مواد پر جائیں

حیات ِامین

نعیم احمد بلوچ اردو

(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)

(14)

]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق

ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [

گذشتہ قسط میں بیان کیا جارہا تھا کہ مولانا منظور نعمانی جماعت اسلامی سے علیحدگی کے حوالے سے کیا موقف رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے بیان کیا تھا کہ جب انھیں معلوم ہوا کہ مولانا مودودی نے اپنے باورچی خانے میں ایک مرد کو کام کرنے کی اجازت دے رکھی ہے اور اس کا زنان خانے سے پردے کا کوئی اہتمام نہیں ہے تو وہ بہت حیران اور ششدر رہ گئے۔ اس سے انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کم از کم ظاہری معاملات میں مولانا مودودی اس تقویٰ کو برقرار رکھنے میں ناکام ہوئے ہیں جن کا انھیں اہتمام کرنا چاہیے تھا۔ اپنے احساسات بیان کرتے ہوئے وہ مزید لکھتے ہیں :

’’یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ میرے سامنے اس وقت یہ مسئلہ نہیں تھا کہ مولانا مودودی امارت کے اہل نہیں ہیں، لہٰذا انہیں امارت سے الگ ہو جانا چاہیے یا کہ مولانا مودودی کی بعض کم زوریوں کی وجہ سے جماعت میں شرکت اور رکنیت اب جائز نہیں رہی ہے، بلکہ میرے سامنے اصل مسئلہ اس وقت صرف اپنی ذات کے متعلق یہ تھا کہ مولانا کے بارے میں بار بار ایک شہادت دے چکا ہوں اور اب مجھے معلوم ہوا کہ میری وہ شہادت صحیح اور واقعے کے مطابق نہیں تھی۔ایسی حالت میں اگر میں بدستور جماعت کا رکن رہتا ہوں تو گویا اس عمل سے مسلسل وہ شہادت دیتا ہوں جو اب میرے علم میں سچی شہادت نہیں ہے۔بس یہ تھی میری اصل مشکل جس کا کوئی حل میری سمجھ میں نہیں آرہا تھااور کوئی فیصلہ نہ کر سکا۔ اس کے علاوہ بعض اور چیزیں بھی اس احساس میں شامل ہو گئی تھیں، لیکن وہ اس درجے کی نہیں تھیں۔ سب سے اہم اور بنیادی چیز یہی تھی کہ جماعت اسلامی کے دائرے سے باہر جو علم اور اصحاب جو اہل علم اور صاحب بصیرت میرے اکابر یا احباب تھے، ان کے متعلق میں سمجھتا تھا کہ اگر ان سے مشورہ کروں تو جماعت کی اہمیت اور قدر و قیمت اور اس کے مقاصد کی بلندی سے پوری طرح واقف نہ ہونے کی وجہ سے وہ صحیح راے نہیں قائم کر سکیں گے۔ اس لیے میں نے اس معاملے میں مشورہ حاصل کرنے کے لیے جماعت کے اندر ہی کہ دو صاحب علم منتخب کیے: ایک مولانا امین احسن اور دوسرے مولانا سید ابو الحسن ندوی۔میں نے اس پیش آمدہ مشکل کے بارے میں ایک مفصل خط لکھ کر رجسٹری سے مولانا امین احسن اصلاحی کے نام اس وقت ان کے مستقر ’’مدرستہ الاصلاح‘‘ سرائے میر کے پتے پر روانہ کیا اور اس میں ان سے اصرار کے ساتھ گزارش کی کہ آپ اس خط کے ملنے کے بعد جلد سے جلد مولانا علی میاں کے پاس جائیں اور دونوں صاحب غور و فکر کے بعد مجھے مشورہ دیں کہ اس صورت میں کیا میرے لیے شرعا ًاس کی کوئی گنجایش ہے کہ میں خاموشی کے ساتھ اسی طرح جماعت میں رہوں اور میرے حق میں یہ معصیت نہ ہو یا ایسی حالت میں میرے لیے یہ ضروری ہے کہ میں اپنی بے اطمینانی ظاہر کر کے جماعت سے بے تعلقی اختیار کر لوں؟ میں نے یہ خط رجسٹرڈ روانہ کیا اور جواب بھی رجسٹرڈ مانگا تھا۔ امید تھی کہ ہفتہ تک اس کا جواب مجھے مل جائے گا، لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ مجھے یاد ہے کہ وہ دن مجھ پر کتنے سخت گزرے اور میں ان دونوں راتوں میں کتنا رویا۔میں محسوس کرتا تھا کہ میں سخت آزمایش میں ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے ایمان اور میری خدا پرستی کا امتحان ہے۔ بعض وقت سوچتا تھا کہ جب یہ بات کھل کر سامنےآگئی ہے کہ مولانا مودودی کے بارے میں میرا اظہار اطمینان اور میری شہادت صحیح اطلاع پر مبنی نہیں تھی تو مجھے اپنے آپ کو اس سلسلے سے فوراً الگ کر کے شہادت کی ذمہ داری سے نکل آنا چاہیے اور اس بارے میں طبیعت میں جو توقف اور تامل ہے، وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگ بے وقوف نہ بنائیں۔ بعض وقت سوچتا کہ اگر میں نے علیحدگی اختیار کی اور اپنی بے اطمینانی کا اظہار کیا تو ایک ایسی اسلامی دعوت اور جماعت کو نقصان پہنچے گا جس کو مولانا مودودی کی ان کم زوریوں کے باوجود بھی اس وقت کی بہترین اسلامی دعوت اور جماعت سمجھتا ہوں، جس کے نقصان کو دین کا نقصان سمجھتا ہوں۔ان دنوں اور ان راتوں میں میں مسلسل دعا اور استخارہ بھی کرتا تھا۔جب دس بارہ دن گزر گئے اور میرے خط کا کوئی جواب نہ آیا تو میں نے مناسب سمجھا کہ یہاں کے مقیم رفیقوں میں سے مستری محمد صدیق صاحب سے اپنا راز کھول دوں اور انھی سے مشورہ لوں۔ میں ان کو مرد مومن اور مثالی درجے کا مخلص اور متقی جانتا تھا۔

جواب نہ آنے کا سبب بعد میں خود مولانا امین احسن اصلاحی سے یہ معلوم ہوا کہ ٹھیک انھی دنوں اگست 1942 ءکی کانگرس کی تحریک کوئٹ انڈیا ( ہندستان چھوڑ دو )نے مشرقی یو پی میں ریلوے کے نظام کو درہم برہم کر دیا تھا۔اعظم گڑھ کی طرف غالباً کئی ہفتے ٹرین نہیں چل سکی تھی اس لیے وہ خط ان کو ہفتوں کے بعد ملا۔ ‘‘

( مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سرگزشت اور اب میرا موقف56 )

ہندستان چھوڑ دو تحریک کا پس منظر

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس وقت کے سیاسی حالات کا ایک طائرانہ جائزہ لیا جائے۔

مولانا منظور نعمانی نے ضمناً جس تحریک کا ذکر کیا ہے، اس کے بارے میں جانے بغیر ہم تقسیم ِہند کی حقیقت کو نہیں جان سکتے۔ ہم یہاں بہت اجمالاً اس کا تعارف کراتے ہیں۔

یہ تحریک جنگ عظیم دوم کے آغاز کے اس وقت شروع ہوئی جب انگریز حکومت نے کانگرس کو اس جنگ میں ہندستان کے عوام کو اتحادی فوجوں کا ساتھ دینے کے لیے کہا۔ کانگرس نے اس کے لیے شرط رکھی کہ برصغیر کے عوام سے تحریراً یہ معاہدہ کیا جائے کہ فتح کی صورت میں وہ ہندستان کو آزاد کر دیں گے اور حکومت منتخب پارلیمنٹ کے سپرد کی جائےگی۔ یاد رہے کہ اس زمانے میں ہندستان کے گیارہ صوبوں میں سے کانگرس کی آٹھ صوبوں میں حکومت تھی۔ یہ صوبائی حکومت تھی جس میں انھیں محدود سطح پر اختیارات دیے گئے تھے۔ انگریز حکومت نے جب گانگرس کا یہ مطالبہ رد کر دیا تو انھوں نے حکومت سے مستعفی ہو کر اس کے خلاف ایک متوازی حکومت کا اعلان کر دیا۔ اس پر برٹش راج نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور تمام گانگرسی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔ اس کے جواب میں کانگرس کی قیادت نے ’’ہندستان چھوڑ دو‘‘ ( کوئٹ انڈیا ) کی تحریک شروع کی۔ اس تحریک نے پورے ہندستان کو ہلا کر رکھ دیا۔ انگریز وائسرائے نے اسے 1857ء سے بھی بڑی بغاوت قرار دیا۔اس تحریک میں مسلم لیگ اور ہندو مہاسبھا نے انگریز حکومت کا ساتھ دیا تھا۔ دستاویزات کے مطابق اسی تحریک کے دوران میں برٹش حکومت کو احساس ہوا کہ وہ ہندستان پر مزید حکومت نہیں کر سکیں گے۔ ہماری راے میں اسی حمایت پر مسلم لیگ کو 23 مارچ 1940ء کے لاہور کے جلسے میں ہندستان کو تقسیم کرنے کی قرارداد پاس کرنے کی اجازت دی گئی۔ یاد رہے کہ یہ قرارداد مسلم لیگی رہنما اور برٹش حکومت کے ہر انٹر نیشنل فورم کے نمایندے سر محمد ظفراللہ خاں نے ڈرافٹ کی تھی۔ انھیں اس کام میں حکومتی پالیسی ساز لوگوں کی مدد اور اشیر باد حاصل تھی۔ یہ اب ایک معلوم تاریخی حقیقت ہے اور ہر قابل ذکر تاریخی کتاب میں درج ہے کہ اس ڈرافٹ کو وائسرائے کی منظوری کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح کو بھجوایا گیا تھا۔ اور اسے ہی جلسے میں منظور کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ سر ظفر اللہ احمدی فرقےسے تعلق رکھتے تھے۔ اس زمانے میں احمدی، مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ سمجھے جاتے تھے۔ اور سرظفراللہ قائد اعظم محمد علی جناح کی خصوصی دعوت پر پاکستان کے پہلے وزیر داخلہ بنے تھے۔ وہ اقوام متحدہ سے لے کر ہر عالمی سطح کے فورم پر پاکستان کی نمایندگی کرتے رہے۔ احمدیوں کی تکفیر اور عوام کے پرزور احتجاج اور مطالبے کے باوجود مسٹر ظفراللہ کو ہر پاکستانی حکومت کی حمایت حاصل رہی۔ 1958ء میں انھوں نے سعودی حکومت کی دعوت پر عمرہ اور پھر 1967ء میں حج بھی ادا کیا۔

مولانا منظور نعمانی کا جماعت سے استعفا

اس کے بعد کے حالات سے واضح ہوتا ہے کہ مولانا منظور نعمانی کا عدم اطمینان کم نہ ہو سکا، بلکہ بعض دوسرے احباب جس میں مستری صدیق صاحب خود شامل تھے، جماعت سے علیحدہ ہو گئے تو انھوں نے آخر کار جماعت اسلامی سے استعفے کا فیصلہ کر لیا، لیکن اسے عملی شکل دینے سے قبل انھوں نے ایک آخری کوشش کی۔ وہ یہ کہ مولانا مودودی صاحب کو ایک دستی خط لکھ دیا اور اپنے تمام تحفظات اور فیصلے کا ذکر کیا۔ لیکن ان کے مطابق ان کو اس کا تشفی جواب نہ ملا۔ تب انھوں نے اپنے ماہنامے میں جماعت اسلامی سے علیحدگی کا اظہار ان الفاظ میں کیا :

’’احباب کرام کو معلوم ہے کہ اب سے پونے دو سال پہلے سید ابوالاعلیٰ مودودی کے زیر قیادت و امارت جو ایک جماعت بنی تھی یہ عاجز مدیر ’’الفرقان‘‘بھی اس میں شریک تھا اور اس جماعت کی دعوت اور مقاصد کی توضیح و تشریح کے سلسلے میں ’’الفرقان‘‘ میں بھی کافی لکھا تھا۔ پھر یہ عاجز جماعت کے موجودہ مرکز و مستقر بستی دارالاسلام ہی میں چلا بھی گیا تھا اور خیالات و عزائم اس سلسلے میں اس سے کچھ آگے بھی تھے۔ بعض خاص احباب کو جن کا کچھ علم بھی ہے، لیکن دوسرے سے شکوہ نہیں، اپنے ہی حرماں نصیبی کا گلا مند ہوں کہ اس مرحلے ہی میں بعض ایسے خلاف ِتوقع امور سامنے آئے کہ جس اطمینان اور جن امیدوں اور جن اندازوں کی بنا پر میں نے اس نظام سے وابستگی اختیار کی تھی اور اپنے حق میں یہ فیصلہ کیا تھا، ان میں میرے لیے فرق آگیا اور مجھے اپنے معاملات پر نظر ثانی کرنا ناگزیر معلوم ہوا۔ پھر جتنا غور و فکر میرے لیے ممکن تھا، میں نے اپنی دانست میں اس سے پورا کام لینے کے بعد اس نظام ِجماعت سے اپنے آپ کو علیحدہ کر لینا ضروری سمجھا۔اور بالآخر دلی رنج و قلق کے ساتھ اپنے آپ کو الگ ہی کر لیا۔

غلط فہمی نہ ہو، میری علیحدگی کسی اصولی اختلاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کا باعث دراصل کچھ شخصی قسم کی چیزیں ہوئی ہیں، جن کے باوجود وابستہ رہنا میں نے اپنے لیے صحیح نہیں سمجھا اور ان کا کوئی اطمینان بخش اصلاحی حل بھی نہیں پا سکا۔ نیز میری یہ علیحدگی صرف اس مخصوص نظام ِ جماعت سے ہے۔ یعنی اب میں اس کا باضابطہ رکن نہیں رہا ہوں، مگر اس کے بنیادی مقصد اور اس کی اصل دعوت کو پہلے ہی کی طرح صحیح سمجھتا ہوں۔ اس لیے اگرچہ جماعت اسلامی کی باضابطہ شرکت اس کی ذمہ داریوں سے میں سبک دوش ہو چکا ہوں، لیکن پھر بھی اس کے اصل مقصد کے تحت میری وابستگی ویسے ہی ہے کہ میں اللہ پاک سے اس راہ میں جدوجہد کی بے شک توفیق مانگتا ہوں۔ نیز باضابطہ تعلق کے بغیر اگر مقصد میں کوئی مدد دے سکا تو ان شاءاللہ تعالیٰ اب بھی بہ قدر امکان ووسعت ’’ نصح ِ دینی‘‘ اور’’تعاون الیٰ لخیر‘‘سے دریغ نہ ہوگا۔‘‘

(مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سرگزشت اور اب میرا موقف 68-70)

یہ الفاظ بہت واضح ہیں کہ مولانا منظور نعمانی کا جماعت سے علیحدگی کا فیصلہ کوئی نظریاتی نہیں تھا۔ چنانچہ اس کے بعد ایک عرصہ تک وہ خاموش رہے۔ اور جہاں کہیں بھی جماعت اسلامی یا مولانا مودودی پر تنقید ہوتی، وہ جماعت ہی کی حمایت کرتے۔ لیکن یہ رویہ زیادہ عرصہ قائم نہ رہا۔ اس دوران میں دیوبند ی علما سمیت دوسرے ناقدین نے جماعت اسلامی اور مولانا مودودی پر تنقیدات لکھیں۔ بعض مضامین مولانا منظور نعمانی نے بھی لکھے۔

مولانا اصلاحی نے دیوبندی علما کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ’’ترجمان القرآن‘‘ میں ایسی تمام تنقیدات کا زور دار محاسبہ کیا۔ پہلے پہل یہ ساری تنقیدات محض تاثراتی، الزامی اور بد گمانی پر مشتمل تھیں۔ جب انھی تنقیدات میں مولانا منظور نعمانی نے بھی اپنی آواز ملائی تو مولانا اصلاحی نے ان پر بھی سخت تنقید کر دی۔ اس پر مولانا نعمانی نے انھیں ایک تفصیلی خط لکھ کر واضح کر دیا کہ وہ ابھی تک اسی جگہ کھڑے ہیں جو انھوں نے استعفے کے وقت بیان کیاتھا۔ انھیں جماعت سے کوئی نظریاتی اختلاف نہیں ہے۔ اس کے بعد دونوں دوستوں میں خط کتابت ہوئی اور غلط فہمیاں دور ہوگئیں۔

مگر پھر کچھ برسوں کے بعد ایک وقت ایسا آیا کہ مولانا منظور نعمانی کو مولانا مودودی کی پوری فکر سے اختلاف ہو گیا۔ انھیں یہ اختلاف مولانا مودودی کی معرکۃ الآرا کتاب ’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحات‘‘سے ہوا۔ انھوں نے اس پر زور دار تنقید لکھی۔ تنقید کا اختتام انھوں نے ان الفاط میں کیا:

’’واضح رہے کہ دین کی ان بنیادی اصطلاحات اور عقیدۂ توحید کی اس نئی سیاسی تشریح سے دین میں جو گہری معنوی تحریف اور اس کی روح و حقیقت اور اس کے فلسفے میں جو غیر معمولی تبدیلی ہو جاتی ہے اور اس کا نصب العین تک بدل جاتا ہے، اس پر راقم ِ سطور نے یہاں بالکل گفتگو نہیں کی ہے کیونکہ بعض دوسرے حضرات اس موضوع پر بہ قدرِ کفایت لکھ چکے ہیں۔ خاص کر مولانا وحید الدین خان صاحب نے اپنی کتاب ’’دین کی سیاسی تعبیر‘‘ میں اس پر جو روشنی ڈالی ہے وہ قلب سلیم رکھنے والوں کے لیے کافی ہے۔ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ان شاءاللہ آیندہ کسی وقت راقم ِ سطور بھی اس پر تفصیل سے لکھے گا۔‘‘

(مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سرگزشت اور اب میرا موقف 97)

[باقی]