( 1879ء-1973ء )
علامہ الطاہرابن عاشوربیسویں صدی کے تجدیدی واصلاحی فکرکے مشہورتیونسی عالم ہیں۔ وہ عالم عرب میں توبہت معروف ہیں،مگربرصغیرمیں ان کی کتابوں اورتحریروں کے ترجمے بہت دیرمیں پہنچے، اس لیے یہاں کے اہل علم ان سے تقریباًناواقف رہے ہیں۔ چنانچہ اردومیں کوئی چیزان کی تحریروں،ان کی شخصیت اورفکرسے متعلق راقم کی محدودوناقص نظرسے نہیں گزری۔
ابن عاشورمفسرِقرآن،محدث،شارح بخاری اوراصولی فقیہ تھے، جن کی تفسیر ’’التحریر و التنویر‘‘ عرب علما میں متداول ہے۔ اس کے علاوہ ان کا بڑاتعارف علم مقاصدالشریعہ کے بانی اورنظریہ سازاصولی فقیہ امام شاطبی غرناطی (متوفی 1388ء)کے شارح وترجمان کی حیثیت سے بھی ہے۔ موجودہ زمانے میں ابن عاشور کی علمی وفکری خدمات کے وسیع پیمانے پرتعارف کا کریڈٹ اسلامائزیشن آف نالج کے علم بردارمشہورعالم اسلامی تھنک ٹینک ’’المعہد العالمی للفکر الاسلامی‘‘ واشنگٹن ڈی سی کوجاتاہے، جس کومخفف نام IIITکے نام سے بھی جاناجاتاہے، اِس ادارے نے ابن عاشورکی کئی کتابوں کے انگریزی میں تراجم شائع کرائے اوران کی خدمات و شخصیت کا تعارف کرایا۔
محمدالطاہرابن عاشورتیونس میں 1879ءکوپیداہوئے۔ ان کا تعلق ایک اندلسی نژادمتمول گھرانے سے تھا۔ اِس خاندان میں صدیوں سے علم وفکرکی روایت چلی آتی تھی۔ اگرچہ ان کے والد کا شماربڑے علما میں نہیں ہوتا،تاہم ان کے دادا (جو انھی کے ہم نام ہیں) محمدالطاہربن عاشور (1815ء-1868ء) اپنے وقت کے تیونس کے بڑے علما میں شمارکیے جاتے تھے۔ اسی طرح ان کے ناناشیخ عزیزبوعاشور( 1825ء-1907ء)بھی بڑے عالموں میں سے تھے اورتیونس کے معروف سیاسی رہنما اورمصلح خیرالدین پاشا (1822ء-1889ء)کے قریبی رفقا میں شمار کیے جاتے تھے۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ریفارم اوراصلاح وتجدیدکے آوازہ کے ماحول میں شیخ ابن عاشور نے آنکھیں کھولیں۔ ابتدائی تعلیم گھرپر حاصل کرنے کے بعد1898ءمیں ابن عاشور ’’جامع زیتونہ‘‘ میں داخل ہوئے۔ جامعہ ازہرکی قدیم روایت کے پیٹرن پرزیتونہ میں بھی اسلامی علوم پڑھائے جاتے تھے۔ البتہ اتنافرق تھاکہ ابن عاشورکوجواساتذہ ملے، وہ سب قدیم روایت کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ تحریک اصلاح وتجدیدسے متاثراوراس سے تعلق رکھتے تھے کہ اِس تحریک کے اُس زمانے میں سب سے بڑے ترجمان شیخ محمدعبدہ نے تیونس کا سفرکیاتھااوروہاں کے علما و فقہا کواپنی گفتگوؤں اورخطابات سے متاثرکیاتھا۔ زیتونہ میں ابن عاشورکے اہم ترین اساتذہ میں شیخ عمر الشیخ (1826ء-1911ء) اورشیخ سالم بوحاجب (1828ء-1924ء) شامل تھے۔ محنت و توجہ اورپورے انہماک علمی سے ابن عاشورنے روایتی اسلامی علوم کی تحصیل کی اوران میں اجازہ (رسمی سند)حاصل کرلی، جس کے بعدانھوں نے زیتونہ میں پڑھایااوروہاںمفتی سے لے کر اس کے شیخ الجامعہ کے مناصب تک پہنچے۔ تدریس کے ساتھ ان کوافتا کی ذمہ داری بھی دی گئی اور 1927ء میں قاضی القضاۃ کے دفترمیں ان کی تقرری ہوئی اوراس کے چندسال بعدہی 1932ء میں شیخ الاسلام کے منصب پر فائزہوگئے، جواس وقت ملک کا سب سے بڑاعلمی منصب ہوتاتھا۔
خانگی زندگی سے متعلق زیادہ معلومات دستیاب نہیں، اتناضرورہے کہ ان کے دوبیٹے تھے اور دونوں ہی صاحبان علم تھے۔ ایک صاحب زادے کا نام محمدفاضل بن عاشورتھااوردوسرے بیٹے محمد العزیز بن عاشور۔ انتظامی عہدوں، مناصب کی مصروفیتوں اور درس وتدریس کی ذمہ داریوں کے باوجود ابن عاشورکثرت سے مضامین لکھاکرتے، جوشام ،مصراورتیونس کے اخبارات ومجلات مثلاً مجلہ ’’المنار‘‘، ’’ہدی الاسلام‘‘، ’’مصباح الشرق‘‘ اور ’’ مجلۃ مجمع اللغۃ العربیۃ‘‘ قاہرہ میں شائع ہوتے۔ مقالات و مضامین کے علاوہ انھوں نے مختلف موضوعات پر تصنیف کا کام بھی کیااورتقریباً چالیس کتابیں لکھیں۔ چنانچہ ان کی درج ذیل کتابیں شائع ہوئیں، جوعالم عربی میں متداول ہیں:
1۔ تفسیرالتحریروالتنویر (پندرہ جلدیں)۔
2۔ کشف المغطا شرح الموطا۔
3۔ النظرالفصیح علی الجامع الصحیح (صحیح بخاری کی شرح )۔
4۔ الیس الصبح بقریب (اسلامی تعلیم پرایک نظر)۔
5۔ اصول النظام الاجتماعی فی الاسلام ۔
6۔ مالکی فقیہ شہاب الدین القرافی کی کتاب ’’شرح تنقیح الاصول‘‘ کی شرح مسمی بہ ’’حاشیۃ التوضیح والتصحیح‘‘۔
7۔ مقاصدالشریعۃ الاسلامیۃ۔ موخرالذکرکتاب کاانگریزی ترجمہ عالمی ادارہ براے فکر اسلامی، یعنی المعہدالعالمی للفکرالاسلامی واشنگٹن ڈی سی نے کراکرشائع کرایاہے۔ اورمقاصدی مطالعا ت میں یہ کتاب اہمیت کی حامل ہے۔
8۔ الوقف وآثارہ فی الاسلام ۔
9۔ موجزالبلاغۃ۔
10۔ شرح دیوان بشاربن برد۔
11۔ شرح دیوان النابغۃ ۔
12۔ شرح معلقہ امرأ القیس۔
13۔ تحقیقات وانظارفی السنۃ والقرآن۔
ان کے علاوہ کئی ادبی کتابوں کی تحقیق کی اور ان پرتعلیقات لکھیں۔ نیز مصرکے شیخ علی عبدالرزاق کی متنازع فیہ کتاب ’’الاسلام واصول الحکم ‘‘کا ردبھی لکھاہے۔ شیخ علی عبدالرزاق کا کہنا تھا کہ اسلام میں کسی طرح کا کوئی سیاسی نظام نہیں پایاجاتا۔ اس کتاب پر بہت لے دے ہوئی تھی اور ازہرکے کئی علما نے بھی اس کا جواب دیاتھا۔
اپنے علمی سفرمیں ابن عاشورمصربھی گئے، جہاں1903ء میں ان کی ملاقات مصلح و مفکر جمال الدین افغانی کے شاگردرشیدشیخ محمدعبدہ سے ہوئی، جواس وقت مصراورپورے عالم عربی میں جدید دینی بیداری (النہضۃ العربیۃ الدینیۃ)کے علم بردارتھے۔ یادرہے کہ شیخ محمدعبدہ خود تیونس آئے تھے اوروہاں اپنی گفتگوؤں میں انھوں نے اصلاح ِمعاشرہ اورتجدیدکی روح پھونکی تھی۔ ابن عاشورنے محمدعبدہ کی مجالس اورتحریروں سے استفادہ کیا اوروطن میں ہی جس فکرسے وہ آشنا ہو چکے تھے، اب اس میں اورنکھارپیداہوگیااورجب وہ تیونس لوٹے تواسلامی بیداری کے نقیب اور علم بردار بن چکے تھے۔
امام ابواسحاق الشاطبی الغرناطی (متوفی 1388ء/790)کی کتاب ’’الموافقات‘‘ 1883ء میں پہلی بارتیونس سے چھپی۔ اس کتاب نے ابن عاشورپر گہرااثرڈالااورانھوں نے اسی سے تحریک پا کر ’’مقاصد الشریعۃ الاسلامیۃ‘‘ لکھی، جس کے ذریعے سے اسلامی مطالعات میں ایک نئے ڈسکورس کا آغاز ہوا اورعلم مقاصدالشریعہ کے نام سے ایک نیاڈسپلن ارتقاپذیرہوا، جوآج نشو و نما پا کر اسلامی فقہ کی ایک ناگزیرشاخ بن چکاہے اوراس کا بڑاکریڈٹ، جیساکہ اوپرگزرا، عالمی ادارہ براے فکر اسلامی واشنگٹن کو جاتا ہے، جس نے شاطبی اور ابن عاشورکے علاوہ دوسرے علما و محققین ِ شریعت کی اس موضوع پر کتابیں بڑے پیمانے پرشائع کیں اورمختلف زبانوں میں، خاص طور پر انگریزی و اردومیں ان کے ترجمے کرائے اورعلما وفقہا کے سامنے نئے آفاق ِعلم روشن کیے۔ آج مختلف فقہی اکیڈمیاں اس موضوع پر غور و فکرکر رہی ہیں اورنئی تحقیقات ومطالعات سامنے آ رہے ہیں۔
ابن عاشورمطالعہ وتحقیق کے رسیا تھے۔ انھوں نے زندگی بھرسوچا،غوروفکرکیا،پڑھا،تحقیق کی اور لکھا۔ کافی لمبی عمر پائی، یعنی 94 سال کی عمرمیں 12/ اگست1973ءبہ مطابق 1393 ہجری کوفوت ہوئے اوراپنے پیچھے علم وفکراورتحقیق کی وہ میراث چھوڑگئے کہ انیسویں اور بیسویں صدی کے تیونس میں اس کی کوئی اورمثال نہیں ملتی۔ ان کے تحقیقی کاموں میں کئی ابھی تک منتظرطباعت ہیں۔