عورت اور مرد کا کردار (رول) اور مقام دین فطرت کے تناظر میں
خدا کی وسیع تراسکیم کے مطابق، اسلام میں عورت اور مرد، دونوں اپنی فطری تقسیم کے باوجود ’انسان‘ ہونے کے اعتبار سے،یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں عورت اور مرد کو الگ الگ خطاب کرتے ہوئے ـــکہیں اُنھیں محض ’’اے عورتو اور اے مردو!‘‘ جیسے الفاظ میں: ’یاأیھا النساء‘، ’ویاأیھا الرجال ‘ کہہ کر خطاب نہیں کیاگیا ۔ اِس کے برعکس، قرآن میں عورت اورمرد، دونوں کو ’انسان‘ کی حیثیت سے مخاطب کرتے ہوئے: ’یاأیھا الناس‘، ’ویاأیھا الإنسان‘(اے لوگو، اے انسانو!) کہہ کر خطاب کیا گیاہے۔
چنانچہ قرآن میں جہاں اِس طرح عورت اور مرد کا تذکرہ ہواہے، وہاں صنفی تفریق کے طور پر اُنھیں الگ الگ خطاب کرنے کے بجاے ’بَعْضُکم مِنْ بَعْض‘ (آل عمران 3: 195)جیسے انقلابی الفاظ میں اُن کا تذکرہ کیاگیا ہے، یعنی صنفی طورپرعورت اور مرد ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود انسانیت کا ایک ابدی اور اٹوٹ سنگم ہیں۔وہ ایک ہی وجود کے دو مختلف مظہر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔قرآن نے اِس اسلوب کے ذریعے سے ہمیشہ کے لیے اُس قدیم اور جدید جاہلی تصور کا خاتمہ کردیا،جس کے تحت ’’عورت اور مرد‘‘کی فطری تقسیم کو انسانی تفریق کے ہم معنی بنا دیا گیا تھا۔ قرآن میں ’’عورت اور مرد‘‘،دونوں کو ’’انسان‘‘ تسلیم کرنے کے بعد اُن کے درمیان موجود صنفی فرق (gender differences) کو برتری یا کم تری کا معیار ہرگز قرار نہیں دیاگیا۔اِس کے بجاے دونوں کو اپنے اپنے میدانِ عمل میں ذاتی رول کی ادائیگی اوراپنے اندر پائے جانے والے فطری واضافی خصائص (النساء 4: 32) کے ادراک کی طرف متوجہ کیاگیا ہے۔ اِسی حقیقت کو استاد وحیدالدین خاں نے انتہائی خوب صورتی کے ساتھ اِن الفاظ میں بیان کیا تھا ــــــ رول میں مختلف، مقام میں برابر:
Different in role, equal in respect
عورت کا اصل میدان گھر اور خاندانی زندگی کی تعمیروتشکیل ہے، جس پر پورے انسانی معاشرے کے استحکام کی بنیاد قائم ہے۔ اِسی طرح، مردکا اصل میدان باہر کی دنیا ہے، جس پر انسان کا معاشی نظام مبنی ہے۔ یہی باہر کی دنیا وہ میدان ہے جس سے انسانی زندگی کی تمام سیاسی، اخلاقی اور دعوتی سرگرمیاں جاری اور تمام تعلیمی وتربیتی ادارے اِسی سے وابستہ ہیں۔
گھراور باہر کے اِن دونوں اداروں میں سے اگر ایک ادارہ بھی متاثرہو تواُس کا حشر وہی ہوگا جس کو ’ترقی ‘جیسے پر فریب فلسفوں کی شاطرانہ ملمع کاری کے باوجود،اِس وقت مغرب سے لے کر مشرق تک ہر جگہ دیکھاجاسکتاہے۔ موجودہ مذہبی اور غیر مذہبی دنیا کے بڑے حصے میں برپا اکثر فکری اور عملی فسادات اِسی عمومی توازن اور اِسی فطری تقسیم میں انحراف کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔