اپریل 2001ء میں جب دوسری بیٹی پیدا ہوئی تو پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ چندے آفتاب، چندے ماہ تاب کہا گیا۔ بیبیوں نے بلائیں لیں، بزرگوں نے دعائیں دیں۔ مٹھائیاں بانٹیں، دعوتیں کیں، صدقے اتارے۔ مالک کا دل و جان سے شکر ادا کیا کہ اُس نے ایک بار پھر اولاد کی نعمت سے نوازا ہے۔ سوچا کہ دونوں جب آنگن میں کھیلیں گی تو اللہ کی رحمت کا خوب نظارہ ہو گا۔
اِسی سرشاری میں تین چار ماہ گزر گئے۔ پھر ایک دن مریم کو بخار ہوا اور ساتھ ہی تشنج کی کیفیت طاری ہو گئی۔ فوراً ہسپتال پہنچے۔ ڈاکٹر نے انجکشن دے کر کہا کہ اگر کل تک بخار ختم نہ ہوا اور جھٹکے نہ رکے تو کمر سے کچھ پانی نکال کر ٹیسٹ کریں گے۔ تاہم، اگلے روز طبیعت بحال ہو گئی ۔ ایک دو ماہ مزید گزرے تو معمول کے معائنے میں ڈاکٹر نے بتایا کہ بچی کے سر کی نشو و نما اُس رفتار سے نہیں ہو رہی ، جس رفتار سے ہونی چاہیے۔ پھر ایک دن کسی نے توجہ دلائی کہ مریم کی بینائی کچھ کم زور لگ رہی ہے۔ ماننے کو جی تو نہ چاہا، مگر جب غور سے دیکھا تو کچھ اندیشہ پیدا ہو گیا۔ ماں گلو گیر ہو گئی: ’’ہائے،میری بیٹی کو اتنی چھوٹی عمر میں عینک لگ جائے گی!‘‘
آئی اسپیشلسٹ کو دکھایا گیا۔ چند دن تک تشخیص کرنے کے بعد اُس نے بتایا کہ آنکھیں تو بالکل ٹھیک ہیں، مگر اِس کے باوجود دیکھ نہیں پا رہیں۔ اُس نے ’’الشفا آئی ٹرسٹ ہسپتال‘‘ لے جانے کا مشورہ دیا۔ فوراً اسلام آباد پہنچے۔ اُنھوں نے تصدیق کی کہ بینائی نہیں ہے۔ سنتے ہی دنیا اندھیر ہو گئی۔ زمین و آسمان سیاہ ہو گئے ۔ یوں لگا جیسے مریم کی نہیں، ہماری آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے۔ دل پاش پاش ہو گیا۔ آنکھوں سے سیلاب امڈ آیا ۔ واپس پہنچ کر ڈاکٹر کو بتایا تو اُس نے کہا کہ بہتر ہے کہ سماعت کا ٹیسٹ بھی کرا لیں۔ ٹیسٹ کرایا تو وہاں بھی آنکھوں والا مسئلہ درپیش تھا۔ یعنی کان ٹھیک تھے، مگر سنائی نہیں دے رہا تھا۔ ابھی دیکھنے سے محرومی کا رونا جاری تھا کہ سننے سے محرومی کا فیصلہ سنا دیا گیا ۔
پھرچائلڈ نیوروفزیشن کے پاس پہنچے۔ اُس نے سی ٹی اسکین اور کچھ اور ٹیسٹ کرنے کے بعد بتایا کہ مریم سریبرل پالسی (Cerebral palsy) کا شکار ہو چکی ہے۔ پیدایش کے دوران میں یا اُس کے بعد کسی موقع پر دماغ کو آکسیجن پہنچنے میں وقفہ آیا ہے، جس کی وجہ سے دماغ کے بعض حصے معطل ہو گئے ہیں۔ آنکھوں اور کانوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ تو بصارت اور سماعت کا کام کر رہے ہیں، مگر دماغ اُن کی تصویروں اور آوازوں کو وصول کرنے سے قاصر ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ آپ کی بیٹی عمر بھر کے لیے معذور ہو گئی ہے۔ اب یہ نہ دیکھ سکے گی، نہ سن سکے گی، نہ بول سکے گی۔ اٹھنے بیٹھنے، چلنےپھرنے اور کھانے پینے کی صلاحیتیں بھی وقت کے ساتھ کم ہوتی جائیں گی۔ لیکن جہاں تک تکلیفوں اور مشکلوں کا تعلق ہے تو اُن میں دن بہ دن اضافہ ہوتا رہے گا۔
یہ تقدیر کا فیصلہ تھا ، جسے تسلیم کیے بغیرکوئی چارہ نہیں تھا۔ خدا کی توفیق شامل حال ہوئی اور ہم نے اِس مقدر کو پورے دل و جان سے قبول کر لیا۔ ایک دوسرے کو تسلی دی کہ بیٹی کی یہ چند روزہ تکلیف اُس کی ابدی راحت کی ضمانت ہے۔ جب اللہ کی عنایت سے وہ ہمیشگی کی جنت میں داخل ہو گی تو اعتراف کرے گی کہ اللہ نے اُس کے حق میں بہترین فیصلہ کیا ہے۔ اُسے دنیا کی پر خطر آزمایش سے محفوظ کر کے ایسی سکونت عطا فرمائی ہے، جس میں دکھ، تکلیف، غم، پریشانی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ بس آرام ہی آرام اور قرار ہی قرار ہے اور اِس کے ساتھ ایسی نعمتیں ہیں ، جنھیں نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اُن کا خیال کبھی گزرا ہے۔
یہ امر واقعی تھا اور اطمینان کا باعث تھا۔ مگر اِس کی نوعیت آسمانی حقیقت کی تھی، جو فی الحال آنکھوں سے اوجھل تھی۔ زمینی حقیقت جو رو برو تھی، وہ یہ تھی کہ مریم کو اب ایک ایسی زندگی بسر کرنی ہے، جس میں روشنی کی ایک کرن بھی نہیں ہو گی؛ چار جانب گھٹا ٹوپ اندھیرا ہو گا، نہ صبح کا پتا چلے گا ، نہ شام کا؛ دنوں، مہینوں اور سالوں کا شمار بے معنی ہو جائے گا؛ اِس تیرگی کے ساتھ ہر سو مہیب سناٹا ہو گا، جو عمر بھر طاری رہے گا۔گویا ایسی زندگی ہو گی ، جس پر موت کا گماں ہو گا یا پھر ایسی موت ہو گی، جو زندگی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہو گی۔
مریم نے اگلے 23 سال موت و حیات کے اِسی برزخ میں بسر کیے۔ اِس دوران میں وہ کس کرب سے گزری یا اُس نے کیا صدمے اٹھائے، ہم بالکل نہیں جان سکے ۔ ہم تو بس اُتنا ہی جان سکے، جتنا اُس نے اظہار کیا۔ وہ کبھی خوش گوار اور پرسکون ہوتی، کبھی بہت بے چین ہو جاتی۔ کبھی کھلکھلا اٹھتی اور کبھی آہوں اور سسکیوں کے ساتھ رونے لگتی۔ اُسے بس ایک ہی لفظ آتا تھا: ’’ماما‘‘۔ ـــــ شاید ابتدائی برس میں بڑی بہن سے سنا ہو اور یاد رہ گیا ہو یا محض بے شعوری کی مہمل آواز ہو۔ ـــــ بے اختیاری میں کبھی اچانک پکارتی: ’’ماما، ماما‘‘۔ ماں قریب جا کر پیار کرتی اور پوچھتی: ’’کیا ہوا ہے میری بیٹی کو؟بھوک تو نہیں لگی؟ کہیں درد تو نہیں ہو رہا؟ خواب میں ڈر تو نہیں گئی؟ میں کیا کروں اپنی بیٹی کے لیے؟ کچھ تو بولو،کچھ تو بتاؤ …!‘‘ جواب میں اکثر گمبھیر خاموشی ہوتی یا کبھی ایک دو آنسو گالوں پر ڈھلک جاتے۔ ہم جان لیتے کہ خاموشی اور آنسوؤں کی زبانی اپنا عذر بتا رہی ہے:
دل کے زخم کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئے
روح کے زخموں کی گہرائی کیسے دکھائیں تمھیں؟
سناٹا جب تنہائی کے زہر میں بجھتا ہے
وہ گھڑیاں کیونکر کٹتی ہیں، کیسے بتائیں تمھیں؟
دیپک راگ ہے چاہت اپنی، کاہے سنائیں تمھیں؟
ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں، کیوں سلگائیں تمھیں؟1*
گذشتہ پانچ چھ سالوں سے اُس کی مشکلوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔ نمونیے کے بار بار حملوں سے پھیپھڑے پوری طرح بحال نہیں رہے تھے۔ اِس لیے ناک کے ذریعے سے پیٹ میں نالی ڈالی گئی تھی، جس سے تھوڑا سا دودھ پلا دیا جاتا تھا ۔ اِس کی الجھن بہت تکلیف دہ تھی۔ یہ تکلیف اُس وقت انتہائی بے چینی میں بدل جاتی، جب نالی نکال دینے کے ڈر سے اُس کے دونوں ہاتھ باندھنے پڑ جاتے۔ اِس کے ساتھ کبھی قے، کبھی اینٹھن، کبھی جلد کا مسئلہ، کبھی سانس میں دشواری، کبھی تشنج، کوئی نہ کوئی مشقت ہر وقت طاری رہتی ۔ مگر عجیب بات ہے کہ اُس نے اِن سب مشقتوں اور مشکلوں کو اِس طرح قبول کیا، جیسے اِنھی کا نام زندگی ہے اور اِنھیں خوشی خوشی جھیلنا ہی اُس کا اصل کام ہے۔
وہ اِس بے کیف اور پُر درد زندگی سے کبھی بے زار اور مایوس نہیں ہوئی۔ہمیشہ زندہ رہنے کی جدو جہد کرتی رہی۔ گذشتہ پانچ سالوں کا معمول تھا کہ ہر سال نمونیے کا حملہ ہوتا، ہسپتال میں داخل کیا جاتا، ڈاکٹر کہتے کہ ذہنی طور پر تیار ہو جائیے، آخری وقت آن پہنچا ہے۔ ہم بہ صد رنج ڈاکٹروں کی بات ماننے کے لیے تیار ہو جاتے۔ مگر وہ اِسے ماننے سےصاف انکار کر دیتی۔ پھر روح و بدن کی پوری طاقت لگا کر زندگی کی جنگ لڑتی اور بالآخر یہ جنگ جیت جاتی۔ ڈاکٹر حیران ہوتے کہ جسم نے ناقابل یقین حد تک سروائیول کی جدوجہد کی ہے۔ 2019ء سے 2023ء تک ہر سال یہ عمل دہرایا جاتا رہا۔ ہر بار نمونیے کاحملہ ہوتا، ہر بار ڈاکٹر موت کا یقین دلاتے ، ہر بار وہ موت سے جنگ لڑتی اور ہر بار اُسے شکست دے کر زندگی کی بازی جیت جاتی۔
اُس کی ہمت نے ہمیں بھی ہمیشہ حوصلہ مند رکھا۔ اللہ کی توفیق اور اعزہ و احباب کی تسلی کی بہ دولت لمحہ بھر کو بھی کبھی مشکل کا احساس نہیں ہوا ۔ 2024ء میں جب میں عمر کے انسٹھویں (59) سال میں داخل ہوا تو محسوس ہوا کہ قویٰ میں اضمحلال کے وہ آثار پیدا ہونے لگے ہیں، جو کہن سالی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ مریم کو نہلاتے دھلاتے ہوئے، اٹھا کر سیڑھیاں اترتے چڑھتے ہوئے، وہیل چیئر پر یا گاڑی میں بٹھاتے اتارتے ہوئے اندازہ ہونے لگا کہ اب ناتوانی غالب آ رہی ہے۔ دل و جان سے ارادہ کیا کہ اِس کم ہمتی کو مریم کے سامنے بالکل ظاہر نہیں ہونے دینا۔ ایسا نہ ہو کہ وہ پریشان ہو جائے اور ہمت ہار دے۔یہ کوشش دو تین ماہ تک پوری کامیابی سے جاری رہی، مگر اُس کے بعد پے در پے کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ ہمت و حوصلے کا سارا بھرم کھل گیا۔ اُسے پتا چل گیا کہ باپ کے لیے محبت و شفقت کے تقاضوں کو نبھانا اب مشکل ہو گیا ہے۔ بس پھر کیا تھا، فوراً رختِ سفر باندھ لیا۔ چہرے پر غم، افسوس اور ناراضی کے تاثرات بہت نمایاں تھے۔ انجان بن کر پوچھا کہ کیا ہوا میری بیٹی کو؟ فوراً منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ عین اُسی لمحے کہیں دورسے یہ آواز سنائی دی:
تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے2*
ہسپتال پہنچے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ حسبِ سابق نمونیے کا حملہ ہوا ہے اور زندگی کی کوئی امید نہیں ہے۔ ہم نے سوچا کہ یہ کون سی نئی بات ہے۔ اِس سے پہلے بھی پانچ مرتبہ یہی کہا گیا ہے، مگر وہ ایسی بہادر ہے کہ ہر مرتبہ زندگی کی بازی جیت لیتی ہے۔ اِس بار بھی جم کر لڑے گی اور جیت جائے گی۔ یہ خیال خام تھا۔ وہ یہ فیصلہ کر کے آئی تھی کہ اب کی بار اُس نے نہیں لڑنا اور زندگی کی بازی کو ہار دینا ہے۔ لہٰذا جب جگر لہو ہونے لگا تو اُس نے اُسے لہو ہونے دیا، دل رکنے لگا تو رکنے دیا، سانسیں اکھڑنے لگیں تو اُنھیں اکھڑنے دیا۔
میں نےسمجھایا کہ میں تو بالکل ٹھیک ہوں، تمھارے چھوٹے چھوٹے سے تو کام ہیں، اِنھیں کرنے میں کچھ بھی مشکل نہیں ہوتی، بلکہ راحت ملتی ہے، زندگی کی طلب پیدا ہوتی ہے، اور سچ تو یہ ہے کہ اگر تم چلی گئی تو کافی مشکل ہو جائے گی، اِس لیے کہ پھر ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی ۔ بہن بھائی نے منتیں کیں کہ ابھی ٹھہر جاؤ ، پھر بعد میں چلی جانا، ابھی تو ہم نے بھی تم کو سنبھالنا ہے۔ ماں نے دہائی دی: مریم، مریم ، ہم تمھارے دم سے زندہ ہیں، ہمیں چھوڑ کر نہ جاؤ، تمھارے بغیر ہم کہاں جائیں گے، کیسے جی پائیں گے؟ سب کی التجائیں سن کر تھوڑا سا بے قرار ہوئی، مگر پھر جلد ہی مطمئن ہو گئی، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مطمئن۔ چہرے پر مگر، اُس کرب کی جھلک نمایاں تھی ، جو اُس کی روح اور اُس کے بدن نے 23 سال تک سہا تھا ۔ ادھ کھلی آنکھوں میں ہماری التجاؤں کا یہ جواب بھی نقش تھا:
زندہ رہیں تو کیا ہے، جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا
ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
اک خواب ہیں، جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا
اب کون منتظر ہے ہمارے لیے یہاں3*
شام آ گئی ہے، لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا4* *
خیال و خامہ
- *ظہور نظر
- * شان الحق حقی
- * بہ ادنیٰ تصرف
- * * منیر نیازی