مواد پر جائیں

دین میں ڈاڑھی کا تصور (2)

گفتگو: محمد حسن الیاس / ترتیب و تدوین: شاہد رضا اردو

[ڈاڑھی کے حوالے سے’’23 اعتراضات سیریز‘‘ کے ایک پروگرام کا خلاصہ جناب محمد حسن الیاس صاحب نے بیان کیا ہے۔ زیر نظر تحریر انھی کی گفتگو سے اخذ و استفادہ پر مبنی ہے۔]

غامدی صاحب کے موقف پر اعتراضات کا جائزہ

غامدی صاحب کی اس راے سے علماے کرام متفق نہیں ہیں۔ ان کی راے سے اختلاف کرتے ہوئے علما بنیادی طور پر تین اعتراضات پیش کرتے ہیں، جن کی روشنی میں وہ غامدی صاحب کے موقف کو قابل قبول نہیں سمجھتے:

پہلا اعتراض

علماے کرام پہلا اعتراض یہ پیش کرتے ہیں کہ غامدی صاحب کا یہ دعویٰ کہ قرآن وسنت میں ڈاڑھی رکھنے کی کوئی ہدایت سرے سے موجود نہیں ہے، یہ خلاف حقیقت ہے، اس لیے کہ سورۂ روم کی آیت 30تا 32 میں ایک ایسی ہدایت موجود ہے جس سے ہم یہ حکم اخذ کر سکتے ہیں کہ ڈاڑھی رکھنا لازم ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ. (الروم30: 30)

’’سو ایک خدا کے ہو کر تم (اپنے باپ ابراہیم کی طرح اب ) اپنا رخ اُس کے دین کی طرف کیے رہو۔تم اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کی پیروی کرو، (اے پیغمبر)، جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی اِس فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔‘‘

اس آیت کو پیش کر کے علماے کرام یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس میں یہ کہا گیا ہے کہ اللہ نے جس فطرت پر تمھیں پیدا کیا ہے، اس کی پیروی کرنی ہے اور فطرت کو تبدیل نہیں کرنا۔ چونکہ ڈاڑھی انسانی جسم پر فطرتاً نمودار ہوتی ہے، اس لیے اگر انسان ڈاڑھی کاٹتا ہے تو گویا وہ اللہ کی تخلیق اور اس کی بنائی ہوئی فطرت کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید بالواسطہ (indirect) ہی سہی، لیکن انسان کو ڈاڑھی رکھنے کی ہدایت کرتا ہے، اس لیے کہ ڈاڑھی فطرت ہے اور فطرت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ مزید برآں، ڈاڑھی کو کاٹنا درحقیقت فطرت کو مسخ کرنا ہے۔

غامدی صاحب نے اس اعتراض کا جواب یہ دیا ہے کہ اگر ہم اس آیت کا سیاق و سباق (context) دیکھیں تومعلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت جسمانی شکل و صورت میں تبدیلی کی بات ہی نہیں کر رہی، بلکہ یہاں توحید کا ایک تصور زیر بحث ہے۔ اس میں توحید اور شرک کے پس منظر میں یہ بات ہو رہی ہے۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت لوگ شرک کے گناہ میں مبتلا تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں شرک کی مذمت کی گئی ہے اور توحید کی طرف بلایا گیا ہے۔ اس آیت میں بھی یہی بات کہی گئی ہے کہ شرک انسان کی فطرت کے مطابق نہیں ہے، جب کہ توحید انسان کی فطرت کا حصہ ہے۔ چنانچہ اس آیت کے سیاق و سباق سے واضح ہو جاتا ہےکہ قرآن مجید لوگوں پر یہ زور دے رہا ہے کہ توحید وہ چیز ہے جو آپ کے اندر فطری طور پر موجود ہے، اور جب آپ توحید کو ترک کر کے شرک کو اختیار کرتے ہیں تو گویا آپ فطرت کے ان حاصلات (achievements) اور رہنمائی کی مخالفت کرتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت کے سیاق و سباق کو مدنظر رکھتے ہوئے پڑھیں تو یہ خود بتاتی ہے کہ اس میں توحید زیر بحث ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ. مُنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ وَاتَّقُوْهُ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ. مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا كُلُّ حِزْبٍۣ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ.

(الروم30: 30-32)

’’سو ایک خدا کے ہو کر تم (اپنے باپ ابراہیم کی طرح اب ) اپنا رخ اُس کے دین کی طرف کیے رہو۔تم اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کی پیروی کرو، (اے پیغمبر)، جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی اِس فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یہی سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ (اِس کی پیروی کرو)،تم سب اللہ کی طرف متوجہ ہو کر اور اُس سے ڈرتے رہو اور نماز کا اہتمام رکھو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ۔ اُن مشرکین میں سے جنھوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ ہر گروہ اُسی میں مگن ہے جو اُس کے اپنے پاس ہے۔‘‘

اس آیت سے یہ بات بالبداہت واضح ہے کہ اس میں توحید کی دعوت اور شرک کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ اس آیت سے جو استدلال (argument) کیا جاتا ہےکہ ڈاڑھی بھی جسم پر نکل آتی ہے اور ڈاڑھی کو کاٹنا فطرت کی تبدیلی ہے اور قرآن مجید اسی کی ممانعت کر رہا ہے تو اس آیت میں ڈاڑھی سے متعلق سرے سے کوئی چیز زیر بحث ہی نہیں ہے۔

دوسرا اعتراض

دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ غامدی صاحب جو نقطۂ نظر پیش کر رہے ہیں، بعض احادیث اس کی تردید کرتی ہیں۔ چنانچہ اگر ہم غامدی صاحب کی یہ بات مان لیں کہ ڈاڑھی کا حکم دین میں نہیں ہے تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ان احادیث کا کیا کیا جائے گا جو اس سے مختلف بات بیان کر ر ہی ہیں۔ اپنے موقف کے لیے وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ انسانی فطرت کی دس چیزیں ہیں اور ان دس چیزوں میں ڈاڑھی رکھنا بھی شامل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دوسری روایت میں فطرت میں شامل چیزوں کے حوالے سے ڈاڑھی کے بارے میں یہ رہنمائی مل گئی ہے تو اب ہمیں قرآن مجید کے اندر جو فطرت کی تبدیلی کی بات کی گئی ہے، اس کو بھی اسی حدیث کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ مزید برآں، خود روایت ہمیں بتا رہی ہے کہ ڈاڑھی رکھنا تو فطرت کا حصہ ہے اور انسانی فطرت میں جو دس چیزیں شامل ہیں، اس میں ڈاڑھی بھی ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم کی روایت ہے:

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى اللّٰه عليه وسلم: عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ وَالسِّوَاكُ وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ وَقَصُّ الأَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَنَتْفُ الإِبْطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ. قَالَ زَكَرِيَّاءُ: قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ. زَادَ قُتَيْبَةُ قَالَ وَكِيعٌ: انْتِقَاصُ الْمَاءِ، يَعْنِى الاِسْتِنْجَاءَ. ( رقم 627)

’’ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس باتیں فطرت میں سے ہیں: مونچھیں کاٹنا، ڈاڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی چڑھانا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، بغل کے بال صاف کرنا، زیر ناف بال صاف کرنا اور پانی سےاستنجا کرنا“۔ راوی کہتے ہیں کہ میں دسویں چیز بھول گیا، شاید کلی کرنا ہو۔ وکیع جو کہ اس حدیث کے راویوں میں سے ہیں، کہتے ہیں کہ ’انتقاص الماء‘ کا مطلب ہے: پانی سے استنجا کرنا۔‘‘

آئیے، اب دیکھتے ہیں کہ اس حدیث سے علما کا وہ مقدمہ ثابت ہوتا ہے جو وہ عام طور پر ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ اس روایت کے بارے میں خود بڑے بڑے محدثین نے بعض بہت اہم سوالات اٹھائے ہیں اور اسے قبول نہیں کیا ہے۔ اس حدیث کے بارے میں امام ابن عبد البر رحمہ اللہ اور دیگر علما نے سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ اس حدیث کے راوی (narrator) معتبر نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ راوی یہاں دسو یں چیز کو یاد نہیں کر پایا، اس وجہ سے یہ بات قابل اعتبار نہیں ہے کہ جو باقی چیزیں اس نے بیان کی ہیں، وہ بھی اسے مستحضر ہوں۔ اس کے برعکس، علما یہ کہتے ہیں کہ ایک دوسری حدیث میں انسانی فطرت کے بارے میں پانچ چیزیں بیان کی گئی ہیں، ان میں ڈاڑھی شامل نہیں ہے۔ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےمنقول ہے اور بخاری جیسی ایک بڑی عظیم کتاب میں بھی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی گئی ہے۔1 چنانچہ صحیح مسلم کی روایت ہے:

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ صلى اللّٰهُ عليه وسلم قَالَ: الْفِطْرَةُ خَمْسٌ -أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ- الْخِتَانُ وَالاِسْتِحْدَادُ وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ وَنَتْفُ الإِبْطِ وَقَصُّ الشَّارِبِ. (رقم 620)

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرانا، زیر ناف بال صاف کرنا،ناخن تراشنا، بغلوں کے بال صاف کرنا اور مونچھیں تراشنا۔‘‘

اس حدیث میں ڈاڑھی رکھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اب اس کے مقابل میں ایک ایسی روایت جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس درجے میں متحقق نہیں ہے اور ابن عبد البر جیسے بڑے علما کے نزدیک اس کے راوی معتبر نہیں ہیں، یہ کیسے مانا جا سکتا ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈاڑھی رکھنا فطرت قرار دیا ہے، جب کہ ایک دوسری روایت اس کے ساتھ موجود ہے، جس کو بڑی بڑی کتابوں میں نقل کیا جا رہا ہے اور اس میں ڈاڑھی کا سرے سے ذکر تک نہیں ہے۔

تیسرا اعتراض

تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ڈاڑھی کے متعلق جو روایتیں غامدی صاحب نے قبول کی ہیں یا ان کی شرح ووضاحت کی ہے یا ان کے سیاق و سباق کے بارے میں بات کی ہے، انھی روایتوں کے اندر جو الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے نقل ہوئے ہیں، ان میں امر کا صیغہ (verb to order) ہے، یعنی جو فعل (verb ) آیا ہے، وہ حکم دینے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے کہ امر عربی زبان میں اصلاً وجوب (compulsory things) کے لیے آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جملے میں جب بھی کوئی فعل امر آئے گا، وہ کسی چیز کو لازم ٹھیرانے یا واجب ٹھیرا نے کے لیے آئے گا۔ ان روایات کے الفاظ ’واعفوا للحیٰ‘ اور ’قصوا الشوارب‘میں چونکہ امر کا فعل استعمال ہوا ہے، اس لیے اس سے علما نے یہ مراد لی ہے کہ لازماً ڈاڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو، گویا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حکم (order) ہے۔

غامدی صاحب یہ کہتے ہیں کہ یہ دعویٰ ہی درست نہیں ہے کہ امر کا صیغہ اصلاً وجوب کے لیے آتا ہے۔ امر کا صیغہ وجوب کے لیے بھی آتا ہے، استحباب کے لیے بھی آتا ہے، اباحت کے لیے بھی آتا ہے اور اس سے مختلف دیگر معانی میں بھی آتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ خود کئی جگہوں پر امر کا صیغہ استعمال کر رہے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

كُلُوْا وَاشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ. (البقرہ2: 60)

’’اللہ کی اِس روزی سے کھاؤ اور پیو۔‘‘

اس آیت کو پڑھنے والا دنیا میں کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ اس میں’كُلُوْا وَاشْرَبُوْا ‘ فعل استعمال کر کے کسی چیز کو لازم ٹھیرا رہے ہیں۔ ہر آدمی یہ جانتا ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہ حکم نہیں دے رہے کہ ہم لازماً کھائیں اور پئیں۔ سب یہی کہتے ہیں کہ یہا ں پر امر وجوب کے لیے نہیں، بلکہ اباحت (permission) کے لیے ہے۔ لہٰذا ہمیشہ جملہ یا سیاق و سباق یہ طے کرتا ہے کہ اس میں فعل امر کس معنی میں آیا ہے۔ چنانچہ اب ہم اس روایت کو دیکھتے ہیں جس میں ڈاڑھی کے متعلق الفاظ آئے ہیں۔ آپ لوگ یہ دیکھ لیں گے کہ جو چیزیں اس میں زیر بحث ہیں، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو لازم کر رہے ہیں ؟ چنانچہ حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ:

خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عَلٰی مَشْیَخَةٍ مِنَ الْأَنْصَارٍ بِیضٌ لِحَاهُمْ، فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، حَمِّرُوْا وَصَفِّرُوْا، وَخَالِفُوْا أَهْلَ الْکِتَابِ. قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، إِنَّ أَهْلَ الْکِتَابِ یَتَسَرْوَلَوْنَ، وَلَا یَأْتَزِرُوْنَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: تَسَرْوَلُوْا، وَائْتَزِرُوْا، وَخَالِفُوْا أَهْلَ الْکِتَابِ. قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، إِنَّ أَهْلَ الْکِتَابِ یَتَخَفَّفُوْنَ، وَلَا یَنْتَعِلُوْنَ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: فَتَخَفَّفُوْا، وَانْتَعِلُوْا، وَخَالِفُوْا أَهْلَ الْکِتَابِ. قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، إِنَّ أَهْلَ الْکِتَابِ یَقُصُّوْنَ عَثَانِیْنَهُمْ، وَیُوَفِّرُوْنَ سِبَالَهُمْ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: قُصُّوْا سِبَالَکُمْ، وَوَفِّرُوْا عَثَانِیْنَکُمْ، وَخَالِفُوْا أَهْلَ الْکِتَابِ.

(مسند احمد، رقم 22283)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے کچھ بڑے بوڑھوں کی مجلس میں، جن کی ڈاڑھیاں سفید ہوچکی تھیں، تشریف لائے تو اُن سے کہا: انصار کے لوگو،اپنی ڈاڑھیوں کو سرخ یا زرد کر لیا کرو اور اِس معاملے میں اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ ابو امامہ کہتے ہیں کہ اِس پر ہم نے سوال کیا: یا رسول اللہ، (پھر اِس کا کیا حکم ہے کہ) اہل کتاب شلوار پہنتے ہیں، وہ لنگی (تہ بند) نہیں باندھتے؟ آپ نے فرمایا:تم شلوار بھی پہنو اور لنگی بھی باندھو اور اِس معاملے میں بھی اُن کی مخالفت کرو۔ہم نے پھر سوال کیا: (اور اِس کا کہ )اہل کتاب موزے پہنتے ہیں، وہ جوتے نہیں پہنتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم موزے بھی پہنو اور جوتے بھی اور اِس معاملے میں بھی اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ہم نے سوال کیا: یا رسول اللہ،(اور اِس کا کہ)اہل کتاب ڈاڑھی کتراتے اور مونچھیں خوب بڑھاتے ہیں؟ ابو امامہ کہتے ہیں کہ اِس پر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم مونچھیں تراشا کرو اور ڈاڑھیوں کو خوب بڑھنے دو، (جس طرح وہ مونچھوں کو بڑھنے دیتے ہیں)اور اِس معاملے میں بھی اہل کتاب کی مخالفت کرو۔‘‘

غامدی صاحب نے ’حَمِّرُوْا وَصَفِّرُوْا ‘ کا ترجمہ کیا ہے: ’’ اپنی ڈاڑھیوں کو سرخ یا زرد کر لیا کرو ‘‘، یہ ترجمہ نہیں کیا کہ ’’اپنی ڈاڑھیوں کو لازماًزرد یا سرخ کرو‘‘۔ اگر اس روایت میں آپ ڈاڑھی کے بارے میں فعل امر کو وجوب کے لیے مانتے ہیں تو بعینہٖ فعل امر کو اوپر مذکور باقی چار چیزوں کے لیے بھی وجوب کے لیے ماننا پڑے گا، یعنی ہمیں یہ بھی کہنا پڑے گا کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شلوار پہننے، تہ بند پہننے، موزے پہننے اور جوتے پہننے کو بھی لازم قرار دیا ہے۔ جس طرح موزے اور جوتے پہن کر نماز پڑھنے کو لازم قرار دیاہے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈاڑھیوں کو بھی رنگنا لازم قرار دیا ہے۔

چنانچہ ہر شخص جانتا ہے کہ اس حدیث کا سیاق و سباق یہ بتا رہا ہےکہ سوال کرنے والے نے پوچھا ہے کہ دوسرے لوگ یہ کام نہیں کرنے دیتے، بلکہ وہ یہ دینی لحاظ سے سمجھتے ہیں کہ یہ جائز نہیں ہے۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں پر جو امر کا صیغہ استعمال کیا ہے، وہ اباحت کے لیے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمھارے لیے یہ کام کرنا جائز ہے۔ تم کرنا چاہو تو یہ کام کر سکتے ہو۔ اس میں اہل کتاب کی مخالفت کرو۔

خلاصۂ کلام

اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ غامدی صاحب ڈاڑھی رکھنے کو اسلام کا کوئی حکم نہیں سمجھتے، کیونکہ دین سے ایسا کوئی حکم ثابت نہیں ہے۔ نہ قرآن مجید میں اس کا کوئی ذکر ہے اور نہ سنت میں۔ جہاں تک حدیث کا تعلق ہے، تو وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر ہدایت یا حکم کے طور پر نہیں، بلکہ دو صورتوں میں کیا ہے: ایک متکبرانہ (arrogant) طریقے پر مونچھیں بڑی اور ڈاڑھی چھوٹی رکھنے والوں پر ناپسندی کا تبصرہ کیا ہے اور دوسری صورت میں بدعات (religious innovations)کی مخالفت کی ہے۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ ان احادیث سے ہٹ کر دین کی جو ایک مستقل روایت سنت ہے، اس میں اللہ کے پیغمبر نے مونچھوں کو پست رکھنےیا تراشنے کا ایک الگ سے حکم جاری فرمایا ہے، جو ان روایات میں زیر بحث نہیں ہے۔ اس حوالے سے غامدی صاحب کی کتاب ’’میزان‘‘ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

  1. ۔صحیح بخاری، رقم 5890۔