مواد پر جائیں

البیان

جاوید احمد غامدی اردو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(18)

وَ الۡوَالِدٰتُ یُرۡضِعۡنَ اَوۡلَادَہُنَّ حَوۡلَیۡنِ کَامِلَیۡنِ لِمَنۡ اَرَادَ اَنۡ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ ؕ وَ عَلَی الۡمَوۡلُوۡدِ لَہٗ رِزۡقُہُنَّ وَ کِسۡوَتُہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ لَا تُکَلَّفُ نَفۡسٌ اِلَّا وُسۡعَہَا ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَۃٌۢ بِوَلَدِہَا وَ لَا مَوۡلُوۡدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖ ٭ وَ عَلَی الۡوَارِثِ مِثۡلُ ذٰلِکَ ۚ فَاِنۡ اَرَادَا فِصَالًا عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡہُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَا ؕ وَ اِنۡ اَرَدۡتُّمۡ اَنۡ تَسۡتَرۡضِعُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ اِذَا سَلَّمۡتُمۡ مَّاۤ اٰتَیۡتُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۲۳۳﴾

اور (طلاق کے بعد بھی) مائیں اُن لوگوں کے لیے جو دودھ کی مدت پوری کرنا چاہتے ہوں، اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں گی اور بچے کے باپ کو (اِس صورت میں) دستور کے مطابق اُن کا کھانا کپڑا دینا ہو گا۔ کسی پر اُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔ نہ کسی ماں کواُس کے بچے کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور نہ کسی باپ کو اُس کے بچے کے سبب سے ـــــ اور اِسی طرح

وَ الَّذِیۡنَ یُتَوَفَّوۡنَ مِنۡکُمۡ وَ یَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا یَّتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ اَرۡبَعَۃَ اَشۡہُرٍ وَّ عَشۡرًا ۚ فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡمَا فَعَلۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ﴿۲۳۴﴾ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡمَا عَرَّضۡتُمۡ بِہٖ مِنۡ خِطۡبَۃِ النِّسَآءِ اَوۡ اَکۡنَنۡتُمۡ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمۡ سَتَذۡکُرُوۡنَہُنَّ وَ لٰکِنۡ لَّا تُوَاعِدُوۡہُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ۬ وَ لَا تَعۡزِمُوۡا عُقۡدَۃَ النِّکَاحِ حَتّٰی یَبۡلُغَ الۡکِتٰبُ اَجَلَہٗ ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ فَاحۡذَرُوۡہُ ۚ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ﴿۲۳۵﴾

لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ اِنۡ طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمۡ تَمَسُّوۡہُنَّ اَوۡ تَفۡرِضُوۡا لَہُنَّ فَرِیۡضَۃً ۚۖ وَّ مَتِّعُوۡہُنَّ ۚ عَلَی الۡمُوۡسِعِ قَدَرُہٗ وَ عَلَی الۡمُقۡتِرِ قَدَرُہٗ ۚ مَتَاعًۢا بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۚ حَقًّا عَلَی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۲۳۶﴾ وَ اِنۡ طَلَّقۡتُمُوۡہُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡہُنَّ وَ قَدۡ فَرَضۡتُمۡ لَہُنَّ فَرِیۡضَۃً فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ یَّعۡفُوۡنَ اَوۡ یَعۡفُوَا الَّذِیۡ بِیَدِہٖ عُقۡدَۃُ النِّکَاحِ ؕ وَ اَنۡ تَعۡفُوۡۤا اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی ؕ وَ لَا تَنۡسَوُا الۡفَضۡلَ بَیۡنَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۲۳۷﴾

کی ذمہ داری اُس کے وارث پر بھی ہے ـــــ پھر اگر دونوں باہمی رضا مندی اور آپس کے مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور اگر تم اپنے بچوں کوکسی اور سے دودھ پلوانا چاہو تو اِس میں بھی تمھارے لیے کوئی مضایقہ نہیں، بشرطیکہ (بچے کی ماں سے) جو کچھ تم نے دینا طے کیا ہے، وہ دستور کے مطابق اُسے دے دو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے دیکھ رہا ہے۔233

اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑیں تو وہ بھی اپنے آپ کو چار مہینے دس دن انتظار کرائیں۔ پھر جب اُن کی عدت پوری ہو جائے تو اپنے حق میں دستور کے مطابق جو کچھ وہ کریں، اُس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے خوب جانتا ہے۔ اورتمھارے لیے اِس میں بھی کوئی گناہ نہیں جو تم اشارے کنایے میں نکاح کا پیغام اُن عورتوں کو دو یا اُس کو اپنے دل میں چھپائے رکھو۔ اللہ کو معلوم ہے کہ تم اُن سے یہ بات تو کرو گے ہی۔ سو کرو، لیکن (اِس میں) کوئی وعدہ اُن سے چھپ کر نہ کرنا۔ ہاں، دستور کے مطابق کوئی بات، البتہ کہہ سکتے ہو۔ اورنکاح کی گرہ اُس وقت تک نہ باندھو، جب تک قانون اپنی مدت پوری نہ کر لے۔ اور جان رکھو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے، اِس لیے اُس سے ڈرو اور جان رکھو کہ اللہ بخشنے والا ہے، وہ بڑا بردبار ہے۔234-235

حٰفِظُوۡا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الۡوُسۡطٰی ٭ وَ قُوۡمُوۡا لِلّٰہِ قٰنِتِیۡنَ ﴿۲۳۸﴾  فَاِنۡ خِفۡتُمۡ فَرِجَالًا اَوۡ رُکۡبَانًا ۚ فَاِذَاۤ اَمِنۡتُمۡ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکُمۡ مَّا لَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۳۹﴾

وَ الَّذِیۡنَ یُتَوَفَّوۡنَ مِنۡکُمۡ وَ یَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا ۚۖ وَّصِیَّۃً لِّاَزۡوَاجِہِمۡ مَّتَاعًا اِلَی الۡحَوۡلِ غَیۡرَ اِخۡرَاجٍ ۚ فَاِنۡ خَرَجۡنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡ مَا فَعَلۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِنَّ مِنۡ مَّعۡرُوۡفٍ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۴۰﴾

وَ لِلۡمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ حَقًّا عَلَی الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۲۴۱﴾

کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲۴۲﴾

اور اگر تم عورتوں کو اِس صورت میں طلاق دو کہ تم نے اُنھیں ہاتھ نہیں لگایا یا اُن کا مہر مقرر نہیں کیا تو مہر کے معاملے میں تم پر کچھ گناہ نہیں ہے، مگر یہ تو لازماً ہونا چاہیے کہ دستور کے مطابق اُنھیں کچھ سامان زندگی دے کر رخصت کرو، اچھی حالت والے اپنی حالت کے مطابق اور غریب اپنی حالت کے مطابق۔ یہ حق ہے اُن پر جو احسان کا رویہ اختیار کرنے والے ہوں۔ لیکن تم نے اگر طلاق تو اُنھیں ہاتھ لگانے سے پہلے دی، مگر اُن کا مہر مقرر کر چکے ہوتو مقررہ مہر کا نصف اُنھیں دینا ہو گا، الاّ یہ کہ وہ اپنا حق چھوڑ دیں یا وہ چھوڑ دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ اور یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے کہ تم مرد اپنا حق چھوڑ دو اور اپنے درمیان کی فضیلت نہ بھولو۔ بے شک اللہ دیکھ رہا ہے اُس کو جو تم کر رہے ہو۔ 236-237

(یہ خدا کی شریعت ہے۔ اِس پر قائم رہنا چاہتے ہو تو) اپنی نمازوں کی حفاظت کرو، خاص کر اُس نماز کی جو (دن اور رات کی نمازوں کے) بیچ میں آتی ہے، (جب تمھارے لیے اپنی مصروفیتوں سے نکلنا آسان نہیں ہوتا)، اور (سب کچھ چھوڑ کر) اللہ کے حضور میں نہایت ادب کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔ پھر اگر خطرے کا موقع ہو تو پیدل یا سواری پر، جس طرح چاہے پڑھ لو۔ لیکن جب امن ہو جائے تو اللہ کو اُسی طریقے سے یاد کرو، جو اُس نے تمھیں سکھایا ہے، جسے تم نہیں جانتے تھے۔238-239

اور ہاں،(بیوہ اور مطلقہ کے بارے میں جو ہدایات تمھیں دی گئی ہیں، اُن سے متعلق یہ وضاحت ضروری ہے کہ) تم میں سے جو لوگ وفات پائیں ا ور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ رہے ہوں، وہ اپنی اُن بیویوں کے لیے سال بھر کے نان و نفقہ کی وصیت کر جائیں اور یہ بھی کہ (اِس عرصے میں) اُنھیں گھر سے نہ نکالا جائے۔ لیکن وہ خود گھر چھوڑ دیں تو جو کچھ دستور کی بات وہ اپنے معاملے میں کریں، اُس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ (یہ اللہ کا قانون ہے) اور اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔240

اور (اِسی طرح یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ) مطلقہ عورتوں کو ہر حال میں دستور کے مطابق کچھ سامانِ زندگی دے کر رخصت کرنا چاہیے۔ یہ حق ہے اُن پر جو خدا سے ڈرنے والے ہوں۔241

اللہ اِسی طرح تمھارے لیے اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم سمجھنے والے بنو۔242

[باقی]