مواد پر جائیں

’’23 اعتراضات سیریز‘‘ تصنیفی کام کا طریقۂ کار

سید منظور الحسن اردو

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

’’23 اعتراضات سیریز‘‘ کا تعارف

*یہ ویڈیو سیریز ’’غامدی صاحب کے فکر پر 23 اعتراضات کے جواب میں‘‘ کے عنوان سے ’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، امریکہ‘‘ کے زیرِ اہتمام جاری ہے۔

*اِس سیریز میں روایتی مذہبی فکر کے وہ اعتراضات زیرِ بحث ہیں، جو غامدی صاحب کے افکار پر، بالعموم کیے گئے ہیں اورجنھیں علما کی اجماعی آرا کے مقابل میں اُن کے تفردات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

*یہ درحقیقت قرآن و سنت اور حدیث و سیرت کے مختلف مباحث کی رائج تعبیرات ہیں۔ غامدی صاحب نے اِنھیں قرآن و سنت کے نصوص اور حدیث و سیرت کے حقائق کے خلاف قرار دے کرجزواً یا کلیتاً قبول کرنے سے انکار کیاہے۔

*اِس سلسلۂ مباحث میں سوال و جواب اور بحث و مکالمے کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔

* شریکِ گفتگو محمد حسن الیاس صاحب ہیں۔ اُنھوں نے تمام بحثوں کو بالاستیعاب ترتیب دے کر بہ تمام و کمال استاذِ گرامی کے سامنے پیش کیا ہے۔

* استاذِ گرامی نے جوابی گفتگو میں روایتی نقطۂ نظر کی تشریح کی ہے، اُس کے دلائل کا تجزیہ کیا ہے اور اُس کے مقابل میں اپنے موقف کو پوری وضاحت کے ساتھ پیش کر دیا ہے۔

ویڈیوز میں گفتگو کی نوعیت

*ان ویڈیوز میں جو گفتگوئیں کی گئی ہیں، اُنھیں استاذِ گرامی کی دیگر گفتگوؤں پر محمول نہیں کرنا چاہیے۔

*اِن کی نوعیت یہ ہے کہ گویا اعلیٰ علمی تحقیقی مقالات کو بول کر بیان کیا جا رہا ہے۔

*چنانچہ ہر بحث عموماً درجِ ذیل چار اجزا کو محیط ہوتی ہے:

1۔ موضوع کا تعارف

-اِس ضمن میں موضوع کا پس منظر اور اصولی تعارف بیان کیاجاتا ہے۔

2۔ اعتراض کی تنقیح اور تردید

-اعتراض کے نکات کو متعین کر کے معترضین کے حوالہ جات کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

-اعتراض کو محض پیش نہیں کیا جاتا،بلکہ اُس کے علمی استدلال کو بھی پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔

-پھر استدلال کے جملہ نکات کی تنقیح کی جاتی ہے اور اُن کے اسقام کو واضح کیا جاتا ہے۔

-اعتراض کی تردید کے لیے حسبِ ضرورت قرآن، سنت، حدیث، لغت، تاریخ سےاستناد کو پیش کیا جاتا ہے۔

-تائید اور تاکید کے لیے امہات کتب سے اقتباسات بھی پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔

3۔ غامدی صاحب کے موقف کی وضاحت

-اعتراض کے تناظر میں غامدی صاحب کے موقف کی تفصیل کی جاتی ہے۔

-اِس ضمن میں اُن عقلی یا نقلی مقدمات کو پیش کیا جاتا ہے، جو مثبت یا منفی طور پر بحث کی اساسات کو متعین کرتے ہیں۔

-پھر نصوص میں موقف کی اساسات کو متعین کیا جاتا ہے۔

-استدلال کے نکات کو متعین کر کے مثبت انداز میں محکم اور منضبط طریقے سے پیش کیا جاتا ہے۔

-اس دوران میں ضمنی اور اطلاقی بحثوں سے ممکن حد تک گریز کیا جاتا ہے تاکہ بنیادی استدلال کے خطِ مستقیم کا کسی آمیزش یا ابہام کے بغیر ادراک ہو سکے۔

-استدلال کی وضاحت کے بعد موقف کو اُس کی مجموعی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ اِس موقع پر غامدی صاحب کی تصانیف سے متعلقہ اقتباسات پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔

-موقف کی تائید میں یا تقابل میں حسبِ ضرورت جلیل القدر اہلِ علم کی آرا کو بھی پیش کیا جاتا ہے۔

4۔ متفرقات

آخر میں درجِ ذیل چیزیں زیرِ گفتگو آتی ہیں:

ضمنیات

اطلاقات

اشکالات

متعلقات

تصنیفی کام کی ضرورت

*23 اعتراضات کی سیریز کا کام گفتگو کی صورت میں ہے۔

*اِس میں شبہ نہیں کہ متعلقہ اعلیٰ علمی اور تحقیقی مواد کلی طور پر اِس کے اندر موجود ہے، مگر اِس کے باوجود اِس کی نوعیت کتاب کی نہیں ہے۔ طلبہ اور محققین اِس سے اُس طرح مستفید نہیں ہو سکتے ، جس طرح کسی علمی کتاب مثلاً ’’میزان‘‘ یا ’’برہان‘‘ سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

*یعنی متون مشہود طور پر دستیاب نہیں ہوتے ، حوالہ جات سامنے نہیں آتے اور مباحث سے بار بار مراجعت دشوار ہوتی ہے۔اسی طرح پوری بحث ابواب اور فصول کی صورت میں سامنے نہیں آتی ۔

*چنانچہ خالص طالب علمانہ اور محققانہ ضرورتوں کے پیشِ نظر اِن گفتگوؤں کو کتابی صورت میں مرتب کرنا ضروری ہے۔

کام کا طریقۂ کار

پہلا مرحلہ:مصنف کا انتخاب

*یہ کام ایسے مصنفین کو کرنا چاہیے جو:

-جناب جاوید احمد غامدی کی فکر ی اساسات ، اُن کے زاویۂ نظر اور طرزِ استدلال کو بہ خوبی سمجھتے ہوں۔

-اردو زبان و بیان کی کما حقہ استعداد رکھتے ہوں ۔

-ذاتی نقطۂ نظر سے قطع نظر کرتے ہوئے دوسرے صاحبِ علم کی بات کو بے کم و کاست بیان کرنے کا ہنر جانتے ہوں۔

-ایک ایسے کام کو اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتے ہوں، جسے بادی النظر میں محض تلخیص، ترجمانی اور توضیح قرار دیا جا سکتا ہے۔

-خالص علمی مقالات لکھنے کا ذوق اور تجربہ رکھتے ہوں۔

دوسرا مرحلہ: موضوع کا انتخاب

*موضوع کا انتخاب مصنفین کو اپنے اختیار سے کرنا چاہیے۔

*اِس ضمن میں اِس امر کا لحاظ ضروری ہے کہ موضوع مصنف کے ذوق، دل چسپی اور علمی استعداد کے مطابق ہو۔

*مثال کے طور پر اعتراضات سیریز کے مختلف موضوعات میں سے ’’فطرت‘‘ کے موضوع پر اُس شخص کو کام کرنا چاہیے، جسے فلسفہ اور علم الاخلاق کے مباحث سے دل چسپی ہو۔ ’’نزول مسیح‘‘، ’’ظہور مہدی‘‘ پر اُسے کام کرنا چاہیے، جو علوم الحدیث کا پس منظر رکھتاہو۔’’قراءت کا اختلاف‘‘ علوم القرآن سے دل چسپی کا تقاضا کرتا ہے۔ ’’حلال و حرام‘‘ ، ’’غنا اور موسیقی‘‘ فقہی ذہن رکھنے والے لوگوں کو منتخب کرنا چاہیے۔ ’’پہلی وحی‘‘ کو اُنھیں منتخب کرنا چاہیے، جنھیں تاریخ و سیرت کے مطالعے کا شوق ہو۔ ’’سنت‘‘، ’’حدیث‘‘، ’’اجماع‘‘ اور ’’اتمام حجت‘‘ ان لوگوں کو اختیار کرنا چاہیے، جو علمِ اصول دین سے شغف رکھتے ہوں۔

تیسرا مرحلہ: گفتگو کا فہم

*ویڈیو میں کی گئی گفتگو کا فہم حاصل کرنے کے لیے درجِ ذیل طریقۂ کار مفید ہوسکتا ہے:

1۔عام سماعت

اِس میں موضوع کی تمام ویڈیو ز کوابتدا سے اختتام تک پوری توجہ سے سنا جائے۔ نوٹس نہ لیے جائیں، بلکہ ایک عام سامع کی طرح پوری بات کا عمومی فہم حاصل کیا جائے۔

2۔ علمی سماعت

اِس میں تمام ویڈیوز کو دوبارہ سننے کا اہتمام کیا جائے۔ باقاعدہ نوٹس لیے جائیں۔ جس بات پر ذہنی گرفت مشکل ہو، اُسے بہ تکرار سنا جائے۔ اگر کوئی اشکالات، سوالات، اعتراضات پیدا ہوں تو اُنھیں ساتھ ساتھ نوٹ کر لیا جائے۔

3۔ ٹرانسکرپشن کا مطالعہ

ویڈیوز کی لفظ بہ لفظ ٹرانسکرپشن کو ادارے سے حاصل کر کے اُس کا مطالعہ کر لیا جائے۔ اس موقع پر:

-ہر بحث کو عنوان دے دیا جائے تاکہ مراجعت میں دشواری نہ ہو اور گفتگو کا مطلوبہ مقام بہ آسانی تلاش کیا جا سکے۔

-اہم جملوں کو انڈر لائن کر کے یا رنگ بدل کر نمایاں کر لیا جائے۔ اِس کا فائدہ یہ ہو گا کہ لکھنے کے دوران میں یہ جانا جا سکے گا کہ زیرِ تحریر بات کو ادا کرنے کے لیے کیا الفاظ، کیا اصطلاحات اور کیا اسلوبِ بیان اختیار کیا گیاہے۔

-مطالعے کے دوران میں اگر کوئی نکتہ ذہن میں آئے، جسے کتاب میں شامل کرنا مفید ہوتو اسے بریکٹ میں یا فٹ نوٹ کے طور پر لکھ لیا جائے۔

-ویڈیوز میں گفتگو کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی بنیادی یا ضمنی بحث پہلے ابتداءً بیان ہوتی ہے، پھر اعتراضات کے جواب میں توضیحاً بیان ہوتی ہے، کبھی کسی دوسری بحث کی وضاحت کے لیے اشارۃً یا ضمناً بھی بیان ہو جاتی ہے، پھر خلاصۃً بیان ہوتی ہے۔ یہ نہایت مفید ہوگا کہ ایک بحث کی ان تمام گفتگوؤں کو ایک الگ فائل میں یک جا کر لیا جائے۔ اِس طرح ایک بحث مختلف اسالیب میں سامنے آ جائے گی۔ اس مواد کو سامنے رکھ کر جب مصنف متعلقہ بحث کو لکھنے لگے گا تو اُسے خاطر خواہ مدد مل جائے گی۔

4۔ موضوع سے متعلق دیگر ویڈیوز

-اگر غامدی صاحب نے متعلقہ موضوع پر یا اُس کی کسی بحث پر ماقبل یا مابعد کوئی گفتگو کی ہے تو اُس کا سننا بھی مفید ہو سکتاہے۔

-خصوصاً بعد ازاں کی گئی گفتگو کو ضرور سننا چاہیے۔ اس میں یہ امکان ہوتا ہے کہ استدلال یا پریزنٹیشن کا کوئی نیا رخ اختیار کیا گیا ہو، جو تالیف کو مزید موثر کر سکے۔

-تاہم، اس مقصد کے لیےبہت پرانی گفتگوؤں کو سننے سے گریز کرنا چاہیے۔

5۔ موضوع سے متعلق تحریریں

* 23 اعتراضات سیریز کے کم و بیش تمام موضوعات پر استاذِ گرامی تفصیلاً یا اجمالاً خامہ فرسائی کر چکے ہیں۔

*چنانچہ جس موضوع پر مقالہ لکھنا مقصود ہو ، اُس کے حوالے سے اُن کی تصانیف میں جو کچھ دستیاب ہے، اُس کا دقتِ نظر سے مطالعہ کیا جائے اور اہم اقتباسات کو متعلقہ بحث کی فائل میں محفوظ کر لیا جائے۔

*یہ ضروی ہو گا کہ ان اقتباسات کو بر سرِ موقع جا بہ جا استعمال کیا جائے ۔

* اِس ضمن میں امام امین احسن اصلاحی کی تحریروں خصوصاً ’’تدبر قرآن‘‘ کا مطالعہ بھی مفید ہو گا۔ ’’البیان‘‘ کا اسلوب بیان اجمالی ، جب کہ ’’تدبر قرآن‘‘ کا تفصیلی ہے۔ چنانچہ جن مباحث میں دونوں تفاسیر متفق ہیں، اُن میں تفصیلی بیان کا مطالعہ تفہیم میں مزید رسوخ پیدا کر سکتا ہے۔

چوتھا مرحلہ: ضروری مواد کا اجمالی مطالعہ

*یہ مرحلہ درج بالا تیسرے مرحلے سے پہلےبھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔

* اِس مرحلے میں مصنف موضوع سے متعلق نمایندہ اور مفصل اور منضبط تالیفات کا مطالعہ کرے گا۔

* اِس کے نتیجے میں اُسے موضوع کا وسیع اور جامع فہم حاصل ہوگا۔ وہ اُس پورے تناظر سے آگاہ ہوجائے گا،جس میں کھڑے ہو کر استاذ ِ گرامی نے گفتگو کی ہے۔

پانچواں مرحلہ: تصنیف کا خاکہ

*تصنیفی کام شروع کرنے سے پہلے خاکۂ تصنیف کو مرتب کرنا ضروری ہے۔ اِس مقصد کے لیے درج ِذیل کام مفید ہوں گے:

-استاذِ گرامی کی گفتگو کے مباحث کے عنوانات کی مکالمے کی ترتیب کے مطابق فہرست بنا لی جائے۔

-اِس فہرست کو سامنے رکھ کر خاکۂ تصنیف کو تین یا تین سے زیادہ ابواب میں تقسیم کیا جائے اور اُن کے تحت فصول اور ذیلی بحثوں کی فہرست بندی کی جائے۔

-تالیف کی ضرورت متقاضی ہو تو جملہ مباحث کو گفتگو کی ترتیب سے مختلف ترتیب میں بھی مرتب کیا جا سکتا ہے۔

-اِس ضمن میں رہنمائی کے لیے23 اعتراضات سیریز پر ما قبل کیے گئے کام پر بھی نظر ڈال لینی چاہیے۔

چھٹا مرحلہ: خاکۂ تصنیف کی تصویب

*خاکۂ تصنیف کتاب کے عنوانات کی فہرست کی صورت میں سامنے آئے گا، جسے تصویب کے لیے نگرانِ تصنیف ، حسن الیاس صاحب اور استاذِ گرامی کو بھجوا دیا جائے گا۔

* اِس موقع پر گفتگو کی ترتیب کے مطابق مکالمے کے مباحث کی فہرست بھی ساتھ بھجوائی جائے تاکہ گفتگو کی ترتیب اور خاکے کی ترتیب میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ نمایاں ہو سکے۔

ساتواں مرحلہ: کسی ایک بحث کی تصنیف اور پیشکش

*اس سیریز پر کام کا آغاز کرنے والوں کےلیے مفید ہے کہ وہ ایک بحث لکھ کر اُسے نگران کی نظر ثانی کے لیے پیش کریں۔

*اِس ضمن میں اُس بحث کو لکھنا چاہیے،جسے مصنف نسبتاً آسان سمجھتا ہو۔

*اِس تحریر کا فائدہ یہ ہو گا کہ اگر مصنف کے فہم یا اسلوبِ نگارش میں بنیادی مسائل پائے جاتے ہیں تو وہ ابتدا ہی میں سامنے آ جائیں گے اور اُن کی ضروری اصلاح و تربیت کا اہتمام ہو سکے گا۔

* اِس موقع پر نگران کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ مصنف کی ابتدائی تحریر کا بہ غور مطالعہ کرے اور اُسے زبان و بیان، فارمیٹ، کرافٹ اور اسٹرکچر کے حوالے سے ضروری رہنمائی فراہم کرے۔

*اس کے بعد اِس امر کا اندیشہ کم ہوجائے گا کہ مصنف کو کتاب کی تکمیل کے بعد اُسے نئے سرے سے تالیف کرنا پڑے۔

آٹھواں مرحلہ: تصنیف کا باقاعدہ آغاز

*نگران کے اطمینان کے بعد مصنف کو کتاب کی باقاعدہ تصنیف کا آغاز کر دینا چاہیے۔

* اِس موقع پر اُسے تصنیف وتالیف کے جملہ تقاضوں کو بہ تمام و کمال ملحوظ رکھنا چاہیے اور اِس معاملے میں کسی تساہل کو ہر گز آڑے نہیں آنے دینا چاہیے۔

*اِس کے علاوہ مصنف کے لیے درجِ ذیل چیزوں کا التزام بھی ضروری ہے:

-اُسے ہر دم خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے موقف کو نہیں، بلکہ استاذِگرامی کے موقف کو بیان کر رہا ہے۔

-چنانچہ اُسے اُن کے موقف کو بے کم و کاست بیان کرنے پر اکتفا کرنا چاہیے۔

-مکالمےکے مباحث میں اگر کوئی ترمیم مقصود ہے تو اُسے اُسی صورت میں کرنا چاہیے، جب متعلقہ بحث کتاب کی ضرورت سے غیر متعلق یا اضافی ہو۔

-مکالمے کے مباحث میں اگر کوئی اضافہ مقصود ہے تو اُسے اُسی صورت میں کرنا چاہیے ، جب اُس کے بغیر کتاب میں کوئی خلا یا تشنگی باقی رہ جائے یا وہ استاذ ِ گرامی کی بات کی تائید یا شرح و وضاحت کے لیے مفید ہو۔

-کوئی بحث اگر استاذ کے اپنے قلم سے لکھی جا چکی ہے تو اُس کے اقتباسات کو لازماً شامل کیا جائے۔

*مصنف اگر بعض ضمنی مباحث کو خالص طالب علمانہ ضرورت کے تحت بالتفصیل لکھنا چاہتا ہے تو وہ اُنھیں ضمیمہ جات کے طور پر لکھ سکتا ہے۔

*مصنف کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ایڈیٹرز کے لیے کم سے کم کام باقی رہنے دے۔ چنانچہ :

-اُسے حوالہ جات کی تحقیق، اقتباسات کی پڑتال، تراجم کی صحت اور اِس نوعیت کے لائبریری تحقیق کے جملہ امور کو باریک بینی سے اور بھر پور طریقے سے انجام دینا چاہیے۔

– اِسی طرح اُسے زبان کے اصول ، بیان کے اسالیب، املا کے قواعد اور اوقاف کے رموز سے بہ خوبی آگاہ ہونا چاہیے اور اپنی تالیف میں اُنھیں پوری طرح بروے کار لانا چاہیے۔

نواں مرحلہ: تصنیف کے ضروی اجزا کی شمولیت

*اِس مرحلے میں مصنف اِس امر کا جائزہ لے گا کہ آیا تصنیف کے تمام ضروری اجزا تحریر ہو کر ترتیب پا گئے ہیں۔

*تصنیف کے ضروری اجزا یہ ہیں:

-دیباچہ

-تعارف

-عند الضرورت موضوع کے اصولی مباحث کا بہ طورِ مقدمہ بیان

-موضوع کے جملہ مباحث پر معترضین کا موقف

-معترضین کے موقف پر نقد و جرح

-موضوع کے جملہ مباحث پر غامدی صاحب کا موقف

-دونوں مواقف کا تقابلی مطالعہ

-خلاصۂ مباحث

– عند الضرورت ضمیمہ جات

دسواں مرحلہ: تصنیف کی تکمیل اور بنیادی ایڈیٹنگ

*مصنف کتاب کی تکمیل کے بعد خود اُس کی ایڈیٹنگ کا کام انجام دے گا۔ اِس سلسلے میں وہ درجِ ذیل امور انجام دے گا:

-کمپوزنگ

-پروف ریڈنگ

-اوقاف کی پڑتال

-املا کی پڑتال

-پیرا گرافنگ

-عنوانات اور مرکزی اور ذیلی سرخیاں

– حواشی

-بنیادی فارمیٹنگ

-اقتباسات کی شمولیت

گیارھواں مرحلہ: ایڈیٹرز کا ابتدائی کام

*کتاب مکمل ہونے کے بعد اُسے کسی ایک ایڈیٹر کے سپرد کر دیا جائے گا۔

* وہ اس پر درجِ ذیل امور انجام دے گا:

-کتاب کی مطلوبہ سائزاور اسٹرکچر کے لحاظ سے فارمیٹنگ

-پروف ریڈنگ

-اقتباسات کا اصل سے موازنہ (ٹیلی )

-عربی، انگریزی عبارات اور اشعار وغیرہ کی پڑتال

-فہرست سازی

بارھواں مرحلہ: نگران کی نظر ثانی

*ایڈیٹنگ اور فارمیٹنگ کے مراحل سے گزر کر کتاب نگران کی نظر ثانی کے لیے ارسال کی جائے گی۔

*وہ جائزہ لے گا :

-آیا گفتگو کے تمام ضروری نکات کتاب کا حصہ بن گئے ہیں؟

مصنف نے اُن نکات میں اگر کوئی ترمیم و اضافہ کیا ہے تو کیا وہ مصنف کے مدعا سے متجاوز تو نہیں ہے؟

-ابواب و فصول کی تقسیم مفید ِ مطلب ہے؟

-جملہ مباحث بر محل ہیں، یعنی ترتیبِ بیان میں اُنھیں جہاں رقم ہونا چاہیے، وہیں رقم ہیں؟

-اُن کے بیان میں موزونیت کا مسئلہ تو نہیں ہے ، یعنی جس بحث کو اختصار سے بیان ہونا ہے، وہ مفصل اور جسے تفصیل سے بیان ہونا ہے، وہ مختصر ہو گئی ہے۔

(ان امور کو مصنف کو بھی لازماً ملحوظ رکھنا چاہیے)

-کتاب کے اصل مشمولات میں مصنف نےاپنی راے کا اظہار تو نہیں کیا ؟

– کتاب اپنے کلام اور استدلال میں خط ِمستقیم میں چلتی ہے اور ابتدا سے انتہا تک کسی کجی اور انتشار کے بغیر مکمل ہوتی ہے؟