مواد پر جائیں

معارف نبوی

اردو

ــــــ 1 ــــــ

ابو حوراء سعدی کہتے ہیں: میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ باتیں یاد ہیں؟ انھوں نے فرمایا: ایک مرتبہ آپ مجھے اُس کمرے میں لے گئے، جہاں صدقے کا مال پڑا ہوتا تھا۔مجھے اتنا یاد ہے کہ میں نے صدقے کی ایک کھجور وہاں سے اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس پر لگے ہوئے تھوک سمیت اُسے باہر نکالا اور دوسری کھجوروں میں ڈال دیا۔ ایک شخص نے یہ دیکھا تو کہا: اگر یہ ایک کھجور کھا لیتے تو کیا ہو جاتا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم صدقے کا مال نہیں کھاتے۔ سیدنا حسن کا بیان ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے: اُن چیزوں کو چھوڑ کر جو شک پیدا کرتی ہیں، بے شبہ چیزیں اختیار کیا کرو، اِس لیے کہ سچائی اطمینان اور جھوٹ سراسر تردد اور خلجان ہے۔ (مسند احمد،رقم 1723)

ــــــ 2 ــــــ

ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور اِس کے لیے اچھی بات کہے یا کسی اچھی بات کو بڑھا کر بیان کر دے۔ (ترمذی، رقم 1857)

ــــــ 3 ــــــ

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچائی کو اختیار کرو، اِس لیے کہ سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ (یاد رکھو)، آدمی سچ بولتا ہے، پھر بولتے بولتے اللہ کے نزدیک ’صدیق‘ لکھ دیا جاتا ہے۔ اور جھوٹ سے بچو، اِس لیے کہ جھوٹ گناہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور گناہ دوزخ میں لے جاتا ہے۔ (یاد رکھو)، آدمی جھوٹ بولتا ہے، پھر بولتے بولتے اللہ کے نزدیک ’کذاب‘ لکھ دیا جاتا ہے۔ ( مسلم،رقم 4727)

مقامات