(مولانا ابو الحسن علی ندوی کی تقریر، جو انھوں نے سن 1991 ءمیں ” امام فراہی سیمینار“ کے موقع پر مدرسۃ الاصلاح، سرائے میر (اعظم گڑھ) میں کی تھی۔)
[مختارات کا حصہ قدیم و جدید مصنفین کی منتخب تحریروں کے لیے مخصوص ہے۔ اس کا مقصد ماضی اور حال کے فکر و نظر کو قارئین کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اس میں ماضی کے نمایندہ اہل علم کی تصانیف سے ایسے اقتباس نقل کیے جاتے ہیں، جو ان کے افکار اور اسالیب کو نمایاں کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ نئے لکھنے والوں کی موثر اور معتبر تحریروں کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اِس حصے کے مندرجات سے مدیر اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ ادارہ]
بسم اللّٰه الرحمٰن الرحيم. الحمد للّٰه رب العالمين والصلٰوة والسلام على سيد المرسلين وخاتم النبيين محمد واٰله وصحبه أجمعين ومن تبعهم بإحسان ودعا بدعوتهم إلى يوم الدين .
جناب صدر، معزز حاضرین مجلس، میں اس اعزاز کے لیے جو مجھے اس موقر، وقیع، ایک طرح سے آزمایشی مجلس کے افتتاح کے لیے بخشا گیا ہے، تشکر و ممنونیت سے زیادہ، مجھے معاف کیا جائے، خادمانہ شکایت کا اظہار کرتا ہوں کہ مجھے ایک بڑی آزمایش میں ڈالا گیا ہے، لیکن اگر اس کے لیے کوئی جواز ہے تو یہ کہ میں مولانا حمید الدین فراہی کے مکتب فکر اور ان کی تصنیفی اور فکری دانش گاہ کا ایک حقیر طالب علم ہوں، اور آپ کے سامنے پوری دیانت اور صداقت کے ساتھ یہ عرض کروں گا کہ میں اپنے زمانۂ طالب علمی میں بھی اور جب مجھے دار العلوم ندوۃ العلماء میں شعبۂ تفسیر میں تدریس کا موقع دیا گیا تو قرآن مجید کے ایک خادم کی حیثیت سے تفسیر کا درس مجھ سے متعلق کیا گیا تو اس وقت میں نے بہت عمق، سنجیدگی اور محنت کے ساتھ مولانا کی تصنیفات کا مطالعہ کیا اور اس سے پورا استفادہ کیا۔ جب 1956ء میں مجھے دمشق یونیورسٹی کی طرف سے دعوت دی گئی تو میں مولانا کی کتا بیں اپنے ساتھ لے گیا تھا اور خاص طور پر ’’جمہرۃ البلاغۃ‘‘، جس سے میں تاریخ ادب عربی اور عربی ادب کے ایک طالب علم اور کام کرنے والے، ایک غور کرنے والے طالب علم کی حیثیت سے بہت متاثر تھا، اس کو میں خاص طور پر لے گیا اور میں نے وہاں کے ایک بڑے نقاد اور ادیب استاذ محمد المبارک سے جو میرے دوست تھے اور جس جامعہ اور دانش گاہ نے مجھے دعوت دی تھی، وہ اس کے ایک بڑے استاد تھے اور پیرس یونیورسٹی سے بھی انھوں نے تحقیقی کام کیا تھا، میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ ’’جمہرۃ البلاغہ‘‘ پر مقدمہ لکھیں اور اس کو یہاں کسی بڑے وقیع ادارے کی طرف سے مثلاً ’’الجمع العلمی العربی‘‘ دمشق کی طرف سے شائع کریں۔ افسوس ہے کہ یہ کام نہیں ہو سکا۔ میں نے مولانا امین احسن اصلاحی صاحب سے بھی (اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت دے) لاہور کے قیام میں ایک مجلس میں بہت اصرار کے ساتھ کہا کہ عالم عربی کو مولانا حمید الدین صاحب کے ادبی مقام سے اور ادب عربی کے رمز آشنا ہونے کی حیثیت سے، اور اس پر ناقدانہ اور مبصرانہ نظر رکھنے سے جو چیز واقف کر سکتی ہے آسانی کے ساتھ، وہ ’’جمہرۃ البلاغہ‘‘ ہے۔ اس کو شائع ہونا چاہیے۔ افسوس ہے کہ یہ کام ابھی تک نہیں ہو سکا۔
اس سلسلے میں مجھے اجازت دیجیے کہ میں ایک حرف شکایت بھی آپ کے سامنے پیش کروں کہ ایسے مذاکرات علمی کی اصل قدر و قیمت و فائدہ اس میں ہوتا ہے کہ کچھ نظر وسیع ہو اورکچھ ذمہ داریوں کا احساس ہو۔ مولانا حمید الدین صاحب کا جیسا تعارف عالم عربی میں ہونا چاہیے تھا، افسوس ہے کہ نہیں ہو سکا اور اس میں ان کی تصنیفات کی اور ان کے اظہار بیان کی طاقت کی یا ان کے فکر کی کوئی خامی نہیں، اس کی ذمہ داری آپ ہی پر نہیں، بلکہ ہم پر بھی آتی ہے اور میں اس میں ندوۃ العلماء کو بھی شریک کروں گا کہ مولانا کا جیسا تعارف عالم عربی اور ہندوستان سے باہر عالم اسلام میں ہونا چاہیے تھا، وہ نہیں ہو سکا۔ اگر یہ ہوا ہوتا تو آج ہمیں اپنے سامنے یہ وقیع اور محبوب چہرے ہی نظر نہ آتے، جن کا تعلق ہندوستان سے ہے، بلکہ ایک بڑی تعداد یہاں عرب فضلا کی بھی نظر آتی، ممکن ہے کہ اس میں آپ کی انتظامی دقتوں کو یا وقت کی کمی کو بھی دخل ہو، لیکن اس میں اس وقت اس کو یہ بڑا دخل ہے کہ ان کا تعارف جیسا ہندوستان میں، اس برصغیر میں ہوا، وہ عالم عربی میں، مصر میں، شام میں اور مغرب اقصٰی وغیرہ میں نہیں ہو سکا۔ یہ ذمہ داری ہے فضلاے ’’الاصلاح‘‘ کی اور میں فضلاے ’’ندوۃ العلماء‘‘ کو بھی اس میں شامل کرتا ہوں کہ اصل میں یہ دونوں ایک ہی خاندان کے دو حصے ہیں اور الحمد للہ شروع سے اس وقت تک مجھے ایسا ہی خاندانی احساس رہا ہے اور یہ ہماری ذمہ داری ہے،اس کو ہمیں پورا کرنا چاہیے۔
اس کے بعد میں یہ عرض کروں گا کہ بارھویں صدی کے ایک جلیل القدر عالم اور نقاد علامہ شوکانی نے جو اپنی مجتہدانہ تصنیف ’’نیل الاوطار‘‘ کے ذریعہ سے روشناس ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ مفسر بھی ہیں اور ’’فتح القدیر‘‘ کے مصنف بھی ہیں، انھوں نے ایک بات لکھی ہے بڑے نکتے کی، وہ میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں، وہ کہتے ہیں کہ علوم اسلامیہ کی چار قسمیں ہیں: ایک علم وہ ہے جو پکا اور جل گیا، ایک علم وہ ہے جو پکا، لیکن جلا نہیں اور ایک علم وہ ہے کہ جو نہ پکا، نہ جلا تو جس علم کو کہتے ہیں ’نضج واحترق‘، جو پکا، پختگی کو پہنچا اور جل گیا۔ یہ مذمت کی چیز نہیں ہے، بلکہ اس کے کمال کا اظہار ہے کہ اپنے نقطۂ ارتقا کو وہ پہنچ گیا، وہ تو علم نحو ہے اور علم حدیث کو بھی غالباً (اگر میرا حافظہ کوتا ہی نہیں کرتا تو) اس میں شامل کیا کہ اس میں کسی اضافے کی گنجایش نہیں ہے۔ نحو میں اب قیل و قال (نحو کی زبان ہی میں کہتا ہوں) کی گنجایش نہیں ہے۔ نحو پر اتنا کام ہو گیا ہے کہ اب اس میں کوئی یہ کہے کہ یہ اصول غلط ہے، یہ اصول ہونا چاہیے اور یہ قیاس صحیح نہیں، اور یہ قیاس ہونا چاہیے، اور یہ مسئلہ نحو کا غلط ہے۔ یہ عربوں کا کام تھا، اہل زبان کا کام تھا اور پھر اہل زبان کے بعد جو اپنے وقت کے عبقری ترین انسان تھے، ان میں سے میں سیبویہ کا نام خاص طور پر لوں گا، انھوں نے اس کام کو ختم کر دیا۔ جہاں تک حدیث و روایات کا تعلق ہے، رجال کا تعلق ہے، وہ بھی اس میں شامل ہے۔ پھر اس کے بعد کہتے ہیں: وہ علم جو پکا، لیکن جلا نہیں، وہ علم فقہ ہے اور یہ صحیح کہا ہے کہ جب تک نسل انسانی باقی ہے اور دنیا میں تغیر کا عمل جاری ہے اور جب تک انسانی زندگی میں تنوع اور انسانی زندگی کے مطالبات غیر محدود ہیں، اس وقت تک فقہ کو مکمل نہیں کہہ سکتے کہ فقہ میں تمام مسائل کی تدوین ہو چکی اور ہر چیز کا جواب موجود ہے۔ اس لیے کہ یہ استحسان، مصالح مرسلہ اور عرف کا میدان ہے اور اسی طریقے سے اجتہاد کا دروازہ کھلا رہے گا۔ پھر انھوں نے کہا ہے کہ وہ علم جو پکا بھی نہیں، جلا بھی نہیں، وہ علم تفسیر ہے، اور یہ الفاظ ڈرتے ہوئے میں نے ادا کیے ہیں، اس لیے کہ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ علم تفسیر پر کوئی کام نہیں ہوا، بلکہ وجہ یہ ہے کہ اس کی نسبت اللہ تبارک و تعالیٰ کے علم و کلام سے ہے اور انسانی زندگی سے ہے اور کائنات سے ہے، دنیا کے تمام انسانوں سے ہے اور انسانی ضروریات، فطرت انسانی سے ہے اور اس کی تحدید نہیں کی جاسکتی کہ اس کا پورا جواب دے دیا گیا اور اس کو مدون کر دیا گیا۔ تو واقعہ یہ ہے کہ علم تفسیر میں برابر اس کی گنجایش رہی کہ لوگ پیدا ہوتے رہے اور اضافہ کرتے رہے اور انھی میں اس عہد کے امام تفسیر حضرت علامہ حمید الدین فراہی بھی ہیں اور یہ قرآن مجید کی آیت بتاتی ہے کہ تفسیر کو ہم کسی مکانی رقبے یا زمانی رقبے یا علم انسانی کے رقبے سے مقید اور محدود نہیں کر سکتے۔ صاف قرآنی آیت ہے: ’ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّ فَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ. تُؤۡتِیۡۤ اُکُلَہَا کُلَّ حِیۡنٍۭ بِاِذۡنِ رَبِّہَا ؕ وَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ‘۔1 اس میں یہ بتایا گیا کہ نہ قرآن مجید کی مساحت مکانی اور نہ اس کا مکانی رقبہ محدود کیا جا سکتا ہے کہ وہ کلمۂ طیبہ ہے جو شجرۂ طیبہ کی طرح ہے تو مکانی رقبہ اس لیے محدود نہیں کیا جاسکتا کہ ’تُؤۡتِیۡۤ اُکُلَہَا کُلَّ حِیۡنٍۭ بِاِذۡنِ رَبِّہَا‘ کہا کہ وہ ہر زمانے کے مطابق، ہر انسانی حالات میں تفاوت اور اختلاف کے مطابق اور فکر انسانی کے ہر سطح کے مطابق اور زمانے کے ہر تقاضے کے مطابق اور ذوق کی ہر تبدیلی کے مطابق اور ضروریات انسانی کے مطالبے کے مطابق وہ برابر پھل دیتا رہے گا، اس لیے ہمیں ذہن میں یہ بات رکھنی چاہیے کہ تفسیر کا علم وہ وسیع ترین علم ہے، یعنی علوم اسلامیہ میں نہیں، علوم انسانیہ میں وسیع ترین علم ہے، اس کو ہم کسی زمانے کے ساتھ محدود و مخصوص نہیں کر سکتے اور یہ نہیں سمجھ سکتے کہ اس کا خاتمہ ہوگیا اور یہ ہمارے مفسرین کرام خود حضرت علامہ حمید الدین فراہی کی خداشناسی اور حقیقت شناسی تھی کہ ان میں سے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اب قرآن مجید میں غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے یا قرآن مجید میں غور و فکر کی اب کوئی گنجایش نہیں ہے۔ اگر بے ادبی نہ ہو اور شعر غزل کا نہ ہو تو میں یہ شعر پڑھوں گا کہ اقبال کہتے ہیں کہ :
گماں مبر کہ بہ پایاں رسید کار مغاں
ہزار باد ۂ ناخورده در رگِ تاک است
کبھی نہ سمجھنا کہ ساتھی اپنا کام کر چکا اور مے خانہ میں سب کچھ موجود ہے۔ ’ہزار بادۂ نا خوردہ در رگ تاک است‘ تشبیہ تو اچھی نہیں ہے، لیکن شاعری کی زبان یہی ہے۔ کیا کیا جائے کہ ہر زمانے میں شاعری کی ایک زبان رہی ہے، اس کے استعارے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انگور کی شاخوں میں اب بھی بہت کچھ ہے، نچوڑنے والے نے اور اس سے شرابِ ناب بنانے والے یا آب حیات بنانے والے، شراب طہور بنانے والے نے کام نہیں کیا اور وہ اس کے قابو میں نہیں آیا۔ تو دونوں چیزوں کا ہمیں استحضار رکھنا چاہیے۔ میں مدرسے کے ایک خادم اور راہ علم کے یا منزل علم کے ایک مسافر کی حیثیت سے آپ سے کہتا ہوں، مخلصانہ مشورہ ہے کہ ہمیں ایک طرف اعتراف کرنا چاہیے اپنے عہد کے اس عالم رمزشناس، اس خداشناس اور اس حقیقت شناس انسان کا کہ جس نے اپنے مقدور بھر اور توفیق الہٰی کے مطابق اور صحیح لفظ یہی ہے کہ اصل چیز توفیق الہٰی ہے، اگر توفیق الہٰی نہ ہو، اخلاص نہ ہو، خدا ترسی نہ ہو اور اس میں حقیقت پسندی اور طلب حقیقت نہ ہو تو اس کی کوئی بڑی قدر وقیمت نہیں، اس میں افادیت نہیں، اس کی افادیت مشکوک ہے، ہمیں یہاں اعتراف کرنا چاہیے کہ اپنے وقت کے فلاں عالم نے اور میں صفائی کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس وقت امام تفسیر حضرت علامہ حمید الدین فراہی نے جو کام کیا، کہا جا سکتا ہے کہ وہ ابھی تک نہیں ہوا تھا اور اس میں بہت سی انفرادیت کے پہلو ہیں۔
میں ایک تفسیر کے طالب علم، پھر معلم کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ تین چیزوں، خاص طور سے ان میں ربط آیات کے متعلق بھی یہ کہہ دوں کہ یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اس پر کام نہیں ہوا۔ اطراف بمبئی کے، اس وقت تو بمبئی نہیں تھا، مشہور عارف حضرت علامہ مخدوم علی مہائمی کی کتاب ’’تفسیر الرحمٰن و تیسیر المنان‘‘ ربط آیات ہی پر ہے، اور یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ آپ ہی کی درس گاہ کے ایک فارغ التحصیل مولانا عبدالرحمٰن پرواز اصلاحی صاحب نے ان کی سوانح لکھی ہے۔ علامہ مہائمی کی سوانح ان کے قلم سے نکلی ہے اور انھوں نے ربط آیات کی کوشش کی ہے اور اس کا اعتراف صاحب ’’الثقافة الاسلامیہ فی الہند‘‘ اور صاحب ’’نزہتہ الخواطر‘‘ نے بھی کیا ہے اور اس زمانے کے ادبا و علما نے بھی کیا اور یہ سمجھا گیا کہ وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے ربط آیات پر اس طرح ایک جامع اور عمیق کوشش کی ہے۔ لیکن ادب کے ساتھ میں یہ عرض کروں گا کہ اس میں تصوف کا حصہ کچھ شامل ہو گیا ہے اور حضرت خضر سے استفادہ کا ذکر بار بار آتا ہے تو ربط آیات پر لوگوں نے کام کیا ہے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ ربط آیات کو اس طرح جامع اور عمیق طریقے پر اور ربط آیات کو بنیاد بنا کر کہ صرف یہی نہیں کہ آیات باہم مربوط ہیں اور بیچ میں ان کے درمیان کوئی خلیج واقع نہیں ہے یا یہ کہ کسی قسم کا کوئی بُعد معنوی نہیں، بلکہ وہ ربط آیات، قرآن مجید کے نزول کے مقصد اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہدایت بشری کے عام کلیے، جو اس کا طے کیا ہوا قانون ہے، اس کے ماتحت ہے، ربط آیات کا اتنا وسیع تخیل اور پھر اس کی تطبیق ایسی جس کی نظیر پچھلے کاموں میں بہت کم ملتی ہے۔ میں احتیاط کے ساتھ کہہ رہا ہوں، کہا جا سکتا ہے کہ نہیں ملتی۔ میں چاہتا ہوں کہ ہمارے ذہن میں یہ بات رہے تا کہ علم کی منزل کا مسافر اپنے آپ کو فارغ نہ سمجھے، صرف وہ تاریخ پر بھروسا نہ کرے اور تاریخ کو دہرا دینا یا فخر کرنا ہی اس کا شعار نہ ہو، بلکہ یہ اس کے لیے مہمیز کا کام دے کہ ایک طرف تو یہ ہے کہ قرآن مجید پر جو کام جس زمانے میں ہوا، اس کے امتیاز کا ہم پورا اعتراف کریں اور اس میں اس وقت سب سے زیادہ ہمارے سامنے جو حقیقت ہے اور جس نے ہم کو آپ کو جمع کیا، وہ علامہ حمید الدین فراہی کا مجتہدانہ، بلکہ مجددانہ کام ہے فہم قرآن کے سلسلے میں اور ربط آیات کے سلسلے میں اور اقسام قرآن کے سلسلے میں۔ یہ میں کہنا بھول گیا تھا کہ ان کے کا موں کے تین حصے ہیں۔ میں نے اپنے طالب علمی کے زمانے میں، جب میں تاریخ ادب عربی اور تفسیر قرآن، دونوں کا بہ یک وقت دارالعلوم ندوۃ العلماء میں استاد تھا، اس وقت میں نے یہ تین پہلو محسوس کیے تھے ان کی انفرادیت کے: ایک ربط آیات، دوسرے اقسام القرآن۔ اقسام القرآن پر علامہ ابن قیم کا بھی رسالہ ہے اور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی شرح کی ہے اور لوگوں نے بھی، لیکن علامہ حمیدالدین فراہی نے مستقل آیات اور سورتوں کا انتخاب کر کے اور اس میں اقسام جو بتاتے ہیں اور اقسام کا کیا تعلق ہے، کس طرح ذہن کو تیار کرتے ہیں، کس طرف اس کا رخ کرتے ہیں اور کیا مطابقت ہے اُن اقسام میں اور بعد کے مضامین میں، اس میں ان کی چیز اب تک آخری چیز ہے۔ اور تیسری چیز ’’جمہرة البلاغہ‘‘ ہے، جس میں انھوں نے بلاغت عربی کو، عربی بلاغت کے اصول کو اور عربوں کے فہم و بلاغت کو اور عربوں کے ذوق بلاغت کو ترجیح دی ہے اور بتایا ہے کہ غیر عرب بلاغت کے تخیلات، فن بلاغت کے غیر عربی تخیلات اور عجمی تخیلات نے کیا اثر ڈالاہے ہمارے متاخرین کی تصنیفات پر۔
تو میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ محض سیمینار کرلینا اور اس کا کامیاب ہو جانا اور یہاں اتنی موقر شخصیتوں کا شریک ہونا، یہ کافی نہیں۔ آپ علامہ حمید الدین کے کام پر طالب علمانہ اور اس کے ساتھ ساتھ مبصرانہ نظر ڈالیں اور تقابلی مطالعے کے ساتھ اور اس کے ساتھ ساتھ عالم عربی میں ان کا تعارف ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ابھی کام ختم نہیں ہوا ہے اور قرآن مجید میں ’تُؤۡتِیۡۤ اُکُلَہَا کُلَّ حِیۡنٍۭ بِاِذۡنِ رَبِّہَا‘ ایک بہت بڑا اعلان ہے۔ اس میں ہمیں غور کرنے کا بہت کم شاید اتفاق ہوا ہو کہ اللہ تعالیٰ کس تحدی کے ساتھ کہہ رہا ہے، کس صراحت کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ شجرۂ طیبہ کی خاصیت ہے کہ ’تُؤۡتِیۡۤ اُکُلَہَا کُلَّ حِیۡنٍۭ بِاِذۡنِ رَبِّہَا ‘۔ اس کا زمانہ کسی مفسر پر، امام رازی پرختم نہیں ہوا، جو مشہور ترین مفسر اور فلاسفۂ یونان کے مقابلے میں سب سے بڑے وکیل سمجھے جاتے ہیں اور جہاں تک قرآنی آیات کا تعلق ہے، ان فلاسفہ کے ایرادات کی تردید و جواب کے میدان میں ان کی انفرادیت مسلم ہے تو نہ ہم امام رازی کو آخری مفسر مانتے ہیں، نہ ہمیں کسی کے متعلق سمجھنا چاہیے۔ پوری عقیدت مندی کے ساتھ، ان کے لیے پوری دعا گوئی کے ساتھ، ان کا اپنے کو ممنون احسان سمجھنے کے ساتھ، ان کے مکتب کا ادنیٰ زلہ ربا اور گویا ایک گل چیں اور خادم سمجھنے کے ساتھ، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ قرآن مجید وہ قیامت تک رہنے والی چیز ہے اور اس کے معانی نہ اس کے آفاق مکانی، نہ اس کے آفاق معنوی، نہ اس کے آفاق زمانی، نہ اس کے آفاق فہم کبھی ختم ہو سکتے ہیں۔ یہ قرآن مجید کے ان کے ساتھ، میں سمجھتا ہوں کہ اس کی حقیقت شناسی میں اگر کمی ہوگی توہم یہ سمجھ لیں گے کہ قرآن مجید پر جتنا کام ہونا تھا، سب ختم ہو گیا۔
دوسری بات یہ ہے کہ پچھلے کاموں سے پو را استفادہ کیا جائے اور اس کے لیے برابر محنتیں کی جائیں، اس کے لیے اپنے اوقات کو اس پر صرف کیا جائے۔ میں ذرا تامل کے ساتھ کسی حد تک خوف کے ساتھ، بدگمانی کے خوف کے ساتھ اتنا عرض کروں گا کہ مجھے معاف کیا جائے جو حضرات علما موجود ہیں قرآن مجید کے پڑھنے والے، وہ شاید اس تقاضے کو سمجھ سکیں، جو مجھ سے یہ کہلوا رہاہے کہ قرآن مجید کو خالص کسی کی مدد سے سمجھنا، اس کے نقطۂ نظر سے سمجھنا اور اس کے زیر سایہ سمجھنا یہ صحیح نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک چشمۂ صافی ہے، ایک چشمۂ حیوان ہے، آپ اس کے کنارے کھڑے ہیں، اس کے قریب کوئی درخت ہے، وہ درخت گلاب کا سہی، وہ درخت کسی بہتر سے بہتر مفید ترین ثمر کا حامل ہو، لیکن اس کا سایہ چشمۂ صافی پر پڑ رہا ہے تو وہ چشمۂ صافی اس طرح نظر نہیں آئے گا اور اس سے، اس کی عذوبت سے، اس کی صفائی سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکے گا، جیسا کہ اس وقت اٹھایا جاتا، جب تنہا چشمۂ صافی کو آنکھوں سے دیکھا جاتا اور سمجھا جاتا کہ یہ چشمۂ صافی اپنی جگہ پر خود کافی ہے، چشمۂ صافی نہیں، بلکہ چشمۂ کافی ہے۔ اس لیے میں اپنے مطالعۂ قرآن کے سلسلے میں، یہ بات بہت معذرت کے ساتھ اور تامل کے ساتھ عرض کر رہا ہوں، لیکن اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ کسی بڑی سے بڑی شخصیت کو قرآن اور اپنے درمیان اس کو حائل سمجھ لینا کہ اس کے بغیر ہم قرآن کو سمجھ ہی نہیں سکتے اور قرآن مجید اسی نے صحیح سمجھا ہے اور قرآن مجید اسی کے ذریعے سےسمجھا جا سکتا ہے۔ یہ قرآن مجید کے ساتھ انصاف نہیں ہے، نا انصافی ہے۔ یہ چشمۂ صافی، اس کو بالکل اس طرح رواں رہنا چاہیے، اس پر کسی کا عکس تو پڑسکتا ہے، اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ لیکن عکس کو باقی نہیں رہنا چاہیے کہ وہ عکس حائل ہو جائے، ہمارے اور اس کے استفادے کے درمیان حائل ہو جائے۔ جب یہ حقیقت سامنے رہے گی تو پھر اس کے بعد اس میں اضافہ ہوتا رہے گا اور اللہ تعالیٰ میں اس کی ہر وقت قدرت ہے کہ وہ پھر ان کے ساختہ پر داختہ مدرسہ اور دبستان فکر میں ایسے عالم اور ایسے شارح قرآن مجید کے پیدا کرے، جو کچھ اضافہ کریں اور کچھ اپنے وقت اور اپنے زمانے کے ذہن کے مطابق کچھ اور نئی چیزیں دیں۔
آخر میں آپ حضرات کے سامنے شکریہ ہی ادا نہیں کرتا، بلکہ ایک طرح سے شکایت کرتا ہوں اور معذرت بھی کرتا ہوں کہ میں اپنے طویل سفروں کی وجہ سے، بالکل حال میں ابھی میں دو طویل سفروں سے واپس آیا ہوں، کوئی چیز تحریری شکل میں تیار نہیں کر سکا جو آپ کے سامنے پیش کرتا، لیکن آخر میں پھر کہوں گا کہ عالم عربی میں تعارف کے لیے آپ کے یہاں اس کے لیے پوری تیاری ہونی چاہیے اور ان کے بارے میں عربی میں اچھے تعارفی مضامین ہونے چاہییں، جو وہاں کے رسائل میں چھپنے چاہییں۔ ایسے علمی و فود جانے چاہییں، جو اس پر خطبات دیں۔ محاضرات تیار کریں کہ علامہ حمید الدین فراہی کا کام، ان کا فہم قرآن، ربط آیات کے بارے میں ان کا مسلک اور ان کی کوششوں کا نمونہ، اقسام قرآن کے بارے میں ان کا جو کارنامہ ہے یا ان کا جو فکر خاص ہے، وہ ’’جمہرۃ البلاغہ‘‘ کے سلسلے میں، میں عرض کروں گا کہ ضرورت ہے کہ اس کتاب کو غالباً ہمارے دوست استاذ محمد المبارک نے جو بہت بڑے ادیب و نقاد ہیں، وہ لیتھو میں چھپے ہونے کی وجہ سے یا اختصار کی وجہ سے جو علامہ حمید الدین فراہی کے فن تحریر میں بہت سے محققین اور قدما اور مجتہدین کے انداز پر اختصار پایا جاتا ہے، اس کی وجہ سے وہ اس کام کو نہیں کرسکے۔ لیکن اب بھی اس کام کی ضرورت باقی ہے اور گنجایش بھی ہے۔ اور یہ ایک بڑا کارنامہ ہو گا، اگر آپ کے یہاں سے کچھ لوگ ’’جمہرة البلاغہ‘‘ پراس طرح جیسے ریسرچ کیا جاتا ہے، اس کو ایک موضوع بنا کر اس پر کام کریں اور مقدمہ لکھیں اور تقابلی مطالعہ اس میں ہو، اور بتایا جائے کہ مولانا نے کس طرح سے بلاغت عربیہ کو عربوں ہی کے ذوق اور قرآنی ذوق کی مدد سے سمجھا ہے، سمجھنے کی کوشش کی ہے اور اس کتاب میں کیا انفرادیت ہے۔
میں ان الفاظ کے ساتھ، اگر میں نے اپنے مقام سے کچھ تجاوز کیا ہو اور بعض ایسی چیزیں یا خیالات میری زبان سے ادا ہوئے ہوں، جن سے غلط فائدہ اٹھایا جاسکے،میں یہ کہوں گا کہ نیت میری ہرگز نہیں تھی، لیکن ایسا ہوتا ہے، اگر ان سے غلط فائدہ اٹھایا یا غلط ترجمانی کی جاسکے تو میں اس کے لیے معذرت پیش کرتا ہوں، اور آپ حضرات کا جنھوں نے مجھے یہ اعزاز بخشا، شکر یہ ادا کرتا ہوں۔ خدا کرے یہ سیمینار محض ایک یاد گار نہ ہو، بلکہ ایک محرک ثابت ہو اور نئے دور کا آغاز ہو اور ایک نئے دور کی خالی تاریخی داستان نہ ہو۔ اس لیے کہ ہمارے اکثر سیمینار جو بڑی شخصیتوں کے بارے میں کیے جاتے ہیں، وہ ایک دور کی تاریخ ہوتے ہیں۔ تاریخ بن کر رہ جاتے ہیں کہ یہ ہوا اور یہ ہوا۔ یہ کارنامہ ہوا، لیکن وہ محرک نہیں ہوتے۔ دعا کرتا ہوں اور آپ حضرات سے استدعا بھی کرتا ہوں کہ اس کو محرک ہونا چاہیے اور اس کو منتہی الجیش نہیں ہونا چاہیے، مقدمۃ الجیش ہونا چاہیے، یہ ذہنوں کے لیے محرک ثابت ہو، علمی صلاحیت رکھنے والوں، خاص طور پر دبستان فراہی کے فضلا اور محققین اور طلبہ اور اہل قلم کے لیے اس کو محرک ہونا چاہیے کہ ابھی کن لائنوں پر،کن رخوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے تا کہ علامہ فراہی کا کام زیادہ روشن ہو اور ان کی روح زیادہ خوش ہو اور اضافہ ہو اسلامی کتب خانے میں اور اسلامی فکرکو ایک نیا مواد اور ایک نیا رخ ملے۔
و آخر دعوانا ان الحمد للّٰه رب العلمين۔
- ۔ ابراہیم 14: 24-25۔