مواد پر جائیں

ابدی عید کاتجربہ

محمد ذکوان ندوی اردو

[مختارات کا حصہ قدیم و جدید مصنفین کی منتخب تحریروں کے لیے مخصوص ہے۔ اس کا مقصد ماضی اور حال کے فکر و نظر کو قارئین کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اس میں ماضی کے نمایندہ اہل علم کی تصانیف سے ایسے اقتباس نقل کیے جاتے ہیں، جو ان کے افکار اور اسالیب کو نمایاں کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ نئے لکھنے والوں کی موثر اور معتبر تحریروں کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اِس حصے کے مندرجات سے مدیر اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ ادارہ]

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَۃٌ عِنْدَ فِطْرِہ، وَفَرْحَۃٌ عِنْدَ لِقَائِ رَبِّہ.

(مسلم، رقم 7072)

’’روزے دار کے لیے دو خوشیاں مقدر ہیں ــــایک خوشی افطار کے وقت، اور (دوسری) خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت ۔‘‘

دن بھر کی بھوک اور پیاس کے بعد افطار کے وقت ایک شخص کو جو فطری مسرت حاصل ہوتی ہے، اُسی طرح زندگی کے اِس صحرا سے گزرنے کے بعد جب آدمی خدا کے حضور پہنچے گا تو وہ بھی گویا اِسی طرح کی سیرابی اورآسودگی کا ایک لطیف ترین تجربہ ہوگا۔جس طرح ایک روزہ دار افطار کے بعد دن بھر کی بھوک اور پیاس کو بھول کر شاد کام ہوجاتاہے، اُسی طرح خدا سے ملنے اور اُس کے لامحدود اجر و عطیات کا تجربہ کرنے کے بعد زندگی کی یہ تلخ کامی ختم ہو گی اور ہمیشہ کی سیرابی اور راحت وآسودہ حالی اُس کا مقدر بن جائے گی۔مذکورہ ارشادِ رسول میں، افطار کے اِس تجربے کو خدا سے ملاقات کا ایک پراہتزاز ربانی تجربہ اور جنت کی عظیم ترین نعمت کے لیے ایک لطیف یاددہانی کے طورپر پیش کیاگیا ہے۔

افطار کا یہ ’اجرِ عاجل‘ گویا جنت اور لقاے رب کے ’اجرِ آجل‘کے لیے ایک پیشگی بشارت ہے۔ افطار کی وقتی مسرت کا یہ تجربہ، گویا ابدی جنت اور لقاے رب کی ابدی اور لامحدود مسرت کے لیے ایک قسم کی بانگی اور’مشتے از خروارے‘ جیسے ایک حسین نمونے کی حیثیت رکھتاہے (وہذا الفرح المعجّل نموذج ذلک الفرح المؤجّل)۔

اِسی طرح، رمضان کے ایک ماہ کے سحروافطار، قیام اللیل، بھوک وپیاس، شہوات و لذائذ سے اجتناب، بے آرامی و کم خوابی اور تکان جیسی پابند زندگی کے معمولات سے گزرکر رمضان کے خاتمے پر ہمیں عید کا پر مسرت دن عطاکیا جاتاہے۔ یہ گویا دینا کی پابند زندگی اور آخرت کی آزاد اور پر مسرت زندگی کا ایک علامتی تجربہ ہے۔یہ گویا ایک مومن کے لیے خدا کی طرف سے اِس بات کی واقعاتی بشارت ہے کہ جس طرح رمضان کی چند روزہ (أیامًا معدودات) پابندیوں کے بعدعید الفطر کی صورت میں خوشی اور آزادی کایہ پرمسرت دن عطاکیا گیا ہے، اُسی طرح دنیا کی اِس چند روزہ زندگی کے بعد خدا کے سچے بندوں کے لیے جنت کی صورت میں ابدی خوشی اور آزادی و مسرت کا ایک دور شروع ہوجا ئے گا۔جو شخص دنیا کے اِس مختصر دورِ حیات میں خدا کو یاد رکھے اوراُس کے بندوں کے ساتھ سچی ہم دردی اور حسن اخلاق کا معاملہ کرے ، اُس کے لیے خوشیوں اور مسرتوں سے معمور ایک ابدی جہانِ حسن ومعنی منتظر ہے، جہاں نہ کسی قسم کا خوف ہو گا اور نہ کوئی حسرت و غم۔ یہ شہنشاہِ کونین اور مالک الملک کے پڑوس میں ابدی بادشاہی کاایک لامتناہی دور ہوگا ، جس کی تمام مسرتوں اور نعمتوں کا دروازہ خدا کے سچے بندو ں پر ہمیشہ کے لیے کھول دیاجا ئے گا۔

اِس اعتبار سے، عید کا دن عہد کا دن ہے، یعنی خدا سے یہ عہد کرنا کہ اب اِس تجربے کے بعد دنیا کو وہ ایک عارضی دورِ حیات سمجھ کر آخرت کے ابدی دورِ حیات میں بننے والی جنت کا مسافر بنے۔ وہ اِس بات کا عزم کرے کہ وہ اب دنیا کے وقتی اور فانی جلووں میں گم ہونے کے بجاےخدا اور آخرت کے ابدی جلووں کا مشتاق بنے گا۔ وہ دنیا کو ترجیح دے کر زندگی گزارنے کے بجاے آخرت کو ترجیح دیتے ہوئے زندگی گزارنے کی منصوبہ بندی کرے گا۔

ایک مومن کو چاہیے کہ وہ دنیوی زندگی کے اِس پل صراط اور آزمایشوں کے اِس خار زار سے عافیت اور سلامتی کے ساتھ گزرنے کے لیے ’صبر وصلوٰۃ‘ (استعینوا بالصبر والصلٰوۃ) کے ذریعے سے زادِ راہ لے اور ذکر وفکر ، تذکیر وتلاوت سے بہم رسد حاصل کرتے ہوئے پوری پامردی اور استقلال کے ساتھ اِس صراطِ مستقیم پر گام زن رہنے کا فیصلہ کرے ـــــ یہی عید کا سبق اور یہی عید کی سب سے بڑی دعا اور عبادت ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو اِس مومنانہ عزم کے ساتھ عید گاہ سے واپس لوٹیں۔

یہی وہ روزے دار ہیں جن کے لیے ’ریان‘ کے دروازوں سے جنت کا وہ پرمسرت اور باعزت داخلہ مقدر ہے جس کی بشارت زبانِ وحی ترجمان نے اِن الفاظ میں دی ہے:

عن سهل رضي اللّٰه عنه، عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، ’’إنَّ في الْجَنَّۃِ بَابًا، یُقَالُ لَہُ: الرَّیَّانُ، یَدْخُلُ مِنہُ الصَّائِمُونَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، لَا یَدْخُلُ مِنہُ أحَدٌ غَیرُہُمْ، یُقَالُ:أینَ الصَّائِمُونَ؟ فیقُومُونَ، لَا یَدْخُلُ مِنہُ أحَدٌ غَیرُہُمْ، فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ، فَلَمْ یَدْخُلْ مِنہُ أحَدٌ‘‘.

(بخاری، رقم 1896)

’’سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ’ریان‘ (سیرابی و آسودہ خاطری) کہا جاتاہے۔ قیامت کے دن اِس دروازے سے صرف روزے دار افراد ہی جنت میں داخل ہوں گے، اُن کے سوا اور کوئی اِس سے داخل نہ ہوسکے گا۔ چنانچہ اُس روز پکارا جائے گا کہ روزے دار کہاں ہیں؟ یہ سن کر روزے دارکھڑے ہو جائیں گے۔ چنانچہ اُن کے سوا اِس دروازے سے اور کوئی شخص اندرنہ جا پائے گا اور جب یہ لوگ داخل ہوجائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا، پھر دوبارہ اِس سے کوئی شخص اندر نہ جا سکے گا۔‘‘

وہ کیساعجیب لمحہ ہوگا جب شادابی ا ور سیرابی سے معمور اِس جنتی دروازہ (بابُ الریّان) پر خود جنت کا خالق اپنے سچے بندوں اور بندیوں کو سیراب کرنے کے لیے ساقی رحمت بن کر اُن کے استقبال کے لیے وہاں موجود ہوگا(وسقاھم ربھم شرابًا طہورًا)۔

مومن کی پوری زندگی ایک قسم کی روزے دارانہ زندگی ہوتی ہے۔وہ جب خدا کا کلمہ پڑھتاہے تو یہ گویا اُس کے لیے اِس پوری زندگی کے روزے کی نیت کے ہم معنی ہوا کرتا ہے ، اور اِس روزے کا افطار اُسے جنت اور خالق جنت کی رضا اور ملاقات کی صورت میں پیش کیا جائے گا۔جہاں اِس انداز سے اُس کا استقبال ہوگا جس سے بڑھ کر کسی اور خوشی، عزت افزائی اور سرفرازی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اُس وقت گویا ہاتف ِ غیبی کی طرف سے اِس صداے جاں نواز کے ساتھ اُس کا استقبال کیا جائے گا:

یا صَائِمًا، تَرَکَ الطَّعَامَ تَعَفّفًا

أضْحَی رَفِیقَ الْجُوعِ واللأواء

أبشِرْ بَعِیدِکَ فِي الْقِیَامَۃِ رَحمَۃً

مَحفُوفَۃً بِالبِرِّ وَالأندَاء

یا صَائِمًا، عَافَتْ جَوَارِحُہُ الْخَنَا

أبشِرْ بِرِضوانٍ مِنَ الدّیّانِ

عَفْوٍ وَمَغْفِرَۃٍ وَمَسْکَنِ جَنّۃٍ

تَأوِيْ بِہَا مِنْ مَدخَلِ الرّیّانِ.

’’اے وہ روزے دار، جس نے حصولِ پاکیزگی کے لیے کھانا (پانی) چھوڑا اورسخت کوشی و بھوک کا ہم رکاب بن گیا؛ بروزِ قیامت تجھ کو ایک ایسے پرمسرت دن کی خوش خبری ہو، جو سرتاسر رحمت و نوازش اور مہربانی کا دن ہو گا۔ اے وہ روزے دار، جس کے اعضاو جوارح نے بد کاری و فحش گوئی سے اجتناب کیا؛ تجھے خوش خبری ہو، مالک ِ روزِ جزا کی رضامندی، عفو و مغفرت اور اُس جنتی رہایش گاہ کی جس میں تو اب ’باب الریان‘ سے داخل ہو کر(ہمیشہ کے لیے) اقامت پذیر ہونے والا ہے ! ‘‘

یہی وہ چیز ہے جس کے لیے دوڑنے والوں کو چاہیے کہ وہ دوڑیں، اور سبقت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ سبقت کریں(وفي ذلک فلیتنافس المتنافسون)۔