کیا ہم نے کبھی سوچا کہ آج سے سو سال بعد اس دنیا میں ہمارا کوئی وجود نہیں ہوگا؟ یہ دنیا، جسے ہم اپنی زندگی کی کل حقیقت سمجھ بیٹھے ہیں، اُس وقت ہمارے لیے ماضی کا ایک دھندلا خواب بن چکی ہوگی۔ ہم اور ہمارے عزیز و اقارب زمین کی گہرائیوں میں دفن ہوں گے۔ ہماری محنت، ہماری جائدادیں، ہمارے خواب—یہ سب کسی اور کے قبضے میں ہوں گے۔
اس وقت کوئی ہمیں یاد نہیں کرے گا اور شاید ہمارا ذکر بھی نہ ہو۔ آج ہم میں سے کتنے لوگ اپنے پردادا یا پرنانا کے بارے میں جانتے ہیں؟ ان کے نام تک یاد نہیں۔ یہی ہماری حقیقت ہے اور یہی دنیا کی حقیقت ہے۔
دنیا کی حقیقت قرآن کی روشنی میں
قرآن مجید ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا ایک دھوکا اور فریب ہے، جسے ہم آزمایش سمجھنے کے بجاے اصل زندگی سمجھ لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سورۂ حدید میں فرماتے ہیں:
اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ وَّ زِیۡنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیۡنَکُمۡ وَ تَکَاثُرٌ فِی الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَوۡلَادِ. (57: 20)
’’جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل تماشا، زینت، آپس میں فخر کرنا اور مال و اولاد کی زیادہ طلب ہے۔‘‘
جب قیامت قائم ہوگی، تب دنیا کی زندگی کی حقیقت کا اندازہ ہوگا۔ لوگ حیران ہوں گے کہ ہم کتنی مختصر مدت کے لیے دنیا میں رہے، جیسا کہ سورۂ مومنون میں ارشاد ہے:
قٰلَ کَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِی الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِیۡنَ. قَالُوۡا لَبِثۡنَا یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّیۡنَ.
(23: 112-113)
’’پوچھا جائے گا: تم زمین میں کتنے سال رہے؟ وہ کہیں گے: ایک دن یا کچھ حصہ، گننے والوں سے پوچھ لیجیے۔‘‘
یہ بات اس دنیا کی بے ثباتی کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ سورۂ روم میں مزید وضاحت کی گئی ہے:
وَیَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یُقۡسِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ مَا لَبِثُوۡا غَیۡرَ سَاعَۃٍ.
(30: 55)
’’اور جس دن قیامت قائم ہوگی، گناہ گار قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھیرے۔‘‘
زندگی کا اصل مقصد
ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ یہ دنیا آزمایش کا میدان ہے:
الَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفُوۡرُ.
(الملک 67: 2)
’’جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے، اور وہ غالب اور بخشنے والا ہے۔‘‘
یہ آزمایش ہمیں یہ سمجھانے کے لیے ہے کہ ہم اپنی زندگی کو نیکی، انصاف اور اللہ کی عبادت کے لیے وقف کریں، لیکن بدقسمتی سے اکثر لوگ اس حقیقت کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ وہ اس وقت ہوش میں آتے ہیں جب موت ان کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے، لیکن اُس وقت واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ جیسا کہ سورۂ مومنون میں ذکر ہے:
رَبِّ ارۡجِعُوۡنِ. لَعَلِّیۡۤ اَعۡمَلُ صَالِحًا فِیۡمَا تَرَکۡتُ. (23: 99-100)
’’اے میرے رب، مجھے واپس بھیج دے، شاید میں نیک عمل کروں ان چیزوں میں جو میں چھوڑ آیا ہوں۔‘‘
نجات کا راستہ
نجات کا راستہ قرآن نے واضح کر دیا ہے۔ ہمیں اپنا تعلق اللہ کے ساتھ مضبوط کرنا ہوگا اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سورۂ فجر میں فرماتے ہیں:
یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ. ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً. فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ. وَ ادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ.
(89: 27-30)
’’اے اطمینان والی جان، اپنے رب کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔ پھر میرے بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔‘‘
اختتامیہ دعا
آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دنیا کی حقیقت کو سمجھنے، آخرت کی تیاری کرنے اور اپنی زندگی کو نیک اعمال سے بھرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ.
(البقرہ 2: 201)
’’اے ہمارے رب، ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘