مواد پر جائیں

البیان

جاوید احمد غامدی اردو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(17)

وَ لَا تَجۡعَلُوا اللّٰہَ عُرۡضَۃً لِّاَیۡمَانِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡا وَ تَتَّقُوۡا وَ تُصۡلِحُوۡا بَیۡنَ النَّاسِ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۲۴﴾ لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغۡوِ فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمۡ وَ لٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا کَسَبَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿۲۲۵﴾  لِلَّذِیۡنَ یُؤۡلُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِہِمۡ تَرَبُّصُ اَرۡبَعَۃِ اَشۡہُرٍ ۚ فَاِنۡ فَآءُوۡ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۲۲۶﴾  وَ اِنۡ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۲۷﴾

(عورتوں سے متعلق بعض دوسرے معاملات بھی ہیں، اِنھیں بھی سمجھ لو) اور اپنی قسموں کے لیے اللہ کے نام کو دوسروں سے حسن سلوک کرنے اور حدود الہٰی کی رعایت کرنے اور لوگوں کے مابین صلح کرانے میں رکاوٹ نہ بناؤ اور (متنبہ رہو کہ) اللہ سمیع و علیم ہے۔ اللہ تمھاری اُن قسموں پر تو تمھیں نہیں پکڑے گا جو تم بے ارادہ کھا لیتے ہو، لیکن وہ قسمیں جو اپنے دل کے ارادے سے کھاتے ہو، اُن پر لازماً تمھارا مواخذہ کرے گا اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بخشنے والا ہے، وہ بڑا بردبار ہے۔

وَ الۡمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍ ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنۡ یَّکۡتُمۡنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیۡۤ اَرۡحَامِہِنَّ اِنۡ کُنَّ یُؤۡمِنَّ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ وَ بُعُوۡلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ اِنۡ اَرَادُوۡۤا اِصۡلَاحًا ؕ وَ لَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیۡہِنَّ دَرَجَۃٌ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ﴿۲۲۸﴾

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪ فَاِمۡسَاکٌۢ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ تَسۡرِیۡحٌۢ بِاِحۡسَانٍ ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَکُمۡ اَنۡ تَاۡخُذُوۡا مِمَّاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ شَیۡئًا اِلَّاۤ اَنۡ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَا فِیۡمَا افۡتَدَتۡ بِہٖ ؕ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ فَلَا تَعۡتَدُوۡہَا ۚ وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۲۹﴾

(اِس لیے) جو لوگ اپنی بیویوں سے نہ ملنے کی قسم کھا بیٹھیں، اُن کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے۔ پھر وہ رجوع کر لیں تو بے شک، اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ اور اگر طلاق کا فیصلہ کر لیں تو اللہ سے ڈرتے ہوئے کریں، اِس لیے کہ اللہ سمیع و علیم ہے۔ 224-227

اور (یہ دوسری صورت پیدا ہوجائے تو) جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار کرائیں۔ اور اگر وہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں تو اُن کے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ اللہ نے اُن کے پیٹ میں پیدا کیا ہے، اُسے چھپائیں۔ اور اُن کے شوہر اگر معاملات کی اصلاح چاہیں تو اِس (عدت کے) دوران میں زیادہ حق دار ہیں کہ اُنھیں لوٹا لیں اور (یہ اِس لیے ہے کہ اِس میں تو شبہ نہیں کہ) اِن عورتوں کے لیے بھی اُسی طرح حقوق ہیں، جس طرح دستور کے مطابق اُن پر (شوہروں کے) حقوق ہیں، لیکن مردوں کے لیے (شوہر کی حیثیت سے) اُن پر ایک درجہ ترجیح کا ہے۔ (یہ اللہ کا حکم ہے) اور اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔ 228

یہ طلاق (ایک رشتۂ نکاح میں) دو مرتبہ (دی جا سکتی) ہے۔ اِس کے بعد پھر بھلے طریقے سے روک لینا ہے یا خوبی کے ساتھ رخصت کر دینا ہے۔ اور رخصت کر دینے کا فیصلہ ہو تو تمھارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم نے اِن عورتوں کو دیا ہے، اُس میں سے کچھ بھی اِس موقع پر واپس لو۔ یہ صورت، البتہ مستثنیٰ ہے کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ حدود الہٰی پر قائم نہ رہ سکیں گے۔ پھر، (لوگو)، اگر تمھیں بھی اندیشہ ہو کہ وہ حدود الہٰی پر قائم نہیں رہ سکتے تو (شوہر کی دی ہوئی) اُن چیزوں کے معاملے میں اُن دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہے جو عورت فدیے میں دے کر طلاق حاصل کر لے۔ یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں، سو اِن سے آگے نہ بڑھو اور (جان لو کہ) جو اللہ کے حدود

فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوۡجًا غَیۡرَہٗ ؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۳۰﴾

وَ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمۡسِکُوۡہُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ سَرِّحُوۡہُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ ۪ وَ لَا تُمۡسِکُوۡہُنَّ ضِرَارًا لِّتَعۡتَدُوۡا ۚ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَہٗ ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوۡۤا اٰیٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًا ۫ وَّ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ الۡکِتٰبِ وَ الۡحِکۡمَۃِ یَعِظُکُمۡ بِہٖ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۲۳۱﴾

وَ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوۡہُنَّ اَنۡ یَّنۡکِحۡنَ اَزۡوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوۡا بَیۡنَہُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ ذٰلِکَ یُوۡعَظُ بِہٖ مَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکُمۡ اَزۡکٰی لَکُمۡ وَ اَطۡہَرُ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۳۲﴾

سے آگے بڑھتے ہیں، وہی ظالم ہیں۔229

پھراگر (دو مرتبہ طلاق سے رجوع کے بعد) شوہر نے (اِسی رشتۂ نکاح میں) بیوی کو (تیسری مرتبہ) طلاق دے دی تو اب وہ اُس کے لیے جائز نہ ہوگی، جب تک اُس کے سوا کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے۔ لیکن اگر اُس (دوسرے شوہر) نے بھی اُس کو طلاق دے دی تو پہلے میاں بیوی کے لیے ایک دوسرے کی طرف رجوع کر لینے میں کوئی مضایقہ نہیں ہے، اگر یہ توقع رکھتے ہوں کہ اب وہ حدود الہٰی پر قائم رہ سکیں گے۔ یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں جنھیں وہ اُن لوگوں کے لیے واضح کر رہا ہے جو علم حاصل کرنا چاہتے ہوں۔230

اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور اُن کی عدت پوری ہونے کو آجائے تو اُنھیں بھلے طریقے سے روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کر دو اور اُنھیں نقصان پہنچانے کے ارادے سے ہرگز نہ روکو کہ اِس طرح اُن پر زیادتی کرو۔ اور (جان لو کہ)جو ایسا کرے گا، وہ اپنی ہی جان پر ظلم ڈھائے گا۔ اور اللہ کی آیتوں کو مذاق نہ بناؤ، اور اپنے اوپر اللہ کی عنایت کو یاد رکھو، اور اُس قانون اور حکمت کو یاد رکھو جو اُس نے تم پر اتاری ہے، وہ تمھیں اِس کی نصیحت کرتا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان رکھو کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔231

اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو اب اِس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے ہونے والے شوہروں سے نکاح کر لیں، جب وہ دستور کے مطابق آپس میں معاملہ کرنے کے لیے راضی ہو جائیں۔ یہ نصیحت تم میں سے اُن لوگوں کو کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہی تمھارے لیے زیادہ شایستہ اور زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔232

[باقی]