مواد پر جائیں

خبر نامہ ’’المورد امریکہ‘‘ ]فروری 2025ء[ ’’ مسئلۂ فلسطین اور مذہبی قیادت کا کردار‘‘

شاہد محمود اردو

حسن الیاس صاحب نے اپنے اس مضمون میں مسئلۂ فلسطین کے حوالے سے ہماری مذہبی قیادت کے بیانیے پر نقد کرتے ہوئے اس کی خامیوں اور مسلم دنیا پر اس کے خطرناک اثرات کو بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ مسئلۂ فلسطین بنیادی طور پر ایک سیاسی اور جغرافیائی تنازع تھا، جس کو ہماری مذہبی قیادت نے ایک خاص زاویے سے پیش کرتے ہوئے ایک مذہبی مسئلہ بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں مسلم دنیا کو خوں ریزی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی مشکلات جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔مزید برآں، فلسطینی قیادت کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے اہم نکات بھی بیان کیے ہیں۔ اس مضمون کو ’’اشراق، امریکہ‘‘ کے جنوری 2025ء کے شمارے میں دیکھا جا سکتا ہے۔

’’موت کی سزا‘‘ کے موقف پر اعتراضات کا جائزہ

گذشتہ ماہ غامدی سینٹر کے زیر اہتمام جاری 23 اعتراضات کی ویڈیو سیریز کے تحت منعقد ہونے والی نشستوں میں ’’موت کی سزا‘‘ کے بارے میں غامدی صاحب کے نقطۂ نظر پر کیے جانے والے اعتراضات کو زیر بحث لانے کے ساتھ ساتھ غامدی صاحب نے اپنے موقف کی توضیح میں مزید اہم نکات پر بھی گفتگو کی۔ ان نشستوں میں زیر بحث آنے والے چند اہم اعتراضات اور نکات یہ ہیں: فقہا کا استدلال‘‘، ’’احادیث میں قتل کی سزا‘‘، ’’قتل نفس کا قانون‘‘، ’’فساد فی الارض کے اطلاقات‘‘، ’’قحبہ گری کی سزا کا مردوں پر اطلاق کیوں؟‘‘ اور ’’احادیث میں رجم کی سزا‘‘۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔

’’عالمی دعوت‘‘

غامدی صاحب کا یہ مضمون اسلام کی عالمی دعوت کے تین مراحل کا بیان ہے۔ لکھتے ہیں کہ پہلے مرحلے میں یہ دعوت سبسے پہلے آدم علیہ السلام کے ذریعے سے خود اُن کو اور اُن کی اولاد کو دی گئی تھی۔ دوسرے مرحلے میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور اُن کی اولاد کو اس کے لیے منتخب کیا گیا اور بنو اسحٰق کم و بیش پندرہ سو سال تک اس ذمہ داری کے منصب پر فائز رہے، مگر جب اُنھوں نے یحییٰ علیہ السلام کو قتل کر ڈالا اور پھر سیدنا مسیح کو بھی قتل کر دینے کے درپے ہوئے تو ان کو اِس عظیم ذمہ داری سے معزول کر دیا گیا اور یہ ذمہ داری بنی اسمٰعیل کے سپرد کر دی گئی۔ چنانچہ اِسی مقصد سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، جس کے نتیجے میں اسلام کی عالمی دعوت کا تیسرا اور آخری مرحلہ شروع ہوا۔ یہی مرحلہ اِس وقت جاری ہے۔ یہ مضمون ماہنامہ ’’اشراق، امریکہ‘‘ کے گذشتہ ماہ کے شمارے میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

”کیا عقل خدا کے وجود کو ثابت کر سکتی ہے؟“

غامدی سینٹر نے جاوید احمد غامدی صاحب کی تمام ویڈیوز کو اے آئی کی مدد سے انگریزی زبان میں ڈب کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ انگریزی جاننے والے حضرات بھی غامدی صاحب کے افکار و نظریات سے مستفید ہو سکیں۔ جنوری 2025ء میں ”کیا عقل خدا کے وجود کو ثابت کر سکتی ہے؟“ کے موضوع پر تین لیکچرز کو انگریزی زبان میں ڈب کر کے غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر نشر کیا گیا ہے۔

’’My Discovery of God, Islam & Judgement Day ‘‘ کا اردو ترجمہ

یہ حمزہ علی عباسی صاحب کی تصنیف ہے، جو غامدی سینٹر کے زیر اہتمام شائع ہو چکی ہے اور اسے دنیا بھر میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ اس کتاب میں حمزہ علی عباسی صاحب نے اپنے اس سفر کو تفصیل سے بیان کیا ہے، جس میں انھوں نے اسلام کے حوالے سے بہت سی غلط فہمیوں کے دور ہونے کا ذکر کیا ہے۔ اسلام کے بارے میں رائج بہت سے غلط تصورات کو سمجھنے کے لیے جدید ذہن کو اس کتاب سے بہت مدد ملی ہے۔ غامدی سینٹر نے اس کو اردو زبان میں بھی شائع کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ مکمل ہو گیا ہے۔ یہ کتاب اشاعت کے مراحل میں ہے اور جلد ہی اردو قارئین کے لیے بھی دستیاب ہو گی۔

’’23 اعتراضات سیریز کا پس منظر‘‘

گذشتہ ماہ حسن الیاس صاحب نے رضوان علی صاحب کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ ریکارڈ کرایا، جس میں انھوں نے ’’23اعتراضات سیریز ‘‘ کے پس منظر، مقصد اور اثرات پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ اس سیریز سے ہمارا مقصد روایتی مکاتبِ فکر کے خلاف کوئی جنگ جیتنا نہیں، بلکہ اللہ کے دین کے ادنیٰ خادم کی حیثیت سے اس پر غور و فکر کرنا ہے۔ مزید برآں، غامدی صاحب کے کام کے حوالے سے انھوں نے بیان کیا کہ غامدی صاحب کے کام کا مقصد صرف علم اور سچائی کی تلاش ہے، نہ کہ اپنے استدلال اور نتیجۂ فکر سے معاشرے میں کوئی تبدیلی رونما کرنا۔ اس پروگرام کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

”وائس آف ریسرچ“

”وائس آف ریسرچ“ کے نام سے غامدی سینٹر کے حال ہی میں شروع کیے گئے آن لائن سیمینارز کا سلسلہ جاری ہے۔ ان سیمینارز میں محققین اور اسکالرز اپنی تحقیق پیش کرتے ہیں۔ اس سیمینار کا مقصد تحقیقی مزاج، مکالمے کے فروغ اور تنقیدی سوچ کے ذریعے سے تحقیقی ماحول پیدا کرنا ہے۔ گذشتہ ماہ دو سیمینارز کا انعقاد ہوا۔ ایک کا عنوان ’’ زکوٰۃ اور جدید معیشت ‘‘ تھا، جس پر ڈاکٹر سلمان احمد شیخ صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے فقہ الزکوٰۃ کا جدید معیشت پر اطلاق، سرمایے کی جدید شکلوں میں زکوٰۃ کا اطلاق، پیداوار کی جدید شکلوں میں عشر کا اطلاق اور مصارف زکوٰۃ اور جدید معیشت میں ریاست کا کردار جیسے اہم نکات پر بات کی۔ دوسرے سیمینار کا موضوع’’کیا قرآن مجید سائنس کی کتاب ہے؟‘‘ تھا۔ اس کے مقرر ڈاکٹر اشفاق احمد صاحب تھے، جنھوں نے ’’علم القرآن کیا ہے؟‘‘، ’’ہم قرآن مجید اور سائنس میں مطابقت کیسے پیدا کریں؟‘‘ اور ’’مغربی دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مسلم دنیا سے کیسے آگے بڑھی؟‘‘ جیسے اہم سوالات پر بات کی۔ ان سیمینارز کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

’’ ایمانیات میں کیا شامل ہے اور کیا شامل نہیں ہے؟‘‘

مدیر ’’اشراق، امریکہ‘‘ سید منظور الحسن صاحب کا یہ مضمون ایمانیات کے حوالے سے غامدی صاحب کے موقف کا بیان ہے۔ لکھتے ہیں کہ دین میں صرف پانچ چیزوں کو ایمان و عقیدے کی حیثیت حاصل ہے اور وہ اللہ، اُس کے فرشتوں، اُس کی کتابوں،اُس کے رسولوں اور آخرت کے دن پر ایمان ہے۔ اِن کے علاوہ دیگر اجزاے دین کو ایمانیات کے زیرِ عنوان بیان کرنا درست نہیں ہے۔ بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید کے محل تدبر مندرجات کو ایمانیات کے زمرے میں شامل کرنے سے علمی لحاظ سے دو اہم مسئلے پیدا ہوتے ہیں: ایک، ایمانیات کا دائرہ محل بحث میں آ جاتا ہے۔ دوسرے، اخبار و اطلاعات کی نوعیت کی چیزوں کو ایمان کا درجہ دینے سے اُن کے بارے میں غور و فکر اور اختلاف راے کا جواز ختم ہو جائے گا۔ یہ مضمون جنوری 2005ء کے شمارے میں پڑھا جا سکتا ہے۔

’’تفہیم الآثار‘‘ سیریز

غامدی سینٹر کے زیر اہتمام ’’تفہیم الآثار‘‘ سیریز کے زیر عنوان گذشتہ ماہ منعقد ہونے والے پروگراموں میں قرآن مجید کے حوالے سے مختلف آثار کا مطالعہ کیا گیا، جن میں ’’غیر مسلم کو قرآن کی تعلیم دینا‘‘، ’’قرآن مجید سے علاج کرنا‘‘، ’’دینی اور اخلاقی تربیت کے بغیر قرآن مجید سیکھنے کے مفاسد‘‘، ’’قرآن مجید کو حصول دنیا کا ذریعہ بنانا‘‘اور ’’حاملین قرآن کی سیرت و کردار‘‘ جیسے اہم نکات پر گفتگو کی گئی۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یو ٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

سہ ماہی ”اشراق امریکہ“ کا انگریزی شمارہ

’’غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ ‘‘کی تمام علمی اور دعوتی سرگرمیاں ابلاغ کے جدید ذرائع کو مد نظر رکھتے ہوئے انجام دی جاتی ہیں۔ موجودہ دور میں انگریزی زبان کوعالمی سطح پر ذرائع ابلاغ کے لیے ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ انگریزی زبان کی اس اہمیت کے پیش نظر ”اشراق امریکہ“ کو انگریزی میں بھی شائع کیا جاتا ہے تاکہ انگریزی جاننے والوں کی ایک بڑی تعداد بھی مدرسۂ فراہی کے علمی اور فکری لٹریچر سے مستفید ہو سکے۔ نومبر 2024ء تا جنوری 2025ء کا شمارہ گذشتہ ماہ شائع کیا گیا، جسے غامدی سینٹرکی ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ مجلہ عابد محمود ہاشمی صاحب کی ادارت میں شائع ہوتا ہے، جب کہ جناب مکرم عزیز، اعجاز الحق صاحب، جناب محمود الرشید، مالک الہٰی صاحب اور جناب محمد عمار اس کی اعزازی مجلس ادارت میں شامل ہیں۔

’’گریٹر اسرائیل اور شکست خوردہ مسلمان‘‘

یہ غامدی سینٹر کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کمونیکیشن محمد حسن الیاس صاحب کے پوڈ کاسٹ کا عنوان ہے، جو انھوں نے میزبان باسط ندیم صاحب کے ساتھ ریکارڈ کرایا۔ حسن الیاس صاحب نے اس میں مسئلۂ فلسطین سے متعلق میزبان کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے حماس کے منشور اور بیانیے کو تفصیلاً بیان کیا اور حماس کے اسرائیل پر حملے کی وجوہات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے نہتے شہریوں کو یرغمال بنانے کے اقدام کی مذمت بھی کی۔ مزید برآں، اس پروگرام میں ضمنی طور پر کچھ اہم نکات کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے،جو یہ ہیں: ”کیا حدیث کے بغیر دین مکمل ہے؟“، ”غامدی صاحب پر لگنے والے اعتراضات کی حقیقت“ اور ”اسلامک ڈیموکریسی اور ایل جی بی ٹی کمیونٹی“۔ اس پوڈ کاسٹ کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔

غامدی سینٹر کی آن لائن خانقاہ

غامدی سینٹر کے زیر اہتمام جاری آن لائن خانقاہ میں معز امجد صاحب ہر ہفتے اصلاحِ نفس کے پہلو سے ایک نشست منعقد کرتے ہیں، جس میں لوگوں کے نفس کی اصلاح اور تربیت کے حوالے سے مختلف موضوعات کو زیر بحث لایا جاتا ہے اور اس سے متعلق لوگوں کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب دیے جاتے ہیں۔ گذشتہ ماہ اس سلسلے کی منعقد ہونے والی نشستوں میں زیر بحث آنے والے چند اہم نکات یہ ہیں:’’انسان کا شعور اور خود آگہی‘‘، ’’انسان کی سات منفرد صلاحیتیں‘‘، ’’یونیورسل اخلاقیات کے باوجود اختلاف کیوں؟‘‘ اور ’’ہم کیسے زندہ ہیں؟‘‘۔ آن لائن خانقاہ کی ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔

سہ ماہی ’’صالحات‘‘ کا تیسرا شمارہ

غامدی سینٹر کے زیر اہتمام خواتین کے لیے شائع ہونے والے سہ ماہی میگزین ’’صالحات‘‘ کا تیسرا شمارہ منظر عام پر آ چکاہے۔ اس کا آڈیو اور پی ڈی ایف ورژن آن لائن دستیاب ہے۔ اس شمارے میں خواتین کی دل چسپی کی علمی و ادبی اور تاریخی تحریریں اور انٹرویو شامل کیے جاتے ہیں۔ اس شمارے میں شائع ہونے والے چند اہم مضامین کے موضوعات یہ ہیں: ’’نکاح اور حق مہر کی حقیقت‘‘، ’’عدت اور اس کے مسائل‘‘، ’’غلطی ہاے مضامیں مت پوچھ‘‘، ’’ہمارے بزرگوں کا تصور عبادت‘‘ اور ’’بچوں کی تربیت کے چند اہم پہلو‘‘۔یہ نعیم بلوچ صاحب کی ادارت میں شائع کیا جاتا ہے، جب کہ وجیہہ حسان واحدی اس کی نائب مدیر ہیں۔

’’سوال و جواب حسن الیاس کے ساتھ‘‘

غامدی سینٹر کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن حسن الیاس صاحب نے گذشتہ ماہ معروف یوٹیوب چینل ’’مسلم ٹو ڈے‘‘ کو انٹرویو دیا۔ یہ بنیادی طور پر غامدی صاحب کے فکر کے حوالے سے سوال و جواب پر مبنی پروگرام تھا، جس میں حاضرین کی جانب سے مختلف سوالات پوچھے گئے۔ مزید برآں، حدیث و سنت کے باہمی تعلق، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی تفہیم کے حوالے سے خوارج کے نقطۂ نظر اور صحابۂ کرام کے درمیان سیاسی تنازعات سے متعلق سوالات بھی پوچھے گئے اور حسن الیاس صاحب نے ان کے تسلی بخش جواب دیے۔ اس پروگرام کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

’’البیان‘‘ کی انگریزی زبان میں تدریس

گذشتہ ماہ شہزاد سلیم صاحب نے غامدی صاحب کی تفسیر ”البیان“ میں سے سورۂ نساء کی آیات 60 تا 103 کا انگریزی زبان میں درس دیا۔ ان نشستوں کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔

مولانا اصلاحی کے علمی کام کا تعارف

نعیم احمد بلوچ صاحب نے ’’حیات امین‘‘ کی گذشتہ ماہ شائع ہونے والی قسط میں مولانا اصلاحی کی جماعت اسلامی سے وابستگی کے دوران میں علمی کام کا تعارف پیش کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے ساتھ 17 برس کی رفاقت میں مولانا اصلاحی نے جماعت کا علمی محاذ سنبھالے رکھا۔ اس زمانے میں مولانا کے قلم سے معر کۃ الآرا علمی مقالات اور مضامین سامنے آئے۔ یہ سب جماعت کے ترجمان ماہنامہ ’’ ترجمان القرآن‘‘ میں شائع ہوئے۔ مزید برآں، مولانا اصلاحی کے اس کام کو تین اقسام میں تقسیم کرتے ہوئے ان کی تفصیل بھی بیان کی ہے۔

”اسلام اسٹڈی سرکل“

جنوری 2025ء میں شہزاد سلیم صاحب نے ”اسلام اسٹڈی سرکل“ پروگرام میں قرآن مجید، حدیث اور بائیبل کے جن موضوعات پر بات کی، ان کے عنوانات بالترتیب یہ ہیں: ’’دین کی حمایت‘‘، ’’شکر گزاری ‘‘ اور ’’زبان کو قابو میں رکھنا‘‘۔ مزید برآں، نشست کے آخر میں ’’ایمان داری‘‘ کے موضوع پر گفتگوکی گئی اور زیر بحث آنے والے موضوعات سے متعلق پوچھے جانے والے سوالوں کے جواب دیے گئے۔ اس نشست کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

غامدی صاحب کی ہفتہ وار سوال و جواب کی نشستیں

غامدی سینٹر کے زیر اہتمام ہر ہفتے سوال و جواب کی لائیو نشست منعقد کی جاتی ہے، جس میں حسن الیاس صاحب غامدی سینٹر کو موصول ہونے والےمختلف نوعیت کے سوال غامدی صاحب کے سامنے رکھتے ہیں اور غامدی صاحب ان کا جواب دیتے ہیں۔ جنوری 2025ء میں منعقد ہونے والی ان نشستوں جن سوالوں کو زیر بحث لایا گیا، وہ یہ ہیں: ’’کیا دین کا مقصد تہذیبی برتری ہے؟‘‘، ’’روایت کا کیا مفہوم ہے؟‘‘، ’’روایت کے مصداقات کیا ہیں؟‘‘، ’’کیا فکر فراہی روایت کے اندر کھڑی ہے؟‘‘ اور ’’کیا تہذیبی روایت طاقت کے بغیر حاصل ہو سکتی ہے؟‘‘ مزید برآں، مسلمانوں کی تاریخ اور اسلام کی تاریخ کے فرق کو بھی واضح کیا گیا۔ سوال و جواب کی ان نشستوں کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

’’اصل الاصول‘‘

جنوری 2025ء میں شہزاد سلیم صاحب نے ’’میزان لیکچرز سیریز‘‘ کے تحت ’’اصل الاصول‘‘ کے موضوع پر انگریزی زبان میں دو لیکچرز ریکارڈ کرائے۔ ان لیکچرز کی ریکارڈنگ کو غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔

”علم و حکمت: غامدی کے ساتھ“

گذشتہ ماہ ’’دنیا نیوز‘‘ پر نشر ہونے والے غامدی صاحب کے ہفتہ وار پروگرام میں ’’غامدی صاحب کے تصور سنت پر اشکالات کا جائزہ‘‘ کے عنوان سے تین اور ’’ مکتب ِ فراہی کے فکری حاصلات‘‘ کے موضوع پر ایک پروگرام نشر ہوا۔ ان پروگراموں میں زیر بحث آنے والے سوالوں میں سے چند اہم سوالات یہ ہیں: ’’ موجودہ دور میں سنت کی تصدیق کا عمل کیسے ہو گا؟‘‘، ’’ملت اور سنت میں کیا فرق ہے؟‘‘، ’’ سنت سے مراد عملی طریقہ لینا ہی کیوں ضروری ہے؟‘‘، ’’کیا یہود و نصاریٰ کے ہاں بھی ابراہیمی سنتیں پائی جاتی ہیں؟‘‘ اور ’’ فکر فراہی نے روایتی دینی فکر میں موجود اشکالات کو کیسے دور کیا ہے؟ ‘‘ ان پروگراموں کی ریکارڈنگ ادارے کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔

23 اعتراضات کی ویڈیو سیریز کا انگریزی زبان میں خلاصہ

شہزاد سلیم صاحب 23 اعتراضات کی ویڈیو سیریز میں اب تک کے زیر بحث آنے والے تمام موضوعات کا انگریزی زبان میں خلاصہ بیان کر رہے ہیں۔ گذشتہ ماہ شہزاد سلیم صاحب نے23 اعتراضات کی سیریز میں زیر بحث آنے والے موضوع ’’غنا اور موسیقی‘‘ کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے دو لیکچرز ریکارڈ کرائے۔ ان پروگرامز کی ریکارڈنگ غامدی سینٹر کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔

دینی آرا پر مبنی فتاویٰ کا اجرا

شریعت کے قانونی اطلاقات کے حوالے سے لوگ اکثر غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ، امریکہ سے رابطہ کرتے ہیں۔ انھیں نکاح و طلاق، وراثت (inheritance)اور بعض دیگر معاشی اور معاشرتی پہلوؤں سے اطلاقی آرا کی ضرورت ہوتی ہے۔ گذشتہ ماہ اسی نوعیت کی مختلف ضرورتوں کے تحت 2 فتوے جاری کیے گئے۔ انھیں جناب جاوید احمد غامدی کے فکر کی روشنی میں حسن الیاس صاحب نے جاری کیا۔

شہزاد سلیم صاحب کے آن لائن نجی مشاورتی سیشن

شہزاد سلیم صاحب ہر ماہ لوگوں سے آن لائن نجی مشاورتی سیشن کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان سیشنز میں لوگ اپنے مختلف ذاتی اور خاندانی نوعیت کے مسائل میں شہزاد سلیم صاحب سے مشاورت کرتے ہیں۔ گذشتہ ماہ اس سلسلے کے 30سے زائد سیشنز ہوئے۔ان سیشنز میں لوگوں نے شہزاد سلیم صاحب سے والدین کو درپیش مشکلات اور نو عمری کے مسائل کے حل کے لیے مشاورت کی۔

Ask Dr. Shehzad Saleem

یہ سوال و جواب کی لائیو ماہانہ نشست ہے، جس میں ڈاکٹر شہزاد سلیم لوگوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے مختلف دینی، اخلاقی اور معاشرتی موضوعات سے متعلق سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ اس نشست میں لوگ اردو اور انگریزی، دونوں زبانوں میں اپنے سوال پوچھ سکتے ہیں۔