مواد پر جائیں

پاکستان، امریکہ اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ جناب محمد حسن الیاس سے ایک انٹرویو (5)

گفتگو: محمد حسن الیاس / سوالات: نجم سہروردی / تدوین و ترتیب: رانا معظم صفدر اردو

[’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، امریکہ‘‘ کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن اور ’’اشراق امریکہ‘‘ (آڈیو) کے مدیر محمد حسن الیاس صاحب گذشتہ دنوں پاکستان گئے تو ’’آف دا اسکول‘‘ پوڈ کاسٹ کے میزبان نجم سہروردی نے اُن کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اِس انٹرویو میں اُن سے پاکستان اور مسلمانوں کو درپیش مختلف مسائل پرسوالات کیے گئے۔ حسن الیاس صاحب نے اُن کے جواب میں پوری وضاحت سے اپنے موقف کو پیش کیا۔ یہ انٹرویو غامدی سینٹر کے یو ٹیوب چینل پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اِسے ضروری ترتیب و تدوین اور حک و اضافے کے بعد ’’اشراق امریکہ‘‘ کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ ]

امریکہ کے معاشرے میں بے راہ روی

سوال: آپ ہمارے معاشرے سے بہ خوبی آگاہ ہیں، اور اب آپ امریکہ میں مقیم ہیں۔ ہمیں جو ایک بڑا مسئلہ امریکی معاشرے میں نظر آتا ہے، اسے صرف مذہبی نقطۂ نظر سے ہی نہیں، بلکہ اخلاقی اور فطری تناظر میں بھی دیکھا جائے تو اسے ہم سادہ الفاظ میں جنسی بے راہ روی کہہ سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ وہاں جو نئے Gender Studiesاور Gender roles کے حوالے سے رجحان بڑھتا جا رہا ہے، وہ بھی بہ طور معاشرتی چیلنج قابل غور ہے۔ ان سے صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ یہودی اور عیسائی بھی پریشان ہیں۔اس پر یہ کہہ دینا کہ یہ آزادی اظہار راے اور فرد کا ذاتی معاملہ ہے، کیا کافی ہے، جب کہ محسوس یہ ہوتا ہے کہ یہ مسائل ہی ان کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔ اس پر آپ کیا کہتے ہیں؟

جواب:یہ بات ایک حد تک ٹھیک ہے، وہاں ان مسائل کی بنیادی وجہ آزادی freedom ہے۔ لیکن اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آزادی کی قدر ان کے ہاں ایسی اہمیت رکھتی ہے جس طرح ہماری اسلامی تہذیب میں عبودیت ہے، یعنی جس طرح ہم اپنی تہذیب میں جس قدر کو بنیاد مانتے ہیں وہ خدا کی بندگی ہے، بالکل ایسے ہی مغرب نے اپنے ہاں جو تہذیبی اقدار قائم کی ہیں، ان میں ان کے لیے سب سے بڑی قدر آزادی (freedom) ہے۔

ان کے ہاں، آزادی سے مراد یہ ہے کہ کوئی بھی شخص دوسرے پر جبر یا تسلط نہ کرے، نہ کسی کی جان، مال یا عزت پر زیادتی کرے۔ ہر فرد کا حق ہے کہ وہ ریاست میں اپنے حقوق کی حفاظت کرے اور اس کا تحفظ کیا جائے۔ اس معاملے میں ان سے غلطی یہ ہوئی کہ جب آزادی کو محض ایک فلسفہ بنا لیا جائے اور اسے کسی مذہبی یا اخلاقی رہنمائی کے بغیر اپنایا جائے تو اس کا نتیجہ معاشرتی بے راہ روی کی صورت میں ہی نکلے گا، اور یہی چیز مغرب میں نظر آ رہی ہے۔

مغرب میں مسیحی اقدار اور مذہب کا گہرا تعلق موجود ہے اور یہ بات شاید ہمیں باہر سے نظر نہ آئے۔ امریکہ میں خاندان کی بہت اہمیت ہے، اسی طرح وہاں لوگ باقاعدگی سے چرچ بھی جاتے ہیں، جیسے میں ٹیکساس میں رہتا ہوں اور میرے محلے میں تقریباً چالیس کے قریب چرچ ہیں، جہاں ہر ہفتہ اور اتوار کو لوگ عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں۔

سوال: تو کیا امریکہ چرچ واقعی فَعّال (functional)ہیں؟ کیونکہ ہمارے یہاں تو اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ چرچ بند ہو رہے ہیں، ان کی جگہ پب یا شادی ہال بن رہے ہیں۔

جواب: امریکہ میں چرچ بالکل functional ہیں اور ان میں رش بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ تصور کہ چرچ ختم ہو رہے ہیں یا فروخت ہو رہے ہیں، زیادہ تر یورپ سے متعلق ہے، جہاں مذہبی رجحان کم زور پڑ چکا ہے۔ امریکہ کی صورت حال اس سے مختلف ہے۔یہاں ایک پوری ’بائبل بیلٹ‘ موجود ہے، جو کئی ریاستوں پر مشتمل ہے، اور ان کی تہذیبی شناخت مذہبی بنیادوں پر قائم ہے۔وہاں، اب بھی خاندان کا نظام بہت مضبوط ہے۔ میری اہلیہ ایک تھراپسٹ اور ماہر نفسیات ہیں، انھوں نے وہاں براہ راست اس معاشرے کا مشاہدہ کیا، انھوں نے دیکھا کہ خاندانی اقدار، والدین اور بچوں کے تعلقات، اور بچوں کی تربیت پر بہت زور دیا جاتا ہے۔

تاہم، یہ بات درست ہے کہ امریکہ میں بچوں کو 18 سال کی عمر کے بعد خود مختار ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے، لیکن اس کا مطلب والدین کو نظرانداز کرنا نہیں ہے۔ یہ نظام بچوں کو مالی طور پر ذمہ دار بننے، چیلنجز کا سامنا کرنے، اور اپنی شخصیت کو نکھارنے کی طرف لے جاتا ہے۔اسی طرح بوڑھے والدین کے لیے جو نگہداشت کا نظام ہے، وہ بھی بہت موثر ہے۔ وہاں Old homesکو ایک ضرورت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اولاد اپنی مصروفیات میں ہیں اور والدین کی بہتر دیکھ بھال کے لیے یہ آپشن اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ ہمارے یہاں کے تصورات سے بہت مختلف ہے کہ وہاں مجبور اور بے بس والدین کو ان اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

باقی رہی بات وہاں پر موجود جنسی بے راہ روی کی، اس میں بنیادی چیز امریکہ میں آزادی کو بہ طور ایک قدر چونکہ مانا جاتا ہے، اس لیے وہاں ہر فرد اپنے فعل کے لیے خود مختار ہے۔ اور یہی رویہ LGBTQ کمیونٹی کے حقوق یا ہم جنس پرستی کے حوالے سے بھی نظر آتا ہے۔وہاں کی سپریم کورٹ کے فیصلوں میں بھی ان کی آزادی کے تصور کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ لیکن اس آزادی کے باوجود، مذہبی اور سماجی اقدار کی جڑیں بہت گہری ہیں، جن کا ہم اکثر ادراک نہیں کر پاتے۔

سوال:یہی تو Individualism ہے۔ کیا امریکہ میں ایسا نہیں ہے؟

جواب: جی، امریکہ میں بھی Individualism ہے۔ اگر اسے ایک مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا تو ہمارے یہاں کئی طرح کے مسئلے موجود ہیں،بلکہ ہر معاشرے میں کسی نہ کسی طرح کے مسائل پائے جاتے ہیں۔ میرے نزدیک، دنیا کے مسائل کو مخصوص علاقوں کے تناظر میں دیکھنے کے بجاے انسانیت کے مشترکہ مسائل کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اور یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہر انسان اور ہر معاشرہ غلطیوں سے سیکھتا ہے۔

میری راے میں یہ رویہ ٹھیک نہیں ہے کہ ہم مغربی معاشرے کی برائیاں ایسے بیان کریں، گویا ہمارے اپنے معاشرے میں کوئی مسئلہ موجود نہیں۔مثال کے طور پر ہمارے اپنے معاشرے میں اصل مسئلے سے بڑا مسئلہ یہ بن جاتا ہے کہ ہم شرمندگی یا معاشرتی دباؤ کی وجہ سے ہراسمنٹ، جنسی زیادتی یا خاندانی مسائل کو رپورٹ نہیں کرتے، جب کہ یہ مسائل ہمارے گلی محلوں، دکانوں پر کام کرنے والے بچوں اور گھریلو زندگی میں بھی موجود ہیں۔اسی طرح ہمارے یہاں طلاق کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے، اور خاندانی اقدار کو درپیش چیلنجز شدید ہوتے جا رہے ہیں۔اس لیے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر معاشرہ اپنے اندر کئی مسائل اور چیلنجز رکھتا ہے، وہ انسانیت کے مسائل ہیں، نہ کہ مشرق یا مغرب کے۔ اگر ہم مشرق و مغرب کو بانٹ کر دیکھیں گے تو صرف تنقید کی نفسیات میں مبتلا ہو جائیں گے۔مغرب اپنی غلطیوں پر غور کرتا ہے اور بہتری کی کوشش کرتا ہے۔ ہمیں بھی ان کی اچھی چیزوں سے سیکھ کر، اپنی اقدار کو مضبوط بنانا چاہیے۔

انسان ہمیشہ pendulum کی طرح ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف جاتا ہے۔ ہر معاشرہ اپنی جگہ پر مسائل اور خوبیوں کا مجموعہ ہے، لیکن جو بنیادی انسانی اقدار ہیں، ان میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں ان اقدار پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

[باقی ]