مواد پر جائیں

حیات ِامین

نعیم احمد بلوچ اردو

(سوانح مولانا امین احسن اصلاحی)

(15)

]صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کی وصیت کے مطابق

ان کے سوانح نگار نعیم احمد بلوچ کے قلم سے [

پچھلے صفحات میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مولانا اصلاحی کی جماعت اسلامی میں شمولیت کی وجہ مولانا منظور نعمانی کا اصرار تھا۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ مولانا کا مزاج کسی سیاسی یا دینی جماعت سے وابستہ رہ کر کام کرنے کا نہیں تھا۔ اگر مدرستہ الاصلاح میں ان کے لیے حالات سازگار ہوتے تو وہ کبھی بھی جماعت میں شامل نہ ہوتے۔ان کا جماعت میں شامل ہونا گویا ایک فرار تھا۔ پھر مولانا مودودی نے ان کا جس طرح سے اکرام کیا، وہ بھی ان کی جماعت میں شمولیت کا باعث بنا۔ نہ صرف اکرام، بلکہ ان کے ساتھ کچھ اس طرح کی نیاز مندی استوار کی کہ مولانا اصلاحی اپنی خواہش کے بالکل خلاف جماعت میں نہ صرف شامل ہو ئے، بلکہ ان کی حیثیت جماعت اسلامی میں ریڑھ کی ہڈی کی تھی۔

مولانا مودودی اچھی طرح جانتے تھے کہ امین احسن کی جماعت اسلامی میں شمولیت جماعت کے علمی قدو قامت میں اضافے کا باعث ہوگی۔ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ وہ جب تک جماعت میں رہے، علمی محاذ انھی کے پاس رہا۔ جماعت سے وابستگی کے دوران میں انھوں نے دو طرح کے علمی کام کیے: ایک جماعت پر ہونے والی علمی تنقیدات کا جواب اور دوسرا قرآنی موضوعات پر علمی مقالے۔ہم ان صفحات میں ان دونوں کاموں کی تفصیل کریں گے۔

یاد رہے کہ اس عرصے میں ان سے وہ تحقیقی کام چھوٹ گیا جو وہ مدرستہ الاصلاح سرائے میر میں کر رہے تھے۔ اس کا مولانا کو بہت قلق تھا۔ اس قلق کااظہارانھوں نے اس وقت کیا جب وہ جماعت اسلامی سے علیحدہ ہوئے اور اسی مقام پر ہم اس کی تفصیل بیان کریں گے۔ سر دست ہم جماعت سے وابستگی کے دوران میں ان کے علمی کاموں کا تعارف حاصل کرتے ہیں۔

جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کا دفاع

جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ جماعت اسلامی کی تاسیس کے بالکل بعد ہی مولانا منظور نعمانی اور مولانا ابوالحسن علی ندوی بعض احباب کے ساتھ جماعت سے علیحدہ ہو گئے۔ ابتدا میں تو یہ بزرگ نہ صرف خاموش رہے، بلکہ اس کا اظہار بھی کرتے رہے کہ ہمیں جماعت اسلامی سے کوئی اصولی اختلاف نہیں۔ اس کا ذکر پچھلے صفحات میں ہو چکا ہے، لیکن جب دیوبندی مکتب فکر کے لوگوں نے جماعت اسلامی پر الزامی اور تاثراتی قسم کی تنقیدات کیں تو مولانا منظور نعمانی نے ان تنقیدات میں اپنا وزن بھی ڈال دیا۔ اس موقع پر مولانا اصلاحی نے ’’ترجمان القرآن‘‘ میں ’’نئی فردِ قرار دادِ جرم‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا۔ 64 صفحات پر مشتمل یہ مقالہ ایک خاصے کی چیز ہے۔ یہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے شمارہ نومبر 1951ء میں شائع ہوا۔

اس مضمون کی سختی کے بارے میں مولانا سے جب سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا:

’’دیکھیے میں بنیادی طور پر ادب کا طالب علم ہوں اور ادب کے ذریعے سے قرآن تک پہنچا ہوں۔ ادب میں تجربے اور مشاہدے کو ٹھیک ٹھیک بیان کرنے کے لیے بعض اوقات الفاظ کے روایتی سانچے ساتھ نہیں دیتے۔اس لیے غیر معمولی انداز یا روایت سے ہٹ کر کوئی اسلوب اختیار کرنا پڑتا ہے تاکہ بڑے سے بڑا مضمون مختصر الفاظ میں جملے کا روپ اختیار کر لیں۔ اس کے لیے کبھی تو مسجع و مقفع انداز اختیار کرنا پڑتا ہے اور کبھی ایک یا دو سخت الفاظ بھی مضمون کا احاطہ کر لیتے ہیں۔ ‘‘ ( عالمی ترجمان القرآن، اپریل 2013، 64 )

اس مضمون کے حوالے سے دسمبر 1976 ء میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی سلیم منصور خالد نے ان سے کچھ سوالات کیے تھے۔ ان کے جواب میں مولانا اصلاحی نے فرمایا تھا :

’’ میں نے مولانا مودودی کے دفاع میں جو تحریر لکھی، اس پر آج میرا موقف کیا ہے؟ تو اس سلسلے میں دو چیزیں ذہن میں رکھیے۔ پہلی بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کے خلاف جب پے در پے مضامین شائع ہوئے تو ان خلافِ واقعہ باتوں کا جواب دینے کے لیے کسی کے کہنے یا توجہ دلانے پر نہیں، بلکہ سراسر اپنے ذاتی ارادے سے میں نے دو تین مضامین لکھے، جن کی جانب آپ نے اشارہ کیا ہے۔ ایک مضمون تو میں نے اپنے دوست مولانا محمد منظور صاحب نعمانی کے مضمون پر لکھ کر ’’ترجمان القران‘‘ میں اشاعت کے لیے دیا تو مودودی صاحب اسے بعینہ ٖ شائع کرنے میں متردد تھے۔ انھوں نے کہا کہ اس کی شدتِ بیان کو نرم کرنا پڑے گا۔ میں نے کہا : آپ مدیر ہیں، مناسب حد تک اپنا اختیار استعمال کر لیں۔ مودودی صاحب نے میری اس تحریر کو اتنا نرم بنا دیا کہ اس پر میں نے انھیں کہا کہ اب آپ اسے اپنے ہی نام سے شائع کیجیے، لیکن بنیادی مضمون تو بہرحال میرا تھا۔ اس لیے ادارتی تدوین کے بعد وہ میرے ہی نام سے شائع ہوا۔

اس موقع پر یہ حقیقت مجھ پر واضح ہوئی کہ مودودی صاحب اپنے دفاع کے بارے میں نہ تو متفکر ہیں اور نہ اس کے حریص ہیں، بلکہ بے نیاز ہیں۔کوئی اور ہوتا تو اس تحریر پر کئی بار ممنونیت کا اعتراف کرتا، لیکن مولانا مودودی نے مضمون شائع کرنے کے بعد ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ آپ نے بہت خوب لکھا۔بس ایک مضمون انھیں ملا اور انھوں نے شائع کر دیا۔دوسری بات یہ ہے کہ یہ دفاع میں نے مولانا مودودی کا نہیں کیا، بلکہ اپنا دفاع کیا تھا۔ وہ تنقید میرے امیر جماعت پر ہوئی تھی۔ دوسروں کے بارے میں تو میں کہہ نہیں سکتا، لیکن جب تک میں جماعت میں رہا ہوں، جماعت کی امارت کے لیے میں نے ہر بار اپنی رائے انھی کے حق میں دی تھی۔ اس لیے میری غیرت یہ گوارا نہیں کر سکتی تھی کہ میرے امیر پر کوئی بے بنیاد الزام تراشی کرے اور میرا قلم گواہی دینے کے بجائے خاموشی اختیار کیے رہے۔ اس لیے دراصل یہ میں نے ان کا نہیں، بلکہ اپنا دفاع کیا اورآج بھی اپنے اس جواب پر قائم ہوں۔‘‘( عالمی ترجمان القرآن، اپریل 2013، 67)

مولانا فرماتے ہیں کہ اس مضمون کو مولانا مودودی نے بہت نرم کر دیا تھا اور اس پر وہ شکوہ کناں ہوئے تھے، لیکن ہم اس مضمون کے بعض اقتباسات یہاں درج کرتے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصل مضمون میں مولانا کی تحریر کی کاٹ کیا ہو گی !

یہ مضمون مولانا منظور نعمانی نے اپنے ذاتی رسالہ ماہنامہ ’’فرقان‘‘ لکھنؤ بابت ماہ ذی قعدہ 1370 ھ میں تحریر کیا تھا۔ اس مضمون میں مولانا نعمانی نے پہلا اعتراض یہ کیا تھا کہ جماعت اسلامی کا لائحۂ عمل دنیا دار قسم کے لوگوں کی تحریکات سے ما خوذ ہے۔ اور ساتھ ہی انھوں نے یہ لکھا کہ ایسا ’’احساس‘‘ ان کا نہیں، بلکہ بعض ایسے لوگوں کا ہے جن پر انھیں اعتبار ہے اور وہ خود اس طرح کی مادی تحریکات سے واقف نہیں ہیں۔ اس کے جواب میں مولانا اصلاحی نے لکھا :

’’ اگر مولانا نے اس معاملے میں دوسروں کا احساس مستعار لینے کی ضرورت اس لیے محسوس کی کہ وہ خود وقت کی مادیت اور مادی تحریکوں سے براہ راست واقف نہیں ہیں تو میں اس بات پر ان کو ضرور داد دوں گا کہ انھوں نے جس پہلو سے اپنے اندر کمی محسوس کی دوسروں کی مدد سے اس کی تلافی کی کوشش فرمائی، لیکن ساتھ ہی میں ان کو اس امر واقعہ سے بھی آگاہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان کے اہل بصیرت رہنماؤں نے ان کی بڑی غلط رہنمائی کی ہے اور اس کی دو ہی وجہیں ہو سکتی ہیں: یا تو انھوں نے دیدہ ودانستہ مولانا کی ’’نیکی‘‘ سے فائدہ اٹھا کر ان کو جماعت اور جماعت کے لٹریچر سے بدگمان کرنا چاہا ہے یا پھر اسلام اور وقت کی مادیت اور مادی تحریکات، ہر چیز سے وہ خود بالکل نابلد ہیں اور انھوں نے مولانا کے حسنِ اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ان کو اندھی راہ دکھانے والوں کی طرح بالکل غلط راہ دکھائی ہے اور پھر ان سے بڑی غلطی خود مولانا کی ہے۔ اس قماش کے لوگوں نے جو کچھ کہہ دیا، اس کو انھوں نے صرف باور ہی نہیں کیا، بلکہ بے تکلف جماعت اسلامی کی فہرستِ جرائم میں اس کو جرم نمبر ایک کی حیثیت سے درج بھی فرما دیا اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بات ان کو یاد نہ آئی کہ ’كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا، أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ‘، یعنی ’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔‘‘ یہ انھیں اپنے ’’راویوں‘‘ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ جماعت اسلامی نے ان مادی تحریکوں سے کیا چیز لی ہے ؟ عقائد و نظریات اور اصول لیے ہیں یا وسائل اور تدابیر۔ اگر وہ کہتے کہ پہلی چیز لی ہے تو اس کی کم از کم کوئی ایک ہی نظیر ان سے دریافت کرنی چاہیے تھی۔ اگر وہ کہتے کہ دوسری چیز ہے تو پھر پوچھنا چاہیے تھا کہ اس میں جو کچھ لیا ہے، وہ مباہات کے قبیل سے ہے یا مکروہات و محذورات کے قبیل سے؟ اگر مباحات میں سے ہے تو ظاہر ہے کہ اس طرح کی کوئی چیز دوسروں سے لینا کوئی جرم نہیں ہے اور اگر ممنوعات میں سے ہے تو بے شک جرم ہے، مگر اس کا کوئی ثبوت ہونا چاہیے کہ جماعت اسلامی نے ایسی کوئی چیز دوسروں سے اخذ کی ہے۔ یہ کوئی تقویٰ نہیں ہے کہ بغیر کسی تحقیق اور تشخیص کے محض ایک ہوائی چیز دوسروں پر چسپاں کر دی جائی۔‘‘(ترجمان القرآن جلد 37، عدد 2، 85)

مولانا نعمانی نے اس مضمون میں ایک اعتراض یہ کیا تھا کہ جماعت اسلامی نے اپنے متعلقین کی تربیت نفس کا کوئی اہتمام نہیں کیا اور انھوں نے اس میں صوفیہ سے بھی کوئی رہنمائی نہیں لی۔ اس سوال کا جواب مولانا اصلاحی نے بڑی تفصیل سے دیا ہے۔ ایک مختصر اقتباس ملاحظہ فرمائیں :

’’اس میں شبہ نہیں کہ ہمارے یہاں تزکیۂ نفس اور تہذیب اخلاق کا کام اہل تصوف کے طریق پر نہیں ہو رہا ہے، لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ہمارے یہاں تزکیۂ نفس کا کام سرے سے ہو ہی نہیں رہا ہے۔ ہم اہل تصوف کے طریقے کو صحیح نہیں سمجھتے۔اس لیے ہم نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ ہمارا مشاہدہ اور تجربہ یہ ہے کہ اس سے نفس کا جتنا تزکیہ ہوتا ہے، اس سے زیادہ اس کے اندر خرابیاں ابھر آتی ہیں۔ اس لیے ہم نے اس کا وہ طریقہ اختیار کیا ہے جو ہم نے کتاب و سنت کے موافق پایا ہے۔ اس طریقے کی تفصیلات بتانا تو اس وقت میرے لیے مشکل ہے، لیکن چند باتوں کی طرف بر سبیلِ تذکرہ اشارہ کرنا چاہتا ہوں۔

اس سلسلے میں ہم نے پہلا کام تو یہ کیا ہے کہ قرآن شریف سے وہ چیزیں چھانٹ لی ہیں جو خاص طور پر تزکیۂ نفس اور تہذیب اخلاق کے مختلف پہلوؤں سے تعلق رکھتی ہیں۔ اسی طرح احادیث نبوی کے وسیع ذخیرے میں سے جو چیزیں تزکیۂ نفس اور تہذیب اخلاق سے متعلق ہیں، وہ بھی منتخب کر لی ہیں۔ احسان کے جو اصول و مبادی قرآن و حدیث سے مستنبط ہوتے ہیں، وہ بھی ہم نے مرتب کر ڈالے ہیں۔ پھر جماعت کے لٹریچر سے ہم نے وہ چیزیں نشان زد کر دی ہیں جو ہمارے اصل مقصد کی طرف براہ راست رہنمائی کرتی ہیں اور اپنے تمام ارکان کے لیے یہ ضروری قرار دیا ہے کہ وہ سال میں کم از کم ایک مرتبہ اس کورس سے کسی قابل اعتماد نگران کی نگرانی میں سے ضرور گزر جایا کریں۔

جماعتی طور پر اس کام کا انتظام کیا ہے کہ ارکان کامحاسبہ کیا جاتا رہے اور وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں حدود اللہ کی محافظت کے عادی بنیں اور ان سے کوئی خلاف ورزی صادر ہو جائے تو شریعت کی ہدایت کی روشنی میں اس کی تلافی کی کوشش کریں۔یہ ساری باتیں ہم نے تہذیبِ اخلاق اور تزکیۂ نفس کی غرض سے اختیار کی ہیں۔ اگر مولانا کو ان باتوں کی اطلاع نہیں ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ دنیا میں کوئی کام ہو ہی نہیں رہا۔کام سے زیادہ اس کا ڈھنڈورا پیٹنا اور وہ بھی تزکیہ و تقویٰ کا ڈھنڈورا… یہ ہمارا طریقہ نہیں ہے!‘‘(ترجمان القرآن جلد 37، عدد 2، 92)

[باقی]

خیال و خامہ