پچھلے صفحات میں بتایا جا چکا ہے کہ مولانا امین احسن صاحب اصلاحی ہجرت کے بعد پہلے لاہور کے علاقے اسلامیہ پارک میں رہایش پذیر ہوئے۔ یہاں وہ جماعت اسلامی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ رہتے تھے، مگر جب جماعت کے ساتھ مسلم لیگ کی حکومت کا ا ختلاف ہوا تو ان سے یہ قیام گاہ چھین لی گئی۔ حکومت کا سلوک اتنا برا تھا کہ انھیں متبادل جگہ منتقل کرنے کی بھی مہلت نہ دی گئی اور وہ مجبوراً خیموں میں رہنے لگے۔ یہاں سے مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی اپنے خاندان کے ساتھ اچھرہ ذیلدار پارک منتقل ہوگئے، لیکن مولانا اصلاحی کا خاندان لاہور میں کسی مناسب جگہ کی عدم دستیابی کے بعد میکلوڈ گنج راولپنڈی میں منتقل ہو گیا۔ راولپنڈی میں بھی یہ کوئی علیحدہ سے مکان نہیں تھا، بلکہ یہ ایک فلیٹ تھا، جس کی مولانا اور ان کے خاندان کو کوئی عادت نہ تھی۔
جماعت اسلامی اور حکومت کا اختلاف
یاد رہے کہ تقسیم سے پہلے مسلمانوں کی نمایندگی کرنے والی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ کے علاوہ بھی تھیں، مگر قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگ کےسوااگر کسی سیاسی جماعت کا عملی طور پر وجود باقی رہا تو وہ صرف جماعت اسلامی ہی تھی۔باقی جماعتیں پاکستان بننے کے بعد عملی طور پر ختم ہو چکی تھیں۔ البتہ مشرقی پاکستان میں ایسا نہ تھا۔ مغربی پاکستان میں جماعت ہی تھی جو مسلم لیگ پر شدید تنقید کرتی تھی۔ تقسیم کے وقت جماعت کا موقف پچھلے صفحات میں بیان ہو چکا ہے اور اختلاف کے باوجود جماعت نے لیگ کی نوزائیدہ حکومت کے ساتھ حسن ِظن کا اظہار کیا، لیکن یہ جلد ہی ختم ہو گیا اور جماعت حکومت کی ایک سخت ناقد کے طور پر سامنے آئی۔
اس کی بنیادی طور پر تین وجوہات تھیں: پہلی پاکستان کا آئینی تشخص۔ دوسری سرکاری ملازمت کے خلاف فتویٰ اور نظام عدالت کو تسلیم نہ کرنا اور تیسری جہاد کشمیر پر جماعت کا فتویٰ۔ لیکن ان سب کی بنیادی وجہ ایک ہی تھی۔ ہم اس کا مختصراً جائزہ لیتے ہیں۔
پاکستان : مذہبی ریاست یا قومی ریاست
یہ اختلاف اس وقت سامنے آیا جب 11؍ اگست 1947ء کو بانی پاکستان نے پارلیمنٹ میں تقریر کی۔ اپنی اس مشہور تقریر میں انھوں نے کہا تھا:
’’آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘‘
جماعت اسلامی کی طرف سے اس تقریر پر سخت اعتراض کیا گیا اور اسے مسلمانوں سے دھوکے سے تعبیر کیا گیا۔ اسے عوامی نعرے کے خلاف قرار دیا گیا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ۔ جماعت اسلامی نے برملا یہ موقف اختیار کیا کہ کوئی مسلمان کسی سیکولر حکومت کو اپنی خدمات نہیں دے سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کو اسلامی ریاست قرار دے، اس کے بعد ہی کسی مسلمان کے لیے اس کی نوکری یا اس کی حکومت میں کوئی عہدہ قبول کرنا جائز ہو گا۔ پاکستان کی حکومت اگر اپنے آپ کو اسلامی ریاست قرار نہیں دیتی تو اس سے وفاداری اور اطاعت کا عہد بھی نہیں کیا جاسکتا۔ایک سیکولر حکومت کا ساتھ دینا اصل میں اللہ کے بجاے ’’طاغوت‘‘ کی حمایت ہو گی۔
اس کے جواب میں ایوان ِ حکومت نے یہ وضاحت پیش کی کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی اس تقریر کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں مذہبی آزادی ہو گی۔ لیکن جماعت کا موقف یہی رہا کہ ریاست پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، اسے ایک غیر مسلم ریاست ہی سمجھا اور قرار دیا جائے گا۔
کشمیر میں جہاد پر اختلاف
معلوم ہونا چاہیے کہ تقسیم کے وقت ہندستان میں 565 پرنسلے اسٹیٹس ( دیسی ریاستیں ) بھی تھیں۔ یہ سلطنتِ برطانیہ کی وفادار تھیں اور ان کی حیثیت نیم خود مختار ریاستوں کی تھی۔تقسیم کے معاہدے کے مطابق انھیں اختیار دیا گیا تھا کہ وہ چاہیں تو آزاد حیثیت برقرار رکھیں یا اپنی صواب دید کے مطابق ہندستان کے ساتھ الحاق کر لیں یا پاکستان کے ساتھ، لیکن عملی طور پر یہ صورت بنی کہ جو ریاستیں ہندستان کے حدود میں تھیں، ان کو ہندستان میں ضم کر دیا گیا اور جو پاکستان میں تھیں، انھیں پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرنا پڑا۔
کشمیر کی ریاست ایسی واحد ریاست تھی جس کی سرحدیں پاکستان اور ہندستان، دونوں سے ملتی تھیں۔ اس کی آبادی اَسی فی صد سے بھی زیادہ مسلمان تھی، مگر حکمران ہندو تھا۔ چنانچہ راجہ ہری سنگھ نے مسلم آبادی کی اکثریت کے دباؤ کے تحت پاکستان کے ساتھ الحاق کا عندیہ دیا، لیکن جب پورے ہندستان کے ساتھ ساتھ ریاست کشمیر میں بھی فسادات پھوٹ پڑے تو صورت حال بدل گئی۔ ایک دوسرے پر اعتماد ختم ہو گیا۔ کشمیر میں مشتعل مسلمان جتھوں کا مطالبہ تھا کہ راجہ فی الفور پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں۔ جب ہری سنگھ نے اس میں تاخیر کی تو ان کے محل کا محاصرہ کر لیا گیا۔ اس پر انھیں یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ ان کی جان خطرے میں ہے۔ چنانچہ وہ ہندستان کی مدد سے دہلی کی طرف پرواز کر گئے۔ وہاں جا کر انھوں نے ہندستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔ اور ساتھ ہی ہندستان کی حکومت سے تحریری طور پر فوجی مدد کی درخواست کر دی۔ چنانچہ باغیوں کی سرکوبی اور ریاست کا نظم ونسق سنبھالنے کے لیے ہندستان کی فوجیں کشمیر میں داخل ہو گئیں۔
حکومت پاکستان نے اس اعلان کو ہندستان کی سازش قرار دیا۔اور راجہ کے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ حکومت ِپاکستان نے راجہ کے مخالف باغیوں کی مدد کی اور ان کی حمایت کے لیے اپنی فوجیں بھی کشمیر میں بھیج دیں۔ یوں آزادی کے ابتدائی دنوں ہی میں ہندستان اور پاکستان حالتِ جنگ میں آگئے، جب کہ یہ دل چسپ حقیقت اپنی جگہ موجود تھی کہ دونوں ملکوں کا فوجی کمانڈر ایک ہی تھا، فیلڈ مارشل آرکنیلک۔ اور اس نے حکومت ِپاکستان پر واضح کر دیا تھا کہ وہ اس اقدام کی کسی طور پر بھی حمایت نہیں کر سکتا۔
جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ اس جنگ میں پاکستان نے باغیوں کی کھلم کھلا حمایت کی تھی اور اپنے عوام کو بھی کشمیری مزاحمت کاروں کی مدد کرنے کی پر زور اپیل کی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کی طرف سے یہ راے دی گئی کہ ایک تو مسئلہ متنازع اور غیر واضح ہے اور دوسرا پاکستان ابھی اسلامی ریاست نہیں ہے، اس لیے اس کی حمایت میں لڑنے کو جہاد نہیں قرار دیا جا سکتا۔
مولانا سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی اور جماعت کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اسے ملک سے غداری قرار دیا گیا، لیکن جماعت اسلامی نے بدستور ایک ہی مطالبہ رکھا کہ مملکت پاکستان کی قانونی حیثیت واضح کی جائے کہ یہ ایک اسلامی ریاست ہے یا سیکولر ریاست۔ قائداعظم محمد علی جناح کی وفات تک جماعت کے خلاف عملی طور پر کوئی کارروائی نہ ہوئی۔
چنانچہ جماعت اسلامی نے بڑے زور شور سے یہ مہم شروع کر دی کہ حکومت پاکستان اسلامی نظام قائم کرنے کے لیے عملی اقدام کرے۔ ساتھ ہی جماعت نے عوام سے رابطہ کرکے ان کی ذہن سازی شروع کر دی۔ ابتدا میں حکومت نے بھی جماعت اسلامی کی اس مہم کا ساتھ دیا۔ مولانا مودودی کو ریڈیو پاکستان سے اس موضوع پر تقاریر کرنے کی بھی پیشکش کی گئی جو انھوں نے قبول کی۔ اس کے علاوہ انھیں دیگر سرکاری پلیٹ فارم پر مدعو کیا گیا۔ مولانا مودودی کی تقاریر اور جماعتی بیانیہ جب باشعور عوام میں مقبول ہونے لگا تو حکومت وقت کے سیکولر عناصر حرکت میں آئے۔ انھیں یہ صورت حال کسی طور بھی قابل ِقبول نہ تھی، لیکن دلیل سے بات کرنے کے بجاے انھوں نے جماعت کے خلاف منفی کارروائیوں کا سہارا لیا۔
اصل میں یہ ایک واضح حقیقت تھی کہ قیام پاکستان کی تحریک کے دوران میں عوامی سطح پر یہی کہا گیا تھا کہ پاکستان ایک ’’بنیاد پرست مذہبی ریاست‘‘ ہو گی، مگر جب پاکستان بن گیا تو ایک واضح ’’یو ٹرن‘‘ لیا گیا۔ اور عندیہ دیا گیا کہ ملک کا تشخص سیکولر قومی ریاست کا ہوگا۔ حکومتی زعما کے پاس جہاں اس منافقت کا کوئی جواب نہ تھا، وہیں ان کے پاس کوئی عقلی اور منطقی بیانیہ بھی نہ تھا کہ وہ اپنی بات دلیل سے کرتے۔اس کے برعکس، انھوں نے جتنے اقدام بھی کیے، وہ ملک کے تشخص کو سیکولرثا بت کر رہے تھے۔ چنانچہ اس غیر متوقع صورت حال پر زبردست عوامی دباؤ سامنے آیا۔ جماعت اسلامی نے ان کی یہ منافقت کا پردہ چاک کیا تو اس کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ صریحاً ایک غیر اخلاقی اور غیر انسانی ردِعمل تھا۔ اس کا سلسلہ اس قدر دراز ہوا کہ روزنامہ ’’ انجام‘‘ کراچی کی مورخہ 16؍ مئی 1948ء کی اشاعت میں سرکار کی طرف سے یہ بیان جاری ہوا:
’’ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی سرگرمیاں حکومت پاکستان کے لیے تشویش ناک بن گئی ہیں۔ چنانچہ ان کی حرکات و سکنات کی نگرانی کے لیے خفیہ پولیس مامور کر دی گئی ہے، نیز حکومت کے مختلف شعبہ جات میں مولانا مودودی کے پیرووں کے خلاف بھی خفیہ ہدایت جا ری کر دی گئی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ دنوں حکومت کے اہم ترین محکمہ کے چند ملازمین نے،جو جماعت اسلامی کے پیرو ہیں، یہ مطالبہ کیا کہ محکمے کے نظم و نسق کو خالص اسلامی طریق پر چلایا جائے۔ اب ان کی جماعت کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ واضح رہے، مولانا مودودی حکومت الٰہیہ کے سب سے بڑے علم بردار ہیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے جماعت اسلامی کی تاسیس کی ہے جس کے پیرووں کی تعداد روز افزوں ترقی پر ہے۔ گذشتہ ماہ مولانا کراچی تشریف لائے تھے۔ اس کے بعد کراچی میں ان کی جماعت کی سرگرمیاں بہت بڑھ گئی ہیں اور حکومت پر نکتہ چینیاں عام ہو گئی ہیں۔ اس جماعت کی طرف سے کچھ پوسٹر بھی چسپاں کیے گئے ہیں جن میں مجلس ِ دستور ساز سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ملک کے لیے اسلامی آئین وضع کرے۔ ‘‘
اس کے بعد جماعت اسلامی کے خلاف عملی طور پر کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ ریڈیو پر ان کے خطبات پر پابندی عائد کر دی گئی اور بہت ہی زہریلا پراپیگنڈا شروع کردیا گیا۔تمام سرکاری اور غیر سرکاری اخبارو جرائد یک زبان ہو کر جماعت کے خلاف حقائق کو توڑمروڑ کر بیان کرنے لگے اور صریح بہتان بازی پر اتر آئے۔ مولانا مودودی اور ان کے رفقا کو بھارتی ایجنٹ اور جاسوس قرار دیا گیا۔ ان سے وہ ’’ رسیدیں‘‘ بھی برآمد کر لینے کا دعویٰ کیا گیا جو حکومت کے بہ قول انھوں نے بھارت سے بذریعہ ’’ منی آرڈر‘‘ وصول کی تھیں۔
جماعت کے واحد ترجمان جریدے سہ روزہ ’’ کوثر‘‘ جس کے ذریعے سے بہت محدود سطح پر عوام کو درست صورت حال سے آگاہ کیا جاتا تھا، کو بند کر دیا گیا۔ ’’کوثر‘‘ کی بندش کے بعد اس کے مالک ملک نصراللہ عزیز نے بڑی تگ و دو کے بعد ہفت روزہ ’’تسنیم‘‘ جاری کیا تو اس پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ ہر طرف سے محاصرہ کرنے کے بعد نوبت ایں جا رسید کہ 4؍ اکتوبر 1949ء کو جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت کے چھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ جس میں امیر جماعت سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی، نائب امیر مولانا امین احسن صاحب اصلاحی اور قیم جماعت میاں طفیل محمد سب سے نمایاں تھے۔ انھیں سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے ملتان سنٹرل جیل میں بند کر دیا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ یہ لوگ ملکی سلامتی اور امن و امان کے لیے خطرہ ہیں۔ سیفٹی ایکٹ وہی بدنام زمانہ قانون تھا جس کے تحت انگریز حکومت ہندستانیوں پر عرصہ حیات تنگ کیے رکھتی تھی۔ چنانچہ مولانا اصلاحی کو راولپنڈی سے اور باقی اصحاب کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا۔ انھیں قصور، کیمبل پور اور فیصل آباد ( اُس وقت لائل پور )جیل میں رکھنے کے بعد نیو سنٹرل ملتان جیل میں اکٹھا کر دیا گیا۔
یہ تینوں حضرات تقریباً بیس ماہ کے لیے جیل میں بند رہے۔ جیل میں بھی ان پر اظہار راے کی پابندی تھی، یعنی وہ کسی اخبار یا جریدے میں نہیں لکھ سکتے تھے۔ البتہ ان کو اپنے احباب اور اعزہ کو بہت مختصر خط لکھنے کی اجازت تھی۔ وہ زیادہ سے زیادہ ایک یا دو صفحے لکھ سکتے تھے۔ انھیں بہت محدود مقدار میں کاغذ فراہم کیا جاتا تھا۔
ان حضرات کو توقع تھی کہ انھیں زیادہ سے زیادہ ایک ماہ نظر بند رکھ کر رہا کر دیا جائے گا، لیکن حکومت کو ان سے اتنا زیادہ ’’ خطرہ‘‘ تھا کہ انھیں پہلے حکم میں چھ ماہ کے لیے جیل میں رکھنے کا اعلان ہوا۔ اس کے بعد اس میں تین دفعہ توسیع کی گئی۔ پاکستان کی تاریخ میں جماعت اسلامی کے یہ لیڈر اوّلین سیاسی قیدیوں میں سے تھے۔
جماعت اسلامی نے ان کی رہائی کے لیے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات من گھڑت ہیں اور ان کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ عدالت حکومتی دباؤ کے تحت تاخیری حربے استعمال کرتی رہی، لیکن تیسری توسیع پر عدالت بھی مجبور ہوگئی کہ اس سوفی صد جھوٹے مقدمے کو ختم کرنا ہی بہتر ہے۔ حکومت کو جب محسوس ہوا کہ عدالت ان کے حق میں فیصلہ دے دی گی تو اس نے فیصلے سے پہلے ہی انھیں رہا کرنے کے احکام جاری کر دیے۔ یوں مولانا اصلاحی اپنے دیگر ساتھیوں کے ہم راہ 28؍ مئی 1950ء کو جیل سے باہر آئے۔
قراردادِ مقاصد کی منظوری
جماعت اسلامی کی یہ قیادت ابھی جیل ہی میں تھی کہ عوامی دباؤ اور جماعت اسلامی کی تحریک کی کامیابی کا نتیجہ 12؍ مارچ 1949ء کو نکلا۔ اس دن قیام پاکستان سے شروع ہونے والی آئینی بحث ختم ہو گئی اور قومی اسمبلی کی اکثریت نے قرارداد ِ مقاصد منظور کر لی۔
اس وقت مولانا مودودی سے یہ جملہ منسوب کیا گیا : ’’ریاست کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئی ہے، اس کی اطاعت اب فرض ہو گئی ہے۔‘‘
اگرچہ یہ جملہ مولانا مودودی کے قلم سے ثابت نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ جیل میں تھے اور ان کی کوئی تحریر کسی جگہ شائع ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا، لیکن جماعت اسلامی نے اس موقع پر ایک پمفلٹ کی اشاعت کی۔ اس پمفلٹ میں قراردادِ مقاصد کے بارے میں کہا گیا تھا کہ:
’’قرارداد مقاصد کی منظوری کے بعد جب ہماری ریاست اپنی دستوری زبان سے اس بات کا اقرار کر چکی ہے کہ حاکمیت اللہ کے لیے ہے اور ریاست کا پبلک لا، جمہوریت، آزادی، معاشرتی انصاف اور رواداری کے ان اصولوں پر مبنی ہوگا جو اسلام نے مقرر کیے ہیں اور ریاست کا کام یہ ہو گا کہ وہ مسلمانوں کو اس قابل بنائے کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق منظم کریں تو اس قرارداد کے بعد یہ ریاست اصولاً ایک اسلامی ریاست بن چکی ہے اور اس کے بعد وہ دستوری رکاوٹیں از خود ختم ہو چکی ہیں جو سابق کافرانہ نظام میں شریعت کی طرف سے ہم پر عائد ہوتی تھیں۔‘‘
اس اعلان کے بعد جماعت نے ایسے اقدامات کی نشان دہی کی جن کی قرارداد ِمقاصد کی منظوری سے قبل اجازت نہ تھی، لیکن اب یہ جائز ہو چکے تھے۔ ان معاملات میں سرکاری ملازمتوں کا حصول اور فیصلوں کے لیے عدالتوں سے رجوع جائز قرار دیا گیا۔ انتخابات میں حصہ لینے کو بھی درست کہا گیا۔ مسلمانوں پر فرض قرار دیا گیا کہ وہ اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتیں ریاست کو مضبوط بنانے میں صرف کردیں۔ اسی ضمن میں جہاد کشمیر کو بھی عین اسلامی قرار دیا گیا۔ جماعت اسلامی نے واضح لفظوں میں بیان کیا کہ اب ریاست کے ساتھ اس کا تعلق وفاداری کا ہے اور عدم تعاون کا رویہ ختم ہو گیا ہے، لیکن اس کے باوجود جماعت کی قیادت کو رہا نہ کیا گیا۔
میاں طفیل محمد کی یادداشتیں
جیل میں قید کے اس دور کے بارے میں میاں طفیل محمد صاحب نے بہت ہی دل چسپ یادداشتیں مرتب کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہمیں اس بات کی کوئی خبر نہیں تھی کہ جیل میں ہم تین لوگوں کو اکٹھا رکھا جائے گا۔ وہ مولانا اصلاحی کی جیل آمد کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’بائیس اکتوبر کو ہم نماز ِ مغرب کے بعد کھانے سے ابھی فارغ ہوئے ہی تھے کہ وارڈ کا بیرونی دروازہ کھلا اور دو تین قیدی بستر، ٹرنک اور اس طرح کا سامان لے کر داخل ہوئے اور مولانا امین احسن صاحب اصلاحی نے نہایت مضبوط آواز کے ساتھ’’السلام علیکم‘‘ کہا۔ ان کی آمد ہمارے لیے اور ہماری یہاں موجودگی ان کے لیے بالکل خلاف ِتوقع تھی۔ اس اجتماع پر ہم بہت ہی مسرور ہوئے، لیکن اس سے ہم نے یہ بھی سمجھ لیا کہ اب ہماری نظربندی میں توسیع لازمی ہے۔ اصلاحی صاحب کی آمد سے پہلے کبھی یہ خیال ہوتا تھا کہ شاید مولانا مودودی کو رکھ کر مجھے یا مجھے اور اصلاحی صاحب، دونوں کو چھوڑ دیا جائے، لیکن اب ہمارے نزدیک ہم سب کی نظربندی میں توسیع طے شدہ امر تھی۔ چنانچہ نظر بندی کی معیاد 3؍ اپریل 1949ء تک بڑھا دی گئی۔
مولانا اصلاحی نے بتایا کہ پانچ اکتوبر کو صبح چار بجے میرے مکان واقعہ راولپنڈی کے بیرونی دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے جا کر دروازہ کھولا تو ایک صاحب نے جو انسپکٹر سی آئی ڈی تھے، وارنٹ دکھا کر کہا کہ وہ مجھے گرفتار کرنے آئے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں اس کے لیے بالکل تیار ہوں۔ اگر آپ کہیں تو اسی طرح آپ کے ساتھ چلوں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں نہیں، آپ ضروریات کی ساری چیزیں لے لیں۔ کوئی کتابیں ساتھ رکھنا چاہیں،وہ بھی رکھ لیں اور اطمینان سے چلیں۔ …
میں اپنے سارے کاموں سے جلدی جلدی فارغ ہوا۔ بستر اور کپڑے تیار کیے اور گھر والوں کو خدا حافظ کہا اور انسپکٹر صاحب کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ پہلے ہم انسپکٹر صاحب کے مکان پر آئے۔ وہاں ناشتہ وغیرہ کیا اور پھر جیل میں آگئے۔ کیمبل پور جیل کا پولیٹیکل وارڈ مولانا نے بتایا کہ بہت آرام دہ اور انگریزی طرز کا بنا ہوا ہے۔ اور وہاں ان کو دو ساتھی بھی مل گئے۔ ایک راؤ خورشید علی خاں،جو ان دنوں مسلم لیگ کے مشہور مہاجر لیڈر تھے اور اپنے اخلاص، دیانت اور اپنے بعض دوسرے ساتھیوں کی طرح اپنے مہاجر بھائیوں کو اپنی اغراض پر قربان نہ کرنے کے جرم میں جیل کی ہوا کھا رہے تھے اور دوسرے مسٹر ایرک سپرین صاحب تھے جو ایک خاموش اور واقعی مخلص پڑھے لکھے اور سنجیدہ اشتراکی کارکن ہیں۔ مولانا کے کیمبل پور جیل میں یہ دن بہت اچھے گزرے۔ ان کو ایک دن بھی تنہا نہیں گزارنا پڑا۔ راؤ صاحب بہت جلد ان کے علم و فضل کے معتقد ہو گئے اور انھوں نے مولانا سے قرآن مجید پڑھنا شروع کر دیا۔ ایرک صاحب سے فلسفہ اجتماع اور سیاسی مسائل پر گفتگو رہتی اور چند دن جو مولانا ان کے ساتھ رہے، انھوں نے ان پر اسلام اور جماعت کا نقطۂ نظر واضح کرنے کی کوشش کی۔ مولانا کی اس چند روزہ کوششوں ہی کا نتیجہ ہے کہ آج راؤ صاحب جماعت اسلامی کے کارکنوں میں بحیثیت رکن جماعت کے شامل ہیں۔…
بائیس اکتوبر کو صبح سویرے مولانا اصلاحی صاحب اور مسٹر ایرک کو پولیس ریل گاڑی میں سوار کر کے میاں والی کندیاں کی طرف روانہ ہوئی۔ ایرک صاحب کو میاں والی اتار دیا گیا اور مولانا کو سیدھے ملتان لے آئے۔ مولانا کو اس بات کا قطعاًکوئی علم نہیں تھا کہ ہم لوگ کہاں ہیں۔ یہ بات ان پر اس وقت کھلی جب ملتان جیل میں ان کے جواب میں ہم نے ’’وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ ‘‘ کہا۔ …
مولانا کو کیمبل پور سے ملتان لانے والے پولیس افسر مولانا عبدالستار خان صاحب نیازی کے کوئی عزیز تھے۔ مولانا کا یہ سفر بہت آرام سے گزرا اور انھیں راستے میں کوئی تکلیف نہیں ہوئی، البتہ یہ پریشانی ضرور لاحق رہی کہ ایک سوسائٹی جس سے وہ مانوس ہو چکے ہیں، سے الگ اب خدا معلوم کہاں رہنا ہوگا؟‘‘ ( مکاتیب ِزنداں 39-41)