مسلمانوں کی زندگی میں بعض روایتی تصورات اور رسومات اس قدر راسخ ہو چکی ہیں کہ انھیں دین کا حصہ سمجھا جانے لگا ہے، حالاں کہ ان کی اصل دین میں موجود نہیں۔ یہ رویہ ہمیں ایک مصنوعی اطمینان میں مبتلا کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ہم اپنی حقیقی دینی ذمہ داریوں سے غافل ہو جاتے ہیں۔ ذیل میں ہم چند ایسی روایات اور تصورات کا ذکر کریں گے، جنھوں نے مسلمانوں کو اصل دین سے غافل کر دیا ہے اور آخر میں قرآن مجید کا تصور دین پیش کریں گے۔
قرآن خوانی اور ایصالِ ثواب
ہمارے معاشرے میں میت کے لیے قرآن خوانی کا رواج عام ہے۔ مخصوص مواقع پر تلاوت کرا کر اس کا ثواب میت کو پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ اس کی بخشش یقینی ہو جائے۔ ایصالِ ثواب کی ان محفلوں کا انعقاد عموماً اس خیال سے کیا جاتا ہے کہ مرنے والے کی آخرت سنور جائے۔ ممکن ہے کہ وہ (مرنے والا) اپنی زندگی میں خدا کو یاد کرنے میں غفلت برتتا رہا ہو یا اپنی دینی ذمہ داریوں سے غافل رہا ہو۔
مخصوص رسومات اور تقریبات
ہمارے معاشرے میں تیجہ، چالیسواں، جمعرات کا ختم اور سالانہ ختم جیسی رسومات عام ہیں، جن میں میت کے لیے کھانے کا اہتمام کر کے ایصالِ ثواب کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح عید میلاد النبی کی محافل، رجب کے کونڈے اور گیارھویں شریف بھی بڑے جوش و خروش سے منائی جاتی ہیں۔ ان اعمال کے ذریعے سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دین کے خادم ہیں یا یہ کہ انھوں نے دین کا حق ادا کر دیا ہے۔
بعض نیکیوں کا بعض برائیوں کو کھا جانے کا تصور
اکثر مسلمانوں نے اپنے آپ کو اس پر مطمئن کیا ہوا ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بولیں، کم تولیں، وعدہ پورا نہ کریں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ بس ایک دن وہ حج کر کے آ جائیں گے اور سارے گناہ بخشیں جائیں گے یا سال کے 365 دن ایسے ہی رہیں، بس رمضان کی ستائیسویں کو عبادت کر لیں تو سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ انھیں اس بات کا شعور نہیں ہوتا کہ بندوں سے متعلق جو حقوق ہیں، وہ بندے ہی معاف کریں گے اور یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ جس طرح بعض نیکیاں بعض گناہوں کو کھا جاتی ہیں، ایسے ہی بعض گناہ بھی ہیں، جو ساری نیکیاں ضائع کر دیتے ہیں۔
افضلیت کا تصور
جس طرح یہود و نصاریٰ میں افضلیت کا تصور تھا یا پایا جاتا ہے، اسی طرح ہم مسلمانوں میں بھی بعض لوگ اس میں مبتلا ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کی شکلیں مختلف ہو سکتی ہیں، جیسے بعض لوگ اس بات پر مطمئن رہتے ہیں کہ چونکہ وہ امتِ محمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں، جو سب سے بہترین نبی اور سب سے بہترین امت کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے ان کی بخشش یقینی ہے۔ اگر انھیں جہنم میں بھیجا بھی گیا تو محض چند دن کے لیے۔ اسی تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے لوگ ’خاتم النبیین‘ یا ’تاج دار ختم نبوت زندہ باد‘ جیسے نعرے لگا کر بھی اپنے آپ کو مطمئن کرتے ہیں۔ یہی رویہ صحابۂ کرام سے متعلق بھی دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں لوگ بحث و مباحثہ یا مناظرے کرتے ہیں کہ صحابہ میں سے حق پر کون تھا یا افضل کون ہے۔ اسی قسم کی باتیں اکثر مسلمانوں کی مساجد اور منبروں پر موضوعِ بحث بنا کر اپنے آپ کو تسلی دی جاتی اور مطمئن کیا جاتا ہے۔
شفاعت کا تصور
مسلمانوں میں یہ خیال عام ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حضور ان کے لیے سفارش کریں گے اور وہ بخش دیے جائیں گے۔ اسی طرح پیر پرستی اور مزارات کی عقیدت بھی اسی تصور کو تقویت دیتی ہے۔ لوگ اللہ کو راضی کرنے کے بجاے پیروں کو خوش کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
حقوق اللہ اور حقوق العباد
لوگوں کو عام طور پر اس بات کا شعور نہیں ہوتا کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد، دونوں کی ادائیگی ضروری ہے، بلکہ حقیقت میں حقوق العباد بھی اصلاً حقوق اللہ ہی کا حصہ ہیں۔ بعض لوگ صرف حقوق اللہ، جیسے نماز اور روزے کو ضروری سمجھتے ہیں اور انھی کو دین کی اصل مانتے ہیں، جب کہ کچھ لوگ صرف حقوق العباد پر زور دیتے ہیں اور اسے انسانیت کا مذہب قرار دے کر دین کا مکمل تصور سمجھ بیٹھتے ہیں۔
سیاست میں مشغولیت
کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنی تمام زندگی سیاست، سیاسی نظریات اور ان پر تبصروں میں صرف کر دیتے ہیں، گویا سیاست ہی ان کا دین بن گئی ہو۔ اگر انھیں نماز اور روزے کی پابندی کا کہا جائے تو جواب دیتے ہیں کہ ملک غلامی کا شکار ہے، لٹ رہا ہے، آزاد نہیں اور آپ کو نماز روزے کی فکر ہے؟
اوپر ذکر کیے گئے تصورات جو مسلمانوں میں پیدا ہو چکے ہیں، کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ تاہم، ہمارے نزدیک اس کی اصل وجہ مسلمانوں کی قرآن مجید سے دوری ہے۔ قرآن مجید کے مطابق دین کا جو تصور ہے، ہم اسے نیچے بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔
قرآن مجید کا تصورِ دین
قرآن مجید دین کو بالکل واضح اور جامع انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہ ہمیں اس دنیا کی حقیقت اور آخرت کی کامیابی کے اصول بتاتا ہے:
قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ یہ دنیا ایک امتحان ہے (الملک 67: 2 ) ۔
اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہی اس کا اصل مقصدِ حیات ہے ( الذاریات51 : 56)۔
مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوں اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلیں، کیونکہ وہ انسان کا کھلا دشمن ہے (البقرہ2: 208)۔
یہ ہمیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے تاکہ انسان اپنی زندگی میں توازن اور بھلائی قائم رکھے (النحل 16: 90)۔
اس کے ساتھ ساتھ قرآن ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمھیں انصاف سے نہ ہٹا دے (المائدہ 5: 8)۔
یہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کے لیے آخرت میں وہی کچھ ہوگا جس کی اس نے اس دنیا میں کوشش کی ( النجم 53: 39-40)۔
اس لیے آخرت کی کامیابی کے لیے عملِ صالح اور تقویٰ ضروری ہیں، کیونکہ وہاں سفارش یا کسی مددگار کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا (البقرہ 2: 123)۔
قرآن مجید ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جس دنیا میں مگن ہو کر ہم اللہ کو فراموش کر جاتے ہیں، ایسی دنیا محض دھوکے کے سوا کچھ نہیں ( الحدید57: 20)۔
یہ ہمیں زندگی بھرحق پر عمل کرنے اور اس پر ثابت قدمی اختیار کرنے اور اسے اپنے دائرے میں دوسروں تک پہنچانے کی تلقین کرتا ہے ( العصر103: 1-3)
یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچانا ہے، جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے (التحریم 66: 6)۔
یہ واضح کرتا ہے کہ اللہ انسان کے دلوں کے بھید اور آنکھوں کی خیانت تک کو جانتا ہے (المومن 40: 19)۔
یہ بتاتا ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کو اس کا ذرہ برابر کیا گیا عمل بھی دکھا دیا جائے گا (الزلزال 99: 7-8)۔
جس دن کوئی سفارش کسی کے کام نہیں آئے گی اور ہر انسان کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا ملے گی ( البقرہ 2: 48)۔
یہ بھی واضح کرتا ہے کہ اس دن انسان چاہے گا کہ وہ اپنے گھر والوں، دنیا کی ہر چیز اور جو کچھ زمین پر ہے، سب کو فدیے میں دے کر اپنے آپ کو بچا لے، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے گا (المعارج 70: 14-11)۔
مزید برآں، مجرم اس دن حسرت کے ساتھ کہے گا کہ کاش، مجھے دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تاکہ میں اچھے اعمال کر سکوں، لیکن اس کی یہ خواہش قبول نہیں ہوگی (المومنون 23: 99-100)۔
قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ جو لوگ اللہ کے ہو کر رہے اور اپنی زندگی اللہ کے احکامام کے مطابق گزاری، ان کے لیے جنت کی خوش خبری ہے ( یونس10: 62-64)۔
وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، ان کے لیے نہ ماضی کا کوئی خوف ہوگا اور نہ مستقبل کی کوئی پریشانی،وہ اللہ کی رضا کے ساتھ جنت کی نعمتوں سے سرفراز ہوں گے (البقرہ2: 38)۔
نتیجہ
قرآن مجید ہمیں زندگی کے حقیقی مقاصد سے آگاہ کرتا ہے اور آخرت کی کامیابی کے لیے راستہ دکھاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن کی تعلیمات کو سمجھیں، ان پر عمل کریں اور اپنی زندگی کو اللہ کے احکامام کے مطابق ڈھالیں۔ دین میں غلو اور روایتی تصورات سے بچتے ہوئے قرآن اور سنت کے مطابق اپنے عمل کو درست کریں تاکہ ہم دنیا اور آخرت، دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔