کیا معلوم کہ خدا نے ان کے اس فعل کو جان کر اہل بدر کی نسبت یہ کہا ہو کہ میں نے تم کو بخش دیا۔

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نماز میں امام ہوتے اور بڑی بڑی سورتیں پڑھتے، ایک دن انھوں نے سورۂ بقرہ پڑھنی شروع کی، ایک مقتدی نے مختصر سورہ پڑھ کر اپنی نماز ختم کر لی اور چلے گئے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو انھوں نے کہا کہ وہ منافق ہے۔ ان بے چارے نمازی کو یہ معلوم ہوا تو دربار نبوت میں فریاد خواہ ہوئے اور عرض کی، یا رسول اللہ، ہم مزدور ہیں، اپنے ہاتھ سے کام کرتے ہیں اور خود اپنے اونٹوں کو پانی پلاتے ہیں، معاذ نے کل نماز پڑھائی توسورۂ بقرہ پڑھنے لگے تو میں نے مختصر نماز پڑھ لی۔ اس پر معاذ کہتے ہیں کہ میں منافق ہوں۔ حضرت نے معاذ کی طرف خطاب کیا کہ اے معاذ، کیا تم لوگوں کو آزمایش میں ڈالنا چاہتے ہو، کیا تم لوگوں کو آزمایش میں ڈالنا چاہتے ہو، کیا تم لوگوں کو آزمایش میں ڈالنا چاہتے ہو؟ والشمس اور سبح اسم ربک پڑھا کرو۔

ایک شخص کو جو اپنے کو مسلمان کہتا ہے، کافر کہہ دینا اتنا آسان نہیں، جتنا ہم نے سمجھ رکھا ہے۔ حدیث صحیح میں حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ایما رجل قال لاخیہ کافر فقد باء بہا احدہما. (بخاری)

”جس نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو یہ کلمۂ کفر دو میں سے ایک پر رجوع ہو گا۔“

یعنی اگر وہ حقیقت میں کافر نہ تھا تو مسلمان کو کافر کہنا خود اس کے کفر کو مستلزم ہے۔

حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ صحابی روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ولعن المومن کقتلہ ومن رمی مومنًا بکفر فہو کقتلہ. (بخاری)

”ایک مسلمان کو لعنت کرنا، اس کے قتل کے برابر ہے اور جس نے ایک مسلمان پر کفر کی تہمت رکھی تو وہ اس کے قتل کے برابر ہے۔“

اسلام میں خوارج کا فرقہ صحابہ اور سلف صالحین کے عہد میں پیدا ہو چکا تھا، ان سے لڑائیاں ہوئیں، اور خون ریزیاں ہوئیں، مگر انھوں نے ان کو کافر نہیں کہا، نہ ان کی بیویوں کو مطلقہ سمجھا، نہ ان کے مال و اسباب کو لوٹنا جائز قرار دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا یہ کافر ہیں؟ فرمایا: یہ تو کفر ہی سے (اپنے خیال کے مطابق) بھاگے ہیں، بلکہ متاخرین کے اقوال سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ صاحب ’’کتاب الروضہ‘‘ نے جیسا کہ فتح الباری میں ہے، اہل سنت میں سے اکثر اہل اصول کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ان کو شہادتین کے تلفظ اور ارکان اسلام کی بجا آوری کے باعث کافر نہیں کہا جائے گا۔ امام الحرمین سے کسی نے فتویٰ پوچھا تو انھوں نے جواب دیا: ”کسی کافر کو مسلمانوں میں داخل کرنا اور کسی مسلمان کو اسلام سے خارج کرنا بڑی بات ہے۔“ امام ابو بکر باقلانی نے ان کو کافر کہنے میں تامل کیا ہے اور فرمایا کہ ”قوم نے ان کی تکفیر کی تصریح نہیں کی ہے۔“ امام خطابی کہتے ہیں: ”تمام علماے اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ خوارج گم راہی کے باوجود مسلمان ہی کے فرقوں میں سے ایک فرقہ ہیں اور ان سے رشتۂ مناکحت اور ان کا ذبیحہ کھانا جائز ہے اور وہ جب تک اصول اسلام کو مانتے ہیں، ان کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ امام غزالی ”التفرقہ بین الاسلام والزندقہ“ میں لکھتے ہیں:

ینبغی الاحتراز عن التکفیر ما وجد الیہ سبیلاً فان استباحۃ دماء المصلین المقربین بالتوحید خطاء والخطا فی ترک الف کافر فی الحیاۃ اہون من الخطاء فی سفک دم لمسلم واحد.

”جب تک ممکن ہو اور راہ پیدا ہو سکے تکفیر سے احتراز کرنا چاہیے، کیونکہ نمازی اور توحید کے اقرار کرنے والوں کے خون کو مباح سمجھنا غلطی ہے اور ایک ہزار کافروں کو زندہ چھوڑ دینے میں غلطی کر جانا ایک مسلمان کے خون کو بہانے میں غلطی کرنے سے بدرجہا آسان ہے۔“

حزب الاحناف کی مجلس کے لیے ائمۂ احناف کے متفقہ فتوے یقینًا زیادہ موثر ہوں گے۔ ائمۂ احناف کہتے ہیں:

واعلم انہ لا یفتی بکفر مسلم امکن حمل کلامہ علی محمل حسن، او کان فی کفرہ خلاف ولو کان ذلک روایۃ ضعیفۃ… اذا کان فی المسئلۃ وجوہ توجب الکفر وواحد یمنعہ فعلی المفتی المیل لما یمنعہ. (شامی، باب حکم المرتد)

”جاننا چاہیے کہ کسی ایسے مسلمان کے کفر کا فتویٰ نہ دیا جائے جس کے کلام کے کوئی بہتر معنی بھی ممکن ہوں اور جس کے کفر کے بارہ میں اہل افتا میں اختلاف راے ہو، اگرچہ وہ فتویٰ ضعیف ہی روایت کیوں نہ ہو… جس کسی مسئلہ کے متعدد ایسے وجود نکل سکتے ہیں جن سے کفر واجب ہوتا ہے اور صرف ایک وجہ ایسی ہو جو کفر کو مانع ہو تو مفتی پر اسی مانع کفر وجہ کی طرف مائل ہونا واجب ہے۔“

اس عام فتویٰ سے یہ ظاہر ہوا کہ کسی مسلمان کے کلام سے اگر بعض ایسے معنی نکلے ہوں جو کفر کو مستلزم ہوں، لیکن اس کے ایسے معنی بھی نکل سکتے ہوں جن سے کفر لازم نہیں آتا تو اس کے کلام کو اسی مانع کفر معنی پر محمول کرنا چاہیے، خصوصاً جب یہ معلوم ہو کہ اس مشکوک کلام کے بعد بھی وہ نماز پڑھتا ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عقیدت رکھتا ہے، اسلام کی خدمتیں انجام دیتا ہے۔ تو اس قسم کے فتووں کی رکاکت اور بھی واضح اور ظاہر ہو جاتی ہے۔ یہ جزئیہ بھی کتب فتاویٰ میں مذکور ہے۔

حضرت امام محمد جو فقہ حنفی کی عمارت کی اصل بنیاد ہیں، اپنی کتاب ”آثار محمد“ میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر سے آ کر کسی نے فتویٰ پوچھا کہ یا ابا عبد الرحمٰن، یہ لوگ جو ہماری بند چیزوں کو چرا لے جاتے ہیں اور ہمارے دروازوں کو کھول ڈالتے ہیں، کیا وہ کافر ہیں؟ فرمایا: نہیں۔ پھر دریافت کیا کہ کیا یہ لوگ جو قرآن کے نئے معنی (تاویل) کرتے ہیں اور ہم کو کافر کہتے ہیں اور ہمارا خون حلال سمجھتے ہیں (یعنی خوارج) کیا یہ کافر ہیں؟ فرمایا: نہیں۔ اس نے تعجب سے پوچھا تو پھر کیونکر: ارشاد ہوا کہ نہیں، جب تک وہ خداے واحد کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔

یہ تھا ائمۂ احناف کا رویہ اور یہ ہے حزب الاحناف کا فتویٰ!