مواد پر جائیں

مطالعۂ سنن ابن ماجہ

ڈاکٹر عمار خان ناصر/ ڈاکٹر سید مطیع الرحمن اردو

(سنن ابن ماجہ کی احادیث سے متعلق استفسارات اور ان کا جواب)

(1)

مطیع سید :سنن ابن ماجہ کو عام طورپر صحاح ستہ میں چھٹے درجے میں گنا جاتاہے ۔ امام بخاری کا معیار سب سے مضبوط اور سخت ہے ۔ یہ لوگ امام بخاری کے بعد کے ہیں تو معیار اس سے آگے بڑھناچاہیے تھا یا کم ہونا چاہیے تھا؟ یا ایسا ہے کہ انھوں نے دیکھا کہ حدیث کے معیار میں زیادہ سختی ہورہی ہے ،تو کچھ نرمی ہونی چاہیے؟

عمارناصر: یہ اچھا اور اہم سوال ہے کہ جو صحاح کے مصنفین ہیں ،کیا وہ ایک دوسرے کے معیارات کو سامنے رکھ کراور ایک دوسرے کے موازنے میں کوئی کام کررہے ہیں ؟مجموعی طورپر تو ایسا نہیں ہے۔ یہ تاثر اصل میں اس لیے پیداہوتاہے کہ جو بہت سے مجموعے اس دور میں مرتب کیے گئے ،ان میں سے ان پانچ یا چھ کو زیادہ قبولیت محدثین میں حاصل ہوگئی ،اور یہ بات بھی دکھائی دیتی ہے کہ ان کے معیارات میں فرق ہے تو آج جب ہم دیکھتے ہیں تو یہ تاثر پیداہوسکتا ہے کہ شاید یہ ایک دوسرے کے تقابل میں کوئی کام کررہے تھے۔ایسا نہیں ہے ۔البتہ امام بخاری اور امام مسلم کی حد تک یہ کہاجاسکتاہے ،کیونکہ امام مسلم کو امام بخاری کے بعض شرائط پر تحفظات تھے اور انھو ں نے اپنی صحیح میں اس کو سامنے رکھاہے کہ میں نے اتنی سختی نہیں برتنی،بلکہ میرے نزدیک راویوں کی باہمی ملاقات کے ثبوت کے جو اصول ہیں،ان کے مطابق جو روایتیں ہیں ،وہ میں لے آؤں گا ۔تو امام مسلم کی حد تک تویہ پہلو درست ہے کہ وہ امام بخاری کی شرط کو زیادہ سخت سمجھتے ہوئے اس کے تقابل میں اپنی صحیح مرتب کر رہے ہیں۔

باقی جو سنن کے مصنفین ہیں ،وہ سب اپنے اپنے طور پر کام کر رہے تھے۔ اس دور میں یہ حضرات ایک دوسرے کےکام سے بہت زیادہ واقف یا متعارف ہوں، یہ کہنا بھی مشکل ہے ۔وہ آزادانہ تحقیق سے اپنے اپنے مجموعے مرتب کر رہے تھے۔ان کے علاوہ اور بھی لوگ تھے جو یہ کام کر رہے تھے۔ ہاں،ان کی مجموعی صحت کو سامنے رکھتے ہوئے جب ان کا انتخاب کرلیا گیا تو پھر ان میں درجہ بندی کی گئی اور اس میں یہ طےپایا گیا کہ فلاں کتاب کا معیار فلاں کے مقابلے میں زیادہ کڑا ہے۔یہ مصنفین کے پیشِ نظر شاید نہیں تھا کہ میں فلاں محدث کی شرط سے مزید نرم یا سخت شرط اختیارکروں۔ ان کا اپنا جو بھی ذوق تھا،جو معیارتھا، اس پر انھوں نے روایات جمع کر لیں۔ البتہ اب ہم دیکھتے ہیں کہ امرِ واقع کے طورپر ان میں درجہ بندی کا فرق موجود ہے ۔

مطیع سید: امام مسلم، امام بخاری کے براہِ راست شاگرد تھے، اس لیے انھوں نے ان کے کام کو سامنے رکھا ؟

عمارناصر:امام مسلم بھی امام بخاری کے شاگرد تھے اور امام ترمذی بھی امام بخاری کے شاگرد تھے، لیکن امام ترمذی نے اصطلاحات بھی اپنی وضع کیں،اور شرائط بھی اپنے وضع کیے اور ان کی کتاب کا جو بنیادی مقصد ہے، وہ بھی مختلف تھا ۔

مطیع سید: ’’باب اتباعِ سنۃ الرسول‘‘ میں امام ابن ماجہ یہ روایت لائے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایک گروہ ہوگا جو غالب رہے گا ،اور دین پر قائم رہے گا۔1 ہمارے ہاں ہر گروہ اور ہر فرقہ اپنے آپ کو اس گروہ کا مصداق قراردیتاہے۔آپ کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا اصل مقصد کیا تھا؟

عمارناصر: یہ اصل سوال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات کس پہلو سے بتا رہے ہیں؟ اگر تو اس پہلو سے بتارہے ہیں کہ بعد میں جو آنے والے ہیں،ان تک یہ بات پہنچے اور وہ اس ایک گروہ کے ساتھ وابستہ رہیں تو پھر تو یہ بڑا اہم سوال بنتاہے کہ پہلے اس کے مصداق کا پتا ہونا چاہیے۔ ورنہ لوگ کیسے فیصلہ کریں کہ ان سارے گروہوں میں سے وہ گروہ کون ساہے؟ اصل میں یہ بات ارشاد فرمانے کا بنیادی مقصد یہ نہیں تھا۔ بنیادی مقصود اس بات کا سننے والوں کو بتانا یہ تھا کہ جو دین میں نے دیاہے، کچھ عرصے میں اس میں خلل واقع ہونا شروع ہو جائے گا،اورا س کی جو معیاری صورت ہے، اس پر سارے لوگ قائم نہیں رہ سکیں گے۔ البتہ اللہ تعالیٰ اس کا بندوبست کرےگا کہ ایک گروہ بہ ہر حال اس پر قائم رہے، چاہے وہ تعداد میں کم ہو اور کم زو رہو ۔اس سے فرق نہیں پڑتا، لیکن بہ ہرحال وہ موجود رہے گا۔ رہا یہ مسئلہ کہ اختلاف اور فتنوں کے دور میں لوگ کیسے صحیح دین کو پہچانیں تو وہ ایک الگ سوال ہے۔ اس کے مختلف پہلو دیگر احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔

مطیع سید: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ایک شخص تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھاہوگا،اور کہے گا کہ ہمارے لیے قرآن ہی کافی ہے،حدیث کی ضرورت نہیں۔2 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ہاں تو ایسا بہ ظاہر محسوس نہیں ہوتا کہ وہ ایسا کوئی رویہ اپنائیں گے تو کیا آپ اس بات کو محض پیشین گوئی کے طورپر بیان فرمارہے ہیں یا آپ نے ایسے کوئی رویے محسوس فرمائے ؟

عمارناصر:پیشین گوئی کے طورپر بیان فرمارہے ہیں اور اس طرح کے جوفتنے ہیں ،وہ عملاً تو بعد میں رونماہوئے، لیکن ان کے آثار ظاہری طورپر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دور میں محسوس کر رہے تھے ۔ جیسے خوارج ایک منظم فتنے کے طورپر تو بعد میں سامنے آئے،لیکن ان کا جو دینی رویہ تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے ایک شخص کی مثال دےکر واضح فرمایا کہ اسی کی قبیل سے لوگ آئیں گے۔تو ابتدائی آثار وعلامات توظاہر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آرہی تھیں۔ بعد میں پھر اپنے اپنے وقت پر یہ رویے منظم شکل میں سامنے آئے ۔

مطیع سید:ابن کعب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے انھیں کوفہ کا عامل بنا کر بھیجا تو راستے میں دور تک ساتھ چلتے ہوئے وصیت کی کہ لوگ تم سے بڑے اشتیاق سےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پوچھیں گے ،لیکن تم بہت کم روایتیں بیان کرنا۔3 لوگوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے بارے میں اشتیاق ہونا،یہ تو کوئی بری بات نہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث بیان کرنا بھی بہت اچھا عمل ہے تو پھر حضرت عمر کی اس بات کا پس منظر کیا تھا؟

عمارناصر: زیادہ تر اکابر صحابہ تقلیل الروایۃ کے قائل تھے۔ تکثیر الروایۃ کے قائل تو چند ایک ہی تھے، جیسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ۔ اس سلسلے میں ان کے جو بنیادی خدشات تھے، وہ دوتین تھے جنھیں وہ اپنی روایتوں میں بیان بھی کرتے ہیں۔ سب سے بڑا خدشہ تو وہی تھا جو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی تھا کہ امت کی توجہ سب سے زیادہ قرآن پر مرکوز رہنی چاہیے۔ اگر احادیث بھی اس توجہ کو بٹانے کا موجب بنیں تو یہ ٹھیک نہیں ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاص وقت تک لوگوں کو احادیث لکھنے سے منع بھی کیا۔ حضرت عمر کی بھی یہ ترجیح تھی کہ قرآن پر لوگوں کی توجہ مرکوز رہے۔ اگر لوگوں کی توجہ اس طرف ہو جائے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بھی جمع کرنی ہیں تو قرآن کو جو اعتنا ملناچاہیے ،جو توجہ ملنی چاہیے، وہ کم ہو جائےگی یا بٹ جائے گی۔

دوسری یہ بات تھی کہ قرآن تو بڑی حفاظت کے ساتھ باللفظ نقل ہو رہا تھا، اس میں کمی بیشی کی گنجایش نہیں، لیکن حدیثوں کے راستے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرنے کا راستہ بھی کھل جائے گا اور کثرت روایت سے غلطی کا امکان بھی بڑھتا جائے گا۔یہ نقصان اس فائدے سے زیادہ بڑا ہوگا ،جوظاہراً‌ ان کو بیان کرنے سے ہو گا۔ ظاہرہے کہ صحابہ جن مختلف علاقوں میں جائیں گے،اور ان سے جو لوگ حدیثیں پوچھ رہے ہوں گے، ان سب کا بیک گراونڈ مختلف ہوگا،اور ان میں کچھ فتنہ پرداز لوگ بھی ہو سکتے ہیں۔تو حضرت عمر کا خدشہ یہ تھا کہ حدیث کو جتنا کثرت سے روایت کرنے کا معمول بنتا چلا جائے گا،اتناہی لوگوں کے لیے جھوٹ شامل کرنا آسان ہو جائےگا۔

تیسری بڑی بات یہ تھی جس کا ذکر بعض صحابہ کے آثار میں، مثلاً‌ حضرت علی کے آثار میں آتاہے کہ بہ ہر حال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں میں بعض دفعہ بہت ہی لطیف بات ہوتی ہے، جس کو سمجھنا اہلِ علم کا کام ہوتاہے۔ خاص طورپر اگراس بات کا کوئی پس منظر ہوگا تو اس سے ناواقف شخص غلط فہمی کا بھی شکارہو سکتاہے ۔تو اس کا بھی خدشہ صحابہ محسوس کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح باتیں بھی نئے لوگوں کے لیے، یاکم فہم لوگوں کے لیے قابلِ فہم نہ ہوں اور وہ ان سے اپنے لیے دین میں کوئی فتنے پیدا کر لیں۔ تو یہ دوتین بڑی واضح وجوہات تھیں۔

مطیع سید: بعد میں بالکل یہی مسائل پیش آئے جس کی وجہ سے پھر حدیث کی تحقیق کی طرف محدثین کو متوجہ ہوناپڑا ۔

عمارناصر: جی، اسی لیے پھر امت کو بہت محنت کرنی پڑی،دو تین صدیاں اس علم کی خدمت میں لگانی پڑیں۔

مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تجھے ناپسندیدہ چیز کا سامنا کرنا پڑے تو ایسا نہ کہو کہ اگر میں ایسا کرتا یا ویساکرتا تو شاید یہ نہ ہوتا،بلکہ یوں کہو کہ یہ اللہ کی طرف سے تقدیر تھی اور ویسا ہی ہوا،اس لیے کہ اگر مگر تجھ پر شیطان کا دروازہ کھولتاہے،4 لیکن اگر ہم اپنی زندگی کے ہر واقعے کو ایسے دیکھناشروع کردیں تو پھر خود تنقیدی اور خود احتسابی نہیں پیدا ہو سکتی۔آپ اپنے ماضی پر تنقید کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔یہ رویہ یک طرفہ سا معلوم ہوتاہے ۔

عمارناصر: یہاں دو الگ الگ چیزیں ہیں: ایک یہ ہے کہ آپ نے کوئی فیصلہ کیا اور تدبیر کے پہلو سے کوئی غلطی کی تو اس سے سبق سیکھنے کے لیے آپ یہ جائزہ لیں کہ اگر میں یوں کرتایا ایسے کر لیتا تو شاید اس کا نتیجہ مختلف ہوتا۔یہ اور بات ہے ،اس سے حدیث میں منع نہیں کیا گیا۔جس بات سے حدیث میں منع کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ ایک کام جو خلاف منشا ہوگیا ہے ،اس کو آپ دل پر لے کر بیٹھ جائیں اور افسوس کرتے رہیں کہ کاش، یوں کرلیتا یاایسے کرلیتا ۔ یہ جو کسی بات کو دل پر لے کر بیٹھ جاناہے ،یہ آپ کی شخصیت کو بھی تباہ کر دیتاہے اور شیطان کی وسوسہ اندازی کا دروازہ بھی یہیں سے کھل جاتا ہے۔ وہ آپ کے دل میں اللہ کے بارے میں شکایت، وسوسے اور اس طرح کی ساری چیزیں یہیں سے پیداکرتاہے ۔ اس سے حدیث میں منع کیا گیاہے۔

مطیع سید: خوارج کے بارے میں جو متعدد احادیث آتی ہیں ،ان میں یہاں تک الفاظ آتے ہیں کہ انھیں دیکھو، ان سے ملوتو انھیں قتل کردو،5 لیکن حضرت علی نے فرمایا کہ جب تک یہ ہتھیار نہیں اٹھائیں گے، تب تک ہم انھیں قتل نہیں کریں گے۔احادیث میں تو الفاظ یہ ہیں کہ جہاں کہیں ملیں، انھیں قتل کر ڈالو۔احادیث میں تو ایسا نہیں آیا کہ جب تک ہتھیارنہ اٹھالیں، تب تک تم ان سے باز رہنا۔

عمارناصر: نہیں، ان الفاظ کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ اگر کوئی فتنہ نہ برپا کر رہے ہوں، تب بھی انھیں قتل کر دیا جائے۔ مقصد یہ ہے کہ ان سے قتال کرنے میں یا ان کو ایک فتنہ سمجھنے میں کوئی مداہنت نہیں ہو نی چاہیے،لیکن تب جب وہ برسرِ پیکار ہوں اور شرپھیلانے پر آمادہ ہوں ۔ یہ تاکید کا اسلوب ہے، جیسے قرآن میں ہے: ’فَخُذُوۡہُمۡ وَ اقۡتُلُوۡہُمۡ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمۡ‘،یعنی ان کے بارے میں نرمی کا کوئی پہلو نہیں ہونا چاہیے۔یہ مرا دنہیں ہے کہ انھیں جہاں بھی دیکھیں ، تحقیق کی کوئی ضرورت محسوس نہ کریں یا کوئی دوسرا آپشن استعمال نہ کریں ،یہ مقصد نہیں ہے۔ یہاں بھی ایسے ہی ہے کہ ان کے بارے میں بالکل یکسو ہوکر اقدام کرو اور اگر وہ فساد پر مصر ہیں تو تمھاری طرف سے بھی عزم میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے۔

مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سات آسمان اور ان کے درمیان فاصلہ بیان فرمارہے ہیں۔ آٹھ پہاڑی بکرے ہیں جنھوں نے عرش اٹھا رکھا ہے اور ان کے گھٹنوں اور کھروں کے درمیان فاصلہ بیان فرمارہے ہیں۔پھر ایک آسمان کا دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بیان فرمارہے ہیں۔6 قرآن ِحکیم کا انداز تو یہ ہے کہ وہ ایسی آیات کو متشابہات کی صورت میں بیان کرتاہے اور اس طرح کی باتوں کی کرید میں پڑنے کو پسند بھی نہیں کرتا۔ ایک اجمالی سی بات کرکے آگے بڑھ جاتا ہے۔ پھر احادیث میں ان چیزوں کی اتنی تفصیل کیوں بیان کی جارہی ہے؟

عمارناصر: متشابہات جن کی کرید میں جانا یا کھوج کرنا ناپسندید ہ ہے، وہ تو اس شرط کے ساتھ ہے کہ اس نوعیت کی جو بات اللہ تعالیٰ نے جتنی بیان کی ہے، وہ اگر اجمالاً‌ہی قابلِ فہم ہے تو اس کی کرید میں نہ پڑا جائے۔ اس کی کرید میں نہ پڑنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس کے اجمال کو کھولے یا کھولنے کی کوشش کرے تو وہ اس کے بس کی بات نہیں ہے ۔وہ خواہ مخواہ خیالی گھوڑے دوڑائے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ خود یا اس کا پیغمبر اس کی کچھ تفصیلات انسانوں کے اطمینان کے لیے، جس سے ان کے ذہن میں اللہ کے عرش کی یا اس کے دربار یا اس کی بارگاہ کی ایک ذہنی تصویر سی بن جائے، بیان کرے یہ تو اس کے خلاف نہیں ہے ۔

مطیع سید: روایت میں آیاہے کہ پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں ۔ان میں ایک ختنہ کرانا بھی ہے۔7یہاں فطرت کن معنوں میں بیان ہواہے؟ ختنہ تو غالباً‌ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے شروع ہواہے ۔اگر یہ فطرت میں شامل ہے تو یہ تو روزِ اول سے ہونا چاہیے تھا۔

عمارناصر: فطرت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے صفائی ستھرائی اور جسمانی طہارت ونظافت کو پسند کیا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ طریقہ ہے جس پر انسان کو ہونا چاہیے،وہ فطرت ہے۔ یہ درست قیاس ہے کہ یہ فطری طریقے ابتدا سے ہی انسانوں کو سکھائے گئے ہوں گے، مثلاً‌ دانت اور ناک صاف کرنے اور جسم کے زائد بال صاف کرنے کی ہدایت شروع سے ہی ہوگی، البتہ ختنے کو شاید تغلیباً‌ یہاں امور فطرت کے ذیل میں شمار کیا گیا ہے۔ ایک لحاظ سے اس کی بھی مناسبت جسمانی صفائی سے بنتی ہے، لیکن یہ اصل میں ایک خاص علامتی رسم ہے، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی ذریت کے لیے مقرر کی گئی۔

یہ بھی ممکن ہے کہ ابتدا سے انبیا کے ذریعے سے انسانوں کو یہ طریقہ بتایا تو گیا ہو، لیکن پھر ان میں متروک ہو گیا ہو اور حضرت ابراہیم نے پھر آ کر اس کی تجدید کی ہو، یعنی وہ معلوم تاریخ کے اعتبار سے پہلے نبی ہوں جنھوں نے اس رسم کو جاری کیا۔ اگر یہ فرض کیا جائے تو پھر اس کو بھی فطرت میں شمار کرنا قابل فہم ہے۔ ہاں، ساری دنیا کے انسان اسی پسندیدہ فطرت کے مطابق ڈھلے ہوئے ہوں، یہ ایک الگ بحث ہے۔ جیسے شرک ہے تو اللہ تعالیٰ نے تو انسان کو شرک پر پیدانہیں کیا،توحید پر پیداکیاہے ، لیکن ساری دنیا شرک میں مبتلا رہی ہے۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد پر اللہ تعالیٰ نے خصوصی کرم فرمایا اور اس کو نعمت کے طورپر بیان کیا کہ دنیا کی باقی قومیں گم راہی میں بھٹک رہی ہیں،اور تمھارے لیے میں نے ہدایت کا اہتمام کیاہے ۔

مطیع سید: حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ لوگ وضومیں پاؤں دھوتےہیں، جب کہ میں کتاب اللہ میں تو مسح ہی پاتاہوں۔8 کیا یہ موقف صرف ابن عباس کا ہے یا اور بھی صحابہ اس میں شامل ہیں ؟

عمارناصر: یہ موقف صحابہ میں بھی اور تابعین میں بھی ایک گروہ کا رہاہے ۔ اس موقف کا ماخذ یہ دکھائی دیتاہے کہ قرآن مجید میں وضو کی آیت جس اسلوب میں آئی ہے، اس میں اگر آپ ’ارجلکم‘ کو قریبی فعل سے جوڑیں تو وہ مسح ہے، جس کا مطلب یہ بنتاہے کہ پاؤں کا مسح کرو۔ اب یہ حضرات جب آیت کو پڑھتے ہیں تو ایسا ہی لگتاہے کہ یہاں دو فعل ذکر ہوئے ہیں اور دونوں کے تحت دو دو اعضا ہیں، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے عمل کو دیکھتے ہیں تووہ اس کے خلاف ہے ۔ ظاہر ہے، اس کی انھوں نے کوئی توجیہ یا تفہیم کرنی ہے تو ان کو زیادہ بہتر یہ تفہیم لگی کہ حکم تو اللہ نے مسح کا ہی دیا تھا ،لیکن دھونے سے منع تو نہیں کیا ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مزید طہارت کے پہلو سے مسح پر اکتفا کرنے کے بجاے پاؤں دھونے پر عمل کیا اور لوگوں نے بھی اسی کو اختیار کرلیا،لیکن اصل میں فرض اللہ تعالیٰ نے مسح ہی کیا تھا۔میرے خیال میں وہ اس کو اس طرح دیکھتے ہیں ۔

مطیع سید: اہلِ تشیع کے ہاں پاؤں پر مسح کی روایت کیسے پیدا ہوئی؟

عمارناصر:میراخیال ہے کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اہلِ بیت میں ایک بڑے عالم ہیں، اس طرح اور بھی لوگ ہوں گے ،انھوں نے ان کا موقف لے لیا۔ کافی عرصے تک اس اختلاف میں شیعہ سنی شناخت کا پہلو شامل نہیں تھا۔ شروع کے دور میں دیکھیں تو کئی تابعین یہی موقف رکھتے تھے، بلکہ آپ بدر الدین زرکشی کی ’’البرہان‘‘ دیکھیں جو آٹھویں صدی ہجری کے عالم ہیں، تو وہ بھی یہی راے بیان کررہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تو مسح کا ہی حکم دیا ہے۔

مطیع سید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرو اور بکری کا گوشت کھانے کے بعد اس کی ضرورت نہیں۔9 فقہا میں بھی اس پر بحث ہے کہ اونٹ کا گوشت ناقض وضو ہے کہ نہیں ۔اونٹ کے گوشت کے حوالے سے اس بات کا کیا پس منظرہے ؟

عمارناصر: اس میں دوباتیں ہیں: ایک بات تو روایات سے بھی اور صحابہ کے عمل سے بھی واضح ہوتی ہے کہ یہ حکم استحباب کے پہلو سے ہے، اس کو نواقض کی بحث میں نہیں لاناچاہیے۔ جیسے اونٹ کے گوشت کی روایت ہے، اسی طرح آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے اور شرم گاہ کو ہاتھ لگ جانے کے بعد وضو کی روایات بھی ہیں۔فقہا جب اس کو یوں لیتے ہیں کہ ان چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو پھر بحث ہی اور ہو جاتی ہے ۔پھر ناسخ ومنسوخ کی اور ترجیح کی بحثیں شروع ہو جاتی ہیں، لیکن آپ اس کو اس پہلو سے دیکھیں کہ جیسے فرائض کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نوافل بتاتے ہیں،اسی طرح وضو برقرار ہوتے ہوئے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم استحباباً‌ وضو کر لیتے تھے۔ تو مذکورہ مختلف اعمال کے بعد بھی اسی پہلو سے فرمایا کہ استحباباً‌ وضوکرلیاجائے۔ یہ صرف ایک فقہی چیز نہیں ہے، ایک روحانی چیز بھی ہے ۔اس پہلو سے اس کو دیکھا جائے تو اشکال ختم ہو جاتا ہے۔ البتہ یہ سوال رہ جاتاہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے میں ایسی کیاچیز ہوسکتی ہے جو بکری کا گوشت کھانے میں نہیں ہے۔ اس کی شارحین مختلف توجیہات بیان کرتے ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ اس کے گوشت کی چکناہٹ وجہ ہوسکتی ہے ۔بعض یہ کہتے ہیں کہ جیسے اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا،کیونکہ ان کے ساتھ جنات یا شیاطین کی ایک مناسبت ہے ، تو شاید اسی پہلو سے اونٹ کے گوشت کو بھی دیکھا گیاہو۔ اس کے علاوہ بھی کوئی بہت لطیف چیز ہو سکتی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں ہو اور اس کی بنا پر آپ نے پسند فرمایا ہو کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کر لینا چاہیے۔

مطیع سید: جس قوم کے بھی اعمال خراب ہو جاتے ہیں، وہ مسجدو ں کو آراستہ کرنے لگتے ہیں۔10 اس کا کیا مفہوم ہے؟

عمارناصر: مطلب یہ ہے کہ کسی قوم کی اخلاقی ودینی حالت کے بگاڑ کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ وہ عبادت گاہوں کی زیبایش کی طرف بہت زیادہ متوجہ ہوجاتی ہے۔یہاں اصل چیز جس کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے، وہ مساجد کی زیبایش کی ممانعت نہیں ہے ۔اصل بات یہ ہے کہ یہ رویہ پیداکیوں ہوتاہے؟ یہ تب ہوتا ہے جب لوگ اصل کاموں کی جگہ دکھاوے اور نمایش کی چیزوں کو اہمیت دینے لگتے ہیں ،اور یہ کرکے سمجھتے ہیں کہ انھوں نے دین کا بڑا کام کرلیاہے ۔ یہاں اس رویے کی طرف اشارہ کیا گیاہے کہ بڑی خوب صورت مسجد بنادی،جب کہ اللہ تعالیٰ تو یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آپ نماز کیسی پڑھتے ہیں ۔

مطیع سید: ایک صحابی تندرست ہیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کررہے ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، میرے گھر تشریف لائیے، میں گھر میں نمازکے لیے ایک جگہ مختص کرنا چاہتاہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر تشریف لے جاتے ہیں اور نماز بھی پڑھتے ہیں جب کہ ایک دوسری روایت میں حضرت ابن ام مکتوم آپ سے گھر میں نماز پڑھ لینے کی اجازت طلب کرتے ہیں تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں تمھارے لیے اس بارے میں کوئی رخصت نہیں پاتا، ’لا اجد لک رخصۃ‘۔11

عمارناصر:یہ دو مختلف باتیں ہیں ۔ پہلے صحابی گھر میں نفل نماز کے لیے کہہ رہے ہیں۔ وہ چاہ رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ایک جگہ نماز پڑھ لیں گے تو وہ میرے لیے بابرکت ہو جائے گی اور جو ابن ام مکتوم ہیں، وہ فرض نمازسے رخصت چاہ رہے تھے ۔

مطیع سید: لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا عذر نہیں مانا ،حالاں کہ ان کے پاس معقول عذرتھا، جسے مانا بھی جاسکتاتھا ۔

عمارناصر: اس طرح کے ایک دوسرے واقعہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عذر مانا بھی ہے۔ ایک دوسرے صحابی تھے،جن کو آپ نے یہ رخصت دے دی تھی، اس لیے فقہا اس سے یہ حکم اخذ نہیں کرتے کہ ایسا عذر ناقابل قابلِ قبول ہے۔ وہ اس روایت ہی کی کوئی توجیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کوئی اور وجہ ہوگی، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں چاہا کہ ابن ام مکتوم گھر پر نمازپڑھیں،لیکن ظاہراً‌ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یوں کہا کہ رخصت نہیں ہے۔ ان کے ذمے مسجد میں اذان دینا بھی تھا ۔

مطیع سید: یہ بھی ہوسکتاہے کہ اس دور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہوں کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ جماعت میں شریک ہوں؟

عمارناصر:یہ بھی ہو سکتاہے ،اور یہ بھی ہو سکتاہے کہ ابن ام مکتوم کے ذمے مسجد میں کوئی ڈیوٹی تھی ،مثلاً‌ وہ اذان دیتے تھے،اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں نہیں ہوتےتھے تو امامت بھی کرتے تھے۔ ہوسکتاہے کہ ان کا شخصی اعزاز بھی پیشِ نظر ہو۔ ہوسکتاہے کہ ان کے نابینا ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو جو ذمہ داریاں دے رہے تھے،اس سے ایک مثال قائم کرنا مقصود ہو یا ہوسکتاہے کہ کوئی اور پہلو ملحوظِ خاطر ہو۔ یہ ہمیں معلوم نہیں کہ متعین طور پر کیاچیز تھی، جس کی وجہ سے ان کو رخصت نہیں دی گئی۔

[باقی]

  1. ۔ ابواب السنۃ، باب اتباعِ سنت رسول اللہ ،رقم 7-6۔
  2. ۔ ابواب السنۃ ،باب تعظیم حدیث رسول اللہ و التغلیظ علی من عارضہ، رقم12۔
  3. ۔ ابواب السنۃ ،باب :التوقی فی الحدیث عن رسول اللہ، رقم28۔
  4. ۔ ابواب السنۃ ، باب فی القدر،رقم79۔
  5. ۔ ابواب السنۃ ، باب فی ذکر الخوارج، رقم168۔
  6. ۔ ابواب السنۃ ، باب فیما انکرت الجہمیۃ، رقم193۔
  7. ۔ کتاب الطہارۃ وسننھا، باب الفطرۃ، رقم292۔
  8. ۔ کتاب الطہارۃ وسننھا ،باب ماجاء فی غسل القدمین، رقم 458۔
  9. ۔ کتاب الطہارۃ وسننھا ،باب ماجاء فی الوضوء من لحوم الابل، رقم497-496۔
  10. ۔ کتاب المساجد و الجماعات ،باب تشیید المساجد،رقم741۔
  11. ۔ کتاب المساجد والجماعات ،باب التغلیظ فی التخلف عن الجماعۃ،رقم792۔