مواد پر جائیں

خدا کی رزاقیت اور بچوں کی پیدایش

ڈاکٹر عرفان شہزاد اردو

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

رزق کے مفہوم میں وہ تمام ضروریات شامل ہیں جن کے بغیر زندگی ممکن اور سہل نہیں ہوتی۔ رزق کا معاملہ بھی آزمایش کی اسی اسکیم کے تحت ہے، جس کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے دنیا کوتخلیق کیا ہے۔ قسمت اور کوشش کے باہمی تعامل سے کیا نتائج مرتب ہوں گے، اس کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔ انسان کی ہر کوشش بار آور ہوتی ہے اور نہ قسمت کی یاوری کاکوئی مستقل قاعدہ ہے۔اللہ کی مدد اپنی حکمت کے تحت شاملِ حال ہوتی ہے تو انسان کامیاب ہو جاتا ہے،اُسی حکمت کا تقاضا ہو تو نتائج حسبِ توقع نہیں نکلتے۔

قرآن مجید کی ایک آیت سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کی وہ کوشش کرے، چنانچہ خدا پر بھروسا کرتے ہوئےمحنت کی جائے تو مثبت نتیجہ ضرور نکلتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان، درحقیقت، نیک و بد اعمال کے اخروی نتائج سے متعلق ہے۔ اس آیت کو اس کے سیاق و سباق میں دیکھیں تواس کا یہ مفہوم از خود واضح ہو جاتا ہے:

أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ. ‎وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ. ‎وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ .‏ ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ.

(النجم53: 38-41)

’’یہ کہ کوئی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور یہ کہ انسان کو آخرت میں وہی ملے گا جو اُس نے دنیا میں کمایا ہےاور یہ کہ جو کچھ اُس نے کمایا ہے، وہ عنقریب دیکھا جائے گا،پھر اُس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔‘‘

قرآن مجید کی ایک آیت سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب جان داروں کے رزق کا ذمہ اٹھایا ہوا ہے، اس لیے سب کوان کا رزق ملے گا۔

آیت یہ ہے:

وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ.

(ھود 11: 6)

’’زمین پر چلنے والا کوئی جان دار نہیں ہے، جس کی روزی اللہ کے ذمے نہ ہو۔ اور وہ اُس کے ٹھکانے کو بھی جانتا ہے اور اُس جگہ کو بھی جہاں وہ (مرنے کے بعد زمین کے) سپرد کیا جائے گا۔ یہ سب ایک کھلی کتاب میں درج ہے۔‘‘

مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نےتخلیقِ رزق کو اپنی ذمہ داری بتایا ہے، ترسیلِ رزق کی ضمانت نہیں دی، یعنی اس نے جو بھی جان دار پیدا کیے، ان کا رزق بھی پیدا کیا ہے، مگر ہر ہر جان دار کو اس کی ضرورت کے رزق کی ترسیل بھی ہوگی، اس کا ذمہ نہیں لیا۔

قرآن مجید کی جس آیت سےاللہ تعالیٰ کی طرف سے ترسیلِ رزق کے بھروسے پر بے دریغ اولاد پیدا کرنے کا استدلال کیا جاتا ہے، درحقیقت وہی آیت اس فہم کی نفی کرتی ہے۔

آیت یہ ہے:

وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا. (بنی اسرائیل 17: 31)

’’تم لوگ اپنی اولاد کو مفلسی کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم اُنھیں بھی روزی دیتے ہیں اور تمھیں بھی۔ اُن کا قتل یقیناً بہت بڑا جرم ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کا یہ ارشا د کہ ’’ہم اُنھیں بھی روزی دیتے ہیں اور تمھیں بھی‘‘، ان مفلس والدین کو مخاطب کرتا ہے جن کی تنگ دستی انھیں اپنے جگر پاروں کو قتل کر دینے پر مجبور کر دیتی ہے۔یہ والدین خود بھی کسی کی اولاد ہی ہوتے ہیں، مگر ان کو بہ قدرِ ضرورت رزق نہیں ملتا۔

اس آیت کا درست مفہوم یہ ہے کہ وہ بچے جو دنیامیں وارد ہو چکے، انھیں اب مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کیا جائے۔ یہ ایک بڑا جرم ہے۔ جیسی کچھ روزی والدین کو ملتی ہے، انھیں بھی مل سکتی ہے۔ ان کی قسمت کا فیصلہ اب قدرت پر چھوڑ دیا جائے۔

اولاد کی پیدایش کے بعد خدا نخواستہ آدمی وسائل سے تہی ہو جائے تو الگ بات ہے، لیکن وسائل کی کم یابی کے باوجود اپنی استطاعت سے زیادہ بچے پیدا کرنا کوئی معقول بات نہیں۔ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے جاتے ہیں۔ وسائل دیکھ کر ہی بچوں کی پیدایش کا ارادہ باندھنا چاہیے۔ مفلسی میں بچے پیدا کرنا، انھیں اپنی تکلیفوں میں شامل کر لینا ہے۔ اپنا پیٹ کاٹ کر اولاد کو پالنا ایسے والدین کا اولاد پر کوئی احسان نہیں، بلکہ اپنی مجرمانہ غفلت کی تلافی کی ناکافی کوشش ہے۔

مفلسی کے ہاتھوں نامناسب خوراک اور علاج معالجہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے بچوں کو موت کی نذر کرنا قتلِ اولاد کا وہی جرم ہے جس سے منع کیا گیا ہے۔ یہ بچے اپنےوالدین کی نادانی کے مقتول ہیں۔ خدا کے ہاں ہر ظلم کا حساب دینا ہوگا۔

معاشی نا ہمواری میں بہتری لانے میں جب تک کامیابی نہیں مل جاتی، زیادہ بچے پیدا کرکے بچوں اور معاشرے کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنا کوئی معقول طرز عمل نہیں۔ محنت کشوں کو کم تر اجرت پر مجبور کرنا اسی لیے ممکن ہوتا ہے کہ مزدور کی رسد اس کی طلب سے زیادہ ہے۔

غربت کی چکی میں پسنے والے لاکھوں کروڑوں غریب بچوں میں سے چند ایک کی قسمت اگر چمک اٹھتی ہے تو اسے بہ طور مثال پیش کرنا کہ خدا چاہے تو یوں بھی ہو سکتا ہے، اس لیے زیادہ بچے پیدا کرنے میں تردد نہیں کرنا چاہیے، محض سادہ لوحی ہے۔ دنیا کے عام معمول کے مطابق لاکھوں کروڑوں مفلسوں کے ہاں کوئی چمت کار نہیں ہوتا۔ خوش حالی سے بد حالی میں مبتلا ہو جانے والوں کی ان گنت مثالیں بھی موجود ہیں، ان سے عبرت کیوں حاصل نہ کی جائے؟ منفرد اور غیر معمولی واقعات سے عمومی کلیے نہیں بنائے جاتے۔ افراد کی اکثریت کو عمومی حالات ہی پیش آتے ہیں۔ چمت کار کی امید پر کوئی کام نہیں کیا جاتا، چہ جائیکہ جیتے جاگتے انسانوں کو پیدا کرنے کا سنجیدہ کام ایسی غیر سنجیدگی سے کر لیا جائے۔

کسی بھی دوسری شے کے مقابلے میں انسان سب سے زیادہ اس کا مستحق ہے کہ اس کی پیدایش کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی جائے۔ اس کے بعد خدا پر بھروسا کیا جائے۔خدا پر توکل کا یہی درست طریقہ ہے۔