دیکھتے ہو کہ کسی لب پہ بھی فریاد نہیں
زخمہ ور، شوکتِ پرویز کا نغمہ ہر سو
ہر طرف جشن کہ اب شہر میں فرہاد نہیں
سگِ آوارہ تو بستی میں کھلے ہیں، لیکن
حادثہ یہ ہے کہ پتھر کوئی آزاد نہیں
اب تو فردوسِ تخیل میں بھی مشکل ہے کہ ہو
وہ نشیمن کہ جہاں گھات میں صیاد نہیں
راہِ تقلید نہیں، دونیِ ہمت ہے فقط
وہ سفر کیا ہے جسے خطرۂ افتاد نہیں
ہر نفس زندہ و بیدار عنایت اُس کی
تم اُسے یاد ہو، پر تم کو خدا یاد نہیں
دشت و صحرا ہی سے نسبت ہے تجلی کو اگر