حَدَّثَنَا أَبُو مَرْيَمَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ زِيَادٍ الأَسَدِيُّ، قَالَ: لَمَّا سَارَ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَعَائِشَةُ إِلَى البَصْرَةِ بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ وَحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، فَقَدِمَا عَلَيْنَا الكُوفَةَ، فَصَعِدَا المِنْبَرَ، فَكَانَ الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَوْقَ المِنْبَرِ فِي أَعْلاَهُ، وَقَامَ عَمَّارٌ أَسْفَلَ مِنَ الحَسَنِ، فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، فَسَمِعْتُ عَمَّارًا يَقُولُ: إِنَّ عَائِشَةَ قَدْ سَارَتْ إِلَى البَصْرَةِ، وَوَاللّٰهِ إِنَّهَا لَزَوْجَةُ نَبِيِّكُمْ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَلَكِنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ابْتَلاَكُمْ لِيَعْلَمَ إِيَّاهُ تُطِيعُونَ أَمْ هِيَ. (بخاری، رقم 6722)
’’ابو مریم عبد اللہ بن زیاد الاسدی کہتے ہیں کہ جب سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور ام المومنین عائشہ (لشکر لے کر) بصرہ کی طرف نکلے تو سیدنا علی نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور حسن بن علی کو (کوفہ کی طرف) بھیجا۔ یہ دونوں ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر کھڑے ہو گئے۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہ منبر کی اوپر والی سیڑھی پر، جب کہ عمار ان سے نیچے والی سیڑھی پر کھڑے تھے۔ ہم ان کے پاس جمع ہوئے تو میں نے عمار کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ام المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا بصرہ کی طرف روانہ ہوئی ہیں۔ بخدا، وہ دنیا اور آخرت میں تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مکرمہ ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمھیں آزمایش میں ڈالا ہے تاکہ یہ جان سکے کہ تم اللہ کے حکم کی پیروی کرتے ہو یا ام المومنین کی۔“
شرح ووضاحت
سیدنا عثمان کی شہادت کے بعد لوگوں نے سیدنا علی سے اصرار کیا کہ وہ خلافت کی ذمہ داری سنبھالیں اور فتنے اور انتشار کی حالت کو دیکھتے ہوئے انھوں نے یہ ذمہ داری قبول کر لی۔ تاہم بیعت کرنے والوں میں چونکہ وہ لوگ بھی نمایاں تھے جو سیدنا عثمان کے خلاف فتنہ برپا کرنے میں پیش پیش تھے، اس لیے صحابہ کی ایک جماعت نے اس صورت حال میں سیدنا علی کی بیعت سے گریز کیا۔ اسی تناظر میں ایک گروہ نے قاتلین عثمان سے قصاص لینے کے لیے ان کے خلاف جنگ کا فیصلہ کیا اور سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور ام المومنین سیدہ عائشہ کی قیادت میں ایک لشکر نے بصرہ میں سیدنا علی کے مقرر کردہ عامل کو وہاں سے نکال دیا۔1 سیدنا علی نے ان کے مقابلے میں اہل کوفہ کو اپنی مدد پر آمادہ کرنے کی غرض سے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور اپنے بیٹے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو کوفہ بھیجا تھا۔ مذکورہ اثر میں اسی واقعے کا ذکر ہے۔ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر لوگوں کو تائید پر آمادہ کرتے ہوئے مخالف لشکر میں سیدہ عائشہ کی موجودگی کا ذکر کیا اور ان کے موقف کو غلط قرار دیتے ہوئے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے رشتے اور مقام ومرتبہ کا حوالہ دینا ضروری سمجھا تاکہ کوئی شخص اس بنیاد پر سیدہ کی شخصی تعظیم و توقیر میں کمی کی جسارت نہ کرے۔
تخریج اور اختلاف طرق
یہ اثر درج ذیل مصادر میں بھی منقول ہے:
بخاری، رقم 3596، 6723۔ ترمذی، رقم 3984۔ مسند احمد، رقم 17996۔ المستدرک علی الصحیحین، رقم 6796۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 31646، 31647۔ المعجم الاوسط للطبرانی، رقم 536۔ المعجم الکبیر للطبرانی،19011، 19012۔ السنن الکبریٰ للبیہقی، رقم 15572، 15573۔ فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل، رقم 1596۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم 1611۔
اللالکائی کی نقل کردہ ایک روایت میں ہے کہ عمار بن یاسر جنگ کے میدان میں سیدہ کے پاس حاضر ہو ئے اور کہا:
السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا أُمَّهْ. فَقَالَتْ: مَا أَنَا لَكَ بِأُمٍّ. قَالَ: بَلَى وَاللّٰهِ وَإِنْ كَرِهْتِ، وَإِنَّكِ لَزَوْجَةُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ. (شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ للالکائی، رقم 2272)
’’اماں جان، السلام علیکم۔ سیدہ نے کہا کہ میں تمھاری ماں نہیں ہوں۔ عمار نے کہا کہ بخدا، آپ میری ماں ہیں، چاہے آپ کو ناپسند ہو اور بلاشبہ آپ دنیا اور آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں۔“
(6)
عن محمدٍ وطلحةَ، قالا: جَهَّزَ عليٌّ عائشةَ بِكُلِّ شَيْءٍ يَنْبَغِي لَهَا مِنْ مَرْكَبٍ أَوْ زَادٍ أَوْ مَتَاعٍ، وَأَخْرَجَ مَعَهَا كُلَّ مَنْ نَجَا مِمَّنْ خَرَجَ مَعَهَا إِلا مَنْ أَحَبَّ الْمُقَامَ، وَاخْتَارَ لَهَا أَرْبَعِينَ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ الْمَعْرُوفَاتِ، وَقَالَ: تَجَهَّزْ يَا مُحَمَّدُ فَبَلِّغْهَا، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي تَرْتَحِلُ فِيهِ جَاءَهَا حَتَّى وَقَفَ لَهَا، وَحَضَرَ النَّاسُ، فَخَرَجَتْ عَلَى النَّاسِ وَوَدَّعُوهَا وَوَدَّعَتْهُمْ، وَقَالَتْ: يَا بَنِيَّ، تَعَتَّبَ بَعْضُنا عَلَى بَعْضٍ اسْتِبْطَاءً وَاسْتِزَادَةً، فَلاَ يعتدّنّ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَلَى أَحَدٍ بِشَيْءٍ بَلَغَهُ مِنْ ذَلِكَ، إِنَّهُ وَاللّٰهِ مَا كَانَ بَيْنِي وبين عليٍّ في القديم إِلا مَا يَكُونُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَأَحْمَائِهَا، وَإِنَّهُ عندي علَى مَعْتَبتي مِنَ الأَخْيَارِ، وقال عليٌّ: يا ايها النَّاسُ، صَدَقَتْ وَاللّٰهِ وَبَرَّتْ، مَا كَانَ بَيْنِي وبينها الا ذلك، و إِنَّهَا لَزَوْجَةُ نَبِيِّكُمْ صَلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَخَرَجَتْ يَوْمَ السَّبْتِ لِغُرَّةِ رَجَبَ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلاثِينَ، وَشَيَّعَهَا عَلِيٌّ أَمْيَالاً، وَسَرَّحَ بَنِيهِ مَعَهَا يَوْمًا.(سیف بن عمر، الفتنۃ ووقعۃ الجمل1/183)
’’محمد اور طلحہ بیان کرتے ہیں کہ (جنگ جمل ختم ہونے پر) سیدنا علی نے ام المومنین عائشہ کو سواری اور زاد سفر اور جو بھی سامان درکار تھا، وہ انھیں مہیا کیا اور ان سب لوگوں کوبھی ان کے ساتھ روانہ کر دیا جو سیدہ کے ہم راہ آئے تھے اور جنگ میں بچ گئے تھے، سواے ان کے جو خود ہی ٹھہرنا چاہیں۔ سیدنا علی نے ام المومنین کی رفاقت کے لیے بصرہ کی چالیس معروف خواتین کو منتخب کیا اور (سیدہ کے بھائی) محمد بن ابی بکر سے کہا کہ سفر کی تیاری کرو اور ام المومنین کو (مدینہ) پہنچا کر آؤ۔ پھر جس دن ام المومنین کے کوچ کا دن تھا، سیدنا علی ان کے پاس گئے اور ان کے انتظار میں کھڑے ہو گئے اور لوگ بھی جمع ہو گئے۔ پھر ام المومنین نکلیں اور لوگوں نے ان کو اور انھوں نے لوگوں کو الوداع کہا۔ ام المومنین نے کہا کہ میرے بیٹو، ہم آپس میں ایک دوسرے سے کوئی توقع پوری نہ ہونے پر یا زیادہ توقع رکھنے کی وجہ سے رنجیدہ ہو گئے۔ اس لیے تم میں سے جس کو بھی دوسرے کے متعلق ایسی کوئی بات پہنچی ہو، وہ اس کو اہمیت نہ دے۔ بخدا، میرے اور علی کے مابین اس سے پہلے دور میں جو رنجش تھی، وہ بس اتنی ہی تھی جتنی کسی عورت اور اس کے سسرالی رشتہ داروں کے مابین ہو جایا کرتی ہے، لیکن میری رنجش کے باوجود علی بہترین لوگوں میں سے ہیں۔ سیدنا علی نے کہا: اے لوگو، بخدا ام المومنین نے بالکل درست اور صائب بات کہی ہے۔ میرے اور ان کے مابین بس اتنا ہی معاملہ تھا اور وہ بلاشبہ دنیا اور آخرت میں تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں۔ (راوی بتاتے ہیں کہ) ام المومنین سنہ 36ھ میں رجب کے آغاز میں ہفتے کے دن روانہ ہوئیں۔ سیدنا علی کئی میل تک انھیں رخصت کرنے کے لیے ساتھ گئے اور (اس سے آگے) ایک دن کے لیے اپنے بیٹوں کو ام المومنین کے ساتھ روانہ کیا۔“
لغوی تشریح
اسْتِبْطَاءً: اس کا مادہ ’بطء‘ ہے، جس کا مطلب کوتاہی یا سستی ہوتا ہے۔ ’اسْتِبْطَاءً‘ کا مطلب ہوگا: کسی کے رویے میں سردمہری محسوس کرنا، کسی کو اپنی توقع سے کم تر پانا۔
اسْتِزَادَةً:یعنی کسی سے زیادہ کی توقع رکھنا۔
مَعْتبتي: ’معتبة‘ کا مطلب عتاب، ناراضی اور رنجش ہوتا ہے۔ ’على مَعْتبتي‘، یعنی میرے دل میں رنجش کے باوجود علی بلند کردار لوگوں میں سے ہیں۔
شرح ووضاحت
1۔ جنگ جمل کا خاتمہ سیدہ عائشہ کی قیادت میں جمع لشکر کے منتشر اور پسپا ہو جانے کی صورت میں نکلا تھا۔ وہ جس اونٹ پر سوار تھیں، اس کی ٹانگیں کاٹ دی گئیں تاکہ وہ گر جائے اور لڑائی کا مرکز باقی نہ رہے۔ پھر سیدنا علی کی ہدایت پر ان کے محمل کو میدان جنگ سے نکال کر انھیں ایک محفوظ مقام پر ٹھہرا دیا گیا۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کی تفصیل یوں بیان کی ہے:
وَأَمَرَ عَلِيٌّ نَفَرًا أَنْ يَحْمِلُوا الْهَوْدَجَ مِنْ بَيْنِ الْقَتْلَى، وَأَمَرَ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعَمَّارًا أَنْ يَضْرِبَا عَلَيْهَا قُبَّةً، وَجَاءَ إِلَيْهَا أَخُوهَا مُحَمَّدٌ فَسَأَلَهَا: هَلْ وَصَلَ إِلَيْكِ شَيْءٌ مِنَ الْجِرَاحِ؟ فَقَالَتْ: وَمَا أَنْتَ وَذَاكَ يَا ابْنَ الْخَثْعَمِيَّةِ. وَسَلَّمَ عَلَيْهَا عَمَّارٌ فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتِ يَا أُمَّ؟ فَقَالَتْ: لَسْتُ لَكَ بِأُمٍّ. قَالَ: بَلَى وَإِنْ كَرِهْتِ. وَجَاءَ إِلَيْهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مُسَلِّمًا فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتِ يَا أُمَّهْ؟ قَالَتْ: بِخَيْرٍ. فَقَالَ: يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكِ. وَجَاءَ وُجُوهُ النَّاسِ إِلَيْهَا، مِنَ الْأُمَرَاءِ وَالْأَعْيَانِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهَا
(البدایۃ والنہایۃ 10/468)
’’علی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو مامور کیا کہ وہ محمل کو مقتولوں کے درمیان سے اٹھا لیں اور محمد بن ابی بکر اور عمار بن یاسر سے کہا کہ وہ سیدہ کے لیے ایک خیمہ لگا کر انھیں اس میں ٹھہرائیں۔ ان کے بھائی محمد بن ابی بکر ان کے پاس گئے اور پوچھا کہ آپ کو زخم تو نہیں آئے؟ سیدہ نے کہا کہ اے خثعمیہ کے بیٹے، تمھیں اس سے کیا؟ عمار بن یاسر نے بھی آ کر سلام کیا اور پوچھا کہ اماں جان، آپ کیسی ہیں؟ سیدہ نے کہا کہ میں تمھاری ماں نہیں ہوں۔ عمار نے کہا کہ بالکل ہیں، چاہے آپ کو ناپسند ہو۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی سلام کے لیے ان کے پاس آئے اور پوچھا کہ اماں جان، آپ کیسی ہیں؟ سیدہ نے کہا کہ ٹھیک ہوں۔ اس پر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ آپ کو معاف فرمائے۔ بہت سے امرا اور سرکردہ لوگ بھی سیدہ کو سلام کرنے کے لیے ان کے پاس حاضر ہوئے۔“
اس کے بعد سیدہ کو پورے اکرام کے ساتھ مدینہ کی طرف رخصت کر دیا گیا، جس کی تفصیل زیربحث اثر میں بیان ہوئی ہے۔
2۔ اثر میں ام المومنین اور سیدنا علی کے مابین پہلے دور کی جس رنجش کا ذکر ہے، اس کا پس منظر یہ تھا کہ واقعۂ افک میں منافقین کی طرف سے سیدہ عائشہ پر بہتان عائد کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے الزام کی حقیقت جاننے کے لیے مختلف صحابہ سے ان کی راے معلوم کی تھی۔ سیدنا علی نے اس موقع پر بہتان تراشی کرنے والوں کی تائید تو نہیں کی، لیکن غالباً پروپیگنڈا کی شدت کے زیر اثر یہ کہہ دیا کہ یا رسول اللہ، آپ کے لیے عورتوں کی کمی تو نہیں:
وَأَمَّا عَلِيٌّ فَقَالَ: لَنْ يُضَيِّقَ اللّٰهُ عَلَيْكَ، وَالنِّسَاءُ سوَاهَا كَثِيرٌ.
(بخاری، رقم 4755)
’’علی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز تنگی میں نہیں ڈالے گا اور عائشہ کے علاوہ بھی بہت عورتیں ہیں۔“
مراد یہ تھی کہ ایک مشتبہ صورت حال میں آپ کے منصب کے لحاظ سے آپ کے لیے علیحدگی اختیار کر لینا زیادہ مناسب ہے۔ ظاہر ہے کہ انھوں نے دیانت داری سے جو محسوس کیا، اس کا اظہار کر دیا۔ تاہم یہ جملہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے تکلیف دہ تھا اور اس کی وجہ سے سیدنا علی سے ایک طرح کی رنجش ان کے دل میں پیدا ہو گئی۔ چنانچہ سیدہ سے کہتی ہیں کہ:
أن عليًا أساء في شأني واللّٰه يغفر له. (فتح الباری 7/437)
’’علی نے میرے معاملے میں بری بات کہی، اللہ ان کو معاف فرمائے۔“
تخریج اور اختلاف طرق
سیف بن عمر کی سند سے یہ اثر طبری اور سبط ابن الجوزی وغیرہ نے بھی نقل کیا ہے۔2
[باقی]
- ۔ البدایۃ والنہایۃ 10/439-431۔
- ۔ تاریخ طبری 4/544 ۔ مرآۃ الزمان فی تواریخ الاعیان 6/178۔