مواد پر جائیں

’اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ ‘کی شان نزول کی تحقیق کیاولیدبن عقبہ فاسق تھے؟ (2)

تحریر:علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی / ترتیب:ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی اردو

[مختارات کا حصہ قدیم و جدید مصنفین کی منتخب تحریروں کے لیے مخصوص ہے۔ اس کا مقصد ماضی اور حال کے فکر و نظر کو قارئین کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اس میں ماضی کے نمایندہ اہل علم کی تصانیف سے ایسے اقتباس نقل کیے جاتے ہیں، جو ان کے افکار اور اسالیب کو نمایاں کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ نئے لکھنے والوں کی موثر اور معتبر تحریروں کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اِس حصے کے مندرجات سے مدیر اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ ادارہ]

اس اصولی بات کے بعد الگ الگ ایک ایک روایت پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، لیکن اطمینان مزید کی خاطر میں ناظرین کے سامنے ایک ایک روایت پیش کیے دیتا ہوں۔

مجاہد کی روایت:

ابنِ جریر نے اپنی سند کے ساتھ ابن ابی نجیح کی روایت نقل کی ہے۔

عن مجاہد فی قولہ تعالیٰ: ’اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌ‘ قال (ھو) الولید بن عقبۃ ابن معیط بعثہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم الی بنی المصطلق لیصدقہم فتلقوہ بالہدیۃ فرجع الی محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال ان بنی المصطلق جمعت لتقاتلک .1

’’یعنی ولید جب بنی مصطلق کے یہاں پہنچا تو وہ لوگ ہدیے تحفے لے کر اس کے استقبال کے لیے آئے اور ولید انھیں دیکھ کر مدینہ واپس ہوگیا اور رسول اللہ سے کہہ دیا کہ وہ لوگ آپ سے آمادۂ پیکار ہیں“

اس کی سندمیں یہ کلام ہے کہ مجاہد نے یہ نہیں بتایا کہ اسے یہ قصہ کس شخص سے معلوم ہوا۔ اور متن میں یہ کہ یہ بات بالکل غیرمعقول ہے کہ ولیدان کودیکھ کرواپس ہوگیا، نیز مہمان کو ہدیہ و تحفہ واپسی کے وقت پیش کیا جاتا ہے، نہ کہ آمد کے وقت۔

قتادہ کی روایت:

قولہ ’اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌ‘ ھو ابن ابی معیط الولید بن عقبۃ بعثہ نبی اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مصدقًا الی بنی المصطلق فلما ابصروہ اَقْبلوا نحوہ فھابَھم فرجع الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاخبرہ انھم قد ارتدوا عن الاسلام، فبعث نبی اللّٰہ خالد بن الولید وامرہ ان یتثبت ولا یعجل. فانطلق حتی اتاھم فبعث عیونہ فلما جاء واخبروا خالدًا انھم مستمسکون بالاسلام وسمعوا اذانھم وصلاتھم. فلما اصبحوا اتاھم خالد فرأی الذی یُعْجب. فرجع الی النبی فاخبرہ الخبر فانزل اللّٰہ عزوجل ماتسمعون فکان نبی اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: التبین من اللّٰہ والعجلۃ من الشیطان.

(تفسیر طبری 21/ 352)

’’یعنی ولید بن عقبہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تحصیل زکوٰۃ کے لیے بنی مصطلق کے علاقہ میں بھیجا تھا۔ وہ لوگ اسے آتا دیکھ کر اس کی طرف بڑھے ولید ان سے ڈر گیا۔ واپس مدینہ جاکر آپ کو بتایا کہ وہ لوگ مرتد ہوگئے ہیں۔ آپ نے خالد بن ولید کو بھیجا اور ہدایت فرما دی کہ جلد بازی سے کام نہ لینا، پہلے خوب تحقیق کرلینا۔ وہاں پہنچ کر خالد کوان کے جاسوسوں نے رپورٹ دی کہ وہ دین پر جمے ہوئے ہیں۔ ہم نے ان کی اذان بھی سنی اور نماز بھی، صبح کو خالد خود ان کے پاس گئے اور بذاتِ خود ان کا دین پر دل خوش کن جماؤ دیکھا۔ مدینہ آکر آپ کو ماجرا سنایا تب یہ آیت اتری۔ اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ تحقیق کرنا اللہ کی جانب سے ہے اور جلد بازی شیطان کی جانب سے۔‘‘

عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی روایت:

اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَأالآیۃ… نزلت فی الولید بن عقبۃ حین اُرسل الی بنی المصطلق. (تفسیر طبری21/ 352)

یزید بن رومان کی روایت:

ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ارسل الی بنی المصطلق بعد اسلامھم الولید بن عقبۃ فلما سمعوا بہ رکبوا الیہ فلما سمع بھم خافھم فرجع الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاخبرہ ان القوم ھموا بقتلہ ومنعوا ما قِبَلَھم من صدقاتھم فاکثر المسلمون فی ذکر غزوتھم حتی تھیا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بان یغزوھم، فبینما ھم فی ذلک اذ قدم وفدھم علی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقالوا یارسول اللّٰہ انا سمعنا برسولک حین بعثت الینا فخرجنا الیہ لنکرمہ ولنؤدی الیہ ماقبلنا من الصدقۃ فاستمر راجعا فبلغنا انہ یزعم لرسول اللّٰہ انا خرجنا الیہ لنقتلہ واللّٰہ ما خرجنا لذلک، فانزل اللّٰہ فی الولید بن عقبۃ وفیھم یایھا الذین اٰمنوا ان جائکم فاسق. (تفسیر طبری 21/ 352)2

قتادہ اور یزید بن رومان، دونوں کی روایتوں میں کھلا ہوا تضاد ہے۔ جیسا کہ ظاہر ہے مفسر نظام الدین نیشاپوری نے اپنی تفسیر میں یزید بن رومان کی اس روایت میں اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد بنی المصطلق کی اس معذرت کا یقین نہیں کیا کہ یارسول اللہ، ہم تو آپ کے قاصد کا اکرام اور اسے مالِ زکوٰۃ ادا کرنے کی غرض سے نکلے تھے، مگر وہ رکا ہی نہیں واپس بھاگ آیا۔ آپ نے یہ سن کر ان سے فرمایا کہ تم لوگ اپنی سرکشی سے باز آجاؤ۔ ورنہ میں تمھاری سرکوبی کے لیے ایسے شخص کو بھیجوں گا جو میرے نزدیک میری مثل ہے، وہ تمھارے جنگی مردوں کو قتل اور تمھارے بچوں کو گرفتار کرے گا۔ یہ کہہ کر آپ نے علی بن ابی طالب کے کندھے پر ہاتھ مارا کہ وہ شخص یہ ہے: یہ سن کر وہ لوگ پکار اٹھے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں۔ ’فاتھمھم النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم وقال لتنتَھُنَّ اولا بعثن الیکم رجلا ھو عندی کنفسی یقتل مقاتِلتکم ویسبی ذراریکم۔ ثم ضرب بیدہ علی کتف علی رضی اللّٰہ عنہ فقالوا نعوذ باللّٰہ من غضبہ وغضب رسولہ‘۔3

اس روایت کا یہ جز پڑھ لینے کے بعد یہ حقیقت قطعاً بے نقاب ہوجاتی ہے کہ ولید کے متعلق یہ کہانی اور آیت ’ اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ‘ کا یہ شانِ نزول ایک خاص طبقہ کا گھڑا ہوا ہے۔ نہ معلوم مولانا مودودی نے اس جز کو کیوں قلم انداز کردیا تھا۔

ان مرسل روایات کے علاوہ یہ قصہ حضرت ام سلمہ و حضرت عبداللہ بن عباس اور حارث بن ضرار کی طرف منسوب کرکے بھی نقل کیا گیا ہے۔

حضرت ام سلمہ کی طرف منسوب روایت:

ابن جریر طبری نے لکھا ہے:

حدثنا ابوکریب ثنا جعفر بن عون عن موسی بن عبیدۃ عن ثابت مولیٰ ام سلمۃ عن ام سلمۃ قالت بعث رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رجلا فی صدقات بنی المصطلق بعد الوقعۃ فسمع بذلک القوم فتلقوہ یعظمون امر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فحدثہ الشیطن انھم یریدون قتلہ فرجع الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال ان بنی المصطلق قدمنعوا صدقاتھم فغضب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم والمسلمون فبلغ القوم رجوعُہ فاتوا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فصفوا لہ حین صلی الظہر فقالوا نعوذ باللّٰہ من سخط اللّٰہ وسخط رسولہ بعثت الینا رجلا مصدقا فسرُرنا بذلک وقرت بہ اعینُنا ثم انہ رجع من بعض الطریق فخشینا ان یکون ذلک غضبا من اللّٰہ ومن رسولہ فلم یزالوا یکلمونہ حتی جاء بلال واذن لصلوۃ العصر ونزلت یا ایھا الذین امنو ان جاء کم فاسق.(تفسیر طبری 21/ 349)

’’ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنی مصطلق کے بعد اس قبیلہ سے اموالِ زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے ایک شخص کو بھیجا۔ بنی مصطلق کے لوگوں نے اس کے آنے کی خبر سنی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی عظمت ملحوظ رکھتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔ اب اس شخص کے دل میں شیطان نے یہ خیال ڈال دیا کہ یہ لوگ مجھے قتل کردینا چاہتے ہیں۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مدینہ واپس ہوگیا۔ آکر بتایا کہ بنی مصطلق نے زکوٰۃ روک لی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو یہ سن کر غصہ آیا۔ اُدھر بنی مصطلق کو اس شخص کے واپس چلے جانے کی اطلاع ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نمازِ ظہر پڑھ چکے تو وہ آپ کے سامنے صف بستہ ہوگئے۔ عرض کیا: ہم اللہ کی پناہ لیتے ہیں اللہ کی ناراضی سے اور اس کے رسول کی ناراضی سے۔ آپ نے ہمارے پاس ایک صدقہ وصول کرنے والا آدمی بھیجا تھا ہمیں اس سے خوشی ہوئی اور ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں پھر وہ راستہ سے ہی واپس ہوگیا۔ ہمیں خوف ہوا کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی ناراضی کی وجہ سے ہوا ہے پس وہ نمازِ عصر کی اذان تک آپ سے بات کرتے رہے اور یہ آیت نازل ہوئی۔‘‘

اس کی اسناد میں دو علت ہیں: اول یہ کہ اس کا راوی موسیٰ بن عبیدہ نہایت ضعیف ہے۔ غلوکار شخص تھا، نسائی و علی بن المدینی و ابن معین وغیرہم نے اسے ضعیف بتایا ہے۔

امام احمدکہتے ہیں:’لاتحل الروایۃ عندی عنہ‘،(میرے نزدیک اس سے روایت کرنا جائز نہیں)۔ ایک بارکہا:’لایکتب حدیثہ‘ (اس کی حدیث نہیں لکھی جانی چاہیے)۔ ’وقال البخاری قال احمد:منکرالحدیث، حدث باحادیث منکرۃ‘،(اس نے بہت سی منکر حدیثیں روایت کی ہیں)۔4 دوم یہ کہ ثابت مولا ئے ام سلمہ ایک فرضی شخص ہے۔ حضرت ام سلمہ کا کوئی غلام اس نام کا نہ تھا۔ کتب رجال اس ثابت کے ثبوت سے ساکت ہیں۔

اسناد کے اس ضعف کے باوجود اگر مان بھی لیا جائے کہ فی الواقع حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ قصہ بیان کیا تھا تب بھی یہ ولید بن عقبہ کا قصہ نہیں ہوسکتا۔ نہ اس روایت میں ولید کا نام مذکور ہے نہ ولید عہد نبوی میں اس لائق ہوئے تھے کہ انھیں کہیں مصدق بنا کر بھیجا جاتا۔ ولید فتح مکہ کے موقع پر نابالغ بچہ تھے اور فتح مکہ کے بعد ہی وہ اپنے گھر کے لوگوں کے ساتھ مدینہ منتقل ہوئے۔ فتح مکہ 8ھ میں ہوئی ہے اور حضرت ام سلمہ کی طرف منسوب یہ واقعہ اگر ہوا ہے تو 7ھ میں ہوا ہے۔ اس لیے ولید سے اس واقعہ کا کوئی تعلق نہیں۔

[ باقی]

  1. ۔ تفسیرابن جریرالطبری، سورۃ الحجرات، بتحقیق د، عبداللّٰہ بن عبدالمحسن الترکی، مرکز البحوث للدراسات العربیہ والاسلامیہ بدار ہجر للنشر والتوزیع.( 21/351)
  2. ۔ اس کا مفہوم بھی مذکورہ بالاروایتوں سے ملتاجلتاہے۔
  3. ۔ تفسیر نیشاپوری علی ہامش تفسیر الطبری، سورۃ الحجرات۔
  4. ۔ تہذیب التہذیب، الجلدالعاشر،دارالفکر،بیروت،الطبعۃ الاولی، 1984ء۔