مواد پر جائیں

’اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ ‘کی شان نزول کی تحقیق کیاولیدبن عقبہ فاسق تھے؟ (1)

تحریر:علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی / ترتیب:ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی اردو

[تفسیری روایات کا بڑاحصہ امام ابن تیمیہ کے نزدیک مراسیل پرمشتمل ہے۔لان الغالب علیہا المراسیل۔1 یہ تفسیری روایات فہم ِقرآن میں بسااوقات رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ البتہ ان میں سے بعض روایات قرآن کریم کی تفہیم میں مددبھی دیتی ہیں۔یہ کہنابے جانہ ہو گاکہ اسلام کے مجموعی فہم کواِن روایات نے بہت متاثر کیا ہے۔ان میں سے ایک روایت کی تحقیق ذیل میں پیش کی جارہی ہے، جوعلامہ شبیر احمد ازہرمیرٹھی کے رشحات ِقلم سے ہے اوران کی زیرطبع تفسیر ’’مفتاح القرآن‘‘ سے ماخوذ ہے۔ ان کی یہ تفسیراس لحاظ سے پورے تفسیری ذخیرہ میں منفردہے کہ انھوں نے بہت ساری تفسیری روایات کا حدیث کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں دقت ِنظرسے جائزہ لیاہے۔خاکسارنے اس مضمون میں تین چارجگہوں پر حوالوں کومکمل کردیاہے۔محمد غطریف شہبازندوی]

خیبر فتح ہوجانے کے بعد اہل ایمان کی قوت اہل عرب میں ایک مسلم حقیقت بن چکی تھی۔ قبائل عرب جو ہمیشہ ایک دوسرے سے لڑتے اور لوٹ مار کرتے رہتے تھے، مسلمانوں کے زیر حمایت آجانے اور اپنے حریف قبائل کے خلاف انھیں مشتعل کردینے کی فکر میں پڑ گئے۔ اس مقصد کے تحت کسی قبیلہ کا جو وفد آتا، وہ اپنے حریف قبیلہ کے متعلق مسلمانوں کو اشتعال انگیز خبریں سناتا کہ وہ قبیلہ اس گھات میں ہے کہ کوئی زبردست قبیلہ مسلمانوں سے ٹکر لے تو جان و مال سے اس کا ساتھ دیں۔ مسلمانوں کے متعلق وہ یہ کہتے ہیں، رسول اللہ کے متعلق یہ بکواس کرتے ہیں۔ مقصود ان اطلاعات سے یہ ہوتا کہ اہل اسلام مشتعل ہوکر اس قبیلہ پر چڑھ دوڑیں۔ اللہ تعالیٰ نے بروقت مومنین کو متنبہ فرمایا کہ غیر معتبر لوگوں سے سنی ہوئی ان باتوں کا جو دوسرے لوگوں کے خلاف ہوں یقین نہ کریں، بلکہ اپنے طور پر اس کی تحقیق کرلیں۔ اگر تحقیق سے ان کی دی ہوئی خبر صحیح ثابت ہو تو مناسب اقدام کریں۔ تحقیق کے بغیر محض کسی غیر معتبر شخص کی دی ہوئی اطلاع پر اقدام کرڈالو گے تو ممکن ہے اس کے نتیجہ میں تمھیں ندامت اٹھانی پڑے۔

ممکن ہے، وہ قبیلہ تمھارا خیرخواہ ہو یا اس میں درپردہ کچھ لوگ مسلمان ہوں۔ غیر معتبر لوگوں کی بات پر یقین کرلینے کا یہ نتیجہ بھی نکل سکتا ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قبیلہ کے خلاف فوجی اقدام کرنے کو کہو گے، مگر آپ حکم حق کے بغیر کوئی اقدام کریں گے نہیں تو تمھیں خیال ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری بات نہیں مانی۔ آپ کے نزدیک ہماری کوئی اہمیت نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ خیال بڑا تباہ کن اور وبال انگیز ہے، تمھیں جان لینا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تمھاری بات ماننا لازم نہیں، بلکہ تم پر رسول اللہ کی بات ماننا فرض ہے۔ بالغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل یہ ہوجائے کہ زیادہ تر تمھاری بات مانا کریں توتم بڑی زحمتوں میں پڑ جاؤ گے، کیونکہ تمھارے پاس وہ عاقبت بینی اور دور اندیشی کہاں ہے جو فوجی اقدامات کو کامیاب و نتیجہ خیز بناتی ہے۔ کرنا چاہو گے فائدہ اور ہوجائے گا نقصان۔چنانچہ ارشاد ہوا:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوۡمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلۡتُمۡ نٰدِمِیۡنَ. (الحجرات49: 6)

’’اے اہل ایمان، اگر تمھارے پاس کوئی بدعمل شخص (کسی گروہ کے خلاف) کوئی اہم خبر لائے تو تحقیق کرلو (کہ وہ صحیح ہے یاغلط، بدونِ تحقیق اسے باور کر کے کوئی اقدام نہ کرو) ایسا نہ ہو کہ نادانی کی وجہ سے تم حملہ کرکے کسی گروہ کو نقصان پہنچا دو (اور جو خبر تمھیں ملی ہے فی الواقع غلط ہو جب تمھیں اصلیت معلوم ہو) تو پچھتانے والے ہوجاؤ اس پر جو تم نے کیا۔‘‘

فاسق کے معنی کھلم کھلا اللہ کی نافرمانی کرنے والا۔ ہر کافر جس کا کفر معلوم ہو فاسق ہے، مگر ہر فاسق کافر نہیں ہوتا۔ چونکہ فاسق آدمی راست گوئی کا پابند اور حلال و حرام کی حدود کو ملحوظ رکھنے والا نہیں ہوتا، اس لیے اس کی دی ہوئی خبر کے متعلق دل میں دھکڑپکڑ رہتی ہے۔ ممکن ہے، اس نے صحیح کہا ہو، ممکن ہے غلط کہا ہو۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ جھوٹ اور کچھ سچ بولا ہو۔ اور سچا آدمی کوئی خبر دے تو اس پر سننے والوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے، لہٰذا اس کی دی ہوئی خبر کی تحقیق کی ضرورت نہیں۔ اسی آیت کی رو سے تمام اہل علم اس کے قائل ہیں کہ کسی سنی ہوئی خبر کے مقبول ہونے کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ اس کے راوی راست گو (صادق القول) نیک (صالح العمل) مسلمان ہوں۔

واضح رہے کہ ’اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ ‘کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فی الواقع ایسا ہوا تھا کہ کسی فاسق کی لائی ہوئی خبر کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے کسی قبیلہ پر فوج کشی کا ارادہ کرلیا تھا اور بعد میں ثابت ہوا کہ وہ خبر غلط تھی اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ اگرایسا ہوا ہوتا تو ’اِنْ‘ کے بجاے ’اِذَا‘ ہوتا، مگر بعض دروغ باف راویوں نے اس آیت کے متعلق ایک شانِ نزول گھڑ کر لوگوں میں پھیلادیا۔ وہ روایت اُن لوگوں تک پہنچ گئی جو قرآن کے عالم و مفسر سمجھے جاتے تھے اور جن کا مذاق آیات کے معانی و مطالب میں غور و تدبر کرنا نہیں تھا، بلکہ ہر آیت کے متعلق شانِ نزول لکھنا اور اسے لوگوں میں بے سوچے سمجھے بیان کرکے اپنے علمی تبحرکا سکہ جمانا تھا۔ پھر جب تفسیر میں کتابیں لکھی جانے لگیں تو ان کتابوں میں دیگر صدہا جھوٹی روایات کی طرح یہ روایات بھی درج کردی گئی۔ اہل علم و تحقیق اس جھوٹی روایت کی تردید کرچکے ہیں، مگر افسوس کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے اس پر اعتماد کرکے ”تفہیم القرآن“ میں اس انداز سے یہ جھوٹی کہانی ثبت کردی ہے کہ ناظرین اسے قطعاً صحیح باور کرلیں۔ مولانا موصوف نے لکھا ہے:

”اکثر مفسرین کا بیان ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ قبیلہ بنی المصطلق جب مسلمان ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو بھیجا تاکہ ان لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرلائیں۔ یہ ان کے علاقہ میں پہنچے تو کسی وجہ سے ڈر گئے اور اہل قبیلہ سے ملے بغیر واپس جاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کردی کہ انھوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا ہے اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے۔ حضور یہ خبر سن کر سخت ناراض ہوئے اور آپ نے ارادہ کیا کہ ان لوگوں کی سرکوبی کے لیے ایک دستہ روانہ کریں۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ نے وہ دستہ روانہ کردیا تھا اور بعض میں یہ بیان ہوا ہے کہ آپ روانہ کرنے والے تھے۔ بہرحال اس بات پر سب متفق ہیں کہ بنی المصطلق کے سردار حارث بن ضرار ام المومنین حضرت جویریہ کے والد اس دوران میں خود ایک وفد لے کر حضور کی خدمت میں پہنچ گئے اور عرض کیا کہ خدا کی قسم: ہم نے تو ولید کو دیکھا تک نہیں کجا کہ زکوٰۃ سے ہمیں انکارہو،ہمیں زکوٰۃ سے ہرگز انکار نہیں ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ اس قصہ کو امام احمد، ابن ابی حاتم طبرانی اور ابن جریر نے حضرات عبداللہ بن عباس، حارث بن ضرار، مجاہد، قتادہ، عبدالرحمٰن بن ابی لیلی، یزید بن رومان، ضحاک اور مقاتل بن حیان سے نقل کیا ہے۔ حضرت ام سلمہ کی روایت میں یہ پورا قصہ بیان تو اسی طرح ہوا ہے مگر اس میں ولید کے نام کی تصریح نہیں ہے۔ ‘‘(تفہیم القرآن5/73)

میں کہتا ہوں: اولاً ناظرین ولید بن عقبہ سے جس پر ماضی کے ظالموں کی طرح زمانۂ حال کے علم بردارِ تحریک اسلامی مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے بھی ناحق ظلم کیا ہے، متعارف ہوجائیں۔

ولید بن عقبہ کو امیرالمومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کوفہ کا حاکم مقرر کیا۔ پانچ سال تک وہ اس منصب پر رہے۔ ولید حضرت عثمان کے اخیافی، یعنی ماں شریک بھائی تھے، ان کی اور حضرت عثمان کی والدہ اَرْوٰی بنت کُرَیْز ہیں۔ اَرْوٰی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی پھوپھی بَیْضَاء بنت عبدالمطلب کی بیٹی تھیں۔ اَرْوٰی کا پہلا نکاح عَفَّان سے ہوا تھا، ان سے حضرت عثمان پیدا ہوئے۔ عفان کے بعد عُقبہ بن ابی معیط سے نکاح ہوا۔ اس سے ولید پیدا ہوئے۔ عقبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت دشمن تھا۔ خبیث جنگ بدر میں گرفتار ہوا اور قتل کیا گیا۔ اس وقت ولید پنج سالہ بچہ تھا۔ 8ھ میں فتح مکہ کے موقع پر تقریباً گیارہ سالہ نابالغ لڑکا تھا۔ خود ولید بن عقبہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر ولید اور چند اور بچے خدمت نبوی میں حاضر کیے گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید کے علاوہ سب بچوں کے سروں پر دست برکت پھیرا۔ ولید اس سعادت سے اس لیے محروم رہا کہ اس کے سر پر خَلُوْق نامی خوشبو لگی ہوئی تھی (مسند احمد 4/32) اور یہ اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مرد کے لیے خَلُوْق کی خوشبو پسند نہیں فرماتے تھے، خواہ نابالغ لڑکا ہی ہو۔ اور عرب کی عورتیں اکثر بچوں کے سروں پر خلوق لگایا کرتی تھی، آپ نے اس کی ممانعت فرمائی ہے۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد ولید نے مقامِ رَقَّد میں سکونت اختیار کرلی تھی، اسی لیے اسی مقام کے لوگوں میں تسلسل کے ساتھ ولید کی بیان کردہ یہ حدیث اگلوں سے پچھلوں کو پہنچتی ہوئی امام احمد وغیرہ تک پہنچی ہے اور اس کے رُوات سب عدل و ثقہ ہیں۔ اور بنی مصطلق رمضان یا شوال 6ھ میں مسلمان ہوئے ہیں۔ ان کے پاس صدقات وصول کرنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے 7ھ میں ہی کسی کو بھیجا ہوگا۔ تو کوئی بتائے تو سہی وہ شخص ولید بن عقبہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وفات نبوی تک بھی ولید بالغ نہیں ہوا تھا۔

ولید حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں سن رشد کو پہنچا تھا اور عنفوانِ شباب سے ہی دین کی بہترین خدمات ادا کرنے کے مواقع اسے نصیب ہوتے رہے تھے۔ چنانچہ جب سیف اللہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایرانیوں کے مجوسیوں سے نبردآزما تھے تو حضرت ابوبکر ان کے پاس ولید کے ذریعے سے ہی خصوصی ہدایات بھیجتے تھے۔ (تاریخ طبری 4/7) پھر حضرت عیاض بن غنم فہری کی کمک کے لیے بھی ولید کو بھیجا۔ (تاریخ طبری 4/22) اور 31ھ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب فتح شام کا قصد فرمایا تو فاتح مصر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ ولید بن عقبہ کو بھی سالار ئی لشکر کا منصب عطا فرمایا، یعنی حضرت ابوبکر کے یہاں احترام و اعتماد اور اعزاز میں یہ نوجوان قریش کے مشہور و تجربہ کار سیاست دان اور سردوگرم چشیدہ مدبر انسان کے دوش بدوش تھا۔ عمرو بن العاص تو فلسطین کی طرف پرچمِ اسلام لہراتے ہوئے گئے اور ولید بن عقبہ فیروزمندی کا علم اٹھائے ہوئے شرق اردن کی طرف راہی ہوئے (تاریخ طبری 4/29-30)۔

پھر 15ھ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ولید کو علاقہ بنی تغلب اور جزیرہ کا گورنر بنایا (تاریخ طبری 4/155)۔ یہاں ان کا خاص مقصد ان مجاہدین کی پشت پناہی کرنا اور ان کے عقب کو محفوظ رکھنا تھا جو شام کے شمالی حصہ میں دادِ شجاعت دے رہے تھے۔ اس وقت قبائل ربیعہ و تنوخ سب کے سب ولید کے تحت تھے اور چونکہ ہنوز اس علاقہ میں عیسائی مذہب رکھنے والے عرب (عربِ متنصِرہ) کافی تھے، اس لیے اسلام کے اس جاں باز خادم نے وعظ و نصیحت اور تفہیم و تبلیغ کے ذریعے سے ان میں روح اسلام پھونکنی شروع کردی۔ اس کوشش کے خاطرخواہ مفید نتائج نکلے۔ اب ذرا سوچیے تو سہی اگر ’اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ ‘ فرما کر اللہ نے ولید کو فاسق ٹھہرا دیا ہوتا تو کیا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ ولید کو ان مناصب سے نواز سکتے تھے۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ولید کو اپنے عہد میں کوفہ کی حکومت سونپی وہ پانچ سال تک وہاں کے حاکم رہے اور عدل و رافت کا جونہج وہاں ولید نے اختیار کیا تھا، اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ ان کے قصرِ امارت پر دروازہ نہ تھا تاکہ ہر شخص جب چاہے ان کے پاس آسکے۔ حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے: ’فلما قدمہا أقبل علیہ أھلہا فأقام بہا خمس سنین ولیس علی دارہ باب وکان فیہ رفق برعیہ‘ (البدایہ والنہایہ 7/151)۔ مگر ولید باایں ہمہ بڑا عیب دار و خطاوار تھا۔ اس میں وہ عظیم الشان عیب تھا جو خواہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک عیب نہ ہو، لیکن اس امت کے اندھے بہرے لوگوں کے نزدیک نہ اس سے بڑھ کر کوئی عیب ہے، نہ اس سے بڑا کوئی جرم۔ آپ جانتے ہیں کیا ہے وہ عیب و خطا، وہ یہ ہے کہ بے چارہ ولید اموی اور حضرت عثمان کا عزیز قریب تھا۔ محض اس ”جرمِ وعیب“ کی وجہ سے اور تو اور مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی نے بھی اسے نہیں بخشا۔

اب مودودی صاحب کے ثبت کیے ہوئے افسانہ کی روایات کا حال سنیے۔ یہ روایات مجاہد یا قتادہ یا ابن ابی لیلیٰ یا یزید بن رومان تک پہنچی ہیں۔ انھی لوگوں نے یہ قصہ نقل کیا ہے، مگر ان سب کو کسی سے معلوم ہوا تھا؟ اس کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ ان لوگوں میں سے کسی نے ولید کو بھی نہیں دیکھا۔ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور ان لوگوں کے درمیان تقریباً سو برس کی طویل مدت ہے۔ ایک صدی قبل کا قصہ آخر ان لوگوں کو کس سے معلوم ہوا تھا؟ اس سوال کا جواب مل نہیں سکتا تو کسی معقول شخص کو ان روایات پر اعتماد کرکے اس شخص کو مطعون کرنا جائز نہیں ہے جس کی آنکھوں نے جمالِ نبوی دیکھا تھا، جس پر ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے اعتماد کیا تھا، جس نے کفار کے مقابلہ پر بہت سے معرکوں میں دادِ شجاعت دی اور ایک مدت تک خلقِ خدا میں عدل گستری کی تھی۔

[ باقی]

  1. ۔ شرح مقدمہ فی اصول التفسیرلابن تیمیہ 73 ، شارح صالح بن عبدالعزیزآل الشیخ،مکتبہ دارالمنہاج للنشروالتوزیع طبع 1431ھ۔