مواد پر جائیں

البیان

جاوید احمد غامدی اردو

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة البقرۃ
(20)

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَ لَا خُلَّۃٌ وَّ لَا شَفَاعَۃٌ ؕ وَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۵۴﴾

اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ۬ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوۡمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ ۚ وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ ۚ وَ لَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ﴿۲۵۵

ایمان والو، (تم اِنھیں اِن کے حال پر چھوڑ و اور) جو کچھ ہم نے تمھیں دیا ہے، اُس میں سے (اللہ کی راہ میں) اُس دن کے آنے سے پہلے خرچ کر لو، جس میں نہ خریدو فروخت ہو گی، نہ (کسی کی) دوستی کام آئے گی اور نہ کوئی سفارش نفع دے گی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اُس دن کے منکر ہی اپنی جان پر ظلم ڈھانے والے ہیں۔254

لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ ۟ۙ قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَیِّ ۚ فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی ٭ لَا انۡفِصَامَ لَہَا ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۵۶﴾

اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۙ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ۬ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَوۡلِیٰٓـُٔہُمُ الطَّاغُوۡتُ ۙ یُخۡرِجُوۡنَہُمۡ مِّنَ النُّوۡرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ ؕ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۵۷﴾

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡ حَآجَّ اِبۡرٰہٖمَ فِیۡ رَبِّہٖۤ اَنۡ اٰتٰىہُ اللّٰہُ الۡمُلۡکَ ۘ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّیَ الَّذِیۡ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۙ قَالَ اَنَا اُحۡیٖ وَ اُمِیۡتُ ؕ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ فَاِنَّ اللّٰہَ یَاۡتِیۡ بِالشَّمۡسِ مِنَ الۡمَشۡرِقِ فَاۡتِ بِہَا مِنَ الۡمَغۡرِبِ فَبُہِتَ الَّذِیۡ کَفَرَ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۲۵۸﴾ۚ

(اُس دن معاملہ صرف اللہ سے ہو گا)۔ اللہ، جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، زندہ اور سب کو قائم رکھنے والا۔ نہ اُس کو اونگھ لاحق ہوتی ہے نہ نیند۔ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، سب اُسی کا ہے۔ کون ہے جو اُس کی اجازت کے بغیر اُس کے حضور میں کسی کی سفارش کرے۔ لوگوں کے آگے اور پیچھے کی ہر چیز سے واقف ہے اور وہ اُس کے علم میں سے کسی چیز کو بھی اپنی گرفت میں نہیں لے سکتے، مگر جتنا وہ چاہے۔ اُس کی بادشاہی زمین اور آسمانوں پر چھائی ہوئی ہے اور اُن کی حفاظت اُس پر ذرا بھی گراں نہیں ہوتی، اور وہ بلند ہے، بڑی عظمت والا ہے۔255

(یہ جو رویہ چاہیں، اختیار کریں)، دین کے معاملے میں (اللہ کی طرف سے) کو ئی جبر نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت (اِس قرآن کے بعد اب) گم راہی سے بالکل الگ ہو چکی ہے۔ لہٰذا جس نے شیطان کا انکار کیا اور اللہ کو مانا تو اُس نے گویا نہایت مضبوط رسی پکڑ لی جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتی۔ اور (یہ اِس لیے کہ) اللہ سمیع وعلیم ہے۔256

(یہ ہدایت پانا چاہیں تو) اللہ ماننے والوں کا مددگار ہے۔ وہ اُنھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے۔ اِس کے برخلاف نہ ماننے والوں کے مددگار اُن کے شیاطین ہیں، وہ اُنھیں روشنی سے اندھیروں کی طرف نکال لے جاتے ہیں۔ یہی دوزخ کے لوگ ہیں، یہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔257

(اِس بات کو سمجھنا چاہتے ہو تو اِس کی مثالیں بہت ہیں)۔ کیا تم نے اُس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اُس کے پروردگار کے معاملے میں حجت کرنا چاہی، اِس لیے کہ اللہ نے اُسے اقتدار عطا فرمایا تھا؟ اُس وقت، جب ابراہیم نے اُس سے کہا کہ میرا پروردگار تو وہ ہے جو مارتا اور

اَوۡ کَالَّذِیۡ مَرَّ عَلٰی قَرۡیَۃٍ وَّ ہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا ۚ قَالَ اَنّٰی یُحۡیٖ ہٰذِہِ اللّٰہُ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ۚ فَاَمَاتَہُ اللّٰہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ ؕ قَالَ کَمۡ لَبِثۡتَ ؕ قَالَ لَبِثۡتُ یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ ؕ قَالَ بَلۡ لَّبِثۡتَ مِائَۃَ عَامٍ فَانۡظُرۡ اِلٰی طَعَامِکَ وَ شَرَابِکَ لَمۡ یَتَسَنَّہۡ ۚ وَ انۡظُرۡ اِلٰی حِمَارِکَ وَ لِنَجۡعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ انۡظُرۡ اِلَی الۡعِظَامِ کَیۡفَ نُنۡشِزُہَا ثُمَّ نَکۡسُوۡہَا لَحۡمًا ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ ۙ قَالَ اَعۡلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۵۹﴾

وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّ اَرِنِیۡ کَیۡفَ تُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ؕ قَالَ اَوَ لَمۡ تُؤۡمِنۡ ؕ قَالَ بَلٰی وَ لٰکِنۡ لِّیَطۡمَئِنَّ قَلۡبِیۡ ؕ قَالَ فَخُذۡ اَرۡبَعَۃً مِّنَ الطَّیۡرِ فَصُرۡہُنَّ اِلَیۡکَ ثُمَّ اجۡعَلۡ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنۡہُنَّ جُزۡءًا ثُمَّ ادۡعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعۡیًا ؕ وَ اعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۶۰﴾

جِلاتا ہے۔ اُس نے جواب دیا کہ میں بھی مارتا اور جلاتا ہوں۔ ابراہیم نے فوراً کہا: اچھا تو یوں ہے کہ اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم ذرا اُسے مغرب سے نکال لاؤ۔ سو (یہ سن کر) وہ منکر حق بالکل حیران رہ گیا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اِس طرح کے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی ہدایت نہیں دیتا۔ 258

یا اُس شخص کی مثال ہے جس کا گزر ایک بستی پر ہوا جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی۔ اُس نے حیرت سے کہا: اِس کے اِس طرح فنا ہو جانے کے بعد اللہ اِسے کس طرح دوبارہ زندہ کرے گا؟ اِس پر اللہ نے اُسے سو سال کی موت دی، پھراُس کو اُٹھایا (اور) پوچھا: کتنی مدت پڑے رہے؟ اُس نے جواب دیا: ایک دن یا اُس سے کچھ کم رہا ہوں گا۔ فرمایا: نہیں، بلکہ سو سال اِسی حالت میں تم پر گزر گئے۔ اب ذرا اپنے کھانے اور پینے کی چیزوں کو دیکھو، اِن میں سے کوئی چیز سڑی نہیں۔ دوسری طرف ذرا اپنے گدھے کو دیکھو کہ ہم اُس کو کس طرح زندہ کرتے ہیں، اِس لیے کہ تمھیں اِس بستی کے اٹھائے جانے پر یقین ہو اور اِس لیے کہ ہم لوگوں کے لیے تمھیں (امید کی) ایک نشانی بنا دیں، اور ہڈیوں کی طرف دیکھو، ہم کس طریقے سے اُن کو اٹھاتے اور پھر اُن پر گوشت چڑھاتے ہیں۔ اِس طرح جب حقیقت اُس پرواضح ہو گئی تو وہ پکار اٹھا کہ (اب کوئی تردد نہیں رہا)، میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔259

اور (اِس سلسلے میں) وہ واقعہ بھی پیش نظر رہے، جب ابراہیم نے کہا تھا کہ پروردگار، مجھے دکھا دیں کہ آپ مردوں کو کس طرح زندہ کریں گے؟ فرمایا: کیا تم ایمان نہیں رکھتے؟ عرض کیا: ایمان تو رکھتا ہوں، لیکن خواہش ہے کہ میرا دل پوری طرح مطمئن ہو جائے۔ فرمایا: اچھا، تو چار پرندے لو، پھر اُن کو اپنے ساتھ ہلا لو، پھر (اُن کو ذبح کر کے) ہر پہاڑی پر اُن میں سے ایک ایک کو رکھ دو، پھر اُنھیں پکارو، وہ (زندہ ہو کر) دوڑتے ہوئے تمھارے پاس آ جائیں گے، اور (آیندہ کے لیے) خوب سمجھ لو کہ اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔260

[باقی]